جموں و کشمیر
3جولائی سے سالانہ امرناتھ یاترا2025کاآغاز: جامع سیکورٹی اور حفاظتی اقدامات کو حتمی شکل

پہلگام حملے سے پہلے 2.36 لاکھ یاتریوں نے کرائی رجسٹریشن
عوام کا اعتماد واپس آ رہا ہے اور مجھے اُمید ہے کہ یہ بڑھتا رہے گا،رجسٹریشن میں بھی آئے گی تیزی
امسال بھی سری نگر میں8 محرم کے جلوس کےلئے روایتی راستوںکی منظوری : لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
سری نگر : جے کے این ایس : جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو اعلان کیا کہ سالانہ امرناتھ یاترا 3 جولائی کو شروع ہوگی، انتظامیہ یاتریوں کی حفاظت، نقل وحمل، صحت کی دیکھ بھال اور ماحولیاتی انتظام کو یقینی بنانے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔جے کے این ایس کے مطابق سالانہ امرناتھ یاترا شروع ہونے سے8دن پہلے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے شری امرناتھ شرائن بورڈ اور جموں و کشمیر انتظامیہ کی طرف سے کئے گئے وسیع انتظامات پر روشنی ڈالی، اس بات پر زور دیا کہ حقیقی وقت کی نگرانی کی سہولت کےلئے ہر یاتری کےلئے RFIDیعنی ریڈیوفریکونسیکی شناخت کے ذریعے ٹریکنگ لازمی ہوگی۔انہوںنے کہاکہ راستے کے تمام اہم مقامات پر اعلیٰ معیار کے نگرانی کے کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔منوج سنہا نے کہا کہ تمام بیس کیمپوں اور یاترا کے پورے راستے پر تین سطحی حفاظتی انتظامات قائم کیے گئے ہیں۔انہوں نے نوٹ کیا کہ سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے اور یاترا کی تیاری کے لئے پہلے ہی فرضی مشقیں کی جا چکی ہیں۔ مزید برآں، اس سال صحت کے بنیادی ڈھانچے کو نمایاں طور پر بڑھایا گیا ہے، ہر بیس کیمپ پر 100 بستروں کے ہسپتال قائم کیے گئے ہیں، اس کے ساتھ اضافی ہنگامی طبی ٹیمیں اسٹینڈ بائی پر ہیں۔ماحولیاتی محاذ پر، محکمہ دیہی ترقی کے بارے میں انہوں نے کہاکہ صاف اور سبز یاترا کوریڈور کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ سال سے، ہم نے کامیابی کے ساتھ صفر فضلہ یاترا کو یقینی بنایا ہے، ایک رجحان جسے ہم اس سال بھی مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔چیف سیکرٹری اتل ڈلو اوردیگرسیول وپولیس حکام کے موجودگی میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے تاہم، 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد رجسٹریشن میں کمی کو تسلیم کیا جس میں افسوسناک طور پر 26 جانیں گئیں۔ انہوںنے کہاکہ رجسٹریشن میں تقریباً 10 فیصد کمی آئی، لیکن تعداد اب دوبارہ بڑھ رہی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہاکہ عوام کا اعتماد واپس آ رہا ہے، اور مجھے امید ہے کہ یہ بڑھتا رہے گا۔انہوں نے کہاکہ حملے سے پہلے 2.36 لاکھ یاتریوں نے یاترا کےلئے رجسٹریشن کرائی تھی۔موجودہ سیکورٹی صورتحال کی روشنی میں، لیفٹیننٹ گورنر نے تمام یاتریوں بشمول پرائیویٹ گاڑیوں میں سفر کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ جموں سے بیس کیمپ تک صرف سیکورٹی قافلے کے ساتھ سفر کریں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ سیکیورٹی اور لاجسٹک وجوہات کی بنا پر اس سال ہیلی کاپٹر کی خدمات دستیاب نہیں ہوں گی۔محرم کے جلوس کے روٹ کے بارے میں پوچھے جانے پرمنوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے گزشتہ سال کے جلوس کے بعد اس سال سری نگر میں 8 محرم کے جلوس کو روایتی راستے سے آگے بڑھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوںنے مزیدکہاکہ امرناتھ یاترا کے دوران سیکورٹی کے نقطہ نظر سے، جموں و کشمیر پولیس، فوج، اور سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) نے مل کر یاترا کے آغاز سے لے کر غار سے واپسی تک ایک مضبوط سیکورٹی انتظامات قائم کیے ہیں۔ نئے اقدامات بھی لاگو کیے گئے ہیں، جن کی ایل جی ضرورت کے مطابق وضاحت کرے گا۔منوج سنہا نے جموں و کشمیر کے تمام باشندوں سے خصوصی اپیل کی، خاص طور پر کشمیر میں رہنے والوں سے، جو روایتی طور پر یاترا کے دوران مکمل تعاون فراہم کرتے ہیں۔ مقامی لوگ بے تابی سے یاتریوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، اور ہر کوئی اس کا انتظار کر رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ میں آپ سے، میرے صحافی دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ ایک مثبت پیغام دیں کہ کشمیر کے لوگوں کی مہمان نوازی کی مثال ملک میں نہیں ملتی۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے مزید کہا کہ تقریباً8فیصدیاتری عام طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے سفر کرتے ہیں، اور اس وجہ سے اس سال ہیلی کاپٹر خدمات کی کمی کا مجموعی طور پر یاترا کے تجربے پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔(ایجنسیاں)
