جموں و کشمیر
ممبرپارلیمنٹ آغاسید روح اللہ نے نئی بحث چھیڑ دی کہامیںایسے لوگوں کی تلاش میں ہوں جو میرے ساتھ ساتھ چلیں

جو ساکھ کےلئے کھڑے ہوں اور نظام میں احتساب کےلئے کام کریں
سری نگر : جے کے این ایس : سری نگر کے رُکن پارلیمان اور نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما آغا سید روح اللہ مہدی نے جمعہ کو دیانتداری اور ذمہ داری پر مرکوز ایک نیا سیاسی پلیٹ فارم شروع کرنے کے امکان کا اشارہ دےکر سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی۔جے کے این ایس کے مطابق ڈاک بنگلہ سوپور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممبرپارلیمنٹ آغاسید روح اللہ نے کہا کہ میں ایسے لوگوں کی تلاش میں ہوں جو میرے ساتھ ساتھ چلیں، جو ساکھ کے لئے کھڑے ہوں اور نظام میں احتساب کے لئے کام کریں۔اگرچہ روح اللہ نے ایک نئی سیاسی جماعت کے بارے میں باضابطہ اعلاننہیں کیا، لیکن ان کے زومعنیٰ تبصرے اور ان کی تقریر کے سیاق و سباق سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ موجودہ پارٹی سے الگ ایک آزاد سیاسی تحریک کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ ڈاک بنگلہ سوپورمیں منعقدہ اس تقریب میں نیشنل کانفرنس کے سوپور یونٹ کا کوئی بھی نمائندہ موجود نہیں تھا، جس سے ممبرپارلیمنٹ آغاسید روح اللہ اور اس کی پارٹی قیادت کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری کی قیاس آرائیوں کو ہوا ملی۔ مقامی لوگوں نے نوٹ کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ پروگرام مقامی این سی کیڈر کی شمولیت کے بغیر منعقد کیا گیا تھا، جس سے ممکنہ سیاسی صف بندی کی چہچہاہٹ میں اضافہ ہوا تھا۔
جموں و کشمیر
ڈوڈا کے تھاتھری قصبے میں بادل پھٹنے سے گھروں اور گاڑیوں کو نقصان
جموں، جموں و کشمیر میں ڈوڈا ضلع کے تھاتھری علاقے میں بادل پھٹنے سے اچانک آئے سیلاب اور مٹی کے تودے کھسکنے سے کئی گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔
سرکاری ذرائع نے منگل کو بتایا کہ کل دیر رات تقریباً 2:30 بجے تھاتھری قصبے میں بادل پھٹا، جس سے اچانک سیلاب آگیا اور علاقے میں کافی تباہی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ “خبروں کے مطابق، تھاتھری بازار کو کافی نقصان پہنچا ہے اور کئی گھر بڑے پتھروں، مٹی اور ملبے کے نیچے دب گئے ہیں۔ کئی گاڑیوں کے بھی تباہ ہونے یا بہہ جانے کی خبر ہے۔” ذرائع نے کہا کہ “نقصان کا صحیح اندازہ لگایا جا رہا ہے۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے یا مرنے کی کوئی خبر نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ “کئی گھروں میں مٹی، پانی اور ملبہ داخل ہوگیا، جس کی وجہ سے لوگوں کو ملبہ ہٹانے میں کافی مشقت کرنی پڑی۔” ساتھ ہی کئی خاندانوں کو سڑکوں پر رہنے پر مجبور ہونا پڑا۔
حکام نے بتایا کہ کافی مقدار میں مٹی اور ملبہ جمع ہونے کی وجہ سے ڈوڈا-کشتواڑ قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “واقعے کے بعد کی صورتحال پر باریک بینی سے نظر رکھی جا رہی ہے اور انتظامی حکام و پولیس اہلکاروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لے رہی ہیں۔”
اس سے پہلے، ڈوڈا ضلع کے بھلیسا علاقے اور کشتواڑ ضلع میں 540 میگاواٹ کے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے پاس بھی بادل پھٹنے کے واقعات ہوئے تھے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
شری امرناتھ یاترا کے لیے 8815 تیرتھ یاتریوں کا چھٹا جتھہ جموں سے روانہ
جموں، جموں و کشمیر میں شری امرناتھ یاترا کے لیے 8815 تیرتھ یاتریوں کا چھٹا جتھہ منگل کو سخت سکیورٹی کے درمیان جموں کے بھگوتی نگر یاتری نواس بیس کیمپ سے جنوبی کشمیر ہمالیہ میں واقع گپھا مندر کے لیے روانہ ہوا۔
حکام نے بتایا کہ 8815 تیرتھ یاتری آج صبح جموں بیس کیمپ سے 363 ہلکی اور بڑی گاڑیوں کے قافلے میں روانہ ہوئے۔
اس جتھے میں 3989 زائرین بالتال بیس کیمپ اور 4826 یاتری پہلگام بیس کیمپ کے لیے جا رہے تھے۔ یہ قافلہ کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کے درمیان آگے بڑھا۔ یاترا کو محفوظ اور پرامن طریقے سے مکمل کرانے کے لیے سول انتظامیہ، پولیس، سکیورٹی فورسز اور شری امرناتھ شرائن بورڈ نے مل کر انتظامات کیے ہیں۔
