تازہ ترین
کشمیر میں مٹی کے برتن استعمال کرنے کا رجحان ایک بار پھر بڑھ رہا ہے

سری نگر،3 اپریل (یو این آئی) وادی کشمیر کے میں تانبے، چاندی وغیرہ سے بنے مختلف ڈیزائینوں کے انتہائی خوبصورت و دلکش برتنوں کی دستیابی کے با وصف لوگوں میں مٹی کے برتن خاص طور پر کھانے پینے کے برتن استعمال کرنے کا رجحان ایک بار پھر بڑھ رہا ہے مٹی کے برتن بنانے والوں کا ماننا ہے کہ بسیار طبی فوائد لوگوں میں کھانے پینے کے لئے مٹی کے برتن دو بارہ استعمال کرنے کی بنیادی وجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ گرچہ یہ پیشہ زوال پذیر تھا تاہم گذشتہ کچھ برسوں سے یہ ایک بار پھر زندہ ہو رہا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔
وادی کے گوشہ و کنار میں مٹی کے برتن بنانے والے دستکار موجود ہیں اور وہ موجودہ سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں بھی اپنے آبا و اجداد کے پیشے کو بر قرار رکھے ہوئے ہیں۔
مٹی کے برتن بنانے کی دستکاری نہ صرف اس سے وابستہ دستکاروں کی میراث اور روزی روٹی کا وسیلہ ہے بلکہ کشمیر کی شاندار ثقافت کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔
وسطی ضلع بڈگام کے چرار شریف سے تعلق رکھنے والے مشتاق احمد جو مٹی کے برتن فروخت کر رہا ہے، کا کہنا ہے کہ یہ کاروبار ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
انہوں نے کہا: ‘میں گذشتہ 35 برسوں سے چرار شریف جہاں حضرت شیخ نور الدین ولی (رح) کی درگاہ واقع ہے،میں مٹی کے برتن فروخت کرتا ہوں میرے والد بھی یہی کام کرتے تھے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘یہ کام روز بروز ترقی کر رہا ہے لوگ ایک بار پھر مٹی کے برتن خاص طور پر کھانے پینے کے لئے استعمال کرنے لگے ہیں’۔
موصوف نے کہا: ‘ڈاکٹر لوگوں کو خاص طور پر معدے کے عارضے میں مبتلا مریضوں کو مٹی کے برتن استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان برتنوں کی مانگ بڑھنے لگی ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘در اصل کورونا وبا کے دوران لوگوں میں مٹی کے برتن استعمال کرنے کا رجحان بڑھ گیا تھا اور پھر یہ ٹرنڈ بڑھتا ہی گیا’۔
ان کا کہنا تھا کہ دستکار بھی اب نئے تقاضوں کے مطابق مختلف ڈیزائینوں کے رنگ برنگی برتن اور دیگر چیزیں تیار کرتے ہیں۔
مشتاق احمد نے کہا کہ بازار میں اب ایسی خوبصورت چیزیں آتی ہیں جن کو خریدے بغیر خریدار نہیں رہ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب صرف کھانے پینے کے لئے ہی مٹی کے برتن نہیں آتے ہیں بلکہ مٹی کا موسیقی و دیگر آرائشی سامان بھی بازاروں میں آتا ہے جس کو لوگ خرید کر گھروں کی زینت بڑھا رہے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ مٹی کے برتنوں کی مانگ میں اضافہ تو رہا ہے لیکن یہ برتن تیار کرنے والوں کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے۔
موصوف دکاندار نے کہا: ‘مٹی کے برتن بنانے والے دستکاروں کی تعداد کم ہو رہی ہے کیونکہ نئی پود اس کی طرف مائل نہیں ہے بلکہ وہ دوسرے پیشے اختیار کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں’۔
انہوں نے کہا: ‘میں ایک دستکار سے برتن خرید کے لاتا تھا جو اپنے خاندان کا آخری دستکار تھا کیونکہ اس کے بچے دوسرے کام کرکے اپنا روز گار حاصل کر رہے تھے’۔
یہ پوچھے جانے پر مٹی کے برتن فروخت کرنے کا کاروبار کیسا ہے، پر ان کا کہنا تھا: ‘یہ ایک اچھا کارو بار ہے میں اس کاروبار سے اچھی طرح سے اپنے عیال کو پالتا ہوں اور مجھے اس کا مستقبل بھی اچھا ہی نظر آ رہا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ شادی بیاہ کے موقعوں پر مجھے مختلف چیزوں کے اچھے آرڈر ملتے ہیں اور اس کے علاوہ بھی خریدار آتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگ زیادہ تر رنگین برتنوں کو خریدنا پسند کرتے ہیں جبکہ بعض خریدار ایسے بھی ہیں جو بغیر رنگ و روغن کے برتن ہی مانگتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مٹی کے برتنوں اور دیگر چیزوں کی مانگ میں اضافہ ایک خوش آئند بات ہے کیونکہ اس پر آج بھی بے شمار لوگوں کی روزی روٹی منحصر ہے۔
