دنیا
“جنگ بندی میں توسیع ” تیل کے حصص میں کمی،سرمایہ کار محتاط
ویانا، بدھ کے روز تیل کی قیمتیں حصص کے ساتھ گر گئیں کیونکہ سرمایہ کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے امکانات کیا ہونگے۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے آخری لمحات میں جنگ بندی میں توسیع کر دی لیکن آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رکھی۔ دو ہفتوں کی جنگ بندی اپنے آخری گھنٹوں میں داخل ہو چکی تھی کہ امریکی صدر نے کہا کہ وہ ثالث پاکستان کی درخواست پر مہلت کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیں گے اور اس بات پر زور دیا کہ تہران کی “منتشر” قیادت کو تجویز پیش کرنے کے لیے وقت دیا جائے۔ اس سے قبل انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ وہ جنگ بندی میں توسیع نہیں کریں گے اور خبردار کیا تھا کہ اس کے ختم ہوتے ہی وہ ایران پر دوبارہ بمباری شروع کر دیں گے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ ناکہ بندی جاری رکھے اور تیار رہے۔ ایران پر نئے حملے نہ کرنے لیکن اس کے جہازوں کو آبنائے سے گزرنے سے روکنے کے فیصلےجو کہ دونوں حریفوں کے درمیان ایک بڑا تنازع ہےنے تاجروں کو مزید واضح پیش رفت کے انتظار میں رکھا۔
اوورسی-چائنیز بینکنگ کارپوریشن کے تجزیہ نگار کرسٹوفر وونگ نے کہا ہے امریکہ اور ایران شاید اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ کھیل کھیل رہے ہیں کہ پہلے کون جھکے گا تیل کے دونوں بڑے معاہدوں کی قیمتوں میں معمولی کمی آئی، حالانکہ ابتدائی تجارت میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جبکہ منگل کو ان میں تقریباً تین فیصد اضافہ ہوا تھا۔
وال اسٹریٹ میں ایک اور مندی کے دن کے بعد زیادہ تر ایکویٹی مارکیٹس منفی رہیں۔ ہانگ کانگ، سڈنی، سنگاپور، سیول اور ویلنگٹن میں کمی ہوئی، جبکہ شنگھائی مستحکم رہا۔ ٹوکیو، تائی پے اور ویلنگٹن میں اضافہ ہوا۔ تاجر اس ہفتے سمت تلاش کرنے میں مشکل محسوس کر رہے ہیں، اس کے بعد کہ تہران نے جمعہ کو کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزرنے دے گا—جسے اس نے 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے مؤثر طور پر بند کر رکھا تھا—لیکن ایک دن بعد امریکی ناکہ بندی اور ایک جہاز کی ضبطی کا حوالہ دیتے ہوئے پیچھے ہٹ گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تہران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس آبی گزرگاہ میں جہازوں کو ہراساں کر رہا ہے، جو عالمی تیل کے تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کا راستہ ہے۔ ان پیش رفتوں نے خام تیل کی قیمتوں کو شدید اتار چڑھاؤ کا شکار کیا، اگرچہ وہ 100 ڈالر سے نیچے رہی ہیں، جبکہ ایکویٹی مارکیٹس نسبتاً کم غیر مستحکم رہی ہیں کیونکہ امید باقی ہے کہ دونوں فریق آخرکار سات ہفتوں سے جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے معاہدہ کر لیں گے جس نے عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے۔ FOREX.com کے تجزیہ کار فواد رزاق زادہ نے
لکھا: “مارکیٹس اس امید کے ساتھ اوپر جا رہی تھیں کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور آبنائے ہرمز کھل جائے گی، لیکن اب وہ زیادہ محتاط ہو گئی ہیں۔ “اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو میرا خیال ہے کہ تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر سے اوپر جا سکتی ہیں، جس سے ممکنہ طور پر ایکویٹی مارکیٹس پر دباؤ بڑھے گا۔” سرمایہ کار کیون وارش کی سینیٹ میں تصدیقی سماعت پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں، جو ٹرمپ کے نامزد کردہ امیدوار ہیں تاکہ فیڈرل ریزرو کے سربراہ جیروم پاول کی جگہ لے سکیں، جن کی مدت اگلے ماہ ختم ہو رہی ہے۔
وارش نے اصرار کیا کہ وہ صدر کے زیر اثر نہیں ہوں گے، جب انہوں نے اپنی اثاثہ جات اور مرکزی بینک کی خودمختاری سے متعلق سوالات کے جوابات دیے۔ سابق فیڈ گورنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ “مالیاتی پالیسی کا نفاذ مکمل طور پر خودمختار رہے گا۔” ٹرمپ، گزشتہ سال دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے، پاول پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے شرح سود میں زیادہ جارحانہ کمی نہیں کی، اور انہوں نے منگل کو CNBC کو بتایا کہ اگر نیا چیئرمین جلدی قرض لینے کی لاگت کم نہ کرے تو وہ مایوس ہوں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے خلاف بڑے حملے دوبارہ کرنا ممکن تو ہے مگر اس سے اسلحہ ذخائر میں کمی ہوگی: امریکی جنرل
واشنگٹن، امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنا ممکن ہے ، لیکن اس سے امریکی فوج کے پاس موجود میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو جائیں گے۔
گزشتہ روز یہ خبر سامنے آئی کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے روکنے کا حکم دیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق 13 روز سے جاری کارروائی روکنے کا حکم جمعے کو دیا گیا ۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ حملے ایک روز کے لیے روکے گئے ہیں یا جنگ بندی کردی گئی ہے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں اجلاس کے دوران نائب صدر جے ڈی وینس اور جوائنٹس چیفس آف اسٹاف ڈین کین نے ایران جنگ میں شدت لانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق حکام کا کہنا ہےکہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے نجی طور پر خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنا ممکن تو ہے ، لیکن اس سے امریکی فوج کی سینٹرل کمان کے پاس موجود انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو جائیں گے۔
ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر کیے بغیر کہا کہ ایران پر حملوں کا نتیجہ توقعات کے برعکس نکلا ہے ، امریکی حملے ایران کو اندر سے متحد ہونے اور ایرانی رہنماؤں کو بیرونی خطرات پر توجہ مرکوز رکھنے کا موقع دے رہے ہیں۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے عمانی حکام کے دورہ ایران کی وجہ سے حملے روکے، عمانی وفد جمعے کو بات چیت کے لیے ایران گیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس حملے جاری رکھنے اور اس کی شدت بڑھانے کا آپشن بھی ہے جس میں ہر چیز کو تباہ کیا جاسکتا ہے ۔ مگر اسمارٹ اسٹریٹجی یہ ہے کہ ایران سے ڈیل کی جائے۔
ایران نے بھی امریکہ کے خلاف جوابی کارروائیاں عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیاہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ کمزور امریکی دفاعی نظام کی وجہ سے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں نے کسی رکاوٹ کے بغیر امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
ایرانی ذرائع نے برطانوی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس وقت تک حملے روکے گاجب تک امریکی حملے رُکے رہیں، ایران امریکہ کے ارادوں کے بارے میں بدستور تحفظات رکھتا ہے، ایران کا مؤقف اب بھی حملے کے جواب میں حملہ ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق حملوں میں وقفے کے بارے میں امید کے مقابلے میں شکوک زیادہ ہیں، یہ وقفہ حقیقی نہیں بلکہ حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل پر براہ راست یا پراکسی گروپوں کے ذریعے حملے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا: نیتن یاہو
تل ابیب، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل پر براہِ راست یا پراکسی گروپوں کے ذریعے کسی بھی حملے کی صورت میں انتہائی سخت جواب دیا جائے گا۔
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ اس وقت ختم ہو سکتی ہے جب یا تو ایرانی حکومت کا خاتمہ ہو جائے یا تہران معاشی تباہی پھیلانے اور ہر طرف حملے کرنے کی قیمت چکانے پر آمادہ ہو۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ ایران سعودی عرب، بحرین، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور اردن کو نشانہ بنا رہا ہے۔
نیتن یاہو نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل پر براہِ راست یا پراکسی گروپوں کے ذریعے کسی بھی حملے کی صورت میں انتہائی سخت جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں، تاہم ایران کا جوہری پروگرام کسی معاہدے کے ساتھ یا بغیر، ہر صورت ختم ہونا چاہیے۔
نیتن یاہو نے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کے لیے ٹرمپ کی تجویز کی بھی حمایت کی، جس کے تحت ریاض کو صرف سویلین جوہری پروگرام کی اجازت دی جائے گی، فوجی جوہری پروگرام کی نہیں، اور اس کے بدلے دونوں ممالک باضابطہ تعلقات قائم کریں گے۔
لبنان سے متعلق اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی افواج نے حزب اللہ کو اسرائیل لبنان سرحد سے 5 سے 8 میل پیچھے دھکیل دیا ہے اور تنظیم کے تقریباً 94 فیصد میزائل اور راکٹ تباہ کر دیے ہیں۔
نیتن یاہو نے مزید دعویٰ کیا کہ ایک نئے سہ فریقی معاہدے کے تحت کئی دہائیوں بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات شروع ہوں گے، جس کے مطابق اسرائیل لبنان سے انخلا کرے گا جبکہ لبنان حزب اللہ کو غیر مسلح کرے گا۔تاہم انہوں نے کہا کہ آیا لبنانی فوج اس علاقے پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھ سکے گی یا نہیں، یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے: ایرانی وزارت خارجہ
تہران، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر سمیت ثالث ممالک ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، تاہم ایران کی اولین ترجیح حملوں کے دوران اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا ہے۔
آسٹریا کے نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہاکہ ایران نے مفاہمتی یادداشت کے تحت 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کا وعدہ پورا کیا، لیکن اس مدت کے ختم ہونے سے پہلے ہی امریکہ نے مبینہ بحری جہازوں کے واقعات کو جواز بنا کر نئے حملے کر دیے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران یہ تیسری مرتبہ ہے کہ مذاکرات کے دوران حملے کرکے ایران کی سفارتی کوششوں کو دھوکہ دیا گیا۔
ایرانی ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق امریکہ اب تک ایران کے منجمد اثاثے بھی جاری کرنے میں ناکام رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا5 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا6 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان6 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہونے کا دعویٰ، سینٹکام کی تردید
دنیا1 week agoایران نے ہرمزگان صوبے پر امریکی حملوں میں شہید ہونے والے شہریوں کی تصاویر جاری کر دیں
دنیا1 week agoجے ڈی وینس کی فیملی کے اچانک سفری مطالبات پر خفیہ سروس کے اہلکار نالاں
دنیا5 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
دنیا1 week agoآخری سانس تک ایران کا دفاع کیا جائے گا: عباس عراقچی
ہندوستان5 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا5 days agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
جموں و کشمیر1 week agoریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کا دہلی میں احتجاج




































































































