تجزیہ
مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہب کی بنیاد پر پابندی کیوں

(جب جاگو تبھی سویرا)
تحریر: جاوید اختر بھارتی
آجکل سوشل میڈیا پر اور اخباروں میں دلت مسلمان اور پسماندہ مسلمان کا لفظ خوب نظر آرہا ہے ایک وقت تھا کہ جب کوئی شخص پسماندہ مسلمانوں کی بات کرتا تھا تو مذاق اڑایا جارہا تھا لیکن کہنے والے نے کہا تھا کہ ایک دن پورے ملک میں لفظ پسماندہ گونجے گا اور آج وہ بات سچ ثابت ہوئی یعنی لفظ پسماندہ چل پڑا ہے اور اب رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے بلکہ اب تو دلت مسلمان کا لفظ بھی بڑے اچھے اچھے لوگوں کی زبان سے ادا ہورہاہے پارلیمنٹ سے لے کر اسمبلی تک اور شاہراہوں سے لے کر اسٹیج تک دلت مسلمان اور پسماندہ مسلمان کی بات ہورہی ہے اور ہونی بھی چاہئے بلکہ بہت پہلے ہی سے ہونی چاہئے تھی بہر حال جب سے جاگو تب سے سویرا ۔
یہ حقیقت ہے کہ ملک کے آئین کے تحت مذہبی بنیاد پر ریزرویشن نہیں ہے بلکہ سچائی پر مبنی ایک لکیر کھینچی گئی ہے اور اس لکیر اس دائرے میں ایسے لوگ ہیں جو سیاسی وسماجی اور تعلیمی اعتبار سے پیچھے رہ گئے ہیں اور یہ بھی سچائی ہے کہ ان کو پیچھے رکھا بھی گیا ہے اور اس سماج کی آبادی پچاسی فیصد ہے اور اسی کو پسماندہ ( بیک ورڈ) کہا جاتا ہے۔
مسلمانوں میں کچھ برادریاں ایسی ہیں جو دلت کے زمرے میں آتی ہیں اور ایسی بھی برادریاں ہیں جو پیشے کے اعتبار سے مذہبی بنیاد پر ایک جیسی ہیں بس کچھ کے نام الگ الگ ہیں اور کچھ کے نام بھی ایک جیسے ہیں مثلاََ دھوبی، نٹ، کھٹک، پاسی، حلال خور، موچی وغیرہ وغیرہ یہ دلت میں آتے ہیں اور جب آئین مرتب ہوا تو ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے ان برادریوں کو دلت کے زمرے میں رکھا اور انہیں مخصوص سہولت فراہم کی اس میں مذہبی پابندی نہیں رکھی اور یہ سہولت جس دفعہ کے تحت فراہم کی گئی وہ دفعہ 341 کہلائی لیکن 10 اگست 1950 کو کانگریس کے دور حکومت میں اس دفعہ 341 میں پیرا 3 کا اضافہ کرکے مسلمانوں کی ان برادریوں کو اس مخصوص سہولت یعنی دلت ریزرویشن سے محروم کردیا گیا ،، اب یہیں سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب مذہبی بنیاد پر ریزرویشن نہیں ہے تو مذہبی بنیاد پر ریزرویشن پر پابندی کیوں ہے اور آج کانگریس سینہ ٹھونک ٹھونک کر پسماندہ ہندو مسلم کی بات کرتی ہے لیکن اپنی اس کارستانی کا ذکر آج بھی نہیں کرتی ہے پھر کیسے مان لیا جائے کہ پسماندہ مسلمانوں کے تئیں کانگریس کی نیت صاف ہے اور پسماندہ مسلمانوں کی لڑائی لڑنے والے جو کانگریس میں شامل ہوئے ہیں وہ بھی بتائیں کہ کانگریس میں ان کی شمولیت کا مقصد کیا ہے کیا کانگریس نے اپنی 1950 کی غلطی کی معافی مانگ لی ہے؟ کیا کانگریس نے کہا ہے کہ ہماری حکومت بنی تو ہم اپنی اس غلطی کا ازالہ کریں گے اور دفعہ 341 پر لگی مذہبی پابندی کو ختم کریں گے اور ہندو دلتوں کی طرح مسلم دلتوں کو بھی ریزرویشن دیں گے
یہ بھی سچائی ہے کہ 1950 میں جب دلت مسلمانوں کے ریزرویشن پر پابندی عائد کی گئی تو اس وقت کے بڑے بڑے مسلم سیاسی لیڈران نے اس کی مخالفت نہیں کی اور اس کے بعد بھی طویل عرصے تک مخالفت نہیں کی گئی اور آج بھی مسلمانوں کے نام پر بنی بڑی بڑی تنظیموں میں سے بہت سی تنظیمیں خاموش ہیں جبکہ ان تنظیموں کا وجود انہیں سماج کی بدولت برقرار ہے وہ تو جب خود پسماندہ و دلت مسلمانوں نے کمیٹیاں بنائی تو ان تنظیموں میں سے کچھ نے لب کشائی کرنا شروع کیا اور تنظیموں کے ذمہ داران بہت دنوں تک سبھی مسلمانوں کے لئے ریزرویشن کی مانگ کرتے رہے اور سارے مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بدتر بتاتے رہے جبکہ انہیں بھی معلوم ہے کہ مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں ہے اس طرح ان کی بھی نیت شک کے دائرے میں تھی ۔
