تازہ ترین
کشمیر،سی سی اے قرار داد پر ووٹنگ اور’ای یو۔انڈیا سمٹ‘سے قبل

یور پی یو نین کے سفیروں کا دورہ کشمیر متوقع
’ہم کشمیر کا دورہ کرنے کیلئے تیار،خطے کی صورتحال کا خود جائزہ لیں گے‘:سفارتکار
سرینگر : کشمیر،سی سی اے قرار داد پر ووٹنگ اور’ای یو۔انڈیا سمٹ‘سے قبل یو رپی یونین کے سفیروں کا دورہ کشمیر ایک مرتبہ پھر متوقع ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق برسلز میں 13مارچ کو ’ای یو۔انڈیا سمٹ‘ طے ہے اور اس سے قبل یور پی یونین کے سفیر کشمیر کا دورہ کرسکتے ہیں،تاہم اس حوالے سے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔
کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق نریندرا مودی حکومت متوقع طور پر یور پی یونین (ای یو) ممالک کے سفیروں کا ایک اور دورہ جموں وکشمیر کراسکتی ہے۔ نیوز پوٹل’دی پرنٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ دورہ یوپی پارلیمنٹ میں جموں وکشمیر اور شہریت ترمیمی قانون پر مشترکہ قرارداد پیش کرنے کے پیش نظر متوقع ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ جنوبی امریکا اور افریقہ کے بعض ممالک کے سفارتکاروں کو وادی کے دورے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ان سفارتکاروں کا17رکنی وفد کشمیر آیا تھا اور یہاں فوج کی 15ویں کور ہیڈ کواٹر پر سینئر فوجی قیادت کیساتھ ملاقات کرنے کے علاوہ کئی سیول سوسائٹی،صحافیوں اور دیگر افراد سے علیحد علیحدہ اجتماعی اور انفرادی سطح پر ملاقاتیں کی تھیں۔تاہم غیر ملکی سفیروں کو جموں وکشمیر کا دورہ کرانے پر کانگریس پارٹی سمیت کئی اپوزیشن پارٹیوں نے مودی حکومت کی تنقید کی تھی۔
دی پرنٹ نے سفارتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ برسلز میں 13مارچ کو ’ای یو۔انڈیا سمٹ‘ سے قبل یو ر پی یونین کے سفیر کشمیر کا دورہ کرسکتے ہیں۔تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مودی حکومت مذکورہ سفیروں کو سرکاری طور دورے سے متعلق کوئی دعوت نہیں دی ہے،تاہم یور پی یونین کے سفیروں نے کہا ہے کہ وہ اب کشمیر کا دورہ کرنے کیلئے تیار ہے۔
ایک سفیر نے دی پرنٹ کو بتایا ’ہم کشمیر کا دورہ کرنے کیلئے تیار ہیں،ہم خطے کی صورتحال کا خود جائزہ لینا چاہتے ہیں،بھارتی حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر ہمیں کوئی دعوت نہیں ملی ہے،تاہم ہمیں امید ہے کہ یہ دورہ (ای یو۔انڈیا سمٹ) سے قبل ہوگا‘۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس دورہ کے حوالے سے ابھی تک کوئی تصدیق نہیں ہوئی اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس دورے میں یور پی یونین کے27ممبرممالک کے سفیر شامل ہوں گے یا نہیں۔ایک یو ر پی پونین کے سفارتکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتا یا ہے کہ فرانس،جرمنی اور اسپین ممالک کے سفیر دورہ کشمیر کا حصہ ہوسکتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دراصل حکومت ہند نے اصولی طور یور پی یونین کے سفارتکاروں کے دورہ کشمیر کا ایک منصوبہ ترتیب دیا ہے اور یہ دورہ موسم بہار کی آمد پر متوقع ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے یور پی پار لیمنٹ میں کشمیر،سی سی اے پر 6قراردادیں پیش کی گئی تھیں،جن پر بحث کے بعد ووٹنگ تھی،تاہم یورپی یونین کے پارلیمنٹ میں ’سی اے اے‘ سے متعلق قرار داد پر ہونے والی ووٹنگ مارچ تک کیلئے موخر کر دی گئی ہے۔
ووٹنگ کی تاریخ 30جنوری کو رکھی گئی تھی لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی 13مارچ کو برسلز میں ہونے والے سمٹ میں شرکت کے پیش نظر یہ ووٹنگ موخر کر دی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی کمیشن کی نائب صدر اور امور برائے خارجہ امور و سلامتی کی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ ہیلینا ڈالی کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ آئین کے ساتھ قانون کی تعمیل کا جائزہ لینا بھارتی سپریم کورٹ کا کردار ہے اور ساتھ ہی یہ بھی یقین ہے کہ ملک میں گذشتہ ہفتوں کے دوران پائے جانے والے تناو اور تشدد کو دور کرنے میں عدالتی کارروائی معاون ثابت ہوگی۔