جموں و کشمیر
پاکستان کو بھارتی سرزمین پر کسی بھی دہشت گردانہ حملے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی:راجناتھ

جموں، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور کے ذریعے ہم نے پاکستان کو واضح پیغام دیا ہے کہ بھارت کے خلاف دہشت گردی کی سرپرستی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور ہندوستان دہشت گردی کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے کے لئے تیار ہے۔
وزیر دفاع نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کے روز ضلع اودھم پور میں 11 ویں بین الاقوامی یوم یوگا تقریب کی قیادت کرنے کے بعد اپنے خطاب میں کیا۔انہوں نے اس موقع پر فوجی جوانوں کے ساتھ ملاقات بھی کی اور آپریشن سندور میں ان کی کاوشوں کی سراہنا کی۔
مسٹر سنگھ نے جوانوں سے مخاطب ہوکر کہا: ‘آپ کی بہادی کو ملک بھر میں سراہا جا رہا ہے میں آپ کی ہمت اور بہادری کو سلام کرتا ہوں’۔انہوں نے ایک واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور ایک رد عمل تھا یہ آپریشن ابھی ختم نہیں ہا ہے۔ان کا کہنا تھا: ‘ پہلگام میں پیش آنے والا حالیہ دہشت گردانہ حملہ محض سرحد پار سے ایک الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا بلکہ ہندوستان کی سماجی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نشانہ بنانے کی براہ راست کوشش تھی’۔
وزیر دفاع نے کہا: ‘ ہم نے نہ صرف ان کے مذموم منصوبوں کو ناکام بنایا بلکہ ایسا زبردست جواب بھی دیا کہ پاکستان گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا اور ہمیں آپریشن سندور کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کرنا پڑا۔جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں، آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا ہے’۔انہوں نے کہا: ‘یہ آپریشن صرف پہلگام دہشت گردانہ حملے کا ردعمل نہیں تھا، اس آپریشن کے ذریعے، ہم نے پاکستان کو ایک واضح پیغام بھیجا ہے کہ ہندوستان کے خلاف دہشت گردی کی سرپرستی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ آپریشن سندور سال 2016 کی سرجیکل اسٹرائیک اور سال 2019 کے فضائی حملے کی قدرتی پیشرفت ہے’۔ان کا کہنا تھا: ‘ اس آپریشن سے ہم نے پاکستان کو پیغام دیا ہے کہ دہشت گردی کے ذریعے بھارت کو زخم دینے کی اس کی دیرینہ کوشش اب کامیاب نہیں ہوگی’۔
راجناتھ سنگھ نے کہا: ‘ ہندوستانی سرزمین پر کسی بھی دہشت گردانہ حملے کی پاکستان کو بہت زیادہ قیمت چکانا پڑے گی۔ ہندوستان دہشت گردی کے خلاف اپنی لڑائی میں ہر ضروری قدم اٹھانے کے لیے پوری طرح سے تیار ہے’۔انہوں نے کہا: ‘پاکستان کا مقصد بھارت کو اندر سے کمزور کرنا ہے۔ لیکن اس کو یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہندوستان کے اتحاد اور سالمیت کے لیے میجر سومناتھ شرما نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور اسی طرح بریگیڈیئر عثمان جیسے بہادر سپاہیوں نے قوم کے لیے قربانی دی’۔
وزیر دفاع نے یوگا کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا: ‘جیسا کہ ہماری قوم بین الاقوامی یوگا دن مناتی ہے تو یوگا کے حقیقی معنی پر غور کرنے کی ضرورت ہے’۔انہوں نے کہا: ‘ یوگا کا مطلب ہے اتحاد ہے، سماج کے ہر طبقے کو ہندوستان کی ثقافت اور روح کے ساتھ جوڑنا یوگا کا جوہر ہے۔ اگر سماج کا ایک طبقہ بھی اس کوشش میں پیچھے رہ گیا تو ہندوستان کے اتحاد اور سلامتی کا دائرہ ٹوٹ جائے گا۔ اس لیے، آج ہم نہ صرف جسمانی یوگا کی مشق کر رہے ہیں بلکہ سوچ اور معاشرے میں اتحاد کے لیے بھی کوشش کر رہے ہیں، یہ صبر اور گہرے عزم کے ساتھ کیا جانا چاہیے’۔انہوں نے کہا: ‘آج پورے ملک میں یوگا جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے اور صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا ہماری ثقافتی میراث کو اپنا رہی ہے۔ یوگا، ایک ہزار سال سے زیادہ پرانی قدیم روایت ہے، جو کبھی صرف باباؤں کے ذریعہ مشق کی جاتی تھی۔ آج پوری دنیا میں لوگ یوگا کر رہے ہیں۔ یہ ہندوستان کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کا عکاس ہے’۔انہوں نے کہا: ‘ آج کی دنیا میں جہاں تناؤ، اضطراب اور بدامنی پھیلی ہوئی ہے، یوگا ایک طاقتور حل کے طور پر ابھرا ہے’۔موصوف مرکزی وزیر نے کہا: ‘ یوگا محض آنکھیں بند کر کے خاموش بیٹھنا نہیں ہے بلکہ یہ ذہن سازی اور اندرونی کنٹرول کے بارے میں ہے’۔انہوں نے کہا کہ اس سال یوگا ڈے کی تقریبات کا تھیم “یوگا فار ون ارتھ، ون ہیلتھ” ہے، جو اسے پائیداری اور عالمی بہبود سے ہم آہنگ کرتا ہے۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
