تازہ ترین
سال2018: سیاسی افراتفری ،35A ٹکراؤ،الیکشن بائیکاٹ، ہڑتال ، ہلاکتیں ، اسمبلی تحلیل : ایک نظر میں

خبراردو
سال 2018ریاست جمو ں وکشمیر میں سیاسی افراتفری اور انارکی سے پر ثابت ہوا جس دوران ریاست کے تینوں خطوں جموں، کشمیر اور لداخ میں سیاسی سطح پر کافی گہما گہمی رہی ۔ جہاں پی ڈی پی ، بی جے پی مخلوط حکومت کے موجود ہونے تک سبھی مذکورہ سیاسی پارٹیوں سے اپنی وفاداریاں ثابت کرنے کی کوشش کررہے تھے وہیں سال کے وسط میں حکومت گرجانے کے بعد سیاسی سطح پر ایک بھونچال آگیا جس دوران بیشتر سیاسی پارٹیوں کے لیڈران اور کارکنان نے اپنی وابستگیوں کو تبدیل کرتے ہوئے خود کو ’ابن الوقت‘ ثابت کرتے ہوئے دوسری سیاسی جماعتوں میں چھلانگیں مارنا شروع کردیا۔ریاست جموں وکشمیر نے 2018میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت کے زوال کے فوراً بعد ہی گورنر راج کا نظارہ کیا جس دورا ن یہاں زمام کار این این ووہرا کے ہاتھ میں آگئی۔ این این ووہرا نے چند مہینوں تک ریاست میں19جون سے لے کر 22اگست تک ریاست میں کام کاج سنبھالا جس کے بعد اُن کی مدت کار مکمل ہونے کے بعد مرکزنے ریاست کے لئے نئے گورنر ستیہ پال ملک کی تعینانی کے احکامات صادر کئے۔

21اگست کو صدر رام ناتھ کوند نے ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے بھاگپت اتر پردیش کے رہنے والے ستیہ پال ملک کو ریاست کے نیا گورنر تعینات کیا اور یوں انہیں ریاست کے انتظامی اُمور کو بحسن و خوبی چلانے کے لیے مامور کیا گیا۔اس دوران سال بھر عموماً اور گورنر راج کے دوران بالخصوص جنگجو مخالف کارروائیوں کے دوران جہاں جنگجوؤں کی بڑی تعداد کو ہلاک کیا گیا اُدھر عام شہریوں کی ایک اچھی خاصی تعداد بھی اس کی زد میں آگئی جس کے نتیجے میں وادی میں تناؤ اور کشیدگی کے ماحول نے نیا رخ اختیار کیا تاہم سرکاری ذرائع نے سال بھر کے دوران جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران مارے گئے جنگجوؤں کی تعداد کو اطمینان کا اظہار کیا اور گورنر راج کے دوران ریاست میں حالات کو ماضی کے بہ نسبت بہتر قرار دیا۔سال کے اوائل سے ہی سیاسی سطح پر افرا تفری کا ماحول بپا رہا جس دوران سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے مارچ 2019میں وزیر مالیات ڈاکٹر حسیب درابو کو کابینہ سے برطرف کردیا۔اسی طرح اپریل کے آخر پر سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ریاستی کابینہ میں بڑے پیمانے پر روبدل کرتے ہوئے مخلوط حکومت میں شامل اکائیوں سے وبستہ نئے چہروں کو متعارف کرایا جن میں اسمبلی کے سابق اسپیکر کوندر گپتا شامل ہے جنہیں کابینی ردوبدل کے بعد ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ کے بطور حلف دلایا گیا۔اسی اثنا میں جب کہ ابھی پی ڈی پی نے اُڑان بھرنے کی نیت ہی کی تھی ، کی شراکت دار بی جے پی نے اچانک پی ڈی پی کے پیروں سے زمین کھسکائی اور اس طرح پارٹی نے مخلوط حکومت سے اپنی حمات واپس لیتے ہوئے ریاست میں سیاسی سطح پر غیر یقینی صورتحال پید اکرکے یہاں گورنر راج کے لیے راہ ہموار کردی۔اس دوران گورنر این این ووہرا جو کہ ایک ہفتے بعد ہی اپنی مدت کار مکمل کرنے جارہے تھے، نے وادی ریاست میں گورنر راج کو نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا تاہم اس دوران انہوں نے ریاستی اسمبلی کو تحلیل نہیں کیا کیوں کہ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اسمبلی کو تحلیل کرنے کے حوالے سے گورنر کو اپنی سفارشات پیش نہیں کی تھی تاہم 6مہینے کا عرصہ گزرجانے کے بعد ریاست میں صدر راج کی راہ بھی ہموار ہوگئی جس کا فیصلہ بالآخر 19دسمبر کی دیر شام گئے جاری کردیا گیا۔صدر رام ناتھ کووند نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کی سفارشات پر تبادلہ خیال کرنے کے بعد ہی ریاست میں صدر راج سے متعلق حکم نامے پر دستخط ثبت کردئے۔اسی طرح سال 2018میں ایسے واقعات بھی رونما ہوئے جنہوں نے انسانیت کا سر شرم سے نیچا کردیا جس کے نتیجے میں ریاست اور بیرون ریاست انسان دوست لوگوں کے کلیجے منہ کو آگئے۔
