دنیا
خالدہ ضیاء کی تدفین بدھ کے روز ڈھاکہ میں متوقع ، ایک عہد کا اختتام

ڈھاکہ ، بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء کی آخری رسومات بدھ کے روز دارالحکومت کے مانک میاں ایونیو میں متوقع ہیں ۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی قائمہ کمیٹی کے رکن صلاح الدین احمد نے بتایا کہ امکان ہے کہ خالدہ ضیاء کی نمازجنازہ بدھ کے روز ڈھاکہ کے مانک میاں ایونیو میں ادا کی جائے گی ۔
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء طویل علالت کے بعد منگل کے روز وفات پا گئیں۔ ان کی عمر 80 سال تھی ۔
بیگم ضیاء کی قیادت والی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے ان کی موت کی تصدیق کی ۔ وہ آج صبح 6 بجے ڈھاکہ کے ایور کیئر اسپتال میں انتقال کر گئیں جہاں وہ گزشتہ پانچ ہفتوں سے زیر علاج تھیں ۔
پارٹی حکام نے بتایا کہ بیگم ضیاء کو دل اور پھیپھڑوں میں شدید انفیکشن کی وجہ سے 23 نومبر کو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا ۔ انہیں نمونیا بھی تھا اور حالیہ دنوں میں ان کی حالت بگڑ رہی تھی ۔
ایک بیان میں ، بی این پی نے کہا: “بی این پی کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء آج صبح چھ بجے نماز فجرکے فورا بعد انتقال کر گئیں ۔ ان کی موت سے ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا ہے ۔ امکان ہے کہ ان کی رحلت سے پارٹی کو انتخابی مہم میں مدد ملے گی کیونکہ متوقع طور پر مرحوم رہنما کے لیے رائے دہندگان کی ہمدردی میں اضافہ ہوگا ۔ ان کے شوہر ، جنرل ضیاء الرحمٰن ، ایک مجاہد آزادی اور ملک کے سابق فوجی حکمران تھے ۔
بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم خالدہ ضیاء 1991 میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی فتح کے بعد اقتدار میں آئیں ۔ انہوں نے تین بار وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں اور وہ ملک کی سیاسی تاریخ کی سب سے بااثر شخصیات میں سے ایک تھیں۔ بطور وزیر اعظم ان کی پہلی میعاد مارچ 1991 سے فروری 1996 تک تھی ، دوسری میعاد فروری 1996 کے بعد چند ہفتوں تک جاری رہی اور تیسری میعاد اکتوبر 2001 سے اکتوبر 2006 تک رہی ۔
بیگم ضیاء کو 2018 میں اپنی حریف شیخ حسینہ کے دور حکومت میں بدعنوانی کے الزامات کے تحت جیل بھیج دیا گیا تھا ۔ انہیں گزشتہ سال بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کے بعد رہا کیا گیا تھا جس نے محترمہ حسینہ کو ہندوستان میں جلاوطنی پر مجبور کر دیا تھا ۔
بی این پی اقتدار میں واپس آنے کی تیاری کر رہی ہے اور پارٹی کے رہنماؤں نے اشارہ دیا ہے کہ اگر پارٹی آئندہ انتخابات جیت جاتی ہے تو بیگم ضیاء کے بیٹے طارق رحمان کے قومی قیادت سنبھالنے کی توقع ہے ۔
60 سالہ طارق رحمان لندن میں 17 سال کی رضاکارانہ جلاوطنی کے بعد گزشتہ ہفتے بنگلہ دیش واپس آئے ہیں ۔
ان کی موت پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ڈھاکہ میں ہندوستان کی سابق ہائی کمشنر ریوا گنگولی داس نے یو این آئی کو بتایا ، “یہ ایک دور کا خاتمہ ہے ۔ جب وہ اپوزیشن میں تھیں تب بھی ہم نے ان کے ساتھ کام کیا ہے ۔ محترمہ داس نے کہا کہ جب وہ اپوزیشن میں تھیں اور ہندوستان آئی تھیں تب بھی نئی دہلی نے ان کا شاندار استقبال کیا تھا ۔
جلاوطن بنگلہ دیشی شاعر اور مصنفہ تسلیمہ نسرین نے یو این آئی کو بتایا ، “بیگم ضیاء کا عروج بہت کم وقت میں ہوا ، وہ ایک سادہ گھریلو خاتون سے ملک کی وزیر اعظم بنیں ۔ ان کی زندگی میں جیل میں گزارے گئے دو برسوں کے علاوہ کسی چیز کی کمی نہیں تھی ۔
“بیگم ضیاء نے میری بہت سی کتابوں پر پابندی لگا دی تھی جس کی شروعات ‘لجا’ سے ہوئی تھی ۔ کیا اب وہ پابندیاں ختم ہو جائیں گی ”
ایوارڈ یافتہ مصنفہ تسلیمہ نے پیش گوئی کی کہ ان کا بیٹا طارق رحمان الیکشن جیت جائے گا ۔
“مجھے نہیں معلوم کہ یہ ہمارے لیے اچھا ہوگا یا نہیں ۔” لیکن کم از کم بنگلہ دیش میں جو افراتفری ہم دیکھ رہے ہیں وہ ختم ہو جائے گی ۔
یو این آئی۔ ایم جے۔ایس وائی
دنیا
ایرانی وزیر خارجہ کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے اہم رابطے
