ہندوستان
چنئی میں 23 اکتوبر سے تین روزہ بین الاقوامی تجارتی میلہ اور ونڈ انرجی کانفرنس کا انعقاد

نئی دہلی، تمل ناڈو کی راجدھانی چنئی میں 23 اکتوبر سے تین روزہ بین الاقوامی تجارتی میلہ اور ونڈ انرجی کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں 25 ممالک کے سینکڑوں توانائی کے ماہرین اور تاجر شرکت کریں گے سوجلون گروپ کے چیف ایگزیکٹیو جے پی چلسانی نے جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ توانائی کے شعبے میں ہندوستان کے بڑھتے ہوئے رتبہ کا نتیجہ ہے کہ ونڈ انرجی اور صاف ستھری توانائی کے شعبے میں ہندوستان کی زبردست نمائش کو دیکھنے کے لئے 25 ممالک میں سے 300 سے زیادہ ماہرین اور توانائی کے کاروباری 23 سے 25 اکتوبر کو ‘ونڈرجی انڈیا 2024’ کانفرنس میں شرکت کے لیے چنئی پہنچ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ونڈانرجی انڈیا کا چھٹا ایڈیشن ہے۔ یہ قابل تجدید توانائی کے اہداف کو پورا کرنے اور ہوا سے متعلق توانائی کو فروغ دینے کا ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم ہوگا، جہاں ہندوستان اپنی ہوا سے متعلق توانائی کی کارکردگی کی نمائش کرکے دنیا کو مستقبل کی اس توانائی کو استعمال کرنے کی ترغیب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس ونڈ انرجی شعبے کے ماہرین، بڑے صنعت کاروں، دیگر تاجروں، پالیسی سازوں اور اختراع کاروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے میں اہم ثابت ہوگی۔
سوجلون گروپ کے سی ای او نے کہا کہ ہندوستان کے پاس سات ہزار کلومیٹر سے زیادہ طویل ساحلی پٹی ہے جس کی وجہ سے ملک میں 500 گیگا واٹ سے زیادہ ونڈ انرجی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت ہند اس سمت مسلسل کام کر رہی ہے اور اس کے تحت حال ہی میں حکومت نے گجرات اور تمل ناڈو میں ایک گیگا واٹ آف شور ونڈ انرجی پروجیکٹ کو منظوری دی ہے۔
اس سوال پر کہ ونڈانرجی کو شمسی توانائی کی طرح ایک تحریک کیوں نہیں بنایا جا رہا ہے، مسٹر چلسانی نے کہا، ” ہوا سے بجلی تیارکرنا سستا ہے لیکن پیچیدہ ہے۔ اس کے لیے حصول اراضی جیسے مسائل ہیں لیکن مرکزی حکومت اس مسئلے کو حل کرنے میں ریاستی حکومتوں کی مدد کر رہی ہے۔ “اس سے ونڈ انرجی کے شعبے میں ملک کی رفتار بڑھے گی اور ہم پوری دنیا کے سامنے اپنی ونڈ انرجی کی صلاحیت کو مؤثر طریقے سے ظاہر کر سکیں گے۔”
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
حکومت نے بلاری-گنٹکل ریل روٹ پر تیسری اور چوتھی ریل لائن بچھانے کو دی منظوری
نئی دہلی، حکومت نے کرناٹک اور آندھرا پردیش کے بلاری-گنٹکل ریل روٹ پر تیسری اور چوتھی ریل لائن بچھانے کے اہم پروجیکٹ کو منظوری دے دی ہے اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے جمعہ کو یہ معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی صدارت میں اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی کی میٹنگ میں اس سلسلے کی تجویز کو منظوری دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تقریباً 46 کلومیٹر طویل ملٹی ٹریکنگ پروجیکٹ 29-2028 تک مکمل کیا جائے گا اور اسے پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت تیار کیا جائے گا۔ پروجیکٹ پر 1,264 کروڑ روپے لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ پروجیکٹ کرناٹک اور آندھرا پردیش کے تین اضلاع کو کور کرے گا نیز اس سے تقریباً 99 دیہات کے لگ بھگ سات لاکھ لوگوں کو بہتر ریل رابطہ ملے گا۔ اس کے علاوہ بلاری قلعہ اور شری کمار سوامی مندر جیسے اہم سیاحتی مقامات تک رسائی بھی بہتر ہوگی۔ حکومت کے مطابق یہ ریل روٹ خام لوہے، ڈولومائٹ، چونا پتھر، لوہا و اسٹیل، کوئلہ، کھاد اور اناج جیسی اشیاء کی نقل و حمل کے لیے اہم ہے۔ پروجیکٹ مکمل ہونے کے بعد ہر سال تقریباً 16.22 ملین ٹن اضافی مال برداری کی صلاحیت پیدا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ سے ریل آپریشن زیادہ آسان ہوگا، لوجسٹکس لاگت کم ہوگی نیز تقریباً 1.32 کروڑ لیٹر ایندھن کی بچت اور 6.67 کروڑ کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آنے کا تخمینہ ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
اپوزیشن کے ہنگامے کے باعث راجیہ سبھا میں مسلسل پانچویں روز بھی سوالیہ وقفہ نہ ہو سکا
نئی دہلی، مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے اپوزیشن ارکان کے ہنگامے کے باعث جمعہ کو راجیہ سبھا میں مسلسل پانچویں روز بھی سوالیہ وقفہ نہیں ہو سکا اور ایوان کی کارروائی دوپہر بعد 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی اس سے قبل بھی اسی معاملے پر اپوزیشن کے ہنگامے کے باعث وقفۂ صفر (زیرو آور) کی کارروائی نہیں ہو سکی تھی۔ پارلیمنٹ کے موجودہ مانسون اجلاس کا آج پانچواں دن ہے، لیکن اب تک ایوان میں کوئی باقاعدہ کارروائی انجام نہیں دی جا سکی ہے۔
