پاکستان
گلگت بلتستان : یہ بھی ایک حقیقت ہے!

ہم گلگت بلتستان کے لوگ اپنی محرومیوں ، محکومیوں پر بے حد پریشان ہیں۔ اپنی محرومیوں کا غصہ نکالنے کے لئے کشمیریوں کو گالیاں نہ دے تو کیا کریں۔ آج ہم تجزیہ کرتے ہے کی ہماری کتنا استحصال ہوا یے اور کس نے کیا ہے جبر اور کشمیریوں کو گالیاں دینے کا جواز ڈھونڈتے ہیں۔
1۔ 16نومبر کو ہماری ریاست کا خاتمہ کرکے تحصیل کا درجہ دینے کی سازش میجر براون اور سردار عالم نے کیا تھا۔ سردار عالم ہمارا آقا بنا تھا سردر عالم کا تعلق ہری پور ہزارہ کے پی کے سے تھا۔ ہمارے لوگوں کا خیال ہے کی ہری پور ضلع پونچھ کا حصہ ہے۔
2۔ 60 کی دہائی میں سرائے سہالہ ہرپور ہزارہ سے تعلق رکھنے والے صدر ایوب خان نے ہمارے اقصائے چین کے علاقے کو کاٹ کے چین کے حوالے کیا۔ اس کا مطلب ہے کی ان کا تعلق بھی کشمیر کے ضلع پونچھ ہی سے ہوا نا۔
3۔ زولفیقار علی بھٹو نے 1974 میں اصلاحات کے نام پر سٹیٹ سبجیکٹ رول کو سسپینڈ کرکے منظم انداز میں غیر مقامیوں کو بسانے کا عمل شروع کیا ۔ بھٹو گھڑی خُدابخش لاڈکانہ سندھ سے تھا۔ ہمارے لوگوں کو پتہ ہے کی سندھ کشمیر کے ضلع میرپور کی تحصیل ہے۔
4۔ 1988 میں جنرل ضیا الحق اور قاسم شاہ نے منظم انداز سے قبائلی لشکر کی مدد سے جلال آباد اور شروٹ کا جلاکر رکھ کیا۔ ضیا الحق امرتسری پنجابی مہاجر اور قاسم شاہ کا تعلق سرحد سے تھا۔ ہمارے لوگوں کو پتہ ہے امرتسر کشمیر کے ضلع مظفرآباد کی تحصیل جبکہ سرحد کشمیر کے ضلع بھیمبر کی سب ڈویژن ہے۔ اور قبائلی علاقے کشمیر کے علاقے ڈھڈیال میں واقع ہیں۔
5۔ وزیر امور کشمیر رہنے والے میرباز خان کھتران کا تعلق بلوچستان سے تھا ۔ ہمیں پتہ ہے بلو چستان کشمیر کے ضلع حویلی کی تحصیل ہے۔
6۔ وزیر امور کشمیر رہنے والے مجید ملک کا تعلق پنجاب سے تھا اور پنجاب پالندری کشمیر کی یونین کونسل ہے۔
7۔ وزیر امور کشمیر رہنے والے قمر الزمان قائرہ کا تعلق گجرات پنحاب سے ہے اور ہم لوگ اُسے کشمیر باغ والا قمر الزمان سمجھتے ہیں۔
8۔ ہماری NLI مارکیٹ اور سوست بارڈر پر تجارت کے نام پر ہماری معاشی استحصال کرنے والے ہٹھانوں کا تعلق سہنسہ ضلع کوٹلی سے ہیں۔
9۔ جی بی کونسل کا پہلا حاکم یوسف رضا گیلانی ملتان سے، دوسرے حاکم راجہ پرویز اشرف گجر خان سے ، تیسرے آقا نواز شریف رائیونڈ سے ، اگلے آقا خاقان عباسی کا تعلق مری سے اور موجودہ حاکم کا تعلق میانوالی سے ہے۔ کیا ہم نہیں جانتے ملتان کشمیر نکیال کی یونین کونسل ، گجر خان کشمیر دھیرکوٹ کشمیر کی یو سی۔ رائیونڈ ہجیرہ کشمیر کا گاوں ، مری سدھونتی کشمیر کی تحصیل اور میانوالی کھوئی رٹہ کشمیر میں واقع یے۔
10۔ ہمارے تمام فیصلے پنڈی اسلام آباد میں ہوتے ہیں ہم جانتے ہیں کی اسلام آباد راولاکوٹ کشمیر کا شہر جبکہ پنڈی تو میرپور کشمیر کا ضلعی ہیڈ کوارٹر ہے۔
لوگ ہمیں بیواقو ف نہ سمحھے۔ہم شرح خواندگی میں پنجاب سندھ بلوچستان کے پی کے اور کشمیر سے بہت آگے ہیں۔ ہم نے تاریخ اور جغرافیاں پڑھ کے ازبر کیا ہوا یے اور یہ سب ہڑھ کے تو ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کی کشمیری ہمارے دشمن ہیں ۔ انہوں نے ہمیں غلام بنایا یے۔ کشمیری 1947 سےآج تک ہمارے حکمران ہیں اور ہمارا استحصال کر ریے ہیں۔ ان سے نفرت کرنا اور گالی دینا ہم جی بی والوں کاقومی فریضہ ہے۔ ہم نے یہ منفرد انوکھی تاریخ ساز تاریخ پنڈی اسلام آباد ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابوں میں پڑھی ہے۔ اس لئے ہی کہتے ہیں ”
نوٹ: مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
پاکستان
