تازہ ترین
زبان یا جر م:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی شناخت پر بڑھتے سوالات

شمس آغاز
ایڈیٹر،دی کوریج
ہندوستان ایک ایسا عظیم ملک ہے جس کی بنیاد کثیر لسانی، کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ہم آہنگی پر رکھی گئی ہے۔ یہاں زبان، مذہب، نسل اور تہذیب کی گوناگونی کو قومی وحدت کا جزو لاینفک تسلیم کیا گیا ہے۔ یہی تنوع
ہندوستانی آئین اور جمہوری روایات کی روح ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں جو سیاسی، انتظامی اور سماجی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، ان میں ایسے رجحانات واضح طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں جو نہ
صرف جمہوری اقدار سے متصادم ہیں بلکہ اقلیتوں کے بنیادی حقوق کو پامال کرنے کی سمت میں بڑھتے ہوئے قدم محسوس ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک افسوسناک واقعہ حال ہی میں ہریانہ کے صنعتی شہر گروگرام میں پیش
آیا،جہاں مغربی بنگال اور آسام سے تعلق رکھنے والے 74 بنگالی بولنے والے مسلمان مزدوروں کو محض شک کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا۔ ان میں سے اکثریت صفائی، کوڑا کرکٹ چننے اور کچی بستیوں میں رہنے والے مزدوروں پر مشتمل تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو کسی باقاعدہ چارج، نوٹس یا قانونی کارروائی کے بغیر صرف اس شبہے میں حراست میں لیا گیا کہ یہ غیر ملکی ہیں، جبکہ ان میں سے بیشتر کے پاس
آدھار کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ، پین کارڈ، اور یہاں تک کہ پاسپورٹ جیسےمستند اور قانونی دستاویزات موجود تھے۔
حراست میں لیے گئے ان افراد کے رشتہ داروں نے شہریت کے ثبوت کے طور پر مغربی بنگال کے مختلف تھانوں سے سرکاری دستاویزات فراہم کیےلیکن حکام نے ان ثبوتوں کو غیر مؤثر قرار دے کر نظر انداز کر دیا۔اس عمل سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ صرف شناختی دستاویزات کا نہیں بلکہ ایک منظم تعصب اور امتیازی رویے کا ہے۔ ان تمام تر واقعات میں نہ صرف انسانی وقار کو پامال کیا گیا بلکہ ہندوستانی آئین کی روح کو بھی مجروح کیا گیا،جو ہر فرد کو برابر کے حقوق، مساوی سلوک، اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔
یہ ایک نہایت اہم اور فکرانگیز سوال ہے کہ کیا اب اس ملک میں بنگالی زبان بولنا جرم تصور کیا جانے لگا ہے؟ بنگالی ہندوستان کی آٹھویں شیڈیول میں شامل تسلیم شدہ زبانوں میں سے ایک ہے۔ اسے بولنے والے کروڑوں
افراد نہ صرف مغربی بنگال بلکہ آسام، تریپورہ، جھارکھنڈ، بہار، دہلی اور دیگر کئی ریاستوں میں پائے جاتے ہیں۔ زبان کسی فرد کی شہریت یا وفاداری کا تعین نہیں کر سکتی، کیونکہ زبان کا تعلق تمدن اور تہذیب سے
ہوتا ہےنہ کہ سرحدوں سے۔ اگر محض زبان کی بنیاد پر کسی فرد کی شہریت پر سوال اٹھایا جائے تو یہ پورے لسانی تانے بانے کو بکھیرنے کا
پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک آئینی اور اخلاقی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 21 ہر فرد کو زندگی اور شخصی آزادی کا حق دیتا ہے اور اس میں یہ بھی شامل ہے کہ کسی
فرد کو اس کے حقوق سے اس وقت تک محروم نہیں کیا جا سکتا جب تک مکمل قانونی طریقہ کار اختیار نہ کیا جائے۔ لیکن ان حراستوں میں قانونی عمل کی خلاف ورزی کھلم کھلا کی گئی ہے۔ بغیر کسی نوٹس کے، بغیر
عدالت کے حکم کے اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے لوگوں کو حراست میں رکھنا قانون کی روح کے خلاف ہے۔ ان واقعات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ بنگالی بولنے والے مسلمان ایک خاص سیاسی و انتظامی تعصب کا نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔ جب کسی خاص زبان بولنے والے یا مذہب کے ماننے والے طبقے کو بار بار شک کی نگاہ سے دیکھا جائے، ان کی دستاویزات کو جعلی قرار دے دیا جائے، ان کے
بچوں کو تعلیم سے محروم کر دیا جائے، ان کے گھروں کو بلڈوزر سے ڈھا دیا جائے، تو یہ صرف ان افراد پر ظلم نہیں بلکہ ملک کی جمہوری اقدار، آئینی اصولوں اور انسانی حقوق کی صریح پامالی ہے۔ درحقیقت،یہ واقعات
ملک کے جمہوری ڈھانچے اور برابری پر مبنی نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