10جنوری 2018کو کٹھوعہ کے رسانہ علاقے میں گجر طبقے سے وابستہ 8سالہ بچی اچانک لاپتہ ہوئی جس کے بعد گھر والوں نے اُن کو تلاش کرنے کے لیے کافی کوششیں کی تاہم وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ واقعے نے اُس وقت سنگین رخ اختیار کیا جب 8سالہ بچی کی نعش نزدیکی جنگلات سے برآمد کی گئی۔پولیس نے واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے لاش کا جونہی پوسٹ مارٹم کیا تو اس دوران یہ انکشاف ہوا کہ 8سالہ معصوم بچی کے ساتھ زنا بالجبر کیا گیا ہے۔ابتدائی طور پر پولیس نے واقعے کی تحقیقات کی جبکہ بعد میں واقعے کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے اور لوگوں کے مطالبے پر ریاستی حکومت نے کیس کی تحقیقات کے لیے سی بی آئی کو مقرر کیا۔ سی بی آئی نے جونہی کیس کی گہرائی سے چھان بین کی تو اس دوران انسانیت کو شرمسار کردینے والے انکشاف سامنے آگئے۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ متاثرہ بچی کو پہلے نشیلی ادویات دی گئی تھی جس کے بعد اُس کے ساتھ اجتماعی عصمت ریزی کی گئی تھی۔ اس طرح کے انکشاف سامنے آنے کے بعد وادی سمیت بیرون ریاست میں عوام نے کڑا احتجاج کرتے ہوئے واقعے میں ملوث افراد کو پھانسی پرلٹکانے کا مطالبہ کیا۔اس کے برعکس بی جے پی حکومت میں شامل 2وزرا چودھری لعل سنگھ اور سی پی گگن نے جموں صوبے میں عوامی ریلیاں نکالتے ہوئے ملزمین کے حق میں عوامی حمایت بٹورنے کی کوشش کی اور واقعے کی کرائم برانچ آف انڈیا کی طرف سے تحقیقات کرانے کی مانگ کی۔اس دروان مخلوط اتحاد میں شامل پی ڈی پی نے کٹھوعہ واقعے پر اپنے مؤقف کو سخت کرتے ہوئے عوامی مطالبے کے شانہ بشانہ چلنے کا عہد کیا جس کو محسو س کرتے ہوئے بی جے پی نے چند دن بعد ہی کابینہ میں سے چودھری لعل سنگھ اور سی پی گگن کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیا تاہم چودھری لعل سنگن نے اس کے بعد بھی جموں صوبے میں عوامی ریلیوں کو منعقد کیا اور کٹھوعہ واقعے میں ملوث افراد کے حق میں مہم شروع کردی۔ادھرسال کے اوائل میں جموں کے سدراہ علاقے میں رہائش پذیر گجر بستیوں کو تہس نہس کیا گیا ۔

اس حوالے سے جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور جموں میونسپل کارپوریشن نے مشترکہ طور پر جموں کے مضافات میں رہائش پذیر گوجروں کے کوٹھوں کو تہس نہس کرتے ہوئے انہیں زبردستی وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا۔اس طرح کے اقدام پر جموں کی مسلم آبادی نے حکومت اورجموں انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ فرقہ پرستوں کی ایما پر اس طرح کی کارروائی کررہی ہے تاکہ جموں سے مسلمانوں کا انخلا عمل میں لایا جائے۔ادھر سال 2018کے دوران ریاست جمو ں وکشمیر کو خصوصی شناخت فراہم کرنے والی دفعہ 35Aاور 370پر بھی کافی گرما گرم بحث و مباحثہ جاری رہا جس کے نتیجے میں ریاست بالخصوص وادی میں غیر یقینی اور کشیدگی کا ماحول چھایا رہا۔ مرکز میں دائیں بازوں کی طرف سے ریاست کی خصوصی پوزیشن کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا جن کی سماعت کو لے کر وادی میں تناؤ کا ماحول بنارہا۔ اس دوران اگر چہ سپریم کورٹ نے کئی مرتبہ عوامی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے سماعت کو مؤخر کیا تاہم اس دوران ریاست بھر میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے مسلسل احتجاجی ہڑتال کی گئی جس کے نتیجے میں یہاں ہوکا عالم چھایا رہا۔سال کے دوران مسئلہ کشمیر کی گونج نے بھی بیرونی دنیا میں تہلکہ مچادیا جب اقوام متحدہ کے شعبہ حقوق انسانی کے کمیشن نے ریاست جمو ں وکشمیر میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں سے متعلق رپورٹ منظر عام پر لائی۔ کمیشن نے بھارت پر زور دیا کہ وہ کمیشن کے ممبران کو کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دے تاکہ یہاں ہورہی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو وہ از خود جائزہ لیں تاہم بھارت نے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے حقوق انسانی کے بیان کو نکارتے ہوئے اسے سیاسی طرفداری سے تعبیر کیا۔

ادھر وادی کشمیر میں سیکورٹی صورتحال میں ابتری واقع ہونے کے بعد مخلوط اتحاد میں شامل بی جے پی نے پی ڈی پی سے اپنی حمایت واپس لی جس کے بعد پی ڈی پی کے اندر موجود خلفشار نے سنگین رخ اختیار کرتے ہوئے کئی چوٹی کے لیڈران کو پارٹی معاملات پر محبوبہ مفتی کی بغاوت پر اُترتے ہوئے دیکھا۔باغی اور ناراض ممبران نے پارٹی صدر محبوبہ مفتی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پارٹی میں اقربا پروری کو ہی ترجیح دیتے ہوئے لوگوں کے منڈیٹ سے کھلواڑ کیا۔اس دوران ریاست میں افواہیں گشت کرنے لگی کہ پی ڈی پی کے ناراض ممبران اور دیگر سیاسی پارٹیوں سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے لیڈران بی جے پی کے ساتھ مل کر نئی حکومت تشکیل دیں گے ۔ پی ڈی پی کے چند ناراض لیڈران کے دل سجاد غنی لون کی پیپلز کانفرنس کے تئیں دھڑک رہے تھے جو ریاست میں بی جے پی کے درپردہ اُمیدوار کی حیثیت سے معروف ہے۔شیعیہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر عمران رضاانصاری،ایم ایل سی عابد انصاری، ممبر اسمبلی ٹنگمرگ محمد عباس وانی،ممبر اسمبلی بارہمولہ جاوید بیگ، ایم ایل سی یاسر ریشی اور ایم ایل سی سیف الدین بٹ نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی پارٹی معاملات کو لے کر کھل کر مخالف کی۔حتی کہ پی ڈی پی کے سینئر ترین لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید کے دست راست مظفر حسین بیگ نے بھی پارٹی صدر پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پارٹی معاملات کر کبھی بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کی طرف سے بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات سے متعلق بائیکاٹ پر بھی ان کی رائے طلب نہیں کی گئی۔

تاہم چند دن قبل ہی پی ڈی پی ایک اہم نشست میں مظفر حسین بیگ کو پارٹی کا سرپرست مقرر کیا گیا اوراگر اندرون ذرائع کی بات کو صحیح مانا جائے تو انہیں ناراض اور باغی ممبران کو پارٹی میں واپس لانے اور پارٹی کے اندر استحکام پید اکرنے کی ذمہ داری سونپی جاچکی ہے۔ادھر چند دن قبل پی ڈی پی کو اور ایک جھٹکا اُس وقت لگا جب شمالی کشمیر کے اہم ترین لیڈر بشارت بخاری نے بھی پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دتے ہوئے نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ معلوم ہو اہے کہ کریری بارہمولہ کے رہنے والے بشارت بخاری نے چند ہفتے قبل پارٹی معاملات کے حوالے سے اپنے حلقہ انتخاب کے کارکنوں سے گفت و شنید کے بعد ہی پی ڈی پی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی موجودگی میں نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ادھر پی ڈی پی کے اور ایک رکن پیر محمد نے اختلاف کرتے ہوئے علیحدگی اختیار کی اور انہوں نے بھی نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ادھر سال کے وسط میں شروع ہوئی امر ناتھ یاترا کو پرامن اور خوشگوار ماحول میں منعقد کرانے کے لیے مرکز نے ریاست میں تعینات اُس وقت کے گورنر این این ووہرا کی مدت کار میں مزید دو مہینوں کی توسیع کی تاکہ امر ناتھ یاترا کے انتظامات کو بلاخلل جاری رکھا جائے تاہم 22اگست کو نئے گورنر ستیہ پال ملک نے ریاست جمو ں وکشمیر میں انتظامی اُمور کو چلانے کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے کئی اہم فیصلہ جات لیے جن میں بلدیاتی و پنچایتی انتخابات کا انعقاد شامل ہیں۔ اگر چہ ریاست کی بیشتر سیاسی پارٹیوں نے گورنر ستیہ پال ملک کو سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر انتخابات کو مؤخر کرنے کی مانگ کی تاہم گورنر پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کی طرف سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود بھی اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے۔ کے این ایس
جموں و کشمیر
جموں: اقتصادی جرائم ونگ نے دھوکہ دہی کے دو مقدمات میں چارج شیٹ داخل کی
جموں، جموں کرائم برانچ کے اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) نے دھوکہ دہی کے دو الگ الگ مقدمات میں تحقیقات مکمل کرنے کے بعد متعلقہ عدالتوں میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔
پہلے مقدمے میں جے پور کی ایم/ایس گولڈ سکھ ٹریڈ انڈیا لمیٹڈ اور اس کے پانچ عہدیداروں پر سرمایہ کاروں کو زیادہ منافع کا لالچ دے کر تقریباً 30.29 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کرانے اور رقم کے غبن کا الزام ہے۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ کمپنی سیبی، آر بی آئی اور جموں و کشمیر کے رجسٹرار آف کمپنیز کے پاس رجسٹرڈ نہیں تھی۔
دوسرے مقدمے میں جعلی محکمہ ریونیو کے ریکارڈ کی مدد سے مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ (پی آر سی) حاصل کرنے کے معاملے میں چار افراد اور ایک سابق پٹواری کے خلاف چارج شیٹ پیش کی گئی ہے۔ ایف ایس ایل کی جانچ میں متعلقہ دستاویزات جعلی پائی گئیں۔
کرائم برانچ نے عوام سے مالیاتی دھوکہ دہی سے محتاط رہنے اور مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع اقتصادی جرائم ونگ کو دینے کی اپیل کی ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ تعلیمی اصلاحات کی شروعات، طلبہ کے دیگر مطالبات کے لیے جدوجہد جاری رہے گی: راہل گاندھی
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے ہفتہ کو مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو ’’ہندوستان کے تعلیمی نظام کی ازسرنو تشکیل کی جانب ایک بڑا قدم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نیٹ-یو جی 2026 کے مبینہ پرچہ لیک اور سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کرنے والے طلبہ کی تاریخی کامیابی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مظاہرین پر مبینہ تشدد کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی اور وزیر اعظم نریندر مودی ملک کے نوجوانوں سے معافی نہیں مانگتے۔
مرکزی وزراء کونسل سے دھرمیندر پردھان کے استعفے کے فوراً بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر راہل گاندھی نے کہا کہ اس کامیابی کا مکمل سہرا طلبہ کو جاتا ہے، جن کے مسلسل احتجاج نے حکومت کو کارروائی پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کے تعلیمی نظام کی ساکھ بحال کرنے کی وسیع تر تحریک کی پہلی بڑی کامیابی ہے۔