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ اسلام آباد کا پہلا اہم ورکنگ سیشن مکمل
اسلام آباد، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ اسلام آباد کا پہلا اہم ورکنگ سیشن مکمل ہو گیا ہے، جس میں پاکستان اور ایران کے درمیان اہم امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے حکام نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ ورکنگ سیشن کے بعد ایرانی وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات طے ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات اور اپنے دورہ پاکستان کا ایجنڈا مکمل کرنے کے بعد ایرانی وفد اسلام آباد سے مسقط اور پھر ماسکو کے لیے روانہ ہو جائے گا۔
دوسری جانب ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر آج اسلام آباد جا رہے ہیں، ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولائن لیوٹ نے دعویٰ کیا صدر ٹرمپ کے کہنے پر ایرانی حکام نے خود رابطہ کیا۔
ایرانی حکام نے براہ راست مذاکرات کیلئے کہا اسی لیے صدر ٹرمپ وفد بھیج رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ جے ڈی وینس ابھی یہیں رہیں گے، صورتحال پر نظر رکھیں گے، امید ہے بات چیت نتیجہ خیز ہوگی اور ڈیل کی جانب بڑھے گی، مذاکراتی عمل میں صدر ٹرمپ نے اپنی ریڈ لائنز واضح کی ہیں، مذاکرات کے عمل میں پاکستان حیرت انگیز ثالث رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں، ایران اپنا مؤقف پاکستان کے ذریعے آگے پہنچائے گا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے ایکس پر بیان میں لکھا پاکستان امن کی بحالی کیلئے ثالثی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ پاکستان صرف دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کے لیے ہے، عباس عراقچی کو ایٹمی معاملے پر مذاکرات کرنے کی کوئی ذمہ داری نہیں دی گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
“اسلام آباد مذاکرات”ایرانی وفد تاحال پاکستان نہیں پہنچ سکا
اسلام آباد، ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی وفد اب تک پاکستان نہیں پہنچ سکا ۔
نشریاتی ادارے نے کہاہے کہ اب تک کوئی بھی ایرانی وفد اسلام آباد نہیں پہنچا۔ آئی آر آئی بی نے مزید کہا کہ متعدد میڈیا رپورٹس کہ ایرانی وفد پاکستان کا سفر کرے گا یا یہ کہ مذاکرات پیر کی شام یا منگل کی صبح طے تھے، غلط تھیں۔ رپورٹ میں اتوار کی شام ایرانی حکام کے بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں اشارہ کیا گیا کہ مذاکرات میں مسلسل شرکت امریکی رویے میں تبدیلیوں پر منحصر ہے اور یہ کہ تہران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو مسترد کرتا ہے۔
پاکستان نے 11-12 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی، جب اس نے 8 اپریل کو 14 روزہ جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا جو بدھ کو ختم ہونے والی ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کے ایک اور دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اس سے قبل پاکستانی ذرائع نے کہا تھا کہ ایرانی حکام کی منگل کو اسلام آباد آمد متوقع ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان واپس پرواز کے لیے تیار تھے، لیکن تہران نے اپنی شرکت کے بارے میں غیر یقینی برقرار رکھی اور امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور ایک جہاز کی ضبطی کے ذریعے جلد ختم ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ وینس کے بارے میں توقع ہے کہ وہ منگل کی صبح مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہوں گے۔