تہران، ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کو جنگ کے خاتمے سے متعلق ایران کے موقف اور اقدامات سے آگاہ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال اور جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کردی۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ‘ارنا’ کی جانب سے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے روس، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، قطر، عراق اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطے کیے ہیں۔ رابطوں کے دوران عباس عراقچی نے خطے کی مجموعی صورتحال سمیت اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اپنے ہم منصبوں کو جنگ بندی اور تنازعات کے خاتمے سے متعلق ایران کے اصولی موقف اور تہران کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے عباس عراقچی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس خطے میں قیامِ امن اور جنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں استحکام لانے کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ علاوہ ازیں، ایرانی وزیر خارجہ نے یورپی یونین کے خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالس سے بھی رابطہ کیا، اس گفتگو میں علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے بحران کے حل پر بات چیت کی گئی۔
ان سفارتی رابطوں کا مقصد علاقائی طاقتوں کو اعتماد میں لینا اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو گئی: وائٹ ہاؤس
واشنگٹن، وائٹ ہاؤس نے کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہوگئی ہے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی موجودگی کے باوجود جنگ ختم ہوچکی۔ واضح رہے کہ وار پاورز سے متعلق کانگریس کی مقرر ڈیڈ لائن کا آج آخری دن تھا۔ جب کہ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں وار پاورز کے حکم کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔
پولیٹکو کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز قانون سازوں کو آگاہ کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ ”ختم ہو چکی ہے۔” تاہم پولیٹکو نے لکھا کہ یہ اقدام دراصل اس بحث کو ٹھنڈا کرنے کی ایک کوشش ہے کہ آیا اس جنگ کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہے یا نہیں۔ وائٹ ہاؤس نے ایک خط میں اپنی دلیل پیش کی کہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع 60 روزہ قانونی حد تک پہنچ گیا ہے، جس کے بعد کارروائیاں روکنا لازم ہوتا ہے، جب تک قانون ساز فوجی کارروائی کی اجازت نہ دیں۔
یہ خط کیپیٹل ہل میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشمکش کو روکنے کی کوشش ہے، جہاں جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہونے کے باوجود واضح حکمتِ عملی نہ ہونے پر ٹرمپ کو اپنی جماعت ریپبلکن پارٹی کی حمایت کھونے کا خدشہ ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی یہ منطق ڈیموکریٹس اور کچھ ریپبلکنز کو قابلِ قبول نہیں، جو کہتے ہیں کہ اس مرحلے پر انتظامیہ کو مہم ختم کر دینی چاہیے۔
ٹرمپ نے لکھا ”7 اپریل 2026 کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا۔” انھوں نے اس جنگ بندی کا حوالہ دیا جسے انھوں نے غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا ہے۔ ”28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی دشمنیاں ختم ہو چکی ہیں۔” یہ خط ایسے وقت میں بھی سامنے آیا ہے جب مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور ایران کی بندرگاہوں کی فوجی ناکہ بندی جاری ہے۔ جمعہ کو فلوریڈا روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں صدر نے کہا کہ انھوں نے ایران کو ”حتمی پیش کش” کر دی ہے، تاہم وہ اس کے ”منتشر” حکومت کے ساتھ معاہدے کے امکانات کے بارے میں پُرامید نہیں۔ ٹرمپ نے ایرانی تجاویز سے متعلق کہا ”انھوں نے کچھ پیش رفت کی ہے، مگر مجھے نہیں لگتا کہ وہ کبھی وہاں تک پہنچیں گے۔ میں کہوں گا کہ میں خوش نہیں ہوں۔ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں مطمئن نہیں ہوں۔”