جموں و کشمیر
کشمیر کی تاریخ 2019 سے شروع نہیں ہوئی،وادیِ کشمیر کے تشخص پر میرواعظ کا مؤقف
سرینگر، حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے پیر کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی تقریباً پانچ ہزار سالہ تاریخ اور تہذیبی ورثہ کو فراموش یا مٹایا نہیں جا سکتا، کیونکہ کشمیر کی تاریخ کا آغاز 2019 سے نہیں ہوا۔
میرواعظ نے دو متنازع کتابوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند شخصیات کی ستائش پر مبنی مواد سامنے آنے کے بعد جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے آٹھ سرکاری افسران کی معطلی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے، جس میں مختلف مذہبی، ثقافتی اور سیاسی ادوار شامل ہیں۔
نہوں نے کہا، “کشمیر کی تاریخ تقریباً پانچ ہزار سال پرانی ہے اور ہمیں اس کے ہر باب پر فخر ہے۔ اس میں بدھ مت کا دور، شیو مت، ہندو دھرم، اسلام کی آمد اور بعد ازاں 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد کے تمام اہم تاریخی مراحل شامل ہیں۔”
میرواعظ نے کہا کہ یہ ایک فطری امر ہے کہ مختلف ادوار اور واقعات پر متعدد مصنفین نے اپنی اپنی آرا اور تحقیقات قلم بند کی ہیں، اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کشمیر کی تاریخ 2019 کے بعد شروع ہوئی اور اس سے پہلے کے تمام بیانیوں پر پابندی عائد کر دی جائے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایک جمہوری معاشرے میں مکالمہ، علمی مباحث اور مختلف نقطۂ نظر کے اظہار کی گنجائش ہونی چاہیے۔ ان کے بقول، “کتابوں پر پابندی لگانے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہر شخص کو اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔”
میرواعظ نے مزید کہا کہ تاریخ کو نہ تو مٹایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے صرف ان حصوں کو منتخب کیا جا سکتا ہے جو کسی مخصوص بیانیے سے مطابقت رکھتے ہوں۔ ان کے مطابق، معاشرے آزادیِ اظہار، مکالمے اور علمی بحث سے آگے بڑھتے ہیں، نہ کہ کتابوں پر پابندی لگانے یا مختلف آرا کو خاموش کرانے سے۔
انہوں نے کتابوں، تنظیموں اور سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کرنے کے رجحان پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات معاشرے میں نامناسب پیغام دیتے ہیں، جبکہ تاریخی حقائق اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: سرکاری اناج غبن معاملہ، 5 اعلیٰ حکام سمیت 14 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج
سرینگر، جموں و کشمیر کے اینٹی کرپشن بیورو نے پیر کے روز ضلع کپواڑہ کے کرناہ علاقے میں سرکاری راشن (اناج) کے بڑے پیمانے پر غبن، خرد برد اور ہیرا پھیری کے الزام میں محکمہ خوراک، شہری رسد اور امورِ صارفین کے پانچ اعلیٰ افسران اور نو (9) سرکاری راشن ڈیلرز کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔
محکمہ عمومی انتظامیہ سے باضابطہ منظوری ملنے کے بعد، کرپشن کے اس سنگین معاملے میں اے سی بی پولیس اسٹیشن بارہمولہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔اے سی بی ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی ڈائریکٹر فوڈ، سول سپلائیز اینڈ کنزیومر افیئرز کشمیر کی جانب سے موصول ہونے والے ایک سرکاری خط کے بعد کی گئی ہے۔ خط میں محکمانہ معائنے اور فزیکل ویریفکیشن (جسمانی تصدیق) کے دوران سرکاری اناج کے اسٹاک میں بھاری کمی پائے جانے پر مجرمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔
سرکاری گوداموں پر کیے گئے اچانک مشترکہ معائنے میں ابتدائی طور پر کپواڑہ کے کرناہ میں واقع ‘لونتھا فوڈ اسٹور’ سے 4,175.89 کوئنٹل چاول کم پائے گئے تھے۔
محکمہ کی ذیلی کمیٹی کی تفصیلی رپورٹ اور اے سی بی کی گہری چھان بین کے بعد انکشاف ہوا کہ ضلع کپواڑہ کے ٹنگڈھار، کرناہ-اے اور کرناہ-بی سرکلز کے تحت آنے والے مختلف سرکاری سیلز سینٹرز اور راشن کی دکانوں پر اناج کا ایک بڑا حصہ غائب تھا۔ اس سوچے سمجھے غبن کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو تقریباً 5.57 کروڑ روپے کا خطیر نقصان پہنچا ہے۔