امریکہ نے اسی طرح تہران پر الزام لگایا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کو ہراساں کرکے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، جو دنیا کے پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل کا راستہ ہے، جسے ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے جواب میں تقریباً بند کر دیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے پیر کو تہران سے اس اشارے کا انتظار کیا کہ وہ اپنا مذاکراتی وفد اسلام آباد بھیجے گا۔ ثالثوں نے ایرانی حکام سے مذاکرات میں شرکت کی درخواست کی ہے اور انہیں وفد بھیجنے پر زور دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ “انتہائی غیر ممکن” ہے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور یہ کہ بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے مستقل خاتمے کا معاہدہ نہیں ہو جاتا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
عمران خان کو قید تنہائی میں رکھ کر غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہ: علیمہ خان
اسلام آباد، پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے الزام لگایا ہے کہ ان کے بھائی کو قید تنہائی میں رکھ کر ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔
محترمہ خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو 16 اکتوبر 2025 سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، انہوں نے 2025 میں اپنے بیٹوں سے صرف دو بار بات کی اور ایک بار فروری 2026 میں، وہ بھی سپریم کورٹ کے حکم کے بعد۔ بیان کے مطابق اسے پڑھنے کے لیے کتابیں بھی فراہم نہیں کی جا رہی ہیں اور جو کتابیں بھیجی گئی ہیں ان میں سے وہ صرف تین ہی وصول کر سکیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مسٹر خان، جو کہ دوسری صورت میں صحت مند تھے، اچانک ان کی آنکھ میں خون کا جمنا پیدا ہوگیا، لیکن انہیں بروقت طبی امداد دینے سے انکار کردیا گیا۔ اس نے دو ہفتوں تک جیل حکام کو بتایا کہ وہ دیکھنے سے قاصر ہے، اس کے باوجود علاج میں تاخیر ہوئی۔ الزام ہے کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ غفور انجم نے تین ماہ تک ماہر ڈاکٹر کو بلانے میں تاخیر کی جس سے آنکھ کو مستقل نقصان پہنچا۔
اہل خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دوسری آنکھ بھی اسی طرح کی پریشانی کا شکار ہو سکتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسٹر خان نے پچھلے کچھ مہینوں میں کئی بار علاج سے عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور ایک انجیکشن کے بعد ان میں معمولی بہتری آئی تھی، لیکن اس کے بعد کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ دریں اثناء ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بھی آنکھوں میں تکلیف ہوئی اور حال ہی میں ان کا آپریشن ہوا۔ اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ مسٹر خان کو بیماری کی وجہ معلوم کرنے کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں مناسب معائنہ اور علاج فراہم کیا جائے۔ محترمہ خان نے اسے “غیر انسانی” قرار دیا اور کہا کہ یہ پاکستانی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
دنیا7 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ





































































































