جموں و کشمیر
اسرائیل ایران تنازعہ تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں مزید بڑھنے کا اندیشہ

سری نگر:جے کے این ایس: امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے اور سپلائی کے خدشات کو جنم دینے کے بعد صبح کے کاروبار میں تیل کی قیمتیں 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے برینٹ کروڈ اور نیومیکس دونوں، جنوری کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ تاہم اب قیمتیں صبح کی اونچائی سے نیچے آگئی ہیں۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے اہم جوہری مراکز کو تباہ کرنے کے دعوے کے بعد قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اس سے عالمی سطح پر سپلائی کے خدشات و اندیشے بڑھ گئے ہیں کیونکہ ایران اوپیک کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ تیل مارکیٹ کے مبصرین نے عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی کے بہاو کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان قیمت میں مزید اضافے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔
جیو پولیٹیکل رسک پریمیم ٹھوس برقرار رہنے کا امکان نہیں۔اگرچہ خطے سے باہر نکلنے کے لیے متبادل پائپ لائن راستے موجود ہیں، لیکن تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ اگر آبنائے ہرمز ناقابل رسائی ہو جاتا ہے، تو خام تیل کا جو حجم اب بھی دستیاب ہے اسے مکمل طور پر برآمد نہیں کیا جا سکے گا۔ تجزیہ کاروں نے کہا کہ موجودہ جیو پولیٹیکل رسک پریمیم ٹھوس سپلائی میں رکاوٹ کے بغیر برقرار رہنے کا امکان نہیں ہے۔امریکہ کی جانب سے اہم ایرانی نیوکلیئر سائٹس پر حملے کے بعد تیل پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ تیل کی قیمتیں پیر کو جنوری کے بعد سے بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں کیونکہ امریکہ کے ہفتے کے آخر میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے میں اسرائیل کے ساتھ شامل ہونے کے اقدام نے سپلائی کے خدشات کو جنم دیا۔برینٹ کروڈ فیوچر 0117-GMT GMT تک $1.92ڈالر سے2.49ڈالرفیصدتک اضافے کے ساتھ 78.93ڈالر فی بیرل تھا۔ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 1.89 ڈالر یا 2.56 فیصد بڑھ کر 75.73 ڈالر پر پہنچ گیا۔دونوں معاہدے سیشن کے شروع میں3فیصد سے زیادہ بڑھ کر بالترتیب 81.40ڈالر اور 78.40ڈالر تک پہنچ گئے، کچھ فوائد ترک کرنے سے پہلے5 ماہ کی بلندیوں کو چھوتے رہے۔ایران اوپیک کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔مارکیٹ کے شرکاءبڑھتے ہوئے خدشے کے درمیان قیمتوں میں مزید اضافے کی توقع کرتے ہیں کہ ایرانی جوابی کارروائی میں آبنائے ہرمز کی بندش شامل ہو سکتی ہے، جس کے ذریعے عالمی سطح پر خام سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ بہہ جاتا ہے۔ایران کے پریس ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے کو بند کرنے کے اقدام کی منظوری دے دی ہے۔ ایران نے ماضی میں آبنائے کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی لیکن اس نے کبھی بھی اس اقدام پر عمل نہیں کیا۔سپارٹا کموڈٹیز کے سینئر تجزیہ کار جون گوہ نے کہا، کہ تیل کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے خطرات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔اگرچہ خطے سے باہر پائپ لائن کے متبادل راستے موجود ہیں، لیکن پھر بھی خام تیل کا حجم باقی رہے گا جو آبنائے ہرمز کے ناقابل رسائی ہونے کی صورت میں مکمل طور پر برآمد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شپرز تیزی سے خطے سے باہر رہیں گے۔گولڈمین سیکس نے اتوار (22 جون2025) کی ایک رپورٹ میں کہا کہ برینٹ مختصر طور پر 110ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتا ہے اگر اہم آبی گزرگاہ سے تیل کا بہاو ¿ ایک ماہ کے لیے آدھا رہ جائے، اور اگلے 11 مہینوں کے لیے 10 فیصد تک کم رہے۔بینک نے اب بھی تیل اور قدرتی گیس کی سپلائی میں کوئی خاص رکاوٹ نہیں مانی، اس نے ایک مستقل اور بہت بڑے خلل کو روکنے کی کوشش کرنے کے لیے عالمی ترغیبات شامل کیں۔13 جون کو تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے برینٹ میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔تجزیہ کاروں نے کہا کہ موجودہ جیو پولیٹیکل رسک پریمیم سپلائی میں ٹھوس رکاوٹ کے بغیر قائم رہنے کا امکان نہیں ہے۔دریں اثنا،، سیکسو بینک میں کموڈٹی اسٹریٹجی کے سربراہ اولے ہینسن نے اتوار کو ایک مارکیٹ کمنٹری میں لکھاکہ حالیہ قیمتوں میں اضافے کے بعد جمع ہونے والی کچھ لمبی پوزیشنوں کو ختم کرنے سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
