جموں و کشمیر
سری نگر میں 2024–25 میں 5 ہزار سے زائد کتے کے کاٹنے کے کیسز رپورٹ: سرکار
جموں، جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں جمعہ کو سری نگر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد، ڈاگ بائٹ واقعات اور شہریوں میں پیدا ہونے والی بے چینی کا معاملہ اس وقت نمایاں موضوع بن گیا جب رکن اسمبلی سلمان ساگر نے اس سنگین مسئلے کے حوالے سے جامع جواب طلب کیا۔
حکومت نے تسلیم کیا کہ شہر کے تقریباً تمام علاقوں میں آوارہ کتوں کے حملے شہریوں خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ سری نگر میونسپل کارپوریشن نے آوارہ کتوں کی آبادی کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر نس بندی، ویکسینیشن، پناہ گاہوں کی تعمیر اور عوامی بیداری پروگرام شروع کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سری نگر میں اس وقت تین اینیمل برتھ کنٹرول سینٹرز کام کر رہے ہیں۔ ان مراکز میں مجموعی طور پر 182 کینلز فعال ہیں، جن میں شالیمار، راولپورہ اور المنصور آلوچی باغ ہہامہ کے مراکز شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سال 2023 سے ستمبر 2025 تک 15,266 آوارہ کتوں کی نس بندی کی گئی، جبکہ اسی مدت میں 15,725 کتوں کو ریبیز کے خلاف ویکسین دی گئی۔ سال 2023 میں 6,964 کتوں کی نس بندی کی گئی، 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 7,367 تک پہنچ گئی، جبکہ 2025 میں اب تک 935 کتوں کی نس بندی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ویکسینیشن کے اعداد و شمار بھی اسی تناسب سے بڑھے، جہاں 2023 میں 7,160، 2024 میں 7,546، اور 2025 میں اب تک 1,019 کتوں کو ویکسین دی گئی۔
سرکاری اعداد و شمار میں ڈاگ بائٹ کے واقعات میں معمولی کمی سامنے آئی ہے۔ سال 2024–25 میں سری نگر میں 5,135 ڈاگ بائٹ کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ سال 2025–26 کے آٹھ ماہ میں 4,890 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔
حکومت نے واضح کیا کہ یہ اعداد و شمار مجموعی اینٹی ریبیز ویکسین کی فراہمی پر مبنی ہیں اور ان میں پالتو کتوں، بلیوں اور بندروں کے کیس بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
محکمہ نے بتایا کہ تمام اسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین اور امیونوگلوبیولن کا مناسب ذخیرہ موجود ہے تاکہ متاثرین کو فوری علاج مل سکے۔ اس کے علاوہ شہر بھر میں میڈیا مہم، عوامی اعلانات، جِنگلز، پوسٹرز اور مذہبی مقامات پر آگاہی پروگرام کے ذریعے شہریوں کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کا مسئلہ صرف جانوروں تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑا شہری انتظامی چیلنج ہے، جس کے لیے طویل المدتی اور مربوط حکمتِ عملی پر کام تیزی سے جاری ہے۔
یو این آئی ارشید بٹ، ایم افضل۔
جموں و کشمیر
جے اینڈ کے ایل جی نے مبارک منڈی ہیریٹیج کمپلیکس کے جاری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے روز مبارک منڈی ہیریٹیج کمپلیکس کے دورے کے دوران اس تاریخی ورثہ کمپلیکس کے تحفظ اور ترقی سے متعلق جاری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر جموں مشرق کے رکن اسمبلی یدھویر سیٹھی، چیف سیکریٹری اٹل ڈلو، پرنسپل سیکریٹری ثقافت برج موہن شرما، ڈویژنل کمشنر جموں رمیش کمار، آئی جی پی جموں بھیم سین توتی، جموں میونسپل کارپوریشن کے کمشنر ڈاکٹر دیوانش یادو، ڈپٹی کمشنر جموں راکیش منہاس، ایس ایس پی جموں جوگیندر سنگھ، مبارک منڈی جموں ہیریٹیج سوسائٹی (ایم ایم جے ایچ ایس) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر دیپیکا شرما اور دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مبارک منڈی ہیریٹیج کمپلیکس سے متصل تاریخی گدادھر مندر کی متاثرہ دیوار اور سلیب کی بحالی کے جاری کاموں کا معائنہ کیا۔
انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ کام کے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے بحالی کے عمل میں تیزی لائی جائے۔
جموں میونسپل کارپوریشن کے کمشنر نے لیفٹیننٹ گورنر کو مبارک منڈی ہیریٹیج کمپلیکس میں ریمپ پر مبنی کثیر منزلہ کار پارکنگ سہولت کی تعمیر کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
