تازہ ترین
پلوامہ میں فورسز کے ہاتھوں 6 شہری جاں بحق، متعدد زخمی

خبراردو:
پلوامہ میں سنیچر کوجنگجوئوں اور فورسز کے مابین تصادم آرائی کی جگہ کے آس پاس ہوئی جھڑپوں کے دوران فورسز کارروائی میں شہری ہلاکتوں کی تعداد چھ تک پہنچ گئی ہے۔فورسز کارروائی میں متعدد شہری زخمی بھی ہوگئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے معرکہ آرائی کی جگہ کی طرف مارچ کی کوشش کی جس کو روکنے کیلئے فورسز نے گولیاں چلائیں اور پیلٹ فائر کئے جس کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوگئے جن میں سے پہلے دو اور بعد میں مزید چار زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے۔
اسپتال ذرائع نے کہا کہ ابھی تک چھ شہری جاں بحق ہوگئے ہیں۔
انہوں نے مرنے والوں کی شناخت شہباز علی ساکنہ منڈہامہ، سہیل احمد ساکنہ بیلو، لیاقت احمد ساکنہ پاریگام،عامر احمد پالا ساکنہ اشمندر اور عابدحسین ساکنہ کریم آباد کے طور کی ہے جبکہ چھٹے جاں بحق شہری کی شناخت ابھی تک نہیں ہوئی تھی۔
اس سے قبل کھارہ پوری سرنو میں تین جنگجو فورسز کے ساتھ معرکہ آرائی میں جاں بحق ہوگئے۔ فوج نے کہا کہ معرکہ آرائی میں ایک فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوگیا۔
کھارہ پورہ سرنو نامی گائوں میں آج صبح فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان معرکہ شروع ہوا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا اور جس کے دوران ذرائع کے مطابق تین جنگجو جاں بحق ہوگئے ۔
دنیا
میں گھبرایا نہیں زندگی کو سمجھتا ہوں، ہم پاگل دنیا میں رہ رہے ہیں: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کے بعد پہلی بار امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیا، جس میں انھوں نے کہا کہ جب حملہ ہوا تو میں گھبرایا نہیں تھا، میں زندگی کو سمجھتا ہوں، ہم پاگل دنیا میں رہ رہے ہیں۔
سی بی ایس کے پروگرام سکسٹی منٹس میں دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’’فائرنگ کے بعد میں سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ کیا ہوا ہے، اہلکاروں نے فوری طور پر مجھے حفاظتی حصار میں لیا، سیکیورٹی اہلکار بار بار کہہ رہے تھے نیچے ہو جائیں، اہلکاروں کے کہنے پر میں اور خاتون اوّل زمین پر بیٹھ گئے۔‘‘ انھوں نے بتایا ’’میں پہلے کرسی سے اٹھا اور کھڑے ہو کر ہی جانے لگ گیا تھا، اہلکاروں نے مجھے جھک کر وہاں سے جانے کا کہا، پہلے ہمیں لگا ٹرے گرنے کی آواز ہے، خاتون اوّل پریشان ہو گئی تھیں۔‘‘
امریکی صدر نے کہا ’’اہلکار جب پہنچے تو میں دیکھنا چاہ رہا تھا کہ کیا ہوا ہے، اہلکاروں کے آنے کے بعد سمجھ گئے کہ کچھ غلط ہوا ہے، میں اہلکاروں کو کہہ رہا تھا کہ رکو مجھے دیکھنے دو کیا ہوا ہے، مجھے نہیں پتا کہ حملہ آور کا ٹارگٹ میں ہی تھا۔‘‘ انھوں نے کہا ’’کیرولین لیوٹ کو بھی حملے سے متعلق کچھ پتا نہیں تھا، اس صورت حال میں خاتون اوّل بہادر دکھائی دیں، وہ مضبوط ہیں، مجھ پر پہلے بھی حملے ہوئے، خاتون اوّل کے لیے یہ صورت حال نئی تھی، میں وہیں رک گیا تھا اور میری کوشش تھی تقریب دوبارہ شروع ہو۔‘‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’’حملہ آور بہت تیزی سے دروازے کی طرف بھاگتا ہوا آیا، وہ کچھ ہی دور بھاگ پایا اور پکڑا گیا، اہلکاروں نے پیشہ ورانہ طریقے سے حملہ آور کو گرفتار کیا، میں جرائم کے خلاف سخت مؤقف رکھتا ہوں، میں نے امریکہ کی سرحدوں کو بہت محفوظ بنا دیا ہے، 9 ماہ میں ایک بھی شخص غیر قانونی طریقے سے امریکا میں داخل نہیں ہوا۔‘‘ انھوں نے کہا میں زندگی کو سمجھتا ہوں، ہم پاگل دنیا میں رہ رہے ہیں، 500 سال پیچھے بھی چلی جائیں تو ایسے لوگ موجود رہے ہیں، پہلے بھی رہنماؤں پر اس طرح کے حملے ہوتے رہے، ڈیموکریٹس کی نفرت اور اشتعال انگیز تقریریں ملک کے لیے خطرہ ہیں، ایسے صدور پر ہی حملے ہوتے ہیں جو ملک کے لیے کچھ کرتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا میں نے اس ملک کو بلندیوں تک پہنچا دیا ہے، ایران کے خلاف کارروائی کی جو پہلے کوئی صدر نہیں کر سکا، سابقہ صدور نے ایران کے خلاف کارروائی نہ کر کے غلطی کی، 5 یا 10 سال پہلے ایران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی جس کے نہ ہونے سے وہ مضبوط بن گیا، جب اپنے ملک کے لیے کوئی کام کریں تو پھر اس کے نتائج بھی آتے ہیں، ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے روکتے ہیں تو وہ ناراض ہو جاتا ہے۔
ٹرمپ نے کنگ چارلس کے دورے سے متعلق کہا کہ برطانیہ کے بادشاہ آ رہے ہیں، وہ ہمارے ملک میں محفوظ رہیں گے، وہ محفوظ ترین مقام وائٹ ہاؤس آ رہے ہیں، مجھے یا میری کابینہ کو کسی حملے کا الرٹ نہیں ہے۔ دریں اثنا، امریکی صدر ٹرمپ نے پروگرام میں اپنی اہلیہ کو سالگرہ کی مبارک بھی دی اور بتایا کہ ان کی اہلیہ کی سالگرہ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فائرنگ واقعہ کے بعد کنگ چارلس کا دورہ امریکہ کے بارے میں شبہات
