دنیا
سفارتکاری کا راستہ کھلا رکھنےکو تیار ہیں لیکن امریکہ کو دھمکی آمیز لہجہ بدلنا ہوگا: ایران
تہران، ایرانی وزیرخاجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ سفارتکاری کا راستہ کھلا رکھنےکو تیار ہیں لیکن امریکہ کو دھمکی آمیز لہجہ رویہ بدلنا ہوگا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب، قطر، ترکیے، مصر، عراق اور آذر بائیجان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفون پر رابطے کیے اور انہیں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے اقدامات سے آگاہ کیا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران سفارت کاری کا راستہ کھلا رکھنے کو تیار ہے لیکن شرط یہ ہے کہ امریکا کو دھمکی آمیز لہجہ اور توسیع پسندانہ رویہ بدلنا ہوگا۔ ادھر ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے امریکا سے مذاکرات میں پاکستان ہی باضابطہ ثالث ہے، مذاکرات کے انعقاد کا فیصلہ ہوا تو باضابطہ طور پر بتایا جائے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ نے نئی جارحیت کی تو جواب فوری اور دردناک ہوگا: ایرانی عسکری قیادت
تہران، ایرانی عسکری قیادت نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے نئی جارحیت کی تو جواب فوری اور دردناک ہوگا، ہمارے حملوں میں اپنے فوجی اڈوں کا انجام دیکھ لیا۔
تفصیلات کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب ایرواسپیس فورس کے کمانڈر ماجد موسوی اور سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی نئی مہم جوئی یا جنگ کا آغاز واشنگٹن کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ماجد موسوی نے سخت لہجے میں کہا کہ امریکہ نے ہمارے حملوں میں اپنے فوجی اڈوں کا انجام دیکھ لیا ہے، اب اگر دوبارہ غلطی کی تو وہ اپنے طیارہ بردار جہازوں کی قسمت بھی دیکھ لیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں ایران کا جواب فوری، بھرپور اور دردناک ہوگا۔ ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے ممکنہ جنگ کے خدوخال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ دوبارہ چھڑی تو اس کا مرکز اصفہان کے قریب اور ملک کا مغربی حصہ ہوگا۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ دشمن تہران میں بم دھماکے اور قتل و غارت کی بزدلانہ کارروائیاں کر سکتا ہے، تاہم زمینی حملے کی صورت میں ایرانی افواج دشمن کے فوجیوں کی بڑی تعداد کو قیدی بنانے کے لیے مکمل تیار ہیں۔ محسن رضائی نے مزید خبردار کیا کہ اگر ایران کی ناکہ بندی جاری رہی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا، امریکہ کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اب جنگ شروع کرنا اس کے لیے کسی بھی طرح سود مند نہیں بلکہ سراسر تباہی کا باعث ہوگا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایرانی وزیر خارجہ کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے اہم رابطے
تہران، ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کو جنگ کے خاتمے سے متعلق ایران کے موقف اور اقدامات سے آگاہ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال اور جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کردی۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ‘ارنا’ کی جانب سے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے روس، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، قطر، عراق اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطے کیے ہیں۔ رابطوں کے دوران عباس عراقچی نے خطے کی مجموعی صورتحال سمیت اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اپنے ہم منصبوں کو جنگ بندی اور تنازعات کے خاتمے سے متعلق ایران کے اصولی موقف اور تہران کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے عباس عراقچی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس خطے میں قیامِ امن اور جنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں استحکام لانے کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ علاوہ ازیں، ایرانی وزیر خارجہ نے یورپی یونین کے خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالس سے بھی رابطہ کیا، اس گفتگو میں علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے بحران کے حل پر بات چیت کی گئی۔
ان سفارتی رابطوں کا مقصد علاقائی طاقتوں کو اعتماد میں لینا اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو گئی: وائٹ ہاؤس
واشنگٹن، وائٹ ہاؤس نے کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہوگئی ہے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی موجودگی کے باوجود جنگ ختم ہوچکی۔ واضح رہے کہ وار پاورز سے متعلق کانگریس کی مقرر ڈیڈ لائن کا آج آخری دن تھا۔ جب کہ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں وار پاورز کے حکم کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔
پولیٹکو کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز قانون سازوں کو آگاہ کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ ”ختم ہو چکی ہے۔” تاہم پولیٹکو نے لکھا کہ یہ اقدام دراصل اس بحث کو ٹھنڈا کرنے کی ایک کوشش ہے کہ آیا اس جنگ کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہے یا نہیں۔ وائٹ ہاؤس نے ایک خط میں اپنی دلیل پیش کی کہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع 60 روزہ قانونی حد تک پہنچ گیا ہے، جس کے بعد کارروائیاں روکنا لازم ہوتا ہے، جب تک قانون ساز فوجی کارروائی کی اجازت نہ دیں۔
یہ خط کیپیٹل ہل میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشمکش کو روکنے کی کوشش ہے، جہاں جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہونے کے باوجود واضح حکمتِ عملی نہ ہونے پر ٹرمپ کو اپنی جماعت ریپبلکن پارٹی کی حمایت کھونے کا خدشہ ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی یہ منطق ڈیموکریٹس اور کچھ ریپبلکنز کو قابلِ قبول نہیں، جو کہتے ہیں کہ اس مرحلے پر انتظامیہ کو مہم ختم کر دینی چاہیے۔
ٹرمپ نے لکھا ”7 اپریل 2026 کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا۔” انھوں نے اس جنگ بندی کا حوالہ دیا جسے انھوں نے غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا ہے۔ ”28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی دشمنیاں ختم ہو چکی ہیں۔” یہ خط ایسے وقت میں بھی سامنے آیا ہے جب مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور ایران کی بندرگاہوں کی فوجی ناکہ بندی جاری ہے۔ جمعہ کو فلوریڈا روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں صدر نے کہا کہ انھوں نے ایران کو ”حتمی پیش کش” کر دی ہے، تاہم وہ اس کے ”منتشر” حکومت کے ساتھ معاہدے کے امکانات کے بارے میں پُرامید نہیں۔ ٹرمپ نے ایرانی تجاویز سے متعلق کہا ”انھوں نے کچھ پیش رفت کی ہے، مگر مجھے نہیں لگتا کہ وہ کبھی وہاں تک پہنچیں گے۔ میں کہوں گا کہ میں خوش نہیں ہوں۔ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں مطمئن نہیں ہوں۔”
واضح رہے کہ 1973 کا ”وار پاورز ریزولوشن” تقاضہ کرتا ہے کہ صدر کی جانب سے کانگریس کو اطلاع دینے کے 60 دن بعد امریکی افواج کو کسی تنازع سے واپس بلا لیا جائے، جب تک قانون ساز مزید فوجی کارروائی کی منظوری نہ دیں۔ وائٹ ہاؤس کے پاس یہ اختیار بھی ہے کہ وہ تنازع کو سمیٹنے کے لیے مزید 30 دن کی توسیع طلب کرے۔ ٹرمپ نے جمعرات کو ان قانون سازوں پر تنقید کی جو منظوری کا مطالبہ کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا ”مجھے نہیں لگتا کہ وہ جو مطالبہ کر رہے ہیں وہ آئینی ہے… یہ محبِ وطن لوگ نہیں ہیں۔”
دوسری طرف وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو کیپیٹل ہل میں اس قانونی مؤقف کا عندیہ دیا جس کے تحت انتظامیہ مشرقِ وسطیٰ میں کارروائیاں جاری رکھنا چاہتی ہے۔ انھوں نے سینیٹ کی سماعت میں کہا کہ جنگ بندی نے دراصل ”60 دن کی گھڑی کو روک دیا ہے۔”
1973 کے قانون کے تحت ٹرمپ کے اختیارات کو محدود کرنے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ صدر اس قانون کی غلط تشریح کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس بات کی نشان دہی بھی کی کہ جنگ بندی کے باوجود امریکی فوج ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے، جب کہ تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی اب بھی مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ماضی کے صدور نے بھی 60 دن کی حد کی پابندی نہیں کی اور کہا ”بہت سے صدور نے اس حد سے تجاوز کیا ہے… ہر دوسرے صدر نے اسے غیر آئینی سمجھا۔” پینٹاگون حکام کے مطابق امریکی افواج اب بھی تیار حالت میں ہیں اور اگر امن مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران پر حملے دوبارہ شروع کیے جاسکتے ہیں۔ ڈیموکریٹ سینیٹر ٹِم کین نے کہا کہ فوجیوں کو علاقے سے واپس بلائے بغیر جنگ کے خاتمے کا اعلان کرنا ”بالکل غلط” ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کو جواب دہ ٹھہرانے کے لیے ریپبلکنز کو بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دینا ہوگا، کیوں کہ یہ ایک غیر مقبول جنگ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
ہندوستان1 week agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
ہندوستان1 week agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
دنیا1 week agoامریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے:ایران
دنیا1 week agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
جموں و کشمیر4 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے نکالے گئے انتخابی افسران کی عرضیاں خارج کر دیں
دنیا5 days agoآپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے: ٹرمپ
دنیا5 days agoامریکہ سے مذاکرات میں پاکستان اہم ثالث ہے: ایرانی وزیرخارجہ
دنیا1 week agoعباس عراقچی کے دورۂ پاکستان کے دوران جوہری معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی: ابراہیم عزیزی








































































