آسام میں بھی گزشتہ کچھ برسوں سے ایسی ہی پالیسیوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے، جہاں ریاستی حکومت نے مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف بےدخلی مہم شروع کر رکھی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ مہم بنگلہ دیش
سے غیر قانونی طور پر آ کر بسنے والوں کے خلاف ہے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس مہم کا اصل نشانہ بنگالی بولنے والے مسلمان ہیں، جن میں سے بیشتر دہائیوں سے آسام میں مقیم ہیں۔ ان کے پاس زمین کی دستاویزات، سرکاری اسکولوں سے تعلیم کے سرٹیفکیٹ، شناختی کارڈز، اور یہاں تک کہ ووٹر لسٹ میں نام بھی درج ہیں، پھر بھی ان کو غیر ملکی قرار دے کر گھروں سے نکالا جا رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق تقریباً
8,000 گھروں کو بلڈوزر کے ذریعے منہدم کر دیا گیا ہے۔ بے دخلی کی ان کارروائیوں کے دوران پیش آنے والے دل دہلا دینے والےواقعات نے ریاستی مشینری کی بے حسی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک واقعے میں 19 سالہ شاکور علی کی موت اس وقت ہوئی جب پولیس کی موجودگی میں اس کے گھر کو مسمار کیا جا رہا تھا۔ یہ واقعہ صرف ایک نوجوان کی موت نہیں بلکہ انسانی ہمدردی، عدالتی احکامات اور انتظامی ذمہ داری کی موت بھی ہے۔ گوہاٹی ہائی کورٹ نے پہلے ہی ہدایت دی تھی کہ کسی بھی بے دخلی سے قبل متبادل رہائش فراہم کی جائے، لیکن ان ہدایات کو یکسر نظر انداز کر کے ہزاروں افراد کو کھلے آسمان تلے چھوڑ دیا گیا۔بے دخلی کی یہ مہم صرف آسام تک محدود نہیں رہی۔ اس کا اثر شمال مشرق کی دیگر ریاستوں تک بھی پہنچ چکا ہے۔ ناگالینڈ، منی پور، اور میگھالیہ نے بھی ایسے افراد کو اپنی سرحدوں میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے خصوصی الرٹس جاری کیے ہیں، جنہیں وہ غیر قانونی تارکین وطن قرار دیتے ہیں۔ اس قسم کے اقدامات سے نسلی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے اور علاقائی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ان ریاستوں میں حالیہ بے دخلیوں اور نقل مکانی کی وجہ سے اب تک تقریبا پچاس سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر لوگ غریب، مزدور اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنی روزیروٹی کمانے کے لیے دوسرے شہروں یا ریاستوں میں ہجرت کرتے ہیں۔ ان
کے لیے پہلے ہی تعلیم، صحت، رہائش اور تحفظ جیسی بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں تھیں، اب جب ان کو جبراً ان کے گھروں سے نکالا جا رہا ہےتو ان کی زندگیاں مکمل طور پر اجڑ چکی ہیں۔انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود ان متاثرین کی باز آبادکاری کے لیے کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔ حکومت کی خاموشی اور عدالتی نظام کی تاخیر ان لوگوں کی زندگی کو مزید کربناک بنا رہی ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ جب ان لوگوں کے پاس قانونی دستاویزات موجود ہیں، جب وہ ملک میں پیدا ہوئے، وہیں تعلیم حاصل کی، وہیں کام کرتے ہیں، تو انہیں غیر ملکی کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟۔ ان واقعات کا ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بعض سیاسی بیانات کےذریعے معاشرے میں ایک مخصوص قسم کا خوف اور بے یقینی پیدا کی جارہی ہے۔ بعض سیاسی رہنما یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ آسام میں ہندو اگلے10 برسوں میں اقلیت بن جائیں گےکیونکہ مبینہ طور پر لاکھوں کی تعداد میں بنگلہ دیشی مسلمان آ کر بس گئے ہیں۔ یہ بیانات کسی مستند تحقیق یا ثبوت پر مبنی نہیں بلکہ محض سیاسی مقاصد کے لیے دیے جا رہے ہیں تاکہ اکثریتی طبقے میں خوف پیدا کیا جا سکے اور انہیں خاص رخ پر ووٹ
دینے کے لیے آمادہ کیا جا سکے۔ ان بیانات اور پالیسیوں کا مقصد 2026 میں ہونے والے ریاستی انتخابات سے پہلے ووٹروں کو مذہب اور نسل کی بنیاد پر تقسیم کرنا ہے۔ یہ خطرناک حکمت عملی نہ صرف فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہی ہے بلک آئینی اصولوں اور انسانی شرافت کو بھی داغدار کر رہی ہے۔ غیر مصدقہ دعوے، جیسے کہ دس لاکھ ایکڑ زمین پر غیر قانونی تارکین وطن کا قبضہ نہ صرف خوف و ہراس پیدا کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں شک و شبہ کا ایسا بیج بوتے ہیں جو دیرپا نفرت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔ ایسے تمام اقدامات جو کسی لسانییا مذہبی اقلیت کو نشانہ بناتے ہوں، انہیں فوری طور پر روکا جائے۔ عدالتوں