مشتاق احمد نے کہا کہ بعض علاقوں میں حکومت نے کمہاروں کو سبسڈی پر قرضہ بھی فراہم کیا ہے تاکہ وہ اپنے پیشے کو مزید مستحکم کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ دستکاری ہمارے تہذیب کا ایک حصہ ہے اس کو زندہ رکھنے کے لئے ہر کشمیری کو اپنا اپنا کر دار ادا کرنا ہوگا۔
دنیا
ایران کا افزودہ یورینیئم کا ذخیرہ کیا محفوظ طریقے سے منتقل کیا جا سکتا ہے؟
تہران، ایران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیئم کا ذخیرہ ایک بار پھر عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کا مرکز بن گیا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں یہ معاملہ سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح اعلان کیا ہے کہ امریکہ ایران کو افزودہ یورینیئم اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔ وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم یہ یورینیئم حاصل کریں گے، ہمیں اس کی ضرورت نہیں لیکن ایران کو رکھنے نہیں دیں گے، ممکنہ طور پر اسے تباہ کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای نے حکم دیا ہے کہ ایران کا افزودہ یورینیئم کسی صورت ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا، ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ یہ ذخیرہ قومی سلامتی اور دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔ تاہم ایک سینئر ایرانی اہلکار نے ان رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے الجزیرہ کو بتایا کہ رہبرِ اعلیٰ نے یورینیئم ملک میں رکھنے سے متعلق ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریباً 440 کلو گرام یورینیئم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد سطح سے کم ہے، تاہم اس مرحلے سے 90 فیصد تک پہنچنا نسبتاً تیز اور آسان ہو جاتا ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی کے مطابق نظریاتی طور پر یہ مقدار مزید افزودگی کے بعد 10 سے زائد جوہری وار ہیڈز بنانے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن اور سول مقاصد کے لیے ہے، تاہم امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک کا دعویٰ ہے کہ 60 فیصد افزودگی عام سول نیوکلیئر پروگرام کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ افزودہ یورینیئم زیادہ تر یورینیئم ہیکسا فلورائیڈ گیس کی شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے، جو انتہائی خطرناک اور زہریلا مادہ تصور کیا جاتا ہے، اگر یہ گیس خارج ہو جائے تو مہلک کیمیائی مرکبات پیدا کرسکتی ہے جو سانس اور جلد دونوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاہم عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق اس مواد کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنا ممکن ہے، اس مقصد کے لیے خصوصی مضبوط اسٹیل سلنڈر استعمال کیے جاتے ہیں جو شدید دباؤ، حرارت اور حادثات کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاریخ میں اس نوعیت کی منتقلی کی مثالیں بھی موجود ہیں، سرد جنگ کے بعد امریکہ نے 1994ء میں قازقستان سے تقریباً 600 کلو گرام ہتھیاروں کے درجے کا یورینیئم خفیہ آپریشن پروجیکٹ سیفائر کے تحت منتقل کیا تھا۔ ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران کا افزودہ یورینیئم ختم یا ملک سے باہر منتقل کیے بغیر خطے میں کشیدگی کا خاتمہ ممکن نہیں ہو گا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے مطابق یورینیئم کے ذخیرے کا معاملہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک پیدا کر چکا ہے، اسی لیے اس موضوع کو وقتی طور پر مؤخر کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے ماضی میں یہ تجویز بھی دی تھی کہ 60 فیصد افزودہ یورینیئم کو دوبارہ 3.67 فیصد سطح تک کم کر دیا جائے، تاہم اس معاملے پر اب تک کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