کشمیر کی تاریخ 2019 سے شروع نہیں ہوئی،وادیِ کشمیر کے تشخص پر میرواعظ کا مؤقف
سرینگر، حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے پیر کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی تقریباً پانچ ہزار سالہ تاریخ اور تہذیبی ورثہ کو فراموش یا مٹایا نہیں جا سکتا، کیونکہ کشمیر کی تاریخ کا آغاز 2019 سے نہیں ہوا۔
میرواعظ نے دو متنازع کتابوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند شخصیات کی ستائش پر مبنی مواد سامنے آنے کے بعد جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے آٹھ سرکاری افسران کی معطلی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے، جس میں مختلف مذہبی، ثقافتی اور سیاسی ادوار شامل ہیں۔
نہوں نے کہا، “کشمیر کی تاریخ تقریباً پانچ ہزار سال پرانی ہے اور ہمیں اس کے ہر باب پر فخر ہے۔ اس میں بدھ مت کا دور، شیو مت، ہندو دھرم، اسلام کی آمد اور بعد ازاں 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد کے تمام اہم تاریخی مراحل شامل ہیں۔”
میرواعظ نے کہا کہ یہ ایک فطری امر ہے کہ مختلف ادوار اور واقعات پر متعدد مصنفین نے اپنی اپنی آرا اور تحقیقات قلم بند کی ہیں، اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کشمیر کی تاریخ 2019 کے بعد شروع ہوئی اور اس سے پہلے کے تمام بیانیوں پر پابندی عائد کر دی جائے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایک جمہوری معاشرے میں مکالمہ، علمی مباحث اور مختلف نقطۂ نظر کے اظہار کی گنجائش ہونی چاہیے۔ ان کے بقول، “کتابوں پر پابندی لگانے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہر شخص کو اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔”
میرواعظ نے مزید کہا کہ تاریخ کو نہ تو مٹایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے صرف ان حصوں کو منتخب کیا جا سکتا ہے جو کسی مخصوص بیانیے سے مطابقت رکھتے ہوں۔ ان کے مطابق، معاشرے آزادیِ اظہار، مکالمے اور علمی بحث سے آگے بڑھتے ہیں، نہ کہ کتابوں پر پابندی لگانے یا مختلف آرا کو خاموش کرانے سے۔
انہوں نے کتابوں، تنظیموں اور سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کرنے کے رجحان پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات معاشرے میں نامناسب پیغام دیتے ہیں، جبکہ تاریخی حقائق اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: سرکاری اناج غبن معاملہ، 5 اعلیٰ حکام سمیت 14 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج
سرینگر، جموں و کشمیر کے اینٹی کرپشن بیورو نے پیر کے روز ضلع کپواڑہ کے کرناہ علاقے میں سرکاری راشن (اناج) کے بڑے پیمانے پر غبن، خرد برد اور ہیرا پھیری کے الزام میں محکمہ خوراک، شہری رسد اور امورِ صارفین کے پانچ اعلیٰ افسران اور نو (9) سرکاری راشن ڈیلرز کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔
محکمہ عمومی انتظامیہ سے باضابطہ منظوری ملنے کے بعد، کرپشن کے اس سنگین معاملے میں اے سی بی پولیس اسٹیشن بارہمولہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔اے سی بی ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی ڈائریکٹر فوڈ، سول سپلائیز اینڈ کنزیومر افیئرز کشمیر کی جانب سے موصول ہونے والے ایک سرکاری خط کے بعد کی گئی ہے۔ خط میں محکمانہ معائنے اور فزیکل ویریفکیشن (جسمانی تصدیق) کے دوران سرکاری اناج کے اسٹاک میں بھاری کمی پائے جانے پر مجرمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔
سرکاری گوداموں پر کیے گئے اچانک مشترکہ معائنے میں ابتدائی طور پر کپواڑہ کے کرناہ میں واقع ‘لونتھا فوڈ اسٹور’ سے 4,175.89 کوئنٹل چاول کم پائے گئے تھے۔
محکمہ کی ذیلی کمیٹی کی تفصیلی رپورٹ اور اے سی بی کی گہری چھان بین کے بعد انکشاف ہوا کہ ضلع کپواڑہ کے ٹنگڈھار، کرناہ-اے اور کرناہ-بی سرکلز کے تحت آنے والے مختلف سرکاری سیلز سینٹرز اور راشن کی دکانوں پر اناج کا ایک بڑا حصہ غائب تھا۔ اس سوچے سمجھے غبن کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو تقریباً 5.57 کروڑ روپے کا خطیر نقصان پہنچا ہے۔
