دنیا
ایران پالیسی پر صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے، ایکسیوس
واشنگٹن، ایران پالیسی پر صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں، امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ڈیل کرنا چاہتے ہیں لیکن نیتن یاہو جنگ کے خواہاں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کی سیاسی بقا جنگ سے وابستہ ہے جب کہ ٹرمپ کی سیاسی کامیابی جنگ کے خاتمے میں ہے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ حالیہ پیش رفت نے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی اور اسٹریٹجک اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر مکمل جنگ کے قریب پہنچ گئی تھی، جس نے امریکہ کے دوبارہ مشرقِ وسطیٰ کے بڑے فوجی تنازع میں الجھنے کے خدشات کو بڑھا دیا تھا۔
اسرائیل کے بیروت میں حزب اللہ کے ایک ہدف پر حملے کے بعد ایران نے اسرائیل پر میزائل داغے، جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر دباؤ ڈالا کہ وہ مزید کارروائی سے گریز کریں، کیوں کہ انھیں خدشہ تھا کہ یہ صورت حال ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک معاہدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ ایران مذاکرات اور جنگ بندی کے لیے تیار ہے، جب کہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایرانی حملوں کا جواب نہ دینا کمزوری کا پیغام دے گا۔
شدید سفارتی رابطوں اور متعدد فون کالز کے بعد نیتن یاہو نے ایران کی جانب سے مزید حملے نہ ہونے کی صورت میں اپنے بڑے منصوبہ بند حملے روکنے پر رضامندی ظاہر کی۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے تزویراتی و سیاسی مفادات میں فرق بڑھتا جا رہا ہے، ٹرمپ جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں جب کہ بعض امریکی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو کے سیاسی مفادات جنگ کے جاری رہنے سے وابستہ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے 100 دن بعد بھی ٹرمپ جنگ کے خاتمے کے لیے مطلوبہ معاہدہ حاصل نہیں کر سکے ہیں، اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وہ اس جنگ کے دوبارہ مکمل شدت کے ساتھ شروع ہونے سے بچانے کی کوششوں میں مصروف رہے۔
ٹرمپ ایک مشکل صورت حال سے دوچار تھے۔ ایک طرف وہ سمجھتے تھے کہ ان کے اہم اتحادی نیتن یاہو کے لیے ایرانی میزائل حملے کا جواب دیے بغیر رہنا تقریباً ناممکن ہوگا۔ دوسری طرف انھیں خدشہ تھا کہ جوابی حملوں کا یہ سلسلہ مکمل جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے فون پر دیے گئے ایک انٹرویو میں ایکسیوس کو بتایا کہ انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرتے ہیں تو ممکن ہے انھیں اکیلے ہی لڑنا پڑے۔ ادھر دو امریکی دفاعی عہدے داروں کے مطابق اگرچہ امریکی فوج نے نئے اسرائیلی حملوں میں حصہ نہیں لیا، لیکن اس نے ایرانی میزائلوں کو روکنے میں آئی ڈی ایف کی مدد کی تھی۔ ٹرمپ نے ایکسیوس کو بتایا کہ انھیں خطے کے 5 مختلف ممالک سے فون کالز موصول ہوئیں جن میں ان سے نیتن یاہو کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی درخواست کی گئی۔ ٹرمپ نے کہا ’’یہ ممالک بہت پریشان تھے۔ انھیں وہ معاہدہ بہت پسند ہے جس پر ہم مذاکرات کر رہے ہیں۔‘‘
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پیر کی صبح ایران کی جانب سے ایسے پیغامات موصول ہوئے جن میں کہا گیا تھا کہ اگر اسرائیل حملے روک دے تو ایران بھی فائرنگ بند کرنے کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے کہا ’’انھوں نے ہمیں فون کیا اور کہا کہ وہ مزید حملے نہیں کر رہے اور ہم اسرائیل کو بھی کہیں کہ وہ مزید حملے نہ کرے۔‘‘ دو اسرائیلی حکام کے مطابق اسرائیل پیر کے روز اپریل کے بعد ایران کے خلاف سب سے بڑے حملوں کی تیاری کر رہا تھا اور درجنوں حساس اہداف کو نشانہ بنایا جانا تھا۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو فون کیا اور حملے روکنے کا کہا۔ ٹرمپ نے کہا ’’بِیبی، بہتر ہے محتاط رہو، ورنہ بہت جلد تم اکیلے رہ جاؤ گے۔‘‘ نیتن یاہو اس بات پر راضی ہو گئے کہ اگر ایران حملہ نہ کرے تو اسرائیل بھی پیچھے ہٹ جائے گا۔ اس گفتگو کے بعد نیتن یاہو نے اپنے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو حملے منسوخ کرنے کا حکم دے دیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل کے موقف سے قطع نظر امریکہ ایران جوہری معاہدے پر آگے بڑھے گا: وینس
واشنگٹن، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام پر کسی سمجھوتے تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھے گا، چاہے اس پر اسرائیل کا موقف کچھ بھی ہو۔
مسٹر وینس نے فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ “گزشتہ چند مہینوں میں اور درحقیقت گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران جو کچھ ہوا ہے، اس نے ایک ایسا ماحول بنایا ہے جس میں صدر یقین رکھتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ہم ایرانی جوہری مسئلے کا ایک طویل مدتی حل تلاش کر سکتے ہیں۔” “چاہے اسرائیل اسے پسند کرے یا نہ کرے، ہمیں یقین ہے کہ یہ امریکہ کے بہترین مفاد میں ہے۔ لہٰذا ہم اس سمت میں آگے بڑھتے رہیں گے، کیونکہ امریکی عوام نے یہی صدر منتخب کیا ہے اور ہمیں امریکی عوام کی خدمت کے لیے یہی کرنا ہے،”