جموں و کشمیر انتظامیہ نے تیرتھ یاتریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پکا رجسٹریشن ملنے اور اپنی طے شدہ یاترا کی تاریخ پر ہی سفر کریں کیونکہ بغیر رجسٹریشن والے کسی بھی یاتری کو بیس کیمپ تک جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ واضح رہے کہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے گزشتہ دو جولائی کو جموں سے یاترا کے پہلے جتھے کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا تھا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
کشمیر کی تاریخ 2019 سے شروع نہیں ہوئی،وادیِ کشمیر کے تشخص پر میرواعظ کا مؤقف
سرینگر، حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے پیر کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی تقریباً پانچ ہزار سالہ تاریخ اور تہذیبی ورثہ کو فراموش یا مٹایا نہیں جا سکتا، کیونکہ کشمیر کی تاریخ کا آغاز 2019 سے نہیں ہوا۔
میرواعظ نے دو متنازع کتابوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند شخصیات کی ستائش پر مبنی مواد سامنے آنے کے بعد جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے آٹھ سرکاری افسران کی معطلی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے، جس میں مختلف مذہبی، ثقافتی اور سیاسی ادوار شامل ہیں۔
نہوں نے کہا، “کشمیر کی تاریخ تقریباً پانچ ہزار سال پرانی ہے اور ہمیں اس کے ہر باب پر فخر ہے۔ اس میں بدھ مت کا دور، شیو مت، ہندو دھرم، اسلام کی آمد اور بعد ازاں 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد کے تمام اہم تاریخی مراحل شامل ہیں۔”
میرواعظ نے کہا کہ یہ ایک فطری امر ہے کہ مختلف ادوار اور واقعات پر متعدد مصنفین نے اپنی اپنی آرا اور تحقیقات قلم بند کی ہیں، اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کشمیر کی تاریخ 2019 کے بعد شروع ہوئی اور اس سے پہلے کے تمام بیانیوں پر پابندی عائد کر دی جائے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایک جمہوری معاشرے میں مکالمہ، علمی مباحث اور مختلف نقطۂ نظر کے اظہار کی گنجائش ہونی چاہیے۔ ان کے بقول، “کتابوں پر پابندی لگانے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہر شخص کو اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔”
میرواعظ نے مزید کہا کہ تاریخ کو نہ تو مٹایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے صرف ان حصوں کو منتخب کیا جا سکتا ہے جو کسی مخصوص بیانیے سے مطابقت رکھتے ہوں۔ ان کے مطابق، معاشرے آزادیِ اظہار، مکالمے اور علمی بحث سے آگے بڑھتے ہیں، نہ کہ کتابوں پر پابندی لگانے یا مختلف آرا کو خاموش کرانے سے۔
انہوں نے کتابوں، تنظیموں اور سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کرنے کے رجحان پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات معاشرے میں نامناسب پیغام دیتے ہیں، جبکہ تاریخی حقائق اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں۔
یواین آئی ۔م اع
ہندوستان1 week agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا5 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
دنیا7 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صرف ایران ہٹائے گا، فرانس کا مؤقف مسترد
ہندوستان6 days agoبی جے پی نے بھگوان رام کے نام کا صرف سیاسی استعمال کیا: کیجریوال
دنیا6 days agoامریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیدائشی شہریت برقرار رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو “بڑی غلطی” قرار دیا
جموں و کشمیر6 days agoسری نگر میں کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر کی غیر منقولہ جائیداد ضبط
ہندوستان1 week agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
ہندوستان7 days agoکھرگے کا الزام: مرکز منریگا کو کمزور کر رہا ہے، زیر التوا بقایا جات اور نئی دیہی روزگار اسکیم پر وزیر اعظم سے جواب طلب کیا
دنیا1 week agoایران کے خلاف جنگ ایک بڑی غلطی تھی: صدر سلووینیا
دنیا7 days agoقطر میں امریکہ سے ملاقات کا شیڈول طے نہیں: اسماعیل بقائی




































































