“سرکاری اناج کی یہ بڑی کمی دراصل سرکاری ملازمین اور نجی فائدہ اٹھانے والوں (ڈیلرز) کی ملی بھگت سے رچی گئی ایک ‘منظم مجرمانہ سازش’ کا نتیجہ ہے۔ ان افراد نے ناجائز طور پر مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے اپنے عہدوں اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور غریبوں کے راشن میں ہیرا پھیری کی۔”
تفتیش اور تصدیق کے دوران حاصل ہونے والے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر، اے سی بی نے ملزمان کے خلاف فرائض میں غفلت، مجرمانہ خیانت (امانت میں خیانت)، سرکاری اناج چوری کرنے اور سازش رچنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
نامزد کیے گئے اہم ملزمان میں
عمر بشیر عرف راجہ عمر (تکنیکی طور پر اسسٹنٹ اسٹور کیپر)
عاشق حسین میر (تکنیکی طور پر اسسٹنٹ اسٹور کیپر) شامل ہیں۔
ان کے علاوہ دیگر 12 افراد، جن میں محکمہ کے ملازمین اور راشن ڈپو کے ڈیلرز شامل ہیں۔
اے سی بی حکام کے مطابق، معاملے کی تفصیلی تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور اس گھوٹالے میں ملوث کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں بادل پھٹنے سے سیلاب اورلینڈ سلایئڈنگ سے متعدد گاڑیاں ملبے میں دب گئیں
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں موسلا دھار بارشوں کے بعد اچانک آنے والے سیلاب اور بڑے پیمانے پر زمین کھسکنے( لینڈ سلایئڈنگ) کے باعث شدید تباہی ہوئی ہے۔ 540 میگاواٹ کے زیرِ تعمیر ‘کواڑ ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ’ کے نزدیک کئی گاڑیاں ملبے کے نیچے دب گئیں اور متعدد گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق، متاثرہ گاڑیوں کو ملبے سے نکالنے اور راستوں کو دوبارہ آمد و رفت کے لیے بحال کرنے کے لیے امدادی ٹیموں اور بھاری مشینریکو فوری طور پر کام پر لگا دیا گیا ہے۔
کشتواڑ کے ساتھ ساتھ ضلع ڈوڈا کے کئی علاقوں میں بھی بادل پھٹنے اور سیلابی ریلے کے باعث عام زندگی درہم برہم ہو گئی ہے اور کئی مقامات پر املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ راحت کی بات یہ ہے کہ اب تک کسی بھی ضلع سے کسی جانی نقصان یا کسی شخص کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اس واقعے کے حوالے سے تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا”کشتواڑ سے رپورٹ ملنے کے فوراً بعد میں نے ڈویژنل کمشنر رمیش کمار سے بات چیت کی ہے۔ اطلاعات تھیں کہ سیلاب کا پانی زیرِ تعمیر 540 میگاواٹ کواڑ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے احاطے میں داخل ہو گیا ہے۔”
انہوں نے مزید لکھا تسلی بخش بات یہ ہے کہ کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ پروجیکٹ سے وابستہ کچھ قیمتی مشینری کو بھی کسی نقصان کے بغیر بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر، زیرِ تعمیر پروجیکٹ کا ہر حصہ مکمل طور پر محفوظ ہے اور اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔”انتظامیہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
یواین آئی ۔م ا ع
ہندوستان1 week agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا5 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
دنیا7 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صرف ایران ہٹائے گا، فرانس کا مؤقف مسترد
ہندوستان6 days agoبی جے پی نے بھگوان رام کے نام کا صرف سیاسی استعمال کیا: کیجریوال
دنیا6 days agoامریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیدائشی شہریت برقرار رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو “بڑی غلطی” قرار دیا
جموں و کشمیر6 days agoسری نگر میں کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر کی غیر منقولہ جائیداد ضبط
ہندوستان1 week agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
ہندوستان7 days agoکھرگے کا الزام: مرکز منریگا کو کمزور کر رہا ہے، زیر التوا بقایا جات اور نئی دیہی روزگار اسکیم پر وزیر اعظم سے جواب طلب کیا
دنیا1 week agoایران کے خلاف جنگ ایک بڑی غلطی تھی: صدر سلووینیا
دنیا7 days agoدوحہ میں امریکی حکام کے ساتھ ملاقات،ایران کی تردید



































































































