جموں و کشمیر
کشمیر: زعفران کی فصل پر زوال کی چھایا، کسان بے بسی کا شکار

سری نگر، وادیٔ کشمیر کی مشہور زعفران صنعت جو صدیوں سے یہاں کی معیشت، ثقافت اور شناخت کا حصہ رہی ہے، امسال شدید بحران سے دوچار ہے۔
کاشتکاروں کے مطابق اگرچہ اس سال موسم زعفران کی کاشت کے لیے موافق رہا، تاہم پیداوار میں غیر معمولی کمی نے ان کو سخت مالی مشکلات کے بھنور میں پھنسا دیا ہے۔
انہوں نے امسال پیداوار میں غیر معمولی کمی ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔
پلوامہ کے مشہور زعفران کاشتکار نثار احمد نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا: ‘زعفرانی صنعت کی تباہی میں سب سے بڑا کردار متعلقہ سرکاری محکموں کی ناقص منصوبہ بندی کا ہے،اگر حکومت نے بروقت اریگیشن سسٹم (آبپاشی کے نظام) کو فعال بنایا ہوتا، تو آج وادی میں زعفران کی یہ قیمتی صنعت زوال کا شکار نہ ہوتی’۔
انہوں نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا: ‘ سال 2010-11 میں مرکزی سرکار نے ’زعفران مشن‘ کے تحت کروڑوں روپے کی خطیر رقم جموں و کشمیر حکومت کو فراہم کی تھی تاکہ زعفرانی اراضی میں آبپاشی کے جدید نظام کو متعارف کرایا جائے’۔
انہوں نے کہا: ‘تب بھی اریگیشن کا مسئلہ اہم تھا اور آج بھی وہی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ متعلقہ ایجنسیاں اس مشن کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھانے میں ناکام رہیں’۔
نثار احمد نے بتایا: ‘زعفران مشن کا مقصد یہ تھا کہ پانی کی فراہمی کو یقینی بنا کر زعفرانی کھیتوں کو خشک سالی کے اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔ تاہم، زمینی سطح پر اس منصوبے کا کوئی نمایاں اثر دیکھنے کو نہیں ملا۔کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود نہ تو آبپاشی کے نظام میں بہتری آئی، نہ ہی زعفرانی زمینوں کی دیکھ بھال کے لیے کوئی مؤثر قدم اٹھایا گیا’۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی نے اس صنعت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے،گزشتہ سال بھی پیداوار اتنی زیادہ نہیں تھی جتنی سرکاری اعداد و شمار میں ظاہر کی گئی۔
ان کے مطابق، غیر متوقع بارشوں، خشک سالی اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ نے زعفران کے پھولوں کی افزائش پر براہِ راست منفی اثر ڈالا ہے۔
انہوں نے واضح طور پر کہا: ‘پانپور اور اس کے ملحقہ علاقوں میں کسی بھی جگہ نہ تو کوئی بڑی انڈسٹری موجود ہے اور نہ ہی زمین کی کھدائی کی جا رہی ہے’۔
ان کے بقول، اصل مسئلہ پانی کی عدم دستیابی اور زمین کی کمزور ہوتی زرخیزی ہے، نہ کہ صنعتی سرگرمیاں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر حکومت زعفران کے کھیتوں کو پانی فراہم کرے تو کیا اس صنعت کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے، تو نثار احمد نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ‘اب یہ صنعت زوال پذیر ہو چکی ہے۔ اگر حکومت آج سے بھی کام شروع کرے، تو بھی اس کو بچانا بہت مشکل ہے۔ زمین کی زرخیزی ختم ہو رہی ہے، اور پھولوں کی پیداوار میں وہ قوت نہیں رہی جو پہلے تھی’۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ایک کنال زمین سے تقریباً دو کلو زعفران کے پھول نکلے تھے، لیکن امسال صرف آدھا کلوگرام پھول ہی حاصل ہوا۔یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ زعفران کی صنعت کتنی تیزی سے تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
پلوامہ ضلع کے پانپور علاقے کے کسان مشتاق احمد، جو گذشتہ دو دہائیوں سے زعفران کی کاشت سے وابستہ ہیں، نے یو این آئی کو بتایا کہ اس سال کسانوں میں امید تھی کہ موسم کی بہتر صورتحال کے باعث فصل عمدہ ہوگی، مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ ان کے بقول، ’امسال بارش بھی مناسب ہوئی، گرمی بھی موسم کے مطابق رہی، اور تمام قدرتی حالات سازگار تھے، اس کے باوجود زعفران کے پھول بہت کم نکلے۔
زعفران کشمیر کی ایک قدیم ترین اور قیمتی فصل مانی جاتی ہے، جس کی کاشت بنیادی طور پر پانپور، کھریو، وئن، اور پلوامہ کے دیگر علاقوں میں ہوتی ہے۔ ’زعفران کشمیر‘ کو بین الاقوامی سطح پر جغرافیائی اشاریہ جی آئی ٹیگ بھی حاصل ہے، جو اس کی انفرادیت اور معیار کو عالمی سطح پر تسلیم کرتا ہے۔