“سرکاری اناج کی یہ بڑی کمی دراصل سرکاری ملازمین اور نجی فائدہ اٹھانے والوں (ڈیلرز) کی ملی بھگت سے رچی گئی ایک ‘منظم مجرمانہ سازش’ کا نتیجہ ہے۔ ان افراد نے ناجائز طور پر مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے اپنے عہدوں اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور غریبوں کے راشن میں ہیرا پھیری کی۔”
تفتیش اور تصدیق کے دوران حاصل ہونے والے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر، اے سی بی نے ملزمان کے خلاف فرائض میں غفلت، مجرمانہ خیانت (امانت میں خیانت)، سرکاری اناج چوری کرنے اور سازش رچنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
نامزد کیے گئے اہم ملزمان میں
عمر بشیر عرف راجہ عمر (تکنیکی طور پر اسسٹنٹ اسٹور کیپر)
عاشق حسین میر (تکنیکی طور پر اسسٹنٹ اسٹور کیپر) شامل ہیں۔
ان کے علاوہ دیگر 12 افراد، جن میں محکمہ کے ملازمین اور راشن ڈپو کے ڈیلرز شامل ہیں۔
اے سی بی حکام کے مطابق، معاملے کی تفصیلی تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور اس گھوٹالے میں ملوث کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں بادل پھٹنے سے سیلاب اورلینڈ سلایئڈنگ سے متعدد گاڑیاں ملبے میں دب گئیں
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں موسلا دھار بارشوں کے بعد اچانک آنے والے سیلاب اور بڑے پیمانے پر زمین کھسکنے( لینڈ سلایئڈنگ) کے باعث شدید تباہی ہوئی ہے۔ 540 میگاواٹ کے زیرِ تعمیر ‘کواڑ ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ’ کے نزدیک کئی گاڑیاں ملبے کے نیچے دب گئیں اور متعدد گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق، متاثرہ گاڑیوں کو ملبے سے نکالنے اور راستوں کو دوبارہ آمد و رفت کے لیے بحال کرنے کے لیے امدادی ٹیموں اور بھاری مشینریکو فوری طور پر کام پر لگا دیا گیا ہے۔
کشتواڑ کے ساتھ ساتھ ضلع ڈوڈا کے کئی علاقوں میں بھی بادل پھٹنے اور سیلابی ریلے کے باعث عام زندگی درہم برہم ہو گئی ہے اور کئی مقامات پر املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ راحت کی بات یہ ہے کہ اب تک کسی بھی ضلع سے کسی جانی نقصان یا کسی شخص کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اس واقعے کے حوالے سے تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا”کشتواڑ سے رپورٹ ملنے کے فوراً بعد میں نے ڈویژنل کمشنر رمیش کمار سے بات چیت کی ہے۔ اطلاعات تھیں کہ سیلاب کا پانی زیرِ تعمیر 540 میگاواٹ کواڑ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے احاطے میں داخل ہو گیا ہے۔”
انہوں نے مزید لکھا تسلی بخش بات یہ ہے کہ کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ پروجیکٹ سے وابستہ کچھ قیمتی مشینری کو بھی کسی نقصان کے بغیر بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر، زیرِ تعمیر پروجیکٹ کا ہر حصہ مکمل طور پر محفوظ ہے اور اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔”انتظامیہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
یواین آئی ۔م ا ع
ہندوستان1 week agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا5 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
دنیا7 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صرف ایران ہٹائے گا، فرانس کا مؤقف مسترد
ہندوستان6 days agoبی جے پی نے بھگوان رام کے نام کا صرف سیاسی استعمال کیا: کیجریوال
دنیا6 days agoامریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیدائشی شہریت برقرار رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو “بڑی غلطی” قرار دیا
جموں و کشمیر6 days agoسری نگر میں کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر کی غیر منقولہ جائیداد ضبط
ہندوستان1 week agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
ہندوستان7 days agoکھرگے کا الزام: مرکز منریگا کو کمزور کر رہا ہے، زیر التوا بقایا جات اور نئی دیہی روزگار اسکیم پر وزیر اعظم سے جواب طلب کیا
دنیا1 week agoایران کے خلاف جنگ ایک بڑی غلطی تھی: صدر سلووینیا
دنیا7 days agoدوحہ میں امریکی حکام کے ساتھ ملاقات،ایران کی تردید



































































