راہل گاندھی نے کہا، ’’سب سے پہلے یہ ہمارے طلبہ کی فتح ہے، جو ہندوستان کا مستقبل ہیں۔ ہمارا تعلیمی نظام کبھی ہماری پہچان تھا اور پوری دنیا اس کی غیر معمولی معیار کی معترف تھی، لیکن کئی برسوں سے اسے کمزور کیا جا رہا ہے، اس پر قبضہ کیا جا رہا ہے اور اسے نجی ہاتھوں میں دیا جا رہا ہے۔ یہ احتجاج اسی صورت حال اور ملک میں بڑھتی بے روزگاری کے خلاف ردعمل تھا۔ دھرمیندر پردھان محض ایک علامت تھے، بدعنوانی، تعلیمی نظام کی تباہی اور نااہلی کی علامت، اور ان کا جانا بہتر ہوا۔‘‘
انہوں نے الزام عائد کیا کہ تعلیمی شعبے کا بحران کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ساختی مسئلہ ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر تعلیمی اداروں کو کمزور کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’’اگر وزیر اعظم نے تعلیم کے معاملے میں غلطیاں کی ہیں تو آر ایس ایس بھی اتنی ہی ذمہ دار ہے، کیونکہ اس نے دیمک کی طرح نظام کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ اس کے لیے سنجیدہ اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے، اگرچہ مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ حکومت ایسا کر پائے گی۔‘‘
مسٹر گاندھی نے کہا کہ اگرچہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ طلبہ کے ایک اہم مطالبے کی تکمیل ہے، لیکن دو ’’ناقابلِ سمجھوتہ‘‘ مطالبات اب بھی باقی ہیں۔ انہوں نے نیٹ معاملے پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مبینہ لاٹھی چارج، پیلٹ گن کے استعمال اور دیگر طاقت کے استعمال میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ جاتی کارروائی کا مطالبہ دہرایا۔
انہوں نے کہا، ’’طلبہ کے دو مطالبات اب بھی باقی ہیں، جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ احتجاج کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج اور تشدد میں ملوث تمام سیکورٹی اہلکاروں اور منتظمین کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ جاتی کارروائی ہونی چاہیے اور یہ کارروائی نظر بھی آنی چاہیے۔ اس کے علاوہ اس پورے نظام کے اصل ذمہ دار وزیر اعظم نریندر مودی کو ہندوستان کے طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے۔‘‘
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران اپوزیشن کی حکمت عملی سے متعلق سوال پر راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کے لیے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہراتی رہے گی اور یہ معاملہ پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کی مہم کا اہم موضوع ہوگا۔
انہوں نے کہا، ’’ہم امت شاہ کو طلبہ کے خلاف تشدد کا براہِ راست ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ہمارے طلبہ پر فائرنگ اور پیلٹ گن جیسے مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دی۔ ہم ہرگز یہ قبول نہیں کریں گے کہ ہمارے اپنے حفاظتی ادارے ہندوستان کے مستقبل پر گولیاں چلائیں۔ یہ پارلیمنٹ میں ایک بڑا مسئلہ ہوگا، اور جیسا کہ میں نے کہا، طلبہ وزیر اعظم سے معافی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔‘‘
ملک گیر احتجاج میں شریک طلبہ اور نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ان کے عزم نے جمہوریت اور آئین کا تحفظ کیا ہے اور اس سے کسانوں، مزدوروں، غریبوں اور دیگر محروم طبقات کو بھی اپنے حقوق کے لیے پُرامن اور آئینی جدوجہد کی ترغیب ملے گی۔
دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ نیٹ-یو جی 2026 کے مبینہ پرچہ لیک اور سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کئی ہفتوں تک جاری طلبہ کی بے مثال تحریک کے بعد سامنے آیا۔ یہ احتجاج متعدد ریاستوں تک پھیل گیا تھا اور اس دوران مظاہرین اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان کئی بار جھڑپیں ہوئیں، جبکہ اپوزیشن نے حکومت پر طلبہ کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ اگرچہ اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں نے پردھان کے استعفے کو بڑی سیاسی کامیابی قرار دیا ہے، کانگریس کا کہنا ہے کہ جب تک مبینہ پولیس زیادتیوں کے ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوتا اور وزیر اعظم نوجوانوں سے عوامی معافی نہیں مانگتے، تحریک جاری رہے گی۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
نیتن یاہو کا مقبوضہ مغربی کنارے میں ‘وسیع پیمانے پر’ فوجی آپریشن کا حکم
تل ابیب، بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ انہوں نے فوج کو مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی دیہات میں “وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی” شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔
جمعے کو جاری مشترکہ بیان میں، نیتن یاہو اور کاٹز نے یہ بھی کہا کہ فوج کو اس فلسطینی کے گھر کو مسمار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے شمالی مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی قصبے تل کے نزدیک غیرقانونی آباد کاروں کے خلاف فائرنگ کی تھی۔
انادولو کے ایک نامہ نگار کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی حصے میں واقع نابلس شہر پر ایک بڑی اسرائیلی فوجی فورس نے چھاپہ مارا۔
ایک اسرائیلی فوجی بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ ان واقعات کا تعلق نابلس کے قریب غیرقانونی ہاوَت گِلاد بستی کے نزدیک پیش آنے والے ایک سکیورٹی واقعے سے ہے، جس میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔
اسرائیل کے چینل 13 نے مبینہ طور پر رپورٹ کیا ہےکہ فلسطینیوں نے ایک بستی کے سکیورٹی افسر کا ہتھیار چھین کر آباد کاروں پر فائرنگ کی۔
باور رہے کہ جمعے کے روز، فلسطینی وزارت صحت کے مطابق نابلس کے جنوب مغرب میں واقع قصبے تل پر اسرائیلی افواج اور غیرقانونی آباد کاروں کے حملے کے دوران چار فلسطینی ہلاک اور چار زخمی ہوئے، جن میں تین کی حالت کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس نے صحت کی تشویش کے پیش نظر سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیا
دنیا5 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا5 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان5 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہونے کا دعویٰ، سینٹکام کی تردید
دنیا1 week agoایران نے ہرمزگان صوبے پر امریکی حملوں میں شہید ہونے والے شہریوں کی تصاویر جاری کر دیں
دنیا1 week agoجے ڈی وینس کی فیملی کے اچانک سفری مطالبات پر خفیہ سروس کے اہلکار نالاں
دنیا5 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
جموں و کشمیر1 week agoامرناتھ یاترا: جموں و کشمیر کے ادھم پور میں سڑک حادثے میں پانچ زائرین زخمی
دنیا7 days agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
دنیا1 week agoآخری سانس تک ایران کا دفاع کیا جائے گا: عباس عراقچی

































































