جو ملک اپنے ہتھیار خود بناتا ہے، وہ اپنی تقدیر خود لکھتا ہے: راج ناتھ سنگھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری کو صرف ایک ضرورت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ امن، ترقی اور اقتصادی مضبوطی کے لیے بھی بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ملک اپنے ہتھیار خود بناتا ہے، وہ اپنی تقدیر خود لکھتا ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے ہفتہ کے روز مہاراشٹر کے شردی میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے ساتھ ایک نجی کمپنی این آئی بی ای گروپ کے دفاعی مینوفیکچرنگ کمپلیکس کا افتتاح کیا۔ اس کمپلیکس کا مقصد جدید توپ نظام، میزائل اور خلائی ٹیکنالوجی، راکٹ سسٹم، انرجیٹک میٹریل اور خودکار دفاعی پلیٹ فارم تیار کرنا ہے۔
اس موقع پر ہندوستان کے پہلے 300 کلومیٹر رینج والے یونیورسل راکٹ لانچنگ سسٹم سوریہ استر کو بھی باضابطہ طور پر روانہ کیا گیا۔ اس نظام کے لیے ایک میزائل کمپلیکس کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔
تقریب کے دوران دیسی ساختہ ٹی این ٹی پلانٹ ٹیکنالوجی، آر ڈی ایکس پلانٹ ٹیکنالوجی اور قابلِ تجدید بایو انرجی پر مبنی کمپریسڈ بایو گیس پلانٹ کی نقاب کشائی بھی کی گئی۔ اس کے علاوہ سیٹلائٹ اسمبلی کے شعبے میں این آئی بی ای گروپ اور بلیک اسکائی کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا تبادلہ بھی ہوا۔
وزیر دفاع نے گولہ بارود کی تیاری میں خود کفالت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ نیا کمپلیکس ہندوستانی مسلح افواج کی عملی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے صنعتی نظام کو بھی مضبوط بنائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پہلے دفاعی پیداوار زیادہ تر سرکاری اداروں اور اسلحہ ساز فیکٹریوں تک محدود تھی، لیکن حکومت نے اب اس شعبے کو نجی کمپنیوں کے لیے بھی کھول دیا ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت نے نجی شعبے کی صلاحیتوں کو پہچانا کیونکہ یہی شعبہ ہندوستان کو عالمی مینوفیکچرنگ مرکز میں تبدیل کر سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کی جنگوں کا فیصلہ فوج کے حجم سے نہیں بلکہ ہتھیاروں، جدید ٹیکنالوجی اور آٹومیشن میں برتری سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ روس-یوکرین جنگ اور مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال اس حقیقت کی واضح مثال ہیں۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان نے آپریشن سندور کے دوران اپنی جدید دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی نجی صنعت مستقبل کی جنگی ضروریات کو بخوبی سمجھتی ہے اور ملک کو جدید ترین دفاعی نظام فراہم کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔
وزیر دفاع نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان کو ہتھیاروں اور آٹومیشن کے شعبے میں عالمی مرکز بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میک اِن انڈیا مہم کے تحت جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی نظام کی تیاری کو مسلسل فروغ دے رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے جائیں گے کہ ہندوستان دفاعی ٹیکنالوجی اور خودکار نظام میں دنیا میں سب سے آگے رہے۔
یو این آئی۔ اے ایم۔
ہندوستان
مرکزی حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا کر ہم وطنوں کو دھیما زہر دے رہی ہے : کیجریوال
نئی دہلی، 2 عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے گزشتہ 10-15 دنوں میں تیسری بار پیٹرول اور ڈیزل کے دام بڑھانے پر مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ہفتہ کو کہا کہ حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا کر ہم وطنوں کو دھیما زہر دے رہی ہے۔