بہر حال اب تو لفظ پسماندہ چل پڑا ہے تو جو لوگ پہلے سے چلارہے تھے وہ تو آج بھی چلارہے ہیں لیکن جو مخالفت کررہے تھے اب وہ بھی لفظ پسماندہ چلانے کی کوشش کررہے ہیں ،، اس سال 10 اگست کو کسی نے یوم سیاہ منایا تو کسی نے بتی گل اندھیرا کرنے کی اپیل کی مختلف پارٹیوں اور سماجی شخصیات و تنظیموں نے جلوس نکالا اسٹیج لگایا اور مطالبہ کیا کہ دفعہ 341 سے مذہبی پابندی ہٹائی جائے۔
10 اگست 1950 کو اس وقت کی کانگریس حکومت کے ذریعے خصوصی آرڈیننس کی مدد سے آئین کی دفعہ 341 میں ترمیم کرکے مذہبی پابندیاں مسلم اور عیسائی مذہب کے دلت طبقات کے ریزرویشن ختم کرنے کے خلاف مختلف اضلاع کے ہیڈکوارٹر پر مظاہرہ ہوا اور ضلع انتظامیہ کے توسط سے وزیر اعظم کے نام میمورنڈم بھی دیا گیا۔
دلت مسلمانوں کے ریزرویشن کے لئے آوازیں تو اب اٹھ رہی ہیں لیکن آج بھی ان پلیٹ فارموں سے آواز بلند نہیں ہوتی جس پلیٹ فارم سے کبھی ملک و ملت بچاؤ کانفرنس کی جاتی ہے ، کبھی تحفظ جمہوریت کانفرنس کی جاتی ہے ، کبھی تحفظ مدارس کانفرنس کی جاتی ہے ، کبھی کل مذاہب کانفرنس کی جاتی ہے اور ایک اسٹیج پر سبھی مذاہب کے رہنماوں کو بلایا جاتا ہے اس پلیٹ فارم سے اور اس اسٹیج سے کبھی دلت مسلم ریزرویشن کی آواز نہیں اٹھائی جاتی ، کبھی پسماندہ و دلت مسلم تحفظ کانفرنس نہیں کرائی جاتی آخر کیوں
اور جب اس پلیٹ فارم سے دلت مسلمانوں کے لئے ریزرویشن کی آواز نہیں اٹھائی جاتی ہے اور دفعہ 341 پر عائد مذہبی پابندی ہٹانے کا مطالبہ نہیں کیا جاتا ہے تو پھر اسی پلیٹ فارم کے ذمہ دار انفرادی طور پر مختلف اسٹیج سے دلت مسلمانوں کے ریزرویشن کی بات کیوں کرتے ہیں؟ یہ سستی شہرت کا بھوکا پن نہیں تو اور کیا ہے یہ معاملہ اور یہ بات اور نام نہاد مسلم لیڈران کا طرز عمل دلت و پسماندہ مسلمانوں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ جو بات انفرادی طور پر خطاب میں کہا جاتا ہے اسی بات کو اپنے پلیٹ فارم اور اس تنظیم کے بینر تلے اس اسٹیج سے کہنے سے پرہیز کیوں جاتا ہے اور شرم کیوں محسوس کیا جاتا ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آزادی کا بنیادی مقصد ملک کے تمام طبقات کو سیاسی ، سماجی ، اقتصادی اور تعلیمی بیداری و ترقی کے لئے یکساں مواقع فراہم کرنا تھا اور اسی وجہ سے مذہب ، ذات برادری ، طبقے ، نسل، جنس زبان کی تفریق کے بغیر تمام طبقات کی پسماندگی کو دور کرنے اور ان کا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے صدیوں سے ناانصافی کا شکار رہنے والوں کو ریزرویشن جیسی سہولت فراہم کی گئی لیکن جواہر لعل نہرو کی قیادت میں آزاد ہندوستان کی پہلی کانگریس حکومت نے سماج کے مختلف دلت طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک کیا اور ریزرویشن سے متعلق آئین کے آرٹیکل 341 میں ترمیم کرکے مذہبی پابندیاں لگا دیں۔
جواہر لعل نہرو حکومت نے 10 اگست 1950 کو خصوصی آرڈیننس پاس کیا، آرٹیکل 341 میں یہ شرط لگادیا کہ ہندو مذہب کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے درج فہرست ذات کے لوگ ریزرویشن کے اہل نہیں ہوں گے جبکہ نہرو حکومت کا یہ فیصلہ پوری طرح آئین کی خلاف ورزی تھا اب یہاں پھر وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب مذہبی بنیاد پر ریزرویشن نہیں تو مذہبی بنیاد پر پابندی کیوں ؟ اور دوسرا سوال یہ بھی ہوتاہے کہ اس وقت کے مسلم سیاستداں خاموش کیوں
ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے سینے میں اپنی قوم کا درد تھا جس کے لئے انہوں نے سہولت دی مگر دائرہ اتنا وسیع رکھا کہ مذہبی پابندی نہیں رکھی بلکہ جو بھی اس زمرے میں آئے سب کا بھلا ہوسکے لیکن مسلم سیاستدانوں کے سینے میں اپنی قوم کا درد نہیں تھا اگر ہوتا تو زبان بند نہیں رہتی ،، یہاں تک کہ 1956 میں سکھوں اور 1990 میں بدھ مذہب کے ماننے والوں کو نئی ترامیم کے ذریعے اس فہرست میں شامل کرلیا گیا لیکن پھر بھی مسلم اور عیسائی دلتوں کو اس فہرست سے باہر رکھا گیا پھر بھی مسلم رہنمائے سیاست خاموش رہے نتیجہ یہ ہوا کہ یہ دونوں دلت طبقہ ہندو ہم پیشہ ہوکر بھی ریزرویشن سے محروم ہے۔
ہاں یہ بھی ایک المیہ ہے کہ مسلمانوں کے دبے کچلے لوگوں کی کوئی تنظیم بھی بنتی ہے تو کچھ ہی دنوں میں اسی نام کی درجنوں تنظیمیں بن جاتی ہیں جیسے بہت پہلے ایک مومن کانفرنس تھی لیکن 1990 کے بعد درجنوں مومن کانفرنس بن گئی اور درجنوں قومی صدر ہوگئے ،، انڈین بیک ورڈ مسلم کانفرنس بنی ، آل انڈیا بیک ورڈ مسلم موچہ بنا، 2000 کے آس پاس میں آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ بنا اور آج درجنوں آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ ہے ، درجنوں قومی صدر ہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ پسماندہ و دلت مسلمان آج بھی سیاسی شعور و سیاسی بیداری سے محروم ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پسماندہ مسلمان تنظیم کو فعال بنانے اور اس کا دائرہ وسیع کرنے کے بجائے اپنا قد وسیع کرنے میں لگ جاتا ہے ،، سرکاری وسائل ملنے کے بعد بھی تنظیم کو فعال اور وسیع نہیں کیا جاتا اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہماری جتنی پہنچ ہے اس پہنچ تک دوسرا نہ پہنچے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کچھ راہ ہموار ہونے کے بعد بھی سارا کھیل بگڑ جاتا ہے پھر عوام کا اعتماد حاصل کرنا مشکل ہوجاتاہے اور راقم نے ایسا ماحول ، ایسا منظر اور ایسا طرز عمل خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔
javedbharti508@gmail.com
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یو پی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
جموں و کشمیر
پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
گوہر پیرزادہ
اپریل 2025 کے بائیسرن حملے کے بعد سیاحت میں نمایاں کمی
پہلگام، 23 اپریل — وادی کشمیر کا خوبصورت سیاحتی مقام پہلگام، جو عام طور پر موسمِ بہار میں سیاحوں سے بھرا رہتاΩ تھا، اس سال ایک غیر معمولی خاموشی کا شکار ہے۔ 22 اپریل 2025 کو یہاں کے مشہور سیاحتی مقام بائیسرن میں ہونے والے حملے کے بعد سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے باعث سڑکیں سنسان، ہوٹل آدھے خالی، اور سیاحت پر انحصار کرنے والے سیکڑوں افراد شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
واضح رہے کہ 22 اپریل 2025 کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد جان بحق ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر غیر مقامی سیاح شامل تھے۔