اس دوران 2بھارتی نژاد ارکان پارلیمنٹ نے بھارتی حکومت کے حق میں بات کرتے ہوئے کہا کہ سی اے اے اور این آر سی سے متعلق لوگوں میں صحیح معلومات نہیں ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی نژاد ایم ای پی شفق محمد اور دیگر مثلا ایس اینڈ ڈی کے جان ہاوارتھ اور وی ای آر ٹی ایس /اے ایل ای کے اسکاٹ اینسلی نے سی اے اے کو ایک انتہائی امتیازی سلوک والا قانون بتایا ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ یورپی یونین پارلیمنٹ کے 751ممبروں میں سے 626 ممبران نے دونوں امور پر چھ قراردادیں پیش کی تھیں۔ اس قانون کو خطرناک قرار دیا گیا ہے۔پارلیمنٹ میں اس ہفتہ کے آغاز میں یورپین یونائیٹیڈ لیفٹ نارڈک گرین لیفٹ (جی یو ای/این جی ایل)گروپ نے قراردادیں پیش کیں۔ ہندوستان کی طرف سے اس پرکہا گیا تھا کہ شہریت ترمیمی قانون مکمل طور سے ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے۔ ہندوستان کو امید ہے کہ اس تعلق سے شہریت ترمیمی قانون پر یورپین یونین کے مسودہ کی حمایت اور اس کا جائزہ لینے کیلئے ہندوستان سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اس تجویز میں اقوام متحدہ کے منشور، حقوق انسانی کی آفاقی اعلامیہ کی شق15کے علاوہ2015میں دستخط کئے گئے ہندوستان۔یوروپین یونین اسٹریٹجک پارٹنرشپ جوائنٹ ایکشن پلان اور انسانی حقوق پر یوروپین یونین۔ہندوستان موضوعاتی ڈائیلاگ کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس میں ہندوستانی حکام سے اپیل کی گئی کہ وہ سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنیو الے لوگوں کے ساتھ’مثبت مکالمہ‘کریں اور’امتیازی سلوک والے سی اے اے‘کو منسوخ کرنے کے ان کے مطالبہ پر غور کریں۔قرارد اد میں ہندوستان کے لوگوں کے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ شہریت ترمیمی قانون ملک میں شہریت طے کرنے کے طریقے میں خطرناک تبدیلی کریگا۔ اس میں بغیر شہریت والے لوگوں سے متعلق بڑا بحران پوری دنیا میں پیدا ہوسکتا ہے اور یہ بڑے انسانی مصائب کی وجہ بن سکتا ہے۔ گزشتہ سال دسمبر میں ہندوستان میں مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت یہ ترمیمی قانون لے کر آئی ہے جس کے خلاف پورے ہندوستان میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
ہندوستان
حکومت نے بلاری-گنٹکل ریل روٹ پر تیسری اور چوتھی ریل لائن بچھانے کو دی منظوری
نئی دہلی، حکومت نے کرناٹک اور آندھرا پردیش کے بلاری-گنٹکل ریل روٹ پر تیسری اور چوتھی ریل لائن بچھانے کے اہم پروجیکٹ کو منظوری دے دی ہے اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے جمعہ کو یہ معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی صدارت میں اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی کی میٹنگ میں اس سلسلے کی تجویز کو منظوری دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تقریباً 46 کلومیٹر طویل ملٹی ٹریکنگ پروجیکٹ 29-2028 تک مکمل کیا جائے گا اور اسے پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت تیار کیا جائے گا۔ پروجیکٹ پر 1,264 کروڑ روپے لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ پروجیکٹ کرناٹک اور آندھرا پردیش کے تین اضلاع کو کور کرے گا نیز اس سے تقریباً 99 دیہات کے لگ بھگ سات لاکھ لوگوں کو بہتر ریل رابطہ ملے گا۔ اس کے علاوہ بلاری قلعہ اور شری کمار سوامی مندر جیسے اہم سیاحتی مقامات تک رسائی بھی بہتر ہوگی۔ حکومت کے مطابق یہ ریل روٹ خام لوہے، ڈولومائٹ، چونا پتھر، لوہا و اسٹیل، کوئلہ، کھاد اور اناج جیسی اشیاء کی نقل و حمل کے لیے اہم ہے۔ پروجیکٹ مکمل ہونے کے بعد ہر سال تقریباً 16.22 ملین ٹن اضافی مال برداری کی صلاحیت پیدا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ سے ریل آپریشن زیادہ آسان ہوگا، لوجسٹکس لاگت کم ہوگی نیز تقریباً 1.32 کروڑ لیٹر ایندھن کی بچت اور 6.67 کروڑ کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آنے کا تخمینہ ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے
جموں و کشمیر