مسٹر کیجریوال نے ‘ایکس’ پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا، “آج پھر سے حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ گزشتہ 10-15 دنوں میں تیسری بار قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔ گزشتہ 10-15 دن میں پیٹرول اور ڈیزل کے دام تقریباً 4 سے 5 روپے فی لیٹر بڑھ گئے ہیں۔ گیس سلنڈر کے دام بھی بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ لوگوں کے لیے گھر چلانا مشکل ہو رہا ہے۔
لوگ اس قدر ڈرے اور صدمے میں ہیں کہ انہیں یہ نہیں معلوم کہ حکومت آنے والے دنوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اور کتنا بڑھانے والی ہے؟ چاروں طرف افواہیں چل رہی ہیں کہ ابھی تو بہت بڑھے گا، پیٹرول 150 روپے تک جائے گا، پتا نہیں کتنا جائے گا؟ حکومت سے پوچھو تو حکومت کچھ نہیں بتا رہی۔” انہوں نے کہا کہ ملک میں نہ صرف دام بڑھ رہے ہیں، بلکہ ملک بھر میں پیٹرول، گیس اور ڈیزل کی قلت ہو گئی ہے۔ گجرات سے ایسی تصویریں آ رہی ہیں کہ کس طرح سے پیٹرول پمپس پر ٹریکٹروں کی لمبی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں، ڈیزل نہیں مل رہا ہے۔ کس طرح سے جگہ جگہ لوگوں کے درمیان ہاتھا پائی مچی ہوئی ہے۔ اتر پردیش کے گورکھپور میں لوگ رات کو سڑک پر سو رہے ہیں۔ اپنا گیس سلنڈر بھروانے کے لیے لائنیں لگا لگا کر، مچھردانی لگا کر سڑک پر رات رات بھر سو رہے ہیں۔ مہاراشٹر کے اکولا اور بلڈھانہ میں پیٹرول اور ڈیزل لینے کے لیے ہاہاکار مچا ہوا ہے۔ ملک کے لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ حکومت بتائے تو سہی کہ آنے والے دنوں کے اندر کیا ہونے والا ہے، صورتحال کتنی خراب ہونے والی ہے؟ لیکن حکومت لوگوں کو کچھ بتا ہی نہیں رہی ہے۔
عآپ رہنما نے کہا، “روس اور ایران دونوں کہہ رہے ہیں کہ ہم ہندوستان کو سستے داموں پر تیل اور گیس دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن ہندوستان حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم نہیں لیں گے۔ کیوں نہیں لیں گے؟ میں ہم وطنوں سے جاننا چاہتا ہوں کہ کیا ہندوستان حکومت کو روس اور ایران سے سستے داموں پر تیل اور گیس لینی چاہیے یا نہیں لینی چاہیے؟ یہ ملک ہمارا ہے، ان رہنماؤں کا نہیں ہے، کسی پارٹی کا نہیں ہے۔ ہم 140 کروڑ لوگوں کا ملک ہیں۔ مل کر آواز اٹھائیں گے تو حکومت کو اس ملک کے لوگوں کی سننی پڑے گی۔”
یواین آئی۔ایف اے
جموں و کشمیر3 days agoعید سے قبل بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے؛ اس مقدس موقع پر ملازمین کو مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے: رفیق راتھر
دنیا1 week agoایران نے آبنائے ہرمز سے مزید جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی
دنیا4 days agoصدارت کے بعد اسرائیل کا وزیراعظم بن سکتا ہوں: ٹرمپ کی گفتگو وائرل
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: پولیس افسر نے مبینہ طور پر بیوی کو قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی ماری
ہندوستان6 days agoملک میں بڑا معاشی بحران آنے والا ہے، عام آدمی پر پڑے گا اثر: راہل گاندھی
ہندوستان1 week agoفوجی سربراہ کا پاکستان کو واضح پیغام ، دہشت گردی کی حمایت کرے گا تو مٹا دیا جائے گا نقشہ سے
ہندوستان6 days agoپٹرول اور ڈیژل کی قیمت چار دن میں دوسری بار بڑھانے پر جواب دیں مودی:کھرگے
دنیا3 days agoٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان، ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف
ہندوستان1 week agoہندوستان نے سندھ طاس معاہدے پر نام نہاد ثالثی عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا
دنیا1 week agoتائیوان نے آزادی کا اعلان کیا تو کشیدگی بڑھے گی، ٹرمپ
دنیا3 days agoکیوبا نے مارکو روبیو پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگا دیا
دنیا4 days agoحملہ ہوا تو جنگ خطے سے باہر تک پھیل جائے گی، پاسدارانِ انقلاب کا واضح پیغام


































































