بعد ازاں لیفٹیننٹ گورنر نے نئے قائم کردہ لائبریری و کیفے ٹیریا کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر ایم ایم جے ایچ ایس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے مبارک منڈی جموں ہیریٹیج کمپلیکس کی بحالی، مرمت اور تزئین و آرائش کے باقی ماندہ کاموں کے بارے میں تفصیلات پیش کیں۔
ان منصوبوں میں دربار ہال کا تحفظ، راجا رام سنگھ محل کا تحفظ، راجا امر سنگھ محل کا تحفظ، ڈوگرا آرٹ میوزیم کا تحفظ اور دیگر اہم کام شامل ہیں، جن کے آئندہ چند ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کریری میں بابل کینال: غفلت اور بے حسی کا شکار
بارہمولہ کے کریری علاقے میں کبھی لائف لائن سمجھی جانے والی بابل کینال، جو اپنی تاریخی، زرعی اور ماحولیاتی اہمیت رکھتی ہے، آج انتظامی غفلت، ماحولیاتی آلودگی اور اجتماعی بے حسی کی ایک افسوسناک مثال بن چکی ہے۔
کئی نسلوں تک یہ نہر پینے کے پانی اور آبپاشی کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ اس کا پانی نہ صرف کھیتوں کو سیراب کرتا تھا بلکہ مقامی معیشت، ذریعہ معاش اور ماحولیاتی نظام کا بھی اہم حصہ تھا۔ بابل کینال کبھی زندگی کی علامت سمجھی جاتی تھی، جہاں اس کا مسلسل بہاؤ علاقے کی خوشحالی اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال کی عکاسی کرتا تھا۔
تاریخی طور پر مانا جاتا ہے کہ یہ نہر کئی دہائیوں پرانی ہے، جب کشمیر کے مختلف علاقوں میں زمینداروں اور کسانوں کی سہولت کے لیے روایتی آبی راستے تعمیر کیے گئے تھے۔ وادی کی دیگر قدیم نہروں کی طرح، بابل کینال بھی قدرتی چشموں اور ندیوں سے پانی حاصل کرتی تھی اور اسے کریری کے مختلف دیہات تک پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بزرگ آج بھی اُس دور کو یاد کرتے ہیں جب یہ نہر سال بھر پانی سے بھری رہتی تھی، حتیٰ کہ خشک موسموں میں بھی اس کا بہاؤ جاری رہتا تھا۔ یہ نہر صرف ایک آبی ذریعہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ ورثہ تھی، جسے مقامی لوگ اجتماعی طور پر محفوظ رکھتے تھے۔
تاہم آج اس نہر کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ برسوں کی غفلت، ناقص دیکھ بھال اور حکومتی بے عملی نے اسے خشک، آلودہ اور تقریباً فراموش شدہ بنا دیا ہے۔ جو نہر کبھی علاقے کی زندگی کی علامت تھی، آج وہ کچرے کے ڈھیر اور غیر قانونی تجاوزات کی نذر ہو رہی ہے۔ بعض مقامی افراد کی جانب سے نہر میں گھریلو اور دیگر فضلہ پھینکنے کے باعث اس کا قدرتی راستہ مزید متاثر ہوا ہے۔
نہر کے کناروں پر بڑھتی تجاوزات ایک اور سنگین مسئلہ ہیں۔ مختلف مقامات پر اس کے حصوں کو ذاتی استعمال اور تعمیرات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف اس کا قدرتی بہاؤ متاثر ہوا بلکہ اس کی اصل ساخت بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ یہ صورتحال صرف انتظامی ناکامی ہی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری کے فقدان کی بھی عکاس ہے۔ جہاں متعلقہ حکام اس عوامی اثاثے کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں، وہیں معاشرے کے بعض حلقے بھی اس کے بگاڑ میں برابر کے شریک بن چکے ہیں۔
بابل کینال کے خشک ہونے کے اثرات اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ وہ کسان جو کبھی آبپاشی کے لیے اس نہر پر انحصار کرتے تھے، آج پانی کی قلت اور مہنگے متبادل ذرائع کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف زرعی پیداوار کو متاثر کیا بلکہ مقامی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کے علاوہ نہر کے خشک ہونے سے زمینی پانی کے ریچارج، مقامی حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی توازن پر بھی برا اثر پڑا ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نہر کی بحالی کے لیے کوئی سنجیدہ یا جامع حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی۔ مقامی لوگوں کی بارہا شکایات اور خدشات کے باوجود نہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے کوئی مؤثر اقدام کیا گیا اور نہ ہی صفائی یا بحالی کی کوئی مہم شروع کی گئی۔ یہ بے حسی اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آخر عوامی وسائل کے تحفظ کے ذمہ دار اداروں کی ترجیحات کیا ہیں۔