پہلگام کے دورے کے دوران مقامی سیاحتی شعبے کی ایک تشویشناک تصویر سامنے آئی۔ وہ پرکشش سڑکیں، جو عام طور پر سیاحوں کی گاڑیوں اور ہلچل سے بھرے بازاروں سے جانی جاتی تھیں، اب بڑی حد تک ویران اور مایوس کن نظر آ رہی تھیں۔ ہوٹل مالکان نے نہ ہونے کے برابر بکنگ کی اطلاع دی، ٹیکسی اڈوں پر زیادہ تر گاڑیاں خالی کھڑی تھیں، جبکہ گھوڑوں کے مالکان اور چلانے والے بے چینی سے گاہکوں کا انتظار کر رہے تھے۔
بہت سے مقامی افراد کے لیے سیاحت محض ایک موسمی کاروبار نہیں بلکہ ان کی زندگی کا سہارا ہے۔
انہی میں گھوڑا بان عبداللہ بھی شامل ہے، جو گھوڑا اڈے کے قریب خاموشی سے بیٹھا گاہکوں کا منتظر تھا، مگر کوئی آتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بڑے خاندان کی کفالت اور شادی کی عمر کو پہنچتی بیٹیوں کے باعث وہ شدید فکرمند دکھائی دیا۔
“اس موسم میں سیاح بہت کم ہیں۔ ہم انہی چند مہینوں میں کام کر کے سال بھر کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ اگر سیاح نہیں آئیں گے تو ہم شادیوں، تعلیم اور گھریلو اخراجات کیسے چلائیں گے؟” اس نے سوال اٹھایا۔

اس کی پریشانی وادی میں پیدا ہونے والے وسیع تر بحران کی عکاسی کرتی ہے۔
گاڑی چلانے والے محمد شفیع اور غلام محمد بھی دیگر ڈرائیوروں کی طرح اڈے پر بے بسی سے انتظار کرتے نظر آئے۔ ان کی گاڑیاں کئی دنوں سے بغیر کسی بکنگ کے کھڑی ہیں۔
محمد شفیع نے کہا، “ہمارے ذمے قرضے اور ماہانہ قسطیں ہیں۔ سیاحوں کے بغیر ہر گزرتا دن ہمارے لیے مزید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ باہر کے لوگ سمجھتے ہیں کہ حالات معمول پر ہیں، مگر زمینی حقیقت مختلف ہے۔”
غلام محمد نے بھی اسی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے ڈرائیور اب ایندھن اور دیکھ بھال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔
مایوس کن ماحول کے باوجود چند سیاح بھی نظر آئے۔ ایک چھوٹے گروپ کو گھوڑوں کی سواری سے لطف اندوز ہوتے دیکھا گیا، جو امید کی ایک جھلک پیش کر رہا تھا۔
کیرالہ سے آئے ایک سیاح نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ کشمیر میں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں اور سیکورٹی اہلکاروں کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔
“ہم یہاں محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ حفاظتی انتظامات اچھے ہیں اور مقامی لوگ خوش آمدید کہتے ہیں۔ تاہم اس بار موسم کافی سخت رہا ہے۔ اپریل میں غیر معمولی بارش اور سردی ہماری توقع سے کہیں زیادہ ہے،” انہوں نے کہا۔
ان کی اہلیہ نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ اگرچہ حفاظتی خدشات قابو میں ہیں، لیکن غیر موسمی بارش نے ان کے سفری منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔
سیاحت سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ صرف حفاظتی خدشات ہی نہیں بلکہ دیگر عوامل بھی سیاحوں کی کم آمد کا سبب بنے ہیں۔
ایک مقامی ہوٹل مالک گورپریہ کور نے بتایا کہ حکومت نے سیاحت کو بحال کرنے کے لیے سرمائی اور بیساکھی تہواروں کا انعقاد کیا، تاہم ان کا اثر محدود رہا۔
انہوں نے کہا، “تہوار توجہ ضرور حاصل کرتے ہیں، مگر ایسے واقعات کے بعد لوگ سفر کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اعتماد بحال ہونے میں وقت لگتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں طبی سیاحت کے بے پناہ امکانات موجود ہیں، جو ابھی تک پوری طرح استعمال نہیں کیے گئے۔
“ہماری آب و ہوا اور قدرتی خوبصورتی کے ساتھ، اگر صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے تو کشمیر صحت مند سیاحت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔ ہمیں سیاحت کے شعبے کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے،” انہوں نے کہا۔