ایک بار ملتوی ہونے کے بعد جب دوپہر 12 بجے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر ہنگامہ کرنے لگے۔ قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے نے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن سے اظہارِ خیال کی اجازت طلب کی، جس پر چیئرمین نے کہاکہ “آپ کی اپنی جماعت کے ارکان ہی اپنی نشستوں پر نہیں بیٹھ رہے، ایسے میں میں کیا کر سکتا ہوں”
اس کے بعد جیسے ہی مسٹر کھڑگے نے بولنا شروع کیا، حکمراں جماعت کے ارکان نے بھی شور شرابہ شروع کر دیا۔ چیئرمین نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں خاموش رہنے کی ہدایت دی۔
دونوں جانب سے شدید ہنگامے کے دوران مسٹر کھڑگے نے کہاکہ “میں آپ کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ سب سے پہلے وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا چاہیے اور وزیر اعظم کو پارلیمنٹ میں آ کر بیان دینا چاہیے، اس کے بعد ہم بحث کریں گے۔” ان کے یہ کہتے ہی چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے ایوان کی کارروائی دوپہر بعد 2 بجے تک ملتوی کر دی۔
اس سے قبل صبح 11 بجے بھی دھرمیندر پردھان کے استعفے اور نیٹ یو جی پرچہ لیک کے معاملے پر بحث کرانے کے مطالبے کو لے کر اپوزیشن نے ہنگامہ کیا، جس کے باعث وقفہ صفر نہیں ہو سکا۔
چیئرمین نے قانون سازی سے متعلق دستاویزات ایوان کے سامنے رکھنے کے بعد جیسے ہی وقفہ صفر کی کارروائی شروع کرنی چاہی، اپوزیشن ارکان نے نیٹ پرچہ لیک کا معاملہ اٹھانے کی کوشش کی۔
چیئرمین نے مسٹر کھڑگے کو اظہارِ خیال کی اجازت دی۔ مسٹر کھڑگے نے کہا کہ پیر کے روز نیٹ پرچہ لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر جس طرح لاٹھی چارج کیا گیا، وہ انتہائی افسوسناک تھا۔ تاہم وہ اپنی بات مکمل بھی نہیں کر سکے تھے کہ چیئرمین نے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی۔
اس سے قبل چیئرمین نے ہر سال 26 جولائی کو منائے جانے والے کارگل وجے دیوس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن کارگل کی چوٹیوں سے پاکستان کی حمایت یافتہ دراندازوں کو نکال باہر کرنے میں بھارتی افواج کی بہادری کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
انہوں نے ایوان سے اپیل کی کہ مادرِ وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر فوجیوں کی جرأت اور قربانی کو سلام پیش کیا جائے۔ ایوان نے کارگل کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے احترام میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اقتصادی اصلاحات کی دوسری نسل کو نافذ کرنے کا وقت: کھڑگے
نئی دہلی، کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا ہے کہ ملک کے متوسط طبقے کو مزید مضبوط بنانے اور نئی نسل کو ترقی کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے اب دوسری نسل کے معاشی اصلاحات نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ جولائی 1991 میں اُس وقت کے وزیرِ اعظم پی وی نرسمہا راؤ اور وزیرِ خزانہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں تاریخی معاشی لبرلائزیشن کے اصلاحاتی اقدامات کا آغاز ہوا تھا، جنہوں نے ہندستان کی معیشت کی سمت بدل دی۔
انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات نے ملک کی اقتصادی صلاحیت کو نئی رفتار دی، متوسط طبقے کو مضبوط کیا اور کروڑوں لوگوں کے لیے ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دوسری نسل کے معاشی اصلاحات متعارف کرائے جائیں تاکہ نئی نسل کو ترقی کا بھرپور فائدہ مل سکے اور غریبوں کے ساتھ ساتھ معاشرے کے سب سے کمزور طبقات کی بھی مؤثر ترقی یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کی حکومت نے ملک کو جو انقلابی معاشی ورثہ دیا، اس پر پورے ملک کو فخر ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا1 week agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
دنیا1 week agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
جموں و کشمیر7 days agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
دنیا1 week agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
دنیا1 week agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
ہندوستان1 week agoامریکی فوج کے ایران پر تازہ حملوں میں 8 افراد جاں بحق
ہندوستان7 days agoدہلی پولیس نے صحت کی تشویش کے پیش نظر سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیا
ہندوستان1 week agoاتراکھنڈ کے طلبہ پیپر لیک کے خلاف ‘چھاتروں کی گونج’ سے جڑے: راہل
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ڈوڈا کے بھدرواہ علاقے میں فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص ہلاک، ایس او جی کے جوان زخمی
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران میں زمینی فوج بھیجنے پر غور
دنیا1 week agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ
جموں و کشمیر1 week agoبی سی سی آئی یقینی بنائے کہ کرکٹ ‘جموں بمقابلہ کشمیر’ کا مسئلہ نہ بنے: محبوبہ مفتی









































































