مشتاق احمد نے یو این آئی کو بتایا: ‘ اس سال قدرتی طور پر ہر چیز بہتر رہی۔ موسم بھی ساز گار رہا اور ہم نے امید کی تھی کہ اس بار زعفران کی اچھی فصل نکلے گی، مگر ایسا نہیں ہوا’۔
انہوں نے کہا: ‘ہمارے پاس 16 کنال زعفران کی اراضی ہے۔ پچھلے سال اس اراضی سے تقریباً 30 کلوگرام زعفران کے پھول نکلے تھے، جب کہ اس سال بمشکل ایک کلوگرام پھول حاصل ہوئے ہیں’۔
مشتاق احمد کے مطابق زعفران کی کم پیداواری کی سب سے بڑی وجہ ماحولیاتی آلودگی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘ پانپور اور اس کے مضافات میں اراضی مافیا سرگرم ہے جو قیمتی زعفرانی زمینوں سے مٹی نکال کر دیگر مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے’۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ‘آس پاس علاقوں میں قائم فیکٹریاں بھی فضائی اور زمینی آلودگی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے زعفران کی افزائش کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے’۔
مشتاق احمد نے بتایا کہ حال ہی میں چیف سیکریٹری کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں زعفرانی اراضی کی کھدائی کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے۔
انہوں نے کہا: ‘یہ ایک خوش آئند قدم ہے، مگر زمینی سطح پر اب تک کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آتی۔ کھدائی کرنے والوں کے خلاف کارروائی صرف کاغذوں تک محدود ہے’۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حکومت نے فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کیے تو زعفران کی یہ صنعت ’مکمل زوال‘ کا شکار ہو جائے گی۔
ان کا کہنا تھا: ‘سرکار کو چاہیے کہ پانپور اور ملحقہ علاقوں میں زعفرانی زمینوں کی کھدائی پر مکمل پابندی عائد کرے، فیکٹریوں سے نکلنے والے کوڑے کرکٹ کو کنٹرول کرے، اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے عملی منصوبہ بندی کرے’۔
مشتاق احمد کے مطابق، سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے دورِ حکومت میں زعفرانی اراضی پر کسی بھی قسم کی تعمیر یا زمین کے استعمال میں تبدیلی پر مکمل پابندی تھی۔اس وقت غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کیا گیا تھا اور زعفران کے تحفظ کے لیے حقیقی کوششیں کی گئی تھیں، مگر آج صورت حال اس کے برعکس ہے
انہوں نے مزید کہا: ‘متعلقہ محکمے یا تو غیر فعال ہیں یا صرف خانہ پوری کر رہے ہیں۔ اس صنعت سے وابستہ ہزاروں خاندان اس وقت مالی بدحالی کا شکار ہیں’۔
مشتاق احمد کے مطابق، انہوں نے اس سال زعفران کی کاشت پر تقریباً دو لاکھ روپے خرچ کیے، مگر ساری رقم ضائع ہو گئی۔
انہوں نے کہا: ‘پانی دینا، زمین صاف کرنا، کھاد ڈالنا، مزدور رکھنا سب کچھ کیا، مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ اس سال صرف دو فیصد پیداوار حاصل ہوئی ہے، جو کچھ نہ ہونے کے برابر ہے’۔
ماہرینِ زراعت کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو زعفران کی زمینیں آنے والے پانچ سے سات برسوں میں بنجر ہو سکتی ہیں۔
دریں اثنا، یو این آئی نے اس حوالے سے جب چیف ایگریکلچر آفیسر پلوامہ، وحید الرحمن سے رابطہ کیا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ زعفران کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ان کے مطابق، اس کی بنیادی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔
موصوف آفیسر کے مطابق گزشتہ سال موسمِ سرما میں برف باری نہ ہونے کے برابر تھی، جس کا براہِ راست اثر زمین کی نمی اور زرخیزی پر پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ بھی کئی دیگر عوامل ہیں جو اس فصل پر منفی اثرات مرتب ہونے کے باعث ہیں۔
یو این آئی ارشید بٹ، ایم افضل
جموں و کشمیر
کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
سری نگر، کپواڑہ کی ایک عدالت نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کرتے ہوئے 2023 میں ایک پولیس کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کیس میں سات دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپواڑہ، منجیت سنگھ منہاس نے 24 اپریل کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، تاہم دیگر سات ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