مسٹر وینس کے تبصرے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دراڑ کے بارے میں قیاس آرائیوں کے درمیان آئے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اسرائیل پر زور دیا کہ وہ ایرانی میزائل حملوں کا جوابی کارروائی نہ کرے، لیکن اسرائیل نے اس درخواست پر کان دھرنے سے انکار کر دیا۔ اتوار کو مغربی ایشیا میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملہ کیا۔
ایران نے اس کے جواب میں شمالی اسرائیل کی طرف میزائل داغے۔ اس کے بعد اسرائیل نے ایران کے خلاف کئی راؤنڈ فضائی حملے کیے، جب کہ تہران نے اضافی میزائل حملوں کا جواب دیا۔ ایران کی فوج نے پیر کی صبح کہا کہ وہ اسرائیل کے خلاف حملوں کو روک رہی ہے، لیکن لبنان میں اسرائیلی کارروائی جاری رکھنے کی صورت میں “انتہائی سخت اور تباہ کن” ردعمل کا انتباہ دیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے فی الحال ایران پر فضائی حملے روکنے پر رضامندی ظاہر کی ہے لیکن وہ جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
غور طلب ہے کہ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد پورے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی اڈوں کے ساتھ اسرائیل اور دیگر ممالک کو نشانہ بنایا۔ ایک عارضی جنگ بندی 8 اپریل کو عمل میں آئی تھی لیکن اس کے نفاذ اور علاقائی پیش رفت پر اختلافات کی وجہ سے بات چیت تعطل کا شکار ہے۔
صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا اعلان کیا تاہم ابھی تک تنازع کو مکمل طور پر ختم کرنے کا کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو اس کے جوہری پروگرام پر کسی بھی قسم کی بات چیت سے قبل جنگ کو مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ بندی مسودے میں لبنان سمیت تمام علاقوں کو شامل کیا جائے گا، امیر سعید ایروانی
اقوام متحدہ، اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ امریکہ ایران جنگ بندی سے متعلق حتمی مسودے پر بات چیت جاری ہے۔ ابھی اتفاق نہیں ہوا، کوششیں جاری ہیں۔
روسی خبر ایجنسی کے مطابق امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ مسودے اور گفتگو کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے کہا کہ جنگ بندی کے مسودے میں لبنان سمیت تمام علاقوں کو شامل کیا جائے گا۔
قبل ازیں ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ نہ محاذ چھوڑا اور نہ ہی مذاکرات کا راستہ ترک کیا ہے۔ ایک بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ہماری ترجیح ایران کی سلامتی اور اپنے لوگوں کا امن ہے، سفارت کاری اور دفاع قومی طاقت کے دو بازو ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہم نہیں سمجھتے کہ امریکی صدر دیانت داری سے بات کر رہے ہیں: ابراہیم عزیزی
تہران، ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ ہم نہیں سمجھتے کہ امریکی صدر دیانت داری سے بات کر رہے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کو جنگ کا ایک حصہ سمجھتے ہیں، امریکہ اور امریکی صدر کی سنجیدگی نظر آئی تو مذاکرات پر اعتراض نہیں۔ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے اصولوں کی پابندی کرے تو ایران کو کوئی مسئلہ نہیں، ایران کو سنجیدہ ارادہ نظر نہیں آتا جس میں کوئی قابلِ عمل فریم ورک تشکیل پاسکے۔
ٹرمپ اسٹریٹجک ڈیڈ لاک سے نکلنا چاہتے ہیں، ابراہیم عزیزی ان کا کہنا ہے کہ ایران کے منجمد اثاثوں کا مسئلہ اس کی ایک واضح اور نمایاں مثال ہے، یورینیم افزودگی اور جوہری معاملات پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، اس مرحلے پر ان مسائل پر مذاکرات مقصود ہی نہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ہوگا؟ کہ سوال پر ابراہیم عزیزی نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ہونا دوسری طرف کے طرزِ عمل پر ہے، یہی رویہ جاری رہا تو جواب نفی میں ہے، کیونکہ ہمیں بالکل اعتماد نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اعتماد کے بغیر مذاکرات جاری رکھنا ممکن نہیں، مذاکرات کا تسلسل ممکن نہ ہو تو فطری طور پر کوئی نتیجہ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی طے کردہ شرائط پوری کی جائیں، قومی مفادات، اقتصادی معاملات اور لبنان کے مسئلے میں عملی پیش رفت نظر آئے تو مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں، ایسا نہ ہوا تو ایران مزاحمتی محاذ، اس کے ارکان اور بالخصوص لبنان کے معاملے پر پیچھے نہیں ہٹے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر6 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
ہندوستان5 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
جموں و کشمیر3 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
کھیل1 week agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
دنیا4 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا3 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
دنیا5 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
جموں و کشمیر6 days agoوزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی اراکینِ پارلیمنٹ اور وزراء کے ساتھ خفیہ اور اہم اجلاس
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا6 days agoامریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں: ایران










































































