مسلسل بارش سے لینڈ سلائیڈنگ، جموں۔سری نگر قومی شاہراہ تیسرے روز بھی بند
جموں، جموں و کشمیر میں مسلسل بارش کے باعث تازہ لینڈ سلائیڈنگ کے بعد جموں۔سری نگر قومی شاہراہ جمعہ کو مسلسل تیسرے دن بھی ٹریفک کے لیے بند رہی۔
حکام نے بتایا کہ ضلع ادھم پور کے سمرولی کے قریب اور رام بن کے متعدد مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑوں سے پتھر گرنے کے واقعات کے باعث 275 کلومیٹر طویل جموں–سری نگر قومی شاہراہ بند کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل بارش کی وجہ سے مختلف مقامات پر وقفے وقفے سے لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر گرنے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد و رفت معطل ہے۔
حکام نے مسافروں کو مشورہ دیا کہ جب تک متعلقہ ادارے سڑک کو محفوظ قرار دے کر ٹریفک کے لیے دوبارہ نہ کھول دیں، اس وقت تک سفر سے گریز کریں، کیونکہ مزید لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر گرنے کا خدشہ برقرار ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور سڑک کی تازہ صورتحال جاننے کے لیے ٹریفک پولیس کے سوشل میڈیا ہینڈلز اور ٹی سی یو سے معلومات حاصل کریں۔
ادھر ضلع ادھم پور کے برکوانڈا علاقے میں صبح سویرے بادل پھٹنے کے نتیجے میں اچانک سیلاب آ گیا، جس سے کئی مکانات متاثر ہوئے۔ مقامی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر کے طور پر متاثرہ تین خاندانوں کو گورنمنٹ مڈل اسکول، برکوانڈا منتقل کر دیا۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ نقصانات کا مزید جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دریں اثنا، محکمۂ اسکولی تعلیم نے ہدایت جاری کی ہے کہ جموں ڈویژن کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کوئی بھی سرکاری یا نجی تعلیمی ادارہ اس وقت تک باقاعدہ کلاسیں شروع نہ کرے، جب تک مجاز حکام ان کی عمارتوں کو ساختی اعتبار سے محفوظ قرار نہ دے دیں۔
محکمۂ موسمیات کے ایک افسر کے مطابق جنوبی کشمیر اور اس سے ملحقہ علاقوں، ڈوڈہ، کشتواڑ، راجوری اور پونچھ کے بعض مقامات پر دوپہر تک وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہنے اور اس کے بعد موسم میں بتدریج بہتری آنے کا امکان ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں ڈویژن کے متعدد علاقوں میں بارش اور گرج چمک کے ساتھ بوندا باندی جبکہ بعض مقامات، خصوصاً صبح کے وقت، مختصر دورانیے کی تیز بارش کا امکان ہے۔ محکمۂ موسمیات نے یہ بھی پیش گوئی کی ہے کہ 28 سے 31 جولائی کے درمیان جموں و کشمیر میں بارش کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے، جس کے دوران جموں ڈویژن کے کئی علاقوں میں شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔
یو این آئی۔ اے ایم
دنیا1 week agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
دنیا1 week agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
جموں و کشمیر7 days agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
دنیا1 week agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
دنیا1 week agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
ہندوستان7 days agoدہلی پولیس نے صحت کی تشویش کے پیش نظر سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیا
ہندوستان1 week agoاتراکھنڈ کے طلبہ پیپر لیک کے خلاف ‘چھاتروں کی گونج’ سے جڑے: راہل
ہندوستان1 week agoامریکی فوج کے ایران پر تازہ حملوں میں 8 افراد جاں بحق
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ڈوڈا کے بھدرواہ علاقے میں فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص ہلاک، ایس او جی کے جوان زخمی
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران میں زمینی فوج بھیجنے پر غور
دنیا1 week agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ
جموں و کشمیر1 week agoبی سی سی آئی یقینی بنائے کہ کرکٹ ‘جموں بمقابلہ کشمیر’ کا مسئلہ نہ بنے: محبوبہ مفتی









































































































