دنیا
ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو گئی: وائٹ ہاؤس
واشنگٹن، وائٹ ہاؤس نے کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہوگئی ہے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی موجودگی کے باوجود جنگ ختم ہوچکی۔ واضح رہے کہ وار پاورز سے متعلق کانگریس کی مقرر ڈیڈ لائن کا آج آخری دن تھا۔ جب کہ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں وار پاورز کے حکم کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔
پولیٹکو کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز قانون سازوں کو آگاہ کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ ”ختم ہو چکی ہے۔” تاہم پولیٹکو نے لکھا کہ یہ اقدام دراصل اس بحث کو ٹھنڈا کرنے کی ایک کوشش ہے کہ آیا اس جنگ کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہے یا نہیں۔ وائٹ ہاؤس نے ایک خط میں اپنی دلیل پیش کی کہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع 60 روزہ قانونی حد تک پہنچ گیا ہے، جس کے بعد کارروائیاں روکنا لازم ہوتا ہے، جب تک قانون ساز فوجی کارروائی کی اجازت نہ دیں۔
یہ خط کیپیٹل ہل میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشمکش کو روکنے کی کوشش ہے، جہاں جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہونے کے باوجود واضح حکمتِ عملی نہ ہونے پر ٹرمپ کو اپنی جماعت ریپبلکن پارٹی کی حمایت کھونے کا خدشہ ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی یہ منطق ڈیموکریٹس اور کچھ ریپبلکنز کو قابلِ قبول نہیں، جو کہتے ہیں کہ اس مرحلے پر انتظامیہ کو مہم ختم کر دینی چاہیے۔
ٹرمپ نے لکھا ”7 اپریل 2026 کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا۔” انھوں نے اس جنگ بندی کا حوالہ دیا جسے انھوں نے غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا ہے۔ ”28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی دشمنیاں ختم ہو چکی ہیں۔” یہ خط ایسے وقت میں بھی سامنے آیا ہے جب مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور ایران کی بندرگاہوں کی فوجی ناکہ بندی جاری ہے۔ جمعہ کو فلوریڈا روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں صدر نے کہا کہ انھوں نے ایران کو ”حتمی پیش کش” کر دی ہے، تاہم وہ اس کے ”منتشر” حکومت کے ساتھ معاہدے کے امکانات کے بارے میں پُرامید نہیں۔ ٹرمپ نے ایرانی تجاویز سے متعلق کہا ”انھوں نے کچھ پیش رفت کی ہے، مگر مجھے نہیں لگتا کہ وہ کبھی وہاں تک پہنچیں گے۔ میں کہوں گا کہ میں خوش نہیں ہوں۔ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں مطمئن نہیں ہوں۔”
واضح رہے کہ 1973 کا ”وار پاورز ریزولوشن” تقاضہ کرتا ہے کہ صدر کی جانب سے کانگریس کو اطلاع دینے کے 60 دن بعد امریکی افواج کو کسی تنازع سے واپس بلا لیا جائے، جب تک قانون ساز مزید فوجی کارروائی کی منظوری نہ دیں۔ وائٹ ہاؤس کے پاس یہ اختیار بھی ہے کہ وہ تنازع کو سمیٹنے کے لیے مزید 30 دن کی توسیع طلب کرے۔ ٹرمپ نے جمعرات کو ان قانون سازوں پر تنقید کی جو منظوری کا مطالبہ کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا ”مجھے نہیں لگتا کہ وہ جو مطالبہ کر رہے ہیں وہ آئینی ہے… یہ محبِ وطن لوگ نہیں ہیں۔”
دوسری طرف وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو کیپیٹل ہل میں اس قانونی مؤقف کا عندیہ دیا جس کے تحت انتظامیہ مشرقِ وسطیٰ میں کارروائیاں جاری رکھنا چاہتی ہے۔ انھوں نے سینیٹ کی سماعت میں کہا کہ جنگ بندی نے دراصل ”60 دن کی گھڑی کو روک دیا ہے۔”
1973 کے قانون کے تحت ٹرمپ کے اختیارات کو محدود کرنے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ صدر اس قانون کی غلط تشریح کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس بات کی نشان دہی بھی کی کہ جنگ بندی کے باوجود امریکی فوج ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے، جب کہ تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی اب بھی مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ماضی کے صدور نے بھی 60 دن کی حد کی پابندی نہیں کی اور کہا ”بہت سے صدور نے اس حد سے تجاوز کیا ہے… ہر دوسرے صدر نے اسے غیر آئینی سمجھا۔” پینٹاگون حکام کے مطابق امریکی افواج اب بھی تیار حالت میں ہیں اور اگر امن مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران پر حملے دوبارہ شروع کیے جاسکتے ہیں۔ ڈیموکریٹ سینیٹر ٹِم کین نے کہا کہ فوجیوں کو علاقے سے واپس بلائے بغیر جنگ کے خاتمے کا اعلان کرنا ”بالکل غلط” ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کو جواب دہ ٹھہرانے کے لیے ریپبلکنز کو بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دینا ہوگا، کیوں کہ یہ ایک غیر مقبول جنگ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی صدر ٹرمپ کی بائیں بازو کے انتہا پسندوں اور ڈیموکریٹس پر تنقید
