دنیا
ایران صدر ٹرمپ کی مذاکرات کی درخواست پر غور کرنے کو تیار
ماسکو، ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی مذاکرات کی درخواست پر غور کر رہے ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران صدر ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی درخواست پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ ماضی میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، اسی لیے اب مذاکرات کی درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی عوام امریکی حملوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
گذشتہ روز روس پہچنے پر ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان اور عمان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں اور بات چیت کو آگے بڑھانے میں انتہائی اہم اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی عالمی سطح پر سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں: برطانوی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر سے گفتگو میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، برطانوی وزیر خارجہ نے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور مذاکراتی کردار کو سراہا۔ اسحاق ڈار نے مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی رابطہ کیا، جس میں دونوں ممالک نے خطے میں امن کے لیے مسلسل سفارتی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ
ویانا، عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3.86 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد قیمت 112.39 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس خام تیل کی قیمت میں 5.14 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد نئی قیمت 101.37 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.68 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد اس کی قیمت 110.03 ڈالرز فی بیرل کی سطح عبور کر گئی تھی۔
امریکی خام تیل کی قیمت 2.29 فیصد بڑھ کر 98.63 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق جنگ شروع ہونے سے پہلے یہ تیل صرف 67.02 ڈالرز پر دستیاب تھا، جو اب تقریباً 100 ڈالرز کے قریب پہنچ چکا ہے جبکہ جنگ سے پہلے برینٹ خام تیل کی قیمت 73 ڈالرز فی بیرل تھی، جس میں اب تک 37 ڈالرز سے زائد کا ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔
ماہرینِ معاشیات کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں اس مسلسل اضافے سے عالمی سطح پر مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔
خاص طور پر وہ ممالک جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر منحصر ہیں، ان کے تجارتی خسارے میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ ہے، جس کا بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل ہوگا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ایرانی فیس دنیا کے لیے ناقابل برداشت ہوگئی
نیویارک، آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کی جانب سے فیس کی وصولی دنیا کے لیے ناقابل برداشت ہو گئی ہے، امریکہ سے لے کر اقوام متحدہ تک آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز پر عملی طور پر اپنا کنٹرول قائم کرتے ہوئے فیس وصول کرنا شروع کر دیا ہے، اگرچہ اس کی شرح اور قانونی حیثیت ابھی بین الاقوامی طور پر متنازع ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر فیس عائد کرنے کی کوشش برداشت نہیں کر سکتے۔ انھوں نے کہا بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کو یرغمال بنانے کی کوشش برداشت نہیں کریں گے، آبنائے ہرمز کھلا ہونے کا ایرانی دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں ہے، ایران سے اجازت لینا یا اسے ادائیگی کرنا آبنائے ہرمز کا کھلا ہونا نہیں ہے۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ایران کی مرضی اور ادائیگی کے عوض بحری راستہ استعمال کرنا معمول نہیں ہو سکتا، ایران یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ بین الاقوامی گزرگاہ کون استعمال کرے گا اور کون نہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کا احترام کیا جانا چاہیے، فریقین سے اپیل ہے کہ آبنائے ہرمز کھولیں اور جہازوں کو گزرنے دیں، کوئی ٹول نہیں کوئی امتیاز نہیں، تجارت دوبارہ شروع ہونے دیں۔ یو این سیکریٹری جنرل نے اپیل کی کہ عالمی معیشت کو سانس لینے دیں، محفوظ اور بلا روک ٹوک راستہ ہی معاشی اور انسانی ضرورت ہے۔ امریکی نمائندہ برائے سلامتی کونسل نے رد عمل میں کہا کہ ایران کی جانب سے جہاز گزرنے کی فیس رشوت کے برابر ہے، یہ آبنائے ایران کی ملکیت نہیں ہے، اس نے خلیجی ریاستوں پر ہزاروں میزائل اور ڈرون داغے اور اپنے خلیجی پڑوسیوں پر گولہ باری کی ہے۔