ہوٹل مالک گورپریہ کور
مقامی دکاندار عبدالمجید نے بائیسرن اور چندن واری جیسے اہم مقامات کی بندش کو سیاحوں کی کمی کی بڑی وجہ قرار دیا۔
“جب اہم سیاحتی مقامات بند ہوں تو لوگ کم ہی آتے ہیں۔ دکانوں میں گاہک نہیں ہوتے، رہنماؤں کے پاس کام نہیں ہوتا، اور گھوڑا مالکان بیکار بیٹھے رہتے ہیں—یعنی ہر کوئی متاثر ہوتا ہے،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حفاظتی جائزے کے بعد ان مقامات کو دوبارہ کھولا جائے۔
“ہم حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، مگر مکمل بندش سے سب سے زیادہ نقصان غریب لوگوں کو ہوتا ہے۔ حکومت کو متوازن حل تلاش کرنا چاہیے۔”

ادھر حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پر اور قابو میں ہیں۔ حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے اور سیاحوں کا اعتماد بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
تاہم، پہلگام کی زمینی حقیقت ایک مختلف کہانی بیان کرتی ہے۔
کشمیر میں سیاحت، خاص طور پر پہلگام جیسے علاقوں میں، نہایت حساس شعبہ ہے۔ ایک واقعہ بھی ہزاروں خاندانوں کے لیے طویل معاشی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
یہاں کے لوگوں کے لیے سیاحت صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اسکول فیس، شادی کے اخراجات، قرض کی ادائیگی اور روزمرہ ضروریات سے جڑی ہوئی ہے۔
جیسے جیسے سیاحتی موسم آگے بڑھ رہا ہے، مقامی لوگ امید کر رہے ہیں کہ سیاح دوبارہ واپس آئیں گے۔
لیکن فی الحال پہلگام میں خاموشی کسی بھی سرکاری یقین دہانی سے زیادہ بلند آواز میں سنائی دے رہی ہے۔
جب تک اعتماد مکمل طور پر بحال نہیں ہوتا، خالی سڑکیں اور پریشان چہرے اس جنتِ بے نظیر میں بگڑتے ہوئے حالات کی اصل قیمت بیان کرتے رہیں گے۔
تجزیہ
اگر حکومت کو پہلے ہی معلوم تھا تو بل کیوں پیش کیا گیا؟

اگر وزیرِاعظم Narendra Modi کی حکومت کو، جیسا کہ قائدِ حزبِ اختلاف Rahul Gandhi نے دعویٰ کیا، یہ علم تھا کہ آئین (131ویں ترمیم) بل لوک سبھا میں مطلوبہ خصوصی اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث ناکام ہو جائے گا، تو پھر اسے پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
حقیقت یہ ہے کہ ایک “ناکام ہونے والا” بل بھی قانون بننے سے آگے کئی مقاصد پورے کر سکتا ہے—جیسے ایجنڈا طے کرنا، عوامی بحث کا رخ موڑنا، اہم مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا، اور وقت کے ساتھ پالیسی خیالات کو معمول کا حصہ بنانا۔ مبصرین کے مطابق، ایسے بل کو متعارف کرانے کے کئی عملی اور سیاسی محرکات ہوتے ہیں، چاہے اس کی کامیابی کے امکانات کم ہی کیوں نہ ہوں۔
سب سے پہلے نیت کا پہلو سامنے آتا ہے۔ بل پیش کرکے حکومت نے اپنے حامیوں—خصوصاً خواتین، جو وزیرِاعظم مودی کا ایک مضبوط ووٹ بینک سمجھی جاتی ہیں—کو یہ پیغام دیا کہ بی جے پی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔ حتیٰ کہ مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود، یہ قدم انتخابی مہمات میں عوامی رائے ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسرا پہلو اپوزیشن پر دباؤ ڈالنا ہے۔ پارلیمان میں باضابطہ بحث نے تمام جماعتوں کو اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے پر مجبور کیا، جس سے حکمران جماعت کو یہ بیانیہ بنانے کا موقع ملا کہ اس نے اصلاحات کی کوشش کی مگر مخالفین نے اسے ناکام بنایا۔ بل کی ناکامی کے بعد بی جے پی رہنماؤں نے اپوزیشن کو “خواتین مخالف” قرار دیتے ہوئے اسی بیانیے کو مزید تقویت دی۔
