دنیا
ٹرمپ اور پوپ لیو کے درمیان جاری لفظی جنگ میں شدت
واشنگٹن، کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم اور امریکی صدر کے درمیان جاری لفظی جنگ میں مزید شدت آ گئی ہے۔
منگل کو اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ‘تروتھ سوشل’ پر جاری ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے لکھا کیا کوئی براہ کرم پوپ لیو کو بتائے گا کہ ایران نے گزشتہ دو ماہ میں کم از کم 42 ہزار بے گناہ اور مکمل طور پر نہتے مظاہرین کو قتل کیا ہے اور یہ کہ ایران کے پاس جوہری بم کا ہونا قطعی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوپ لیو چہارم پر ایک بار پھر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اپنے ہی عوام کے خلاف ایرانی مظالم سے لاعلم ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اتوار کو ٹرمپ نے پوپ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایسا پوپ نہیں چاہتے جو امریکی صدر پر تنقید کرے۔
یاد رہے کہ پوپ لیو چہارم نے ایران تنازع کے حل کے لیے جنگ بندی اور مذاکرات کی اپیل کی تھی، جبکہ ٹرمپ نے ایران اور وینزوئیلا کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں پر تنقید کرنے پر پوپ کو شدید نشانہ بنایا۔
دوسری جانب پوپ لیو نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ سے نہیں ڈرتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ جنگ کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے اور ریاستوں کے درمیان مسائل کے منصفانہ حل کے لیے امن، مذاکرات اور کثیر الجہتی تعلقات کو فروغ دینے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔
کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب اتوار کو صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک ایسی تصویر پوسٹ کی جو آرٹیفیشل انٹیلی سے تیار کی گئی تھی اور اور اس میں وہ مبینہ طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مشابہت میں نظر آ رہے تھے۔ اس تصویر پر مذہبی رہنماؤں اور ڈیموکریٹک قانون سازوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا، جبکہ ویٹیکن نے اسے “انتہائی توہین آمیز” قرار دیا۔ قدامت پسند مسیحی مبصر میگن بیشم نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک “خوفناک توہین” ہے اور وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ صدر نے ایسا کیوں کیا۔ تاہم تنقید کے بعد ٹرمپ نے وہ تصویر حذف کر دی اور میڈیا کو بتایا کہ ان کا ارادہ خود کو ایک ‘ڈاکٹر’ کے روپ میں دکھانا تھا جو ریڈ کراس کے کارکن کے طور پر لوگوں کا علاج کر رہا ہو۔
انہوں نے خبر رساں اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صرف “فیک نیوز” ہی اس تصویر کا غلط مطلب نکال سکتی ہے، جبکہ وہ حقیقت میں لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کا کویت میں امریکی ایئربیس پر بیلسٹک میزائل حملہ، 5 فوجی زخمی
تہران، ایران کے کویت میں امریکی ایئربیس پر بیلسٹک میزائل حملے میں 5 امریکی فوجیوں کے زخمی ہوگئے جبکہ امریکہ کے 2 جدید ترین ایم کیو 9 ڈرون کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بین الاقوامی میڈیا گروپ ‘بلوم برگ’ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے کویت میں قائم امریکی ایئربیس پر ایک اور بڑا بیلسٹک میزائل حملہ کیا، ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل نے امریکی ایئربیس کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 5 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
بلوم برگ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس ہولناک میزائل حملے میں صرف جانی نقصان ہی نہیں ہوا، بلکہ امریکہ کے 2 انتہائی مہنگے اور جدید ترین ‘ایم کیو-9 ریپر’ (MQ-9 Reaper) ڈرونز کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے، جسے امریکی فضائیہ کے لیے ایک بڑا دفاعی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ایران نے کویت میں موجود امریکی تنصیبات پر اپنے خطرناک ترین ‘فتح’ نامی ہائپر سونک/بیلسٹک میزائل کا استعمال کیا۔
تاہم، اس حساس معاملے پر تاحال امریکی یا ایرانی حکومت کی جانب سے باقاعدہ طور پر کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں اور نہ ہی ابھی تک آزاد ذرائع سے اس حملے کی مکمل تصدیق ہو سکی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی صدر ’سفارتکاری سے تیسری بار غداری‘ کر رہے ہيں: محسن رضائی
تہران، ایرانی سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ’سفارتکاری سے تیسری بار غداری‘ کر رہے ہيں۔
اپنے بیان میں محسن رضائی نے کہا کہ بدستور بحری ناکہ بندی اور مذاکرات میں ضرورت سے زیادہ مطالبات ایک بار پھر ثابت کرتے ہيں کہ امریکا مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں، وہ دیگر مقاصد کے حصول میں لگا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کےترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ جوہری پروگرام پر کوئی مذاکرات نہیں کر رہے، توجہ جنگ کے خاتمے پر ہے، اب تک امریکہ سے کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا، آبنائے ہرمز کے انتظام کا فیصلہ ایران اور عمان کریں گے۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ نے عمانی ہم منصب سے رابطہ کیا، مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظامی امور پر گفتگو کی گئی، ہمسایہ ممالک سے مشاورت کا خیر مقدم کیا گیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
تہران، ایران نے چین اور روس کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان کردیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے روسی، چینی جہازوں کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایران اپنے قریبی شراکت دار ممالک کے ساتھ ترجیحی تعاون جاری رکھے گا۔
ابراہیم عزیزی نے کہا کہ موجودہ مذاکرات میں افزودہ یورینیم کی منتقلی کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا ہے۔
علاوہ ازیں پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز سے 20 بحری جہازوں کے گزرنے میں تعاون کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے، مذاکرات کے اس مرحلے پر جنگ ختم کرنے پر توجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر ایٹمی معاملے کی تفصیلات کے بارے میں وہ بات نہیں کریں گے، امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، ہم نے 47 سال پہلے حکم کی زبان کو الوداع کہہ دیا تھا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جیسا غیرقانونی کام نہیں کرنا چاہیے تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoعید سے قبل بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے؛ اس مقدس موقع پر ملازمین کو مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے: رفیق راتھر
جموں و کشمیر6 days agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
دنیا1 week agoکیوبا نے مارکو روبیو پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگا دیا
دنیا1 week agoٹرمپ کی ایرانی تہذیب مٹنے کی دھمکی سے یورپ اور ایشیا کو نیوکلیئر حملے کے خطرات پیدا ہوگئے تھے: رپورٹ
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان، ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف
دنیا1 week agoامریکہ سے مذاکرات: ایران کا تمام محاذوں پرجنگ کا خاتمہ ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور بحری تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoحزب اللّٰہ کو غیر مسلح کرنے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف امریکی کارروائی
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر ایران کا نیا ٹول ٹیکس: جہازوں کے گزرنے کیلئے فیس
دنیا1 week agoپاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں ایٹمی پروگرام پر بات نہیں ہوگی: ایران
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران کے ساتھ چل رہی امن بات چیت کو اور وقت دینے کا فیصلہ کیا
ہندوستان1 week agoپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر اضافہ
ہندوستان6 days agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا


































































