کو چاہیے کہ وہ ان حراستوں اور بے دخلیوں کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں۔ ان افراد کو فوری انصاف فراہم کیا جائے جنہیں بغیر کسیجرم کے، بغیر کسی مقدمے کے صرف زبان یا مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا
گیا۔
مرکزی حکومت کو بھی اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ہر ریاست آئینِ ہند کی پاسداری کرے۔ اگر ریاستی حکومتیں انسانی حقوق اور آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہیں تو مرکز کی ذمہ
داری بنتی ہے کہ وہ ان خلاف ورزیوں کا نوٹس لے، اصلاحی اقدامات کرے اور ان مظلوم شہریوں کی زندگیوں کو بحال کرے۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ قومی سطح پر ایک ایسا مکالمہ شروع ہو جو لسانی، مذہبی اور نسلی تنوع کو تسلیم کرے اور اسے قومی طاقت میں تبدیل کرے۔ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی تنوع میں ہے، اور جب اس تنوع کو جرم بنا دیا جائے تو یہ ملک کی روح کو مجروح کر دیتا ہے۔ بنگالی زبان ہو یا اُردو، تمل ہو یا تلگو یہ سب ہماری قومی میراث کا حصہ ہیں، نہ کہ کوئی خطرہ۔ اگر آج بنگالی بولنے والے مسلمان مزدور نشانہ بن رہے ہیں تو کل کوئی اور کمیونٹی بھی اس کی زد میں آ سکتی ہے۔ آج جب ہندوستان خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے پر فخر کرتا ہے، اور اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر انسانی حقوق کی وکالت کرتاہے، تو کیا یہ اُس کی اخلاقی، آئینی اور انسانی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ اپنے ہی شہریوں کو انصاف، شناخت اور وقار کے ساتھ جینے کا حق فراہم کرے؟ اگر ریاستیں اپنی عوام کو محض ان کی زبان، مذہب یا نسل کی بنیاد پر شک کی نگاہ سے دیکھنے لگیں،تو جمہوریت اپنے حقیقی مقصد اور روح سے دور ہوتی چلی جائے گی۔ یہ وقت ہے کہ ہندوستان بحیثیت قوم اپنے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑے اور ہر اس پالیسی و عمل کی مخالفت کرے جو انسانی حقوق، آئینی اصولوں اور سماجی انصاف کے منافی ہو۔ ہمیں بطور شہری اس سچائی کو تسلیم کرنا ہوگا کہ بنگالی زبان بولنا کوئی جرم نہیں بلکہ ایک عظیم ثقافتی ورثہ ہے۔ کسی انسان کی زبان، اس کی شہریت یا حب الوطنی کا معیار نہیں ہو سکتی۔ زبان دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ ہے، دیواریں کھڑی کرنے کا ہتھیارنہیں۔
جموں و کشمیر
کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
سری نگر، کپواڑہ کی ایک عدالت نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کرتے ہوئے 2023 میں ایک پولیس کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کیس میں سات دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپواڑہ، منجیت سنگھ منہاس نے 24 اپریل کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، تاہم دیگر سات ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
یہ معاملہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو 20 فروری سے 26 فروری 2023 کے درمیان جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر (جے سی آئی) کپواڑہ میں غیر قانونی
طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، جو مبینہ طور پر منشیات سے متعلق جرائم کی تفتیش کے بہانے کیا گیا تھا۔
یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں، جب متاثر کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی تھی۔ سی بی آئی نے جولائی 2025 میں ایف آئی آر درج کی اور بعد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی (مجرمانہ سازش)، 323، 325 (زخمی کرنا)، 330، 331 (اقرارِ جرم حاصل کرنے کے لیے تشدد) اور 343 (غلط حراست) شامل تھیں۔ بعد ازاں سی بی آئی نے ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر کے آخری ہفتے میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ڈی ایس پی نائک کا کردار نگرانی تک محدود تھا اور ان کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہاکہ”ان کے خلاف محض شبہ پایا جاتا ہے جو سنگین شبہ کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ شرکت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا ملزم اے-1 (ڈی ایس پی اعجاز) کو مذکورہ دفعات کے تحت بری کیا جاتا ہے۔”