امریکی نمائندے نے کہا ایران کو آبنائے ہرمز کو سودے بازی کے طور پر استعمال کرنے کا حق نہیں ہے، ایران کو آبنائے میں مہم جوئی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ادھر الجزیرہ کے مطابق ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ مجوزہ قومی قانون کے تحت، جو اس آبی گزرگاہ کے انتظام سے متعلق ہے، آبنائے ہرمز کی ذمہ داری اب ان کے ملک کی مسلح افواج کے سپرد ہوگی۔
دوسری طرف روس کے اقوامِ متحدہ میں سفیر واسیلی نیبینزیا نے کہا کہ ایران کو مکمل حق حاصل ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کو محدود کرے اور اس پر کنٹرول رکھے۔ نیبینزیا نے مزید مغربی ممالک کا موازنہ منافقوں اور قزاقوں سے کرتے ہوئے یورپی ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو بحیرۂ اسود میں روسی تجارتی جہازوں پر یوکرینی حملوں کی حمایت کر رہے ہیں۔
سفیر کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران اگر کسی ساحلی ریاست پر حملہ ہو رہا ہو تو وہ اپنی علاقائی سمندری حدود میں سیکیورٹی کے پیشِ نظر جہاز رانی کو محدود کر سکتی ہے۔
قزاقوں کے برعکس، جو اپنے جہازوں پر کھوپڑی اور ہڈیوں والا سیاہ جھنڈا لہراتے ہیں، مغربی ممالک اپنی غیر قانونی کارروائیوں کو یک طرفہ جبری اقدامات کے حوالے دے کر چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فی بیرل کی بنیاد پر تخمینہ: متعدد اطلاعات کے مطابق تیل بردار جہازوں سے فی بیرل تیل کے حساب سے ایک امریکی ڈالر وصول کرنے کی تجویز ہے۔ اس حساب سے ایک بڑے ٹینکر (VLCC) سے تقریباً 20 لاکھ ڈالر تک وصول کیے جا سکتے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس فیس سے ایران کو سالانہ 100 ارب ڈالر تک کی آمدنی ہوسکتی ہے، جو ملک کی جی ڈی پی کا 20-25 فی صد ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے اپریل 2026 کے اوائل میں بتایا تھا کہ فیس کی شرح کا تعین ابھی مکمل نہیں ہوا اور اس پر کام جاری ہے۔ البتہ اسی ماہ کے آخر میں ایران نے یہ اعلان کیا کہ اسے پہلی قسط موصول ہو چکی ہے۔ ایران نے اس فیس کو وصول کرنے کے لیے ایرانی ریال، چینی یوآن، امریکی ڈالر اور یورو میں اکاؤنٹ کھولے ہیں۔ تاہم امریکی پابندیوں کے پیش نظر، ادائیگی بنیادی طور پر ایرانی ریال، یوآن یا کرپٹو کرنسی میں کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ کو غیر قانونی و غیر معقول شرائط ترک کرنا ہونگی: ایرانی نائب وزیرِ دفاع
تہران، ایران کے نائب وزیرِ دفاع رضا طلائی نیک کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اپنی غیر قانونی اور غیر معقول شرائط ترک کرنا ہوں گی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع کے اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیرِ دفاع رضا طلائی نیک نے کہا ہے کہ امریکہ اب دوسرے ممالک پر اپنی پالیسی مسلط کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ایران آزاد ممالک خصوصاً شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ دفاعی ہتھیاروں کی صلاحیتیں شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے حوالے سے یکم مئی کی اہم ڈیڈ لائن کا سامنا ہے، امریکی قانون وار پاورز ایکٹ کے تحت صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر 60 دن سے زیادہ فوجی کارروائی جاری نہیں رکھ سکتے۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو دنیا کے خلاف ‘معاشی ایٹمی ہتھیار’ کے طور پر استعمال کر رہا ہے، اس لیے کوئی بھی معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام کو شامل کیے بغیر ممکن نہیں۔ مارکو روبیو نے ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ ایران 25 فیصد عالمی توانائی کو روکنے کی صلاحیت پر فخر کر رہا ہے اور اگر اسے جوہری ہتھیار مل گیا تو صورتِ حال مزید خطرناک ہو جائے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر4 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا1 week agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoشہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر
دنیا1 week agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں
دنیا1 week agoامریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ زیادہ دور نہیں
ہندوستان3 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق









































































