واضح رہے کہ 1973 کا ”وار پاورز ریزولوشن” تقاضہ کرتا ہے کہ صدر کی جانب سے کانگریس کو اطلاع دینے کے 60 دن بعد امریکی افواج کو کسی تنازع سے واپس بلا لیا جائے، جب تک قانون ساز مزید فوجی کارروائی کی منظوری نہ دیں۔ وائٹ ہاؤس کے پاس یہ اختیار بھی ہے کہ وہ تنازع کو سمیٹنے کے لیے مزید 30 دن کی توسیع طلب کرے۔ ٹرمپ نے جمعرات کو ان قانون سازوں پر تنقید کی جو منظوری کا مطالبہ کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا ”مجھے نہیں لگتا کہ وہ جو مطالبہ کر رہے ہیں وہ آئینی ہے… یہ محبِ وطن لوگ نہیں ہیں۔”
دوسری طرف وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو کیپیٹل ہل میں اس قانونی مؤقف کا عندیہ دیا جس کے تحت انتظامیہ مشرقِ وسطیٰ میں کارروائیاں جاری رکھنا چاہتی ہے۔ انھوں نے سینیٹ کی سماعت میں کہا کہ جنگ بندی نے دراصل ”60 دن کی گھڑی کو روک دیا ہے۔”
1973 کے قانون کے تحت ٹرمپ کے اختیارات کو محدود کرنے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ صدر اس قانون کی غلط تشریح کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس بات کی نشان دہی بھی کی کہ جنگ بندی کے باوجود امریکی فوج ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے، جب کہ تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی اب بھی مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ماضی کے صدور نے بھی 60 دن کی حد کی پابندی نہیں کی اور کہا ”بہت سے صدور نے اس حد سے تجاوز کیا ہے… ہر دوسرے صدر نے اسے غیر آئینی سمجھا۔” پینٹاگون حکام کے مطابق امریکی افواج اب بھی تیار حالت میں ہیں اور اگر امن مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران پر حملے دوبارہ شروع کیے جاسکتے ہیں۔ ڈیموکریٹ سینیٹر ٹِم کین نے کہا کہ فوجیوں کو علاقے سے واپس بلائے بغیر جنگ کے خاتمے کا اعلان کرنا ”بالکل غلط” ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کو جواب دہ ٹھہرانے کے لیے ریپبلکنز کو بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دینا ہوگا، کیوں کہ یہ ایک غیر مقبول جنگ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں ایران کو فیس ادا کرنے والے بحری جہازوں پر پابندیاں لگ سکتی ہیں: امریکی محکمہ خزانہ
واشنگٹن، امریکی محکمہ خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو کسی بھی قسم کی ادائیگی کرنے والے جہازوں کو سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او یف اے سی) نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے محفوظ گزرگاہ کے بدلے ادائیگیوں کے مطالبات کا علم ہے اور اس طرح کی ادائیگی کرنے والے امریکی اور غیر امریکی افراد پابندیوں کے خطرے میں ہوں گے۔ بیان کے مطابق یہ ادائیگیاں مختلف شکلوں میں ہوسکتی ہیں، جن میں کرنسی، ڈیجیٹل اثاثے، بارٹر یا دیگر اشیاء کی صورت میں لین دین، یا بظاہر خیراتی عطیات جیسے ایرانی ہلال احمر سوسائٹی، بنیاد مستضعفان یا ایرانی سفارتخانوں کے اکاؤنٹس میں ادائیگی شامل ہیں۔
امریکی حکام نے کہا کہ ’ہم یہ انتباہ جاری کر رہے ہیں تاکہ امریکی اور غیر امریکی افراد کو ایران کو ادائیگی کرنے یا محفوظ راستے کے لیے ضمانت حاصل کرنے کے خطرات سے آگاہ کیا جاسکے اور یہ خطرات ادائیگی کے طریقہ کار سے قطع نظر موجود ہیں‘۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
ہندوستان1 week agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
ہندوستان1 week agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
دنیا1 week agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
جموں و کشمیر4 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoامریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے:ایران
دنیا1 week agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے نکالے گئے انتخابی افسران کی عرضیاں خارج کر دیں
دنیا5 days agoآپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے: ٹرمپ
دنیا5 days agoامریکہ سے مذاکرات میں پاکستان اہم ثالث ہے: ایرانی وزیرخارجہ
دنیا1 week agoعباس عراقچی کے دورۂ پاکستان کے دوران جوہری معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی: ابراہیم عزیزی







































































































