دنیا
بم کی دھمکی کے بعد ایئر انڈیا کے طیارے کی ایمرجنسی لینڈنگ

بنکاک، ایئر انڈیا کی ایک پرواز جس نے جمعہ کو تھائی لینڈ کے ریسورٹ جزیرے فوکیٹ سے دہلی کے لیے پرواز کی تھی، بم کی دھمکی ملنے کے بعد اسے واپس ہوائی اڈے پر ایمرجنسی لینڈنگ کرنی پڑی۔
فوکیٹ ہوائی اڈے کے افسران نے یہ اطلاع دی۔
مقامی میڈیا نے بتایا کہ پرواز نمبر اے آئی 379 کو بعد میں بحفاظت اتار لیا گیا۔
تھائی لینڈ ہوائی اڈے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ طیارے کی ہنگامی حالت میں لینڈنگ کے بعد مسافروں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ طیارے کی مکمل تلاشی لینے کے بعد اس کے اندر سے کوئی بم نہیں ملا۔
تھائی لینڈ کے ہوائی اڈے کے افسران اس مسافر سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں جس نے ہوائی جہاز پر بم کی دھمکی والا نوٹ دکھایا تھا۔ طیارے میں 156 مسافر سوار تھے۔
فلائٹ ٹریکر فلائٹ رڈار 24 کے مطابق، طیارہ آج مقامی وقت کے مطابق صبح 9.30 بجے فوکیٹ ایئرپورٹ سے دہلی کے لیے روانہ ہوا۔ بم کی دھمکی ملنے کے بعد جہاز نے بحیرہ انڈمان کے گرد چکر لگایا اور ہنگامی حالت میں ہوائی اڈے پر بحفاظت واپس اترگیا۔
اس سے قبل جمعرات کو ایئر انڈیا کا ایک طیارہ احمد آباد ہوائی اڈے سے پرواز کرنے کے چند منٹ بعد گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ طیارے میں عملے کے 12 ارکان سمیت 242 افراد سوار تھے۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
کیا مشکل وقت میں روس ایران کیلئے معاشی سہارا بنے گا
ماسکو، آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث ایران کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے جس کے بعد تہران روس کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوتن سے ملاقات کی جہاں دونوں ممالک نے باہمی تعاون پر بات چیت کی۔ الجزیرہ میں شائع کیے گئے ایک تجزیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور روس کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوا ہے، تجارت کا یہ حجم 2024ء میں تقریباً 4.8 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا تھا لیکن یہ اب بھی محدود ہے، دونوں ممالک زیادہ تر ایک جیسی مصنوعات بناتے ہیں جس سے تجارتی امکانات محدود رہتے ہیں۔
روس اور ایران کے درمیان تجارت کا بڑا ذریعہ ‘انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور’ ہے جو بحیرۂ کیسپیئن کے ذریعے سامان کی ترسیل ممکن بناتا ہے، تاہم بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ راستہ آبنائے ہرمز کا مکمل متبادل نہیں بن سکتا کیونکہ سمندری راستہ سستا اور تیز ہے اور ایران کی 90 فیصد تجارت اسی پر منحصر ہے۔
الجزیرہ کے مطابق روس مختصر مدت کے لیے ایران کو کچھ سہارا دے سکتا ہے جیسے کہ خوراک اور صنعتی سامان کی فراہمی لیکن طویل مدت میں وہ ایران کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا، خاص طور پر تیل کی برآمدات۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس خود بھی معاشی دباؤ اور یوکرین جنگ کے باعث مسائل کا شکار ہے جس کی وجہ سے ایران میں بڑی سرمایہ کاری اس کے لیے آسان نہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ میں شائع کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق روس کے لیے ایران کی مدد کرنا فائدہ مند بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے عالمی تیل کی قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں اور دونوں ممالک کا اتحاد مضبوط ہو سکتا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ روس ایران کے لیے مکمل معاشی متبادل نہیں بن سکتا بلکہ صرف عارضی مدد فراہم کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
دنیا بھر کی فوج مل کر بھی ایران سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول نہیں چھین سکتی: ایرانی سیکیورٹی کونسل
تہران، ایران کے سیکورٹی کونسل کے ترجمان ابراہیم رضائی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کی فوج مل کر بھی ایران سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول نہیں چھین سکتی۔
تفصیلات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران کے سیکورٹی کونسل کے ترجمان ابراہیم رضائی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ان کا کنٹرول غیر متزلزل ہے اور ایرانی اجازت کے بغیر ایک لٹرپٹرول بھی ہرمز سے نہیں جاسکتا۔
ابراہیم رضائی نے سپاہ پاسداران کی بحریہ کے کمانڈرز کے حوالے سے سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کی تمام افواج مل کر بھی آبنائے ہرمز سے ایران کا کنٹرول ختم نہیں کر سکتیں، ایران کی مرضی کے بغیر ایک لیٹر پیٹرول بھی اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے نہیں گزر سکتا۔
دوسری جانب ایرانی افواج کے ترجمان محمد اکرم نے موجودہ صورتحال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگرچہ بظاہر جنگ بندی کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن ہم اب بھی حالت جنگ میں ہیں، ایران کو امریکہ اور اسرائیل پر ذرہ برابر بھی بھروسہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل پر ذرہ برابر بھی بھروسہ نہیں، جنگ بندی کےدوران بھی ایران اپنے اہداف اپ ڈیٹ کر رہا ہے، نئے جنگی ساز و سامان کی تیاری کا عمل بھی پوری شدت سے جاری ہے، ملکی سرحدوں کی مسلسل نگرانی جاری ہے۔
ایرانی افواج کے ترجمان نے کہا کہ دشمن نے کوئی نئی جارحیت کی تو اسے نئے ہتھیاروں سے سخت جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے 60 دن بعد روس اور چین کے لیے پروازیں بحال کر دیں
تہران، ایران نے تقریباً دو مہینے کے وقفے کے بعد روس اور چین کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تقریباً 60 روز کے وقفے کے بعد ایران نے روس اور چین کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ اس سے ایک دن قبل قومی فضائی کمپنی ایران ایئر نے بھی اپنی پروازوں کی بحالی کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی۔
دوسری طرف امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ خبردار کر چکے ہیں کہ ایرانی فضائی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کرنے والی کمپنیاں امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا تھا کہ غیر ملکی حکومتیں یقینی بنائیں کہ ان کے دائرہ اختیار میں آنے والی کمپنیاں ایرانی طیاروں کو کوئی خدمات فراہم نہ کریں، جن میں ’طیاروں کے لیے ایندھن کی فراہمی، کیٹرنگ سروسز، ہوائی اڈوں پر لینڈنگ فیس یا طیاروں کی دیکھ بھال‘ شامل ہیں۔
ایران جنگ اور امن معاہدے سے متعلق تمام خبریں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی وزارت خزانہ ’کسی بھی ایسے تیسرے فریق کے خلاف کارروائی میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گی جو ایرانی اداروں کے ساتھ لین دین کرے یا انہیں سہولت فراہم کرے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر5 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 day agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
دنیا1 week agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
ہندوستان4 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
ہندوستان4 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
دنیا1 week agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں
دنیا1 week agoدھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کسی صورت قبول نہیں: اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
دنیا5 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
دنیا1 week ago“جنگ بندی میں توسیع ” تیل کے حصص میں کمی،سرمایہ کار محتاط
دنیا1 week agoہمارے جہاز پر قبضہ بحری قزاقی ہے،مذمت کرتے ہیں :ایران









































































