جموں و کشمیر
کشمیر کی تاریخ 2019 سے شروع نہیں ہوئی،وادیِ کشمیر کے تشخص پر میرواعظ کا مؤقف
سرینگر، حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے پیر کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی تقریباً پانچ ہزار سالہ تاریخ اور تہذیبی ورثہ کو فراموش یا مٹایا نہیں جا سکتا، کیونکہ کشمیر کی تاریخ کا آغاز 2019 سے نہیں ہوا۔
میرواعظ نے دو متنازع کتابوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند شخصیات کی ستائش پر مبنی مواد سامنے آنے کے بعد جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے آٹھ سرکاری افسران کی معطلی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے، جس میں مختلف مذہبی، ثقافتی اور سیاسی ادوار شامل ہیں۔
نہوں نے کہا، “کشمیر کی تاریخ تقریباً پانچ ہزار سال پرانی ہے اور ہمیں اس کے ہر باب پر فخر ہے۔ اس میں بدھ مت کا دور، شیو مت، ہندو دھرم، اسلام کی آمد اور بعد ازاں 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد کے تمام اہم تاریخی مراحل شامل ہیں۔”
میرواعظ نے کہا کہ یہ ایک فطری امر ہے کہ مختلف ادوار اور واقعات پر متعدد مصنفین نے اپنی اپنی آرا اور تحقیقات قلم بند کی ہیں، اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کشمیر کی تاریخ 2019 کے بعد شروع ہوئی اور اس سے پہلے کے تمام بیانیوں پر پابندی عائد کر دی جائے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایک جمہوری معاشرے میں مکالمہ، علمی مباحث اور مختلف نقطۂ نظر کے اظہار کی گنجائش ہونی چاہیے۔ ان کے بقول، “کتابوں پر پابندی لگانے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہر شخص کو اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔”
میرواعظ نے مزید کہا کہ تاریخ کو نہ تو مٹایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے صرف ان حصوں کو منتخب کیا جا سکتا ہے جو کسی مخصوص بیانیے سے مطابقت رکھتے ہوں۔ ان کے مطابق، معاشرے آزادیِ اظہار، مکالمے اور علمی بحث سے آگے بڑھتے ہیں، نہ کہ کتابوں پر پابندی لگانے یا مختلف آرا کو خاموش کرانے سے۔
انہوں نے کتابوں، تنظیموں اور سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کرنے کے رجحان پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات معاشرے میں نامناسب پیغام دیتے ہیں، جبکہ تاریخی حقائق اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: سرکاری اناج غبن معاملہ، 5 اعلیٰ حکام سمیت 14 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج
سرینگر، جموں و کشمیر کے اینٹی کرپشن بیورو نے پیر کے روز ضلع کپواڑہ کے کرناہ علاقے میں سرکاری راشن (اناج) کے بڑے پیمانے پر غبن، خرد برد اور ہیرا پھیری کے الزام میں محکمہ خوراک، شہری رسد اور امورِ صارفین کے پانچ اعلیٰ افسران اور نو (9) سرکاری راشن ڈیلرز کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔
محکمہ عمومی انتظامیہ سے باضابطہ منظوری ملنے کے بعد، کرپشن کے اس سنگین معاملے میں اے سی بی پولیس اسٹیشن بارہمولہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔اے سی بی ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی ڈائریکٹر فوڈ، سول سپلائیز اینڈ کنزیومر افیئرز کشمیر کی جانب سے موصول ہونے والے ایک سرکاری خط کے بعد کی گئی ہے۔ خط میں محکمانہ معائنے اور فزیکل ویریفکیشن (جسمانی تصدیق) کے دوران سرکاری اناج کے اسٹاک میں بھاری کمی پائے جانے پر مجرمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔
سرکاری گوداموں پر کیے گئے اچانک مشترکہ معائنے میں ابتدائی طور پر کپواڑہ کے کرناہ میں واقع ‘لونتھا فوڈ اسٹور’ سے 4,175.89 کوئنٹل چاول کم پائے گئے تھے۔
محکمہ کی ذیلی کمیٹی کی تفصیلی رپورٹ اور اے سی بی کی گہری چھان بین کے بعد انکشاف ہوا کہ ضلع کپواڑہ کے ٹنگڈھار، کرناہ-اے اور کرناہ-بی سرکلز کے تحت آنے والے مختلف سرکاری سیلز سینٹرز اور راشن کی دکانوں پر اناج کا ایک بڑا حصہ غائب تھا۔ اس سوچے سمجھے غبن کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو تقریباً 5.57 کروڑ روپے کا خطیر نقصان پہنچا ہے۔