بابل کینال کی بحالی نہ صرف ایک ماحولیاتی ضرورت ہے بلکہ ایک سماجی اور معاشی ذمہ داری بھی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر بحالی منصوبے شروع کرے، تجاوزات کے خلاف کارروائی عمل میں لائے، اور نہر کو آلودہ کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین نافذ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی بیداری مہم چلانا بھی ناگزیر ہے تاکہ لوگ ایسے قدرتی وسائل کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ مقامی کمیونٹی کی فعال شرکت ہی اس بات کی ضمانت دے سکتی ہے کہ بحالی کی کوششیں دیرپا اور مؤثر ثابت ہوں۔
بابل کینال کی موجودہ حالت اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جب قدرتی وسائل اور تاریخی ورثے کو نظر انداز کیا جائے تو اس کے نتائج کتنے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نہر، جو کبھی کریری کی پہچان اور زندگی کا اہم حصہ تھی، مکمل طور پر تاریخ کے صفحات میں گم ہو سکتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور عوام دونوں اس اہم آبی راستے کی بحالی اور تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
تازہ ترین
بارہمولہ میں مبینہ قوم مخالف سرگرمیوں کے الزام میں خاتون پر پی ایس اے نافذ
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں ایک خاتون کو مبینہ غیر قانونی اور قوم مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں سخت عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت حراست میں لے لیا ہے۔
حکام کے مطابق بارہمولہ پولیس نے بارہمولہ کے شیری علاقے کی رہائشی حسینہ بیگم کے خلاف پی ایس اے کے تحت نظر بندی وارنٹ پر عمل درآمد کیا ہے۔ پی ایس اے ایک ایسا قانون ہے جس کے تحت حکام عوامی نظم و نسق یا ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھی جانے والی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو بغیر مقدمہ چلائے دو سال تک حراست میں رکھ سکتے ہیں۔
پولیس کے مطابق خاتون کے خلاف مختلف اضلاع میں درج متعدد مجرمانہ مقدمات میں مبینہ شمولیت کی بنیاد پر ضلع مجسٹریٹ بارہمولہ نے نظر بندی کا حکم جاری کیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ وارنٹ پر عمل کرتے ہوئے خاتون کو احتیاطی حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں اسے ضلع جیل بھدرواہ منتقل کر دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ خاتون غیر قانونی اور مبینہ قوم مخالف سرگرمیوں سے متعلق کئی مقدمات میں شامل رہی ہے، تاہم اس کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
بارہمولہ پولیس نے واضح کیا کہ یہ کارروائی ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے اور سلامتی کو یقینی بنانے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔ پولیس نے مزید کہا کہ عوامی نظم و نسق اور سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف آئندہ بھی اسی نوعیت کی سخت قانونی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
یو این آئی۔ اے ایم۔
دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
ہندوستان4 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا6 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
کھیل6 days agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
دنیا6 days agoلبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو سنگین نتائج ہوں گے: ابراہیم عزیزی
دنیا2 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
جموں و کشمیر2 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا3 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا5 days agoامریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں: ایران
دنیا1 week agoواضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی









































































