تاہم عدالت نے دیگر ملزمان کے حوالے سے مختلف رائے اختیار کی، جن میں سب انسپکٹر ریاض احمد میر، اسپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد بیگ، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان اور تنویر احمد ملا، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاکر حسین کھوجا اور الطاف حسین بھٹ، اور کانسٹیبل شہنواز احمد دیداد شامل ہیں۔
ان سات میں سے چھ ملزمان کپواڑہ ضلع کے رہائشی ہیں جبکہ تنویر احمد ملا کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد، جن میں متاثر کا بیان، طبی رپورٹس اور دیگر حالات شامل ہیں، ان ساتوں کے خلاف بادی النظر میں کیس ثابت کرتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حراست کے دوران متاثر کے جسم کے حساس حصوں پر لگنے والی چوٹیں اور طبی رائے حراستی تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ متاثر مکمل طور پر ملزمان کے کنٹرول میں تھا، جو استغاثہ کے موقف کو مضبوط بناتا ہے۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ الزامات مبہم ہیں اور کہا کہ متاثر نے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے اور ان کے کردار کی تفصیل بیان کی، جو کئی دنوں تک جاری رہنے والے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ”اس مرحلے پر عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا بادی النظر میں کیس یا سنگین شبہ موجود ہے، نہ کہ مکمل ٹرائل کرنا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ان جرائم کے عناصر کو ثابت کرتا ہے۔ “ریکارڈ پر موجود مواد، اپنی ظاہری حیثیت میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان سات ملزمان نے مشترکہ منصوبے کے تحت مذکورہ دفعات کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔”
اس کے مطابق عدالت نے ساتوں ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا اور مقدمہ 14 مئی کو استغاثہ کے ثبوت کے لیے درج کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مانڈویہ نے نچلی سطح پر توجہ مرکوز کرنے پر دیا زور، سرینگر میں وزرائے کھیل کا ‘چنتن شیویر’
سرینگر نوجوانوں اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ہفتہ کو اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی سپر پاور کے طور پر ابھرنے کا جو 10 سالہ پرجوش روڈ میپ ہے، اسے نچلی سطح پر کام میں تبدیل ہونا چاہیے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے مباحثوں کی سمت متعین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے کھیلوں کے عزائم کو زمینی سطح پر عمل درآمد کے ذریعے ہی حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا
”عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے لیے ہمارا 10 سالہ روڈ میپ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہر کھیل کے میدان، ہر ضلع اور ہر نوجوان کے خواب میں زندہ نظر آنا چاہیے۔“
جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی چنتن شیوِر میں شرکت کی اور ہندوستان کو کھیلوں کی طاقت بنانے کے وژن کو سراہا۔
کھیلوں کے مرکزی وزیر نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ محض پالیسی اپنانے تک محدود نہ رہیں بلکہ فعال عمل درآمد کی طرف بڑھیں، اور اس بات پر زور دیا کہ حقیقی پیش رفت کا اندازہ اُن نتائج سے ہوگا جو اضلاع، تربیتی نظام اور نچلی سطح کے کھیلوں کے ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”کھیلو بھارت مشن صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اور قوم کے عزم کی عکاسی ہے۔“