آئین (131ویں ترمیم) بل کی ناکامی کے بعد، جس کا مقصد 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر 2029 کے انتخابات تک خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنا تھا، پارلیمانی امور کے وزیر Kiren Rijiju نے دو متعلقہ بل—یونین ٹیریٹوریز لاز (ترمیمی) بل 2026 اور ڈیلیمیٹیشن بل 2026—بھی واپس لے لیے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ اس نے خواتین کے حقوق کی حمایت کا ایک اہم موقع ضائع کر دیا۔ این ڈی اے رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج بھی کیا اور اپوزیشن کے خلاف بیانات دیے۔
بی جے پی نے اس شکست کو محض عددی ناکامی کے طور پر نہیں بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ بنا کر پیش کیا، اور خود کو وزیرِاعظم مودی کی قیادت میں خواتین کو بااختیار بنانے والی جماعت کے طور پر پیش کیا۔ اس کے برعکس، کانگریس، راہل گاندھی اور دیگر جماعتوں جیسے سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے کو صنفی مساوات کی اصلاحات کی مخالفت کرنے والا دکھایا گیا۔ بحث کے دوران وزیرِاعظم اور وزیرِداخلہ Amit Shah نے کہا کہ “ملک کی خواتین انہیں معاف نہیں کریں گی” — ایک ایسا پیغام جو آئندہ سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس عمل نے مستقبل میں مذاکرات اور ترامیم کی گنجائش پیدا کی ہو۔ اس سے حکومت کو پارلیمانی اعداد و شمار اور مختلف جماعتوں اور اراکینِ پارلیمنٹ کے مؤقف کا اندازہ لگانے کا موقع ملا ہوگا، جس کی بنیاد پر آئندہ قانون سازی کی حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکتی ہے—اگرچہ بعض مبصرین کے نزدیک بی جے پی قیادت کی حکمتِ عملی کو دیکھتے ہوئے یہ امکان کمزور دکھائی دیتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، این ڈی اے کو بل کے حق میں 298 ووٹ ملے جبکہ انڈیا اتحاد نے 230 ووٹ حاصل کیے، جبکہ بل کی منظوری کے لیے 352 ووٹ درکار تھے۔ کیا حکومت کو اس کا علم نہیں تھا؟ یہ بعید از قیاس لگتا ہے۔ راہل گاندھی نے بھی یہی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے سے زیادہ ایک سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا—خاص طور پر حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشے میں تبدیلی لانا اور جنوبی و چھوٹی ریاستوں کے حقوق کو متاثر کرنا، جبکہ ہندی بیلٹ کو فائدہ پہنچانا، جو بی جے پی کا اہم ووٹ بینک ہے۔
راہل گاندھی کے مطابق، اس اقدام کے دو بنیادی مقاصد تھے: “پہلا، بھارت کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنا، اور دوسرا، وزیرِاعظم کو خواتین دوست رہنما کے طور پر پیش کرنا۔”
تجزیہ
کاربن کے اخراج، درخت کاری اور حیاتیاتی تنوع: موسمیاتی حکمتِ عملی کے درمیان توازن کی تلاش
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نہ صرف واضح ہو چکے ہیں بلکہ تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں، بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، گلیشیئرز کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور حیاتیاتی تنوع کا زوال یہ اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ انسان کو اپنی ترقی کے ماڈل پر نظرثانی کرنا ہوگی، کاربن کے اخراج کو کم کرنا اس جدوجہد کا بنیادی جزو ہے، لیکن موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ صرف اخراج میں کمی کافی نہیں ہوگی۔ ہمیں فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو نکالنے کے مؤثر طریقے بھی اپنانے ہوں گے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کاربن کو ہٹانے کے لیے درخت لگانا ہمیشہ فائدہ مند ہوتا ہے؟ یا یہ بعض حالات میں ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے؟ حالیہ سائنسی تحقیق اس پیچیدہ سوال کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے، خاص طور پر جب بات حیاتیاتی تنوع (biodiversity) کی ہو۔
دنیا بھر میں انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہر سال تقریباً 42 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہو رہی ہے۔ اس میں سب سے بڑا حصہ جیواشم ایندھن (fossil fuels) جیسے کوئلہ، تیل اور گیس کے استعمال سے آتا ہے، جبکہ زمین کے استعمال میں تبدیلی—جیسے جنگلات کی کٹائی—بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اگرچہ مختلف ممالک نے اخراج کم کرنے کے وعدے کیے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر اخراج میں اب بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف اخراج کو کم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ہمیں ‘نیٹ زیرو’ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کاربن کو فضا سے نکالنا بھی ہوگا۔
پیرس معاہدہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کو نہ صرف اخراج میں بڑی حد تک کمی لانی ہوگی بلکہ کاربن ہٹانے کی ٹیکنالوجیز اور حکمت عملیوں کو بھی بڑے پیمانے پر اپنانا ہوگا۔
لیکن یہاں ایک چیلنج ہے۔کاربن کو ہٹانے کے لیے استعمال ہونے والے طریقے خود ماحول پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر اگر انہیں بغیر منصوبہ بندی کے اپنایا جائے۔
کاربن کو ہٹانے کے کئی طریقے زیرِ غور ہیں، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
(اول) درخت لگانا: درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور اسے اپنے اندر ذخیرہ کرتے ہیں۔ اس لیے درخت کاری کو سب سے قدرتی اور سستا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
(دوم) توانائی کی فصلیں (Bioenergy Crops): ایسی فصلیں اگائی جاتی ہیں جنہیں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکے، اور پھر ان کے جلنے سے پیدا ہونے والے کاربن کو پکڑ کر ذخیرہ کیا جائے۔
(سوم) کاربن کیپچر اور اسٹوریج (CCS): صنعتی ذرائع سے نکلنے والے کاربن کو پکڑ کر زمین کے اندر محفوظ کرنا۔
(چہارم) ڈائریکٹ ایئر کیپچر (DAC): جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فضا سے براہِ راست کاربن کو نکالنا۔
ان میں سے سب سے زیادہ زیرِ بحث طریقہ درخت لگانا ہے، کیونکہ یہ فطری اور نسبتاً آسان ہے۔ لیکن اس کے بھی کئی پیچیدہ پہلو ہیں۔
بظاہر درخت لگانا ایک بہترین حل معلوم ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف کاربن کو جذب کرتا ہے بلکہ مٹی کو محفوظ رکھتا ہے، پانی کے چکر کو بہتر بناتا ہے اور ماحولیاتی نظام کو مستحکم کرتا ہے۔ لیکن جب اسے بڑے پیمانے پر نافذ کیا جاتا ہے، تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
بڑے پیمانے پر درخت لگانے کے لیے لاکھوں مربع کلومیٹر زمین درکار ہوتی ہے۔ یہ زمین کہاں سے آئے گی؟ اکثر یہ زرعی زمین یا قدرتی گھاس کے میدان (grasslands) ہوتی ہے، جو خود بھی اہم ماحولیاتی نظام ہیں۔