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیں بازو کے انتہا پسندوں اور ڈیموکریٹس پر سخت تنقید کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ ان کو اب اندازہ ہو رہا ہے کہ ہم نے ایران کے خلاف کتنی بڑی کامیابی حاصل کی، تہران کو حالیہ جنگ میں مکمل طور پر شکست ہو چکی ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ سابق امریکی صدر براک اوباما نے ایران کو اربوں ڈالرز فراہم کیے، اوباما نے ایران کے خلاف امریکی فوج کا استعمال ہی نہیں کیا جو ضروری تھا، دنیا میں دہشتگردی کے سب سے بڑے سرپرست ایران کو قابو کرنا ناگزیر تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام اوباما اور جو بائیڈن کو انتہائی ناکام لیڈر سمجھتے تھے، وہ ان کو ناکام سمجھنے میں 100 فیصد درست تھے، میرے برسر اقتدار آنے سے پہلے ایران مسلسل 47 برس من مانی کرتا رہا، جبکہ میرے اقتدار میں آنے کے بعد سب کچھ بدل گیا امریکہ پھر سے طاقتور ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے ڈیموکریٹس دعویٰ کر رہے ایران پہلے سے مضبوط ہے، تہران کو مکمل فوجی شکست ہو چکی اب اس کی بحریہ باقی ہے اور نہ فضائیہ۔
امریکی صدر نے ڈیموکریٹس کو بے وقوف قرار دے دیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کا مذاکرات کیلیے وفد سوئٹرزلینڈ بھیجنے سے متعلق حتمی اعلان
تہران، ایران نے ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے تحت امریکہ کے ساتھ حتمی مذاکرات کیلیے وفد سوئٹرزلینڈ بھیجنے کا اعلان کر دیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ ایران کا وفد مذاکرات کیلیے سوئٹرزلینڈ جائے گا، مذاکراتی وفد کچھ دیر بعد یورپی ملک کیلیے روانہ ہوگا۔
اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایرانی وفد دوسرے فریق کے وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کرے گا، ہم اپنے وعدوں پر قائم ہیں، لیکن دوسرا فریق بھی وعدوں کی پاسداری کرے، یہ لازمی ہے کہ صیہونی حکومت کو لبنان پر حملے بند کرنے پر مجبور کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے معاہدہ اس لیے نہیں کیا کہ اس پر عمل نہ ہو، اگر امریکہ اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرے گا تو ہم بھی ضروری اقدامات کریں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
غزہ میں تازہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک
غزہ، طبی ذرائع اور عینی شاہدین کا کہنا ہے ہفتے کی صبح سویرے غزہ میں ایک حملے میں کم از کم پانچ فلسطینی، جن میں ایک ہی خاندان کے چار افراد شامل ہیں، ہلاک اور زخمی ہوئے ۔
الشِفا ہسپتال کے ایک طبی ذرائع نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ الطیّران چوراہے کے قریب غزہ شہر میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا ، جس میں دو بچیاں اور ان کے والدین ہلاک ہو گئے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ حملے میں طلوعِ آفتاب کے وقت سفادی خاندان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں حسین اور رنا سفادی اور ان کی دو بیٹیاں زینہ (6) اور لانا (13) ہلاک ہو گئیں۔ خاندان کے کئی دیگر افراد اور آس پاس کے رہائشی بھی زخمی ہوئے۔
ایک اور واقعے میں، عینی شاہدین کے مطابق، شمالی غزہ شہر کے قریب الصفطاوی چوراہے کے نزدیک پیدل چلنے والوں کو نشانہ بنانے والے ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک فلسطینی مرد ہلاک اور ایک عورت معمولی زخمی ہو گئی۔
یہ حملے اکتوبر 2025 میں نافذ ہونے والی فائر بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کے تسلسل کے دوران ہوئے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جمعرات تک، ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 1,007 فلسطینی ہلاک اور 3,165 دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔
فائر بندی کا معاہدہ اسرائیل کی غزہ پر دو سالہ نسل کش جنگ کے بعد ہوا، جس میں 73,000 سے زائد فلسطینی ہلاک، 173,000 سے زائد زخمی اور شہری بنیادی ڈھانچے کے تقریباً 90 فیصد حصے کو وسیع پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
جموں و کشمیر1 week agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
ہندوستان1 week agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا6 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
ہندوستان3 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا6 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
جموں و کشمیر5 days agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا6 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
ہندوستان6 days agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا4 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان








































































