“سرکاری اناج کی یہ بڑی کمی دراصل سرکاری ملازمین اور نجی فائدہ اٹھانے والوں (ڈیلرز) کی ملی بھگت سے رچی گئی ایک ‘منظم مجرمانہ سازش’ کا نتیجہ ہے۔ ان افراد نے ناجائز طور پر مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے اپنے عہدوں اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور غریبوں کے راشن میں ہیرا پھیری کی۔”
تفتیش اور تصدیق کے دوران حاصل ہونے والے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر، اے سی بی نے ملزمان کے خلاف فرائض میں غفلت، مجرمانہ خیانت (امانت میں خیانت)، سرکاری اناج چوری کرنے اور سازش رچنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
نامزد کیے گئے اہم ملزمان میں
عمر بشیر عرف راجہ عمر (تکنیکی طور پر اسسٹنٹ اسٹور کیپر)
عاشق حسین میر (تکنیکی طور پر اسسٹنٹ اسٹور کیپر) شامل ہیں۔
ان کے علاوہ دیگر 12 افراد، جن میں محکمہ کے ملازمین اور راشن ڈپو کے ڈیلرز شامل ہیں۔
اے سی بی حکام کے مطابق، معاملے کی تفصیلی تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور اس گھوٹالے میں ملوث کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں بادل پھٹنے سے سیلاب اورلینڈ سلایئڈنگ سے متعدد گاڑیاں ملبے میں دب گئیں
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں موسلا دھار بارشوں کے بعد اچانک آنے والے سیلاب اور بڑے پیمانے پر زمین کھسکنے( لینڈ سلایئڈنگ) کے باعث شدید تباہی ہوئی ہے۔ 540 میگاواٹ کے زیرِ تعمیر ‘کواڑ ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ’ کے نزدیک کئی گاڑیاں ملبے کے نیچے دب گئیں اور متعدد گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق، متاثرہ گاڑیوں کو ملبے سے نکالنے اور راستوں کو دوبارہ آمد و رفت کے لیے بحال کرنے کے لیے امدادی ٹیموں اور بھاری مشینریکو فوری طور پر کام پر لگا دیا گیا ہے۔
کشتواڑ کے ساتھ ساتھ ضلع ڈوڈا کے کئی علاقوں میں بھی بادل پھٹنے اور سیلابی ریلے کے باعث عام زندگی درہم برہم ہو گئی ہے اور کئی مقامات پر املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ راحت کی بات یہ ہے کہ اب تک کسی بھی ضلع سے کسی جانی نقصان یا کسی شخص کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اس واقعے کے حوالے سے تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا”کشتواڑ سے رپورٹ ملنے کے فوراً بعد میں نے ڈویژنل کمشنر رمیش کمار سے بات چیت کی ہے۔ اطلاعات تھیں کہ سیلاب کا پانی زیرِ تعمیر 540 میگاواٹ کواڑ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے احاطے میں داخل ہو گیا ہے۔”
انہوں نے مزید لکھا تسلی بخش بات یہ ہے کہ کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ پروجیکٹ سے وابستہ کچھ قیمتی مشینری کو بھی کسی نقصان کے بغیر بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر، زیرِ تعمیر پروجیکٹ کا ہر حصہ مکمل طور پر محفوظ ہے اور اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔”انتظامیہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
یواین آئی ۔م ا ع
ہندوستان1 week agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا5 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
دنیا7 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صرف ایران ہٹائے گا، فرانس کا مؤقف مسترد
جموں و کشمیر6 days agoسری نگر میں کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر کی غیر منقولہ جائیداد ضبط
دنیا6 days agoامریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیدائشی شہریت برقرار رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو “بڑی غلطی” قرار دیا
ہندوستان5 days agoبی جے پی نے بھگوان رام کے نام کا صرف سیاسی استعمال کیا: کیجریوال
ہندوستان1 week agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
ہندوستان6 days agoکھرگے کا الزام: مرکز منریگا کو کمزور کر رہا ہے، زیر التوا بقایا جات اور نئی دیہی روزگار اسکیم پر وزیر اعظم سے جواب طلب کیا
دنیا1 week agoایران کے خلاف جنگ ایک بڑی غلطی تھی: صدر سلووینیا
دنیا6 days agoعراقچی کی فرانسیسی ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو، مفاہمتی یادداشت پر تبادلۂ خیال



































































