یہ معاملہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو 20 فروری سے 26 فروری 2023 کے درمیان جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر (جے سی آئی) کپواڑہ میں غیر قانونی
طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، جو مبینہ طور پر منشیات سے متعلق جرائم کی تفتیش کے بہانے کیا گیا تھا۔
یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں، جب متاثر کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی تھی۔ سی بی آئی نے جولائی 2025 میں ایف آئی آر درج کی اور بعد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی (مجرمانہ سازش)، 323، 325 (زخمی کرنا)، 330، 331 (اقرارِ جرم حاصل کرنے کے لیے تشدد) اور 343 (غلط حراست) شامل تھیں۔ بعد ازاں سی بی آئی نے ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر کے آخری ہفتے میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ڈی ایس پی نائک کا کردار نگرانی تک محدود تھا اور ان کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہاکہ”ان کے خلاف محض شبہ پایا جاتا ہے جو سنگین شبہ کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ شرکت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا ملزم اے-1 (ڈی ایس پی اعجاز) کو مذکورہ دفعات کے تحت بری کیا جاتا ہے۔”
تاہم عدالت نے دیگر ملزمان کے حوالے سے مختلف رائے اختیار کی، جن میں سب انسپکٹر ریاض احمد میر، اسپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد بیگ، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان اور تنویر احمد ملا، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاکر حسین کھوجا اور الطاف حسین بھٹ، اور کانسٹیبل شہنواز احمد دیداد شامل ہیں۔
ان سات میں سے چھ ملزمان کپواڑہ ضلع کے رہائشی ہیں جبکہ تنویر احمد ملا کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد، جن میں متاثر کا بیان، طبی رپورٹس اور دیگر حالات شامل ہیں، ان ساتوں کے خلاف بادی النظر میں کیس ثابت کرتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حراست کے دوران متاثر کے جسم کے حساس حصوں پر لگنے والی چوٹیں اور طبی رائے حراستی تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ متاثر مکمل طور پر ملزمان کے کنٹرول میں تھا، جو استغاثہ کے موقف کو مضبوط بناتا ہے۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ الزامات مبہم ہیں اور کہا کہ متاثر نے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے اور ان کے کردار کی تفصیل بیان کی، جو کئی دنوں تک جاری رہنے والے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ”اس مرحلے پر عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا بادی النظر میں کیس یا سنگین شبہ موجود ہے، نہ کہ مکمل ٹرائل کرنا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ان جرائم کے عناصر کو ثابت کرتا ہے۔ “ریکارڈ پر موجود مواد، اپنی ظاہری حیثیت میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان سات ملزمان نے مشترکہ منصوبے کے تحت مذکورہ دفعات کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔”
اس کے مطابق عدالت نے ساتوں ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا اور مقدمہ 14 مئی کو استغاثہ کے ثبوت کے لیے درج کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مانڈویہ نے نچلی سطح پر توجہ مرکوز کرنے پر دیا زور، سرینگر میں وزرائے کھیل کا ‘چنتن شیویر’
سرینگر نوجوانوں اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ہفتہ کو اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی سپر پاور کے طور پر ابھرنے کا جو 10 سالہ پرجوش روڈ میپ ہے، اسے نچلی سطح پر کام میں تبدیل ہونا چاہیے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے مباحثوں کی سمت متعین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے کھیلوں کے عزائم کو زمینی سطح پر عمل درآمد کے ذریعے ہی حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا
”عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے لیے ہمارا 10 سالہ روڈ میپ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہر کھیل کے میدان، ہر ضلع اور ہر نوجوان کے خواب میں زندہ نظر آنا چاہیے۔“
جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی چنتن شیوِر میں شرکت کی اور ہندوستان کو کھیلوں کی طاقت بنانے کے وژن کو سراہا۔
کھیلوں کے مرکزی وزیر نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ محض پالیسی اپنانے تک محدود نہ رہیں بلکہ فعال عمل درآمد کی طرف بڑھیں، اور اس بات پر زور دیا کہ حقیقی پیش رفت کا اندازہ اُن نتائج سے ہوگا جو اضلاع، تربیتی نظام اور نچلی سطح کے کھیلوں کے ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”کھیلو بھارت مشن صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اور قوم کے عزم کی عکاسی ہے۔“
ڈاکٹر مانڈویہ نے ریاستی حکومتوں اور اسپورٹس فیڈریشنوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط اور متحدہ ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل کے لیے قریبی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے پر ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے تعلیمی نظام کے ساتھ ربط ضروری ہے اور جسمانی تعلیم کے اساتذہ نچلی سطح کے کھیلوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی ایک باصلاحیت بچے کو مواقع کی کمی کے باعث پیچھے رہ جانا پڑے تو یہ صرف اس کی ذاتی نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل ایک تبدیلی لانے والا ذریعہ ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر مشکل علاقوں میں، جہاں یہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر مانڈویہ نے کوچ کی باقاعدہ تصدیق اور تربیت میں بہتری، کھلاڑیوں کی سائنسی بنیادوں پر تربیت اور اسپورٹس انتظامیہ میں صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک مربوط اور مسلسل نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، ”جب بنیادی ڈھانچہ، ٹیلنٹ کی شناخت اور تربیت یافتہ افرادی قوت ایک مربوط سلسلے کی صورت اختیار کر لیں گے تو اولمپک پوڈیم تک رسائی خود بخود ممکن ہو جائے گی“ اور اس طرح نچلی سطح کی شمولیت کو اعلیٰ کارکردگی سے ایک منظم راستے کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے لکشمی بائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل ایجوکیشن، گوالیار کے تحت وائی ای ایس-پی ای (ینگ انگیجمنٹ اِن اسپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن) پروگرام کا بھی آغاز کیا، جسے جماعت 9 سے 12 تک کے طلبہ کے لیے کھیلوں میں شرکت، اسپورٹس مین شپ اور قیادت کو فروغ دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری (کھیل) ہری رنجن راؤ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس شیوِر کی اہمیت کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا جو اجتماعی غور و فکر اور عملی اقدامات کو فروغ دیتا ہے۔
چنتن شیوِر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ اجتماع محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ غور و فکر، عزم اور نئے عہد کا ایک مشترکہ لمحہ ہے۔“
چنتن شیوِر میں مختلف موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں میڈل حکمتِ عملی، پالیسی ہم آہنگی، صاف اور محفوظ کھیل، اور ٹیلنٹ کی شناخت و ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پندرہ سے زائد ریاستی وزرائے کھیل کے ساتھ ساتھ ممتاز کھیل شخصیات جیسے عادل سُمرِی والا، ابھینو بندرا، پلیلا گوپی چند اور گگن نارنگ نے چنتن شیوِر میں شرکت کی اور متعلقہ فریقین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جو ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پالیسی مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مختلف ریاستوں کے وزرائے کھیل نے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو مرکز میں رکھنے والے نقطۂ نظر پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ماڈل کو ملک کے مختلف خطوں میں نافذ کر کے ہندوستان میں ایک مضبوط اور مؤثر کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
مباحثوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوچنگ نظام کو بہتر بنانے، مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، اخلاقی اور محفوظ کھیل کے ماحول کو یقینی بنانے اور اسکولوں، اکیڈمیوں اور اعلیٰ تربیتی مراکز کے درمیان مربوط سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