اگر ایک ہی قسم کے درخت بڑے پیمانے پر لگائے جائیں (monoculture plantations)، تو یہ مقامی پودوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس سے حیاتیاتی تنوع کم ہو جاتا ہے۔
کچھ درخت بہت زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں، جس سے مقامی آبی وسائل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ زمین کے استعمال میں تبدیلی سے مقامی لوگوں کی روزی روٹی متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر کسانوں اور چرواہوں کی۔
حالیہ مطالعات میں سائنسدانوں نے مختلف موسمیاتی منظرناموں کا تجزیہ کیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کاربن ہٹانے کی حکمت عملیوں کا حیاتیاتی تنوع پر کیا اثر پڑتا ہے۔
انہوں نے عالمی نقشوں کو استعمال کرتے ہوئے یہ دیکھا کہ مستقبل میں کہاں درخت لگائے جائیں گے یا توانائی کی فصلیں اگائی جائیں گی، اور یہ علاقے حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے کتنے حساس ہیں۔
بہت سے ایسے علاقے جہاں درخت لگانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے نہایت اہم ہیں۔ اگر ان علاقوں میں غیر مقامی درخت لگائے جائیں، تو مقامی ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔کچھ علاقوں میں درخت لگانا فائدہ مند ہو سکتا ہے، خاص طور پر جہاں پہلے جنگلات موجود تھے اور انہیں بحال کیا جا سکتا ہے۔
کاربن ہٹانے اور حیاتیاتی تنوع کے درمیان تعلق کو دو طریقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔درخت لگانے سے کاربن تو کم ہو سکتا ہے، لیکن حیاتیاتی تنوع متاثر ہو سکتا ہے۔ زرعی زمین کو جنگل میں تبدیل کرنے سے خوراک کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
مقامی انواع کے درخت لگانے سے دونوں اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ جنگلات کی بحالی (restoration) سے کاربن ذخیرہ بھی ہوتا ہے اور حیاتیاتی تنوع بھی بڑھتا ہے۔
ان چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے، ماہرین درج ذیل حکمت عملی تجویزکرتے ہیں۔
درخت لگاتے وقت مقامی پودوں کو ترجیح دی جائے۔حساس ماحولیاتی علاقوں کو محفوظ رکھا جائے۔مقامی لوگوں کو منصوبوں میں شامل کیا جائے تاکہ ان کے مفادات کا تحفظ ہو۔ صرف درخت لگانے پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ مختلف طریقوں کو یکجا کیا جائے۔
موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی مسئلہ ہے۔ کاربن کو ہٹانا اس کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن اسے اکیلے حل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
ہمیں ایک متوازن نقطہ نظر اپنانا ہوگا جس میں: کاربن کا اخراج (removal)، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، سماجی و اقتصادی انصاف سب کو یکجا کیا جائے۔
درخت لگانا ایک بہتر حل ہو سکتا ہے، لیکن یہ کوئی جادوئی حل نہیں ہے۔ اگر اسے بغیر سوچے سمجھے اپنایا جائے تو یہ ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سائنسی شواہد کی بنیاد پر فیصلے کریں اور ایسے اقدامات کریں جو نہ صرف کاربن کو کم کریں بلکہ زمین کے حیاتیاتی نظام کو بھی محفوظ رکھیں۔مستقبل کی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن قائم کریں —ایسا توازن جو انسان اور فطرت دونوں کے لیے فائدہ مند ہو۔
(یواین آئی)
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا6 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ





































































