ڈاکٹر مانڈویہ نے ریاستی حکومتوں اور اسپورٹس فیڈریشنوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط اور متحدہ ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل کے لیے قریبی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے پر ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے تعلیمی نظام کے ساتھ ربط ضروری ہے اور جسمانی تعلیم کے اساتذہ نچلی سطح کے کھیلوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی ایک باصلاحیت بچے کو مواقع کی کمی کے باعث پیچھے رہ جانا پڑے تو یہ صرف اس کی ذاتی نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل ایک تبدیلی لانے والا ذریعہ ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر مشکل علاقوں میں، جہاں یہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر مانڈویہ نے کوچ کی باقاعدہ تصدیق اور تربیت میں بہتری، کھلاڑیوں کی سائنسی بنیادوں پر تربیت اور اسپورٹس انتظامیہ میں صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک مربوط اور مسلسل نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، ”جب بنیادی ڈھانچہ، ٹیلنٹ کی شناخت اور تربیت یافتہ افرادی قوت ایک مربوط سلسلے کی صورت اختیار کر لیں گے تو اولمپک پوڈیم تک رسائی خود بخود ممکن ہو جائے گی“ اور اس طرح نچلی سطح کی شمولیت کو اعلیٰ کارکردگی سے ایک منظم راستے کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے لکشمی بائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل ایجوکیشن، گوالیار کے تحت وائی ای ایس-پی ای (ینگ انگیجمنٹ اِن اسپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن) پروگرام کا بھی آغاز کیا، جسے جماعت 9 سے 12 تک کے طلبہ کے لیے کھیلوں میں شرکت، اسپورٹس مین شپ اور قیادت کو فروغ دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری (کھیل) ہری رنجن راؤ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس شیوِر کی اہمیت کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا جو اجتماعی غور و فکر اور عملی اقدامات کو فروغ دیتا ہے۔
چنتن شیوِر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ اجتماع محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ غور و فکر، عزم اور نئے عہد کا ایک مشترکہ لمحہ ہے۔“
چنتن شیوِر میں مختلف موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں میڈل حکمتِ عملی، پالیسی ہم آہنگی، صاف اور محفوظ کھیل، اور ٹیلنٹ کی شناخت و ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پندرہ سے زائد ریاستی وزرائے کھیل کے ساتھ ساتھ ممتاز کھیل شخصیات جیسے عادل سُمرِی والا، ابھینو بندرا، پلیلا گوپی چند اور گگن نارنگ نے چنتن شیوِر میں شرکت کی اور متعلقہ فریقین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جو ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پالیسی مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مختلف ریاستوں کے وزرائے کھیل نے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو مرکز میں رکھنے والے نقطۂ نظر پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ماڈل کو ملک کے مختلف خطوں میں نافذ کر کے ہندوستان میں ایک مضبوط اور مؤثر کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
مباحثوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوچنگ نظام کو بہتر بنانے، مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، اخلاقی اور محفوظ کھیل کے ماحول کو یقینی بنانے اور اسکولوں، اکیڈمیوں اور اعلیٰ تربیتی مراکز کے درمیان مربوط سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
ان اجلاسوں میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ کھلاڑیوں کی نشاندہی سے لے کر اعلیٰ کارکردگی کی تربیت تک تسلسل برقرار رکھنے کے لیے منظم راستوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستوں کے درمیان مسلسل نگرانی، جائزہ اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی کے مقاصد کو زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
مباحثوں میں اس امر کی دوبارہ توثیق کی گئی کہ ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کھیلوں کا نظام قائم کرنے کے لیے مرکز، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان متحدہ اور مربوط نقطۂ نظر نہایت اہم ہے، جو ہندوستانکے عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہو۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
ترکیہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کردی
انقرہ، ترکیے نے امریکہ ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔ ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا6 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ





































































