ان اجلاسوں میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ کھلاڑیوں کی نشاندہی سے لے کر اعلیٰ کارکردگی کی تربیت تک تسلسل برقرار رکھنے کے لیے منظم راستوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستوں کے درمیان مسلسل نگرانی، جائزہ اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی کے مقاصد کو زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
مباحثوں میں اس امر کی دوبارہ توثیق کی گئی کہ ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کھیلوں کا نظام قائم کرنے کے لیے مرکز، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان متحدہ اور مربوط نقطۂ نظر نہایت اہم ہے، جو ہندوستانکے عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہو۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
ہر پنچایت کو منشیات سے پاک بنانا ہوگا: ایل جی سنہا
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کے روز شہریوں کو منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہر پنچایت کو منشیات سے پاک اور ہر پولیس تھانے کو منشیات فروشوں سے مکمل طور پر صاف کرنا ہوگا۔
سامبا ضلع میں 100 روزہ “نشہ مکت جموں و کشمیر” مہم کے تحت ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ “یہ جنگ صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے نہیں جیت سکتے، بلکہ معاشرہ مل کر اسے جیتے گا—بیداری، اتحاد اور اجتماعی عزم کے ذریعے۔ ہم ایک ایسا جموں و کشمیر بنانا چاہتے ہیں جہاں منشیات کو نہ پناہ ملے، نہ حمایت اور نہ ہی کوئی مستقبل۔”
انہوں نے کہا کہ یہ 100 روزہ مہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوگی اور یہ دکھائے گی کہ جب معاشرہ متحد ہو جائے تو بڑے سے بڑا بحران بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اگلے 85 دنوں کی کامیابی کا اندازہ نعروں یا ریلیوں سے نہیں بلکہ اس بات سے لگایا جائے گا کہ گاؤں اور شہروں میں منشیات کے اثرات کو کتنی گہرائی سے ختم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ہفتے واضح نتائج سامنے آنے چاہئیں—کتنے افراد کی بحالی ہوئی، کتنے اسمگلرز کے خلاف کارروائی ہوئی، کتنے جعلی مراکز بند کیے گئے، کتنے مقدمات درج ہوئے، کتنی منشیات ضبط کی گئی اور کتنی خواتین کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔
انہوں نے زور دیا کہ مہم کی مسلسل نگرانی اور سخت آڈٹ لازمی ہے۔ ڈپٹی کمشنرز، ایس ایس پیز اور دیگر اداروں کو ہر ہفتے جائزہ لینا ہوگا تاکہ شناخت، مشاورت، علاج، بحالی اور دوبارہ آبادکاری تک مکمل عمل یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ منشیات کا بحران پڑوسی ملک کی جانب سے دانستہ طور پر بڑھایا جا رہا ہے تاکہ دہشت گردی کی مالی معاونت اور سماجی عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔ “منشیات فروش اور نارکو دہشت گردی کے نیٹ ورکس نے ہماری نوجوان نسل کو نشانہ بنایا ہے، اور اس حملے کا جواب سخت ترین قانونی کارروائی سے دینا ہوگا۔”
انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پوری طاقت کے ساتھ اس چیلنج کا مقابلہ کیا جائے اور معاشرے کے خلاف سازش کرنے والوں کے خلاف سخت ترین قوانین نافذ کیے جائیں۔ آئندہ 85 دنوں میں مہم کی رفتار برقرار رکھتے ہوئے ہر گھر تک پہنچنا ہوگا اور منشیات کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہوگا، کیونکہ نشے کی لت صرف فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی بحران ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر2 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا1 week agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
دنیا1 week agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
دنیا1 week agoمکمل حقوق تسلیم کیے جانے تک آبنائے ہرمز نہیں چھوڑیں گے: مشیر ایرانی سپریم لیڈر
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران





































































