لندن، واشنگٹن فائرنگ واقعے کے بعد برطانیہ کے کنگ چارلس کے دورہ امریکہ کے حوالے سے سیکیورٹی پلان کا ازسر نو جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں برطانوی شاہی محل بکنگھم پیلس کے ترجمان نے کہا ہے کہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ڈنر کے موقع پر فائرنگ کے واقعے کے بعد برطانیہ اور امریکہ کے حکام شاہ چارلس کے مجوزہ دورہ امریکہ کے سیکیورٹی انتظامات پر دوبارہ غور کررہے ہیں۔
غیرملکی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق برطانوی شاہی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر امریکی حکام سے مشاورت کی جائے گی تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ حالیہ واقعہ اس ہفتے ہونے والے شاہی دورے کی منصوبہ بندی پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتا ہے؟۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اوّل میلانیا ٹرمپ کو گزشتہ رات واشنگٹن میں ہونے والے عشائیے میں ہونے والے فائرنگ کے واقعے کے فوری بعد سیکریٹ سروس اہلکاروں نے فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کردیا تھا۔
شاہی ترجمان نے بتایا کہ کنگ چارلس کو موجودہ صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ رکھا جا رہا ہے انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ صدر ٹرمپ ان کی اہلیہ اور دیگر مہمان محفوظ رہے۔
ذرائع کے مطابق شاہ چارلس اور ملکہ ملکہ کیملا نے ذاتی طور پر رابطہ کرکے صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ سے اظہار ہمدردی بھی کیا ہے، شاہی جوڑا پیر کو چار روزہ دورے پر امریکا پہنچے گا، جہاں ان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات اور امریکی کانگریس سے خطاب بھی متوقع ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ تک نئی تجاویز پہنچا دیں: ایکسیوس
واشنگٹن، امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے ایک امریکی عہدے دار اور دو باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے امریکہ کو نئی تجاویز پیش کی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے اور جنگ کا خاتمہ کیا جائے، جب کہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر رکھا جائے۔
تفصیلات کے مطابق ایران نے امریکہ کو آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے جنگ بندی معاہدے کی پیشکش کر دی ہے اور پاکستان کے ذریعے نئی تجاویز پہنچا دیں، جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جوہری معاملے کو بعد کے مرحلے تک ملتوی کیا جائے۔
ایرانی تجویز میں جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنا بھی شامل ہے، عباس عراقچی نے پاکستان میں نئی تجویز سے متعلق بات چیت کی، دراصل نئی ایرانی تجویز کا مقصد جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک کو ختم کرنا ہے۔
ایکسیوس نے لکھا کہ مذاکرات کے سلسلے میں سفارتی عمل تعطل کا شکار ہے اور ایرانی قیادت اس بات پر منقسم ہے کہ جوہری پروگرام کے حوالے سے کون سی رعایتیں پیش کی جائیں۔ ایرانی تجویز اس مسئلے کو وقتی طور پر نظرانداز کرتے ہوئے ایک تیز تر معاہدے کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔
ایران چاہتا ہے کہ پہلے آبنائے ہرمز اور امریکی ناکہ بندی کا معاملہ حل ہو، ایرانی تجویز ہے کہ طویل عرصے کی جنگ بندی یا جنگ ختم کرنے کا معاہدہ کیا جائے، ناکہ بندی ختم ہونے سے پہلے جوہری مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ تاہم، ناکہ بندی ختم کرنے اور جنگ کے خاتمے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے مستقبل کی کسی بھی بات چیت میں دباؤ کا عنصر ختم ہو جائے گا، جس کا مقصد ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کروانا اور تہران کو افزودگی روکنے پر آمادہ کرنا ہے، جو ٹرمپ کے لیے جنگ کے دو بنیادی اہداف ہیں۔
پاکستانی ثالثوں نے ایران کی نئی تجاویز وائٹ ہاؤس تک پہنچا دی ہیں، ٹرمپ آج پیر کو ایران کی نئی تجویز سے متعلق اپنے اعلیٰ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مشیروں کے ساتھ سیچویشن روم میں ایک اجلاس کریں گے، جس میں ایران مذاکرات تعطل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے اتوار کے روز فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اشارہ دیا تھا کہ وہ بحری ناکہ بندی جاری رکھنا چاہتے ہیں، جو ایران کی تیل برآمدات کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، اس امید کے ساتھ کہ آئندہ چند ہفتوں میں تہران دباؤ میں آ جائے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا6 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا7 days agoشہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر
دنیا6 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoامریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ نے جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا: اسماعیل بقائی
دنیا6 days agoٹرمپ امریکہ کو ایک اور تباہ کن ڈیل میں نہیں جھونکیں گے: وائٹ ہاؤس







































































































