جموں و کشمیر
شری امرناتھ یاترا کے لیے 8815 تیرتھ یاتریوں کا چھٹا جتھہ جموں سے روانہ
جموں، جموں و کشمیر میں شری امرناتھ یاترا کے لیے 8815 تیرتھ یاتریوں کا چھٹا جتھہ منگل کو سخت سکیورٹی کے درمیان جموں کے بھگوتی نگر یاتری نواس بیس کیمپ سے جنوبی کشمیر ہمالیہ میں واقع گپھا مندر کے لیے روانہ ہوا۔
حکام نے بتایا کہ 8815 تیرتھ یاتری آج صبح جموں بیس کیمپ سے 363 ہلکی اور بڑی گاڑیوں کے قافلے میں روانہ ہوئے۔
اس جتھے میں 3989 زائرین بالتال بیس کیمپ اور 4826 یاتری پہلگام بیس کیمپ کے لیے جا رہے تھے۔ یہ قافلہ کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کے درمیان آگے بڑھا۔ یاترا کو محفوظ اور پرامن طریقے سے مکمل کرانے کے لیے سول انتظامیہ، پولیس، سکیورٹی فورسز اور شری امرناتھ شرائن بورڈ نے مل کر انتظامات کیے ہیں۔
جموں و کشمیر انتظامیہ نے تیرتھ یاتریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پکا رجسٹریشن ملنے اور اپنی طے شدہ یاترا کی تاریخ پر ہی سفر کریں کیونکہ بغیر رجسٹریشن والے کسی بھی یاتری کو بیس کیمپ تک جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ واضح رہے کہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے گزشتہ دو جولائی کو جموں سے یاترا کے پہلے جتھے کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا تھا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
ڈوڈا کے تھاتھری قصبے میں بادل پھٹنے سے گھروں اور گاڑیوں کو نقصان
جموں، جموں و کشمیر میں ڈوڈا ضلع کے تھاتھری علاقے میں بادل پھٹنے سے اچانک آئے سیلاب اور مٹی کے تودے کھسکنے سے کئی گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔
سرکاری ذرائع نے منگل کو بتایا کہ کل دیر رات تقریباً 2:30 بجے تھاتھری قصبے میں بادل پھٹا، جس سے اچانک سیلاب آگیا اور علاقے میں کافی تباہی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ “خبروں کے مطابق، تھاتھری بازار کو کافی نقصان پہنچا ہے اور کئی گھر بڑے پتھروں، مٹی اور ملبے کے نیچے دب گئے ہیں۔ کئی گاڑیوں کے بھی تباہ ہونے یا بہہ جانے کی خبر ہے۔” ذرائع نے کہا کہ “نقصان کا صحیح اندازہ لگایا جا رہا ہے۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے یا مرنے کی کوئی خبر نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ “کئی گھروں میں مٹی، پانی اور ملبہ داخل ہوگیا، جس کی وجہ سے لوگوں کو ملبہ ہٹانے میں کافی مشقت کرنی پڑی۔” ساتھ ہی کئی خاندانوں کو سڑکوں پر رہنے پر مجبور ہونا پڑا۔
حکام نے بتایا کہ کافی مقدار میں مٹی اور ملبہ جمع ہونے کی وجہ سے ڈوڈا-کشتواڑ قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “واقعے کے بعد کی صورتحال پر باریک بینی سے نظر رکھی جا رہی ہے اور انتظامی حکام و پولیس اہلکاروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لے رہی ہیں۔”
اس سے پہلے، ڈوڈا ضلع کے بھلیسا علاقے اور کشتواڑ ضلع میں 540 میگاواٹ کے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے پاس بھی بادل پھٹنے کے واقعات ہوئے تھے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
کشمیر کی تاریخ 2019 سے شروع نہیں ہوئی،وادیِ کشمیر کے تشخص پر میرواعظ کا مؤقف
سرینگر، حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے پیر کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی تقریباً پانچ ہزار سالہ تاریخ اور تہذیبی ورثہ کو فراموش یا مٹایا نہیں جا سکتا، کیونکہ کشمیر کی تاریخ کا آغاز 2019 سے نہیں ہوا۔
میرواعظ نے دو متنازع کتابوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند شخصیات کی ستائش پر مبنی مواد سامنے آنے کے بعد جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے آٹھ سرکاری افسران کی معطلی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے، جس میں مختلف مذہبی، ثقافتی اور سیاسی ادوار شامل ہیں۔
نہوں نے کہا، “کشمیر کی تاریخ تقریباً پانچ ہزار سال پرانی ہے اور ہمیں اس کے ہر باب پر فخر ہے۔ اس میں بدھ مت کا دور، شیو مت، ہندو دھرم، اسلام کی آمد اور بعد ازاں 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد کے تمام اہم تاریخی مراحل شامل ہیں۔”
میرواعظ نے کہا کہ یہ ایک فطری امر ہے کہ مختلف ادوار اور واقعات پر متعدد مصنفین نے اپنی اپنی آرا اور تحقیقات قلم بند کی ہیں، اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کشمیر کی تاریخ 2019 کے بعد شروع ہوئی اور اس سے پہلے کے تمام بیانیوں پر پابندی عائد کر دی جائے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایک جمہوری معاشرے میں مکالمہ، علمی مباحث اور مختلف نقطۂ نظر کے اظہار کی گنجائش ہونی چاہیے۔ ان کے بقول، “کتابوں پر پابندی لگانے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہر شخص کو اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔”
میرواعظ نے مزید کہا کہ تاریخ کو نہ تو مٹایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے صرف ان حصوں کو منتخب کیا جا سکتا ہے جو کسی مخصوص بیانیے سے مطابقت رکھتے ہوں۔ ان کے مطابق، معاشرے آزادیِ اظہار، مکالمے اور علمی بحث سے آگے بڑھتے ہیں، نہ کہ کتابوں پر پابندی لگانے یا مختلف آرا کو خاموش کرانے سے۔
انہوں نے کتابوں، تنظیموں اور سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کرنے کے رجحان پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات معاشرے میں نامناسب پیغام دیتے ہیں، جبکہ تاریخی حقائق اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: سرکاری اناج غبن معاملہ، 5 اعلیٰ حکام سمیت 14 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج
سرینگر، جموں و کشمیر کے اینٹی کرپشن بیورو نے پیر کے روز ضلع کپواڑہ کے کرناہ علاقے میں سرکاری راشن (اناج) کے بڑے پیمانے پر غبن، خرد برد اور ہیرا پھیری کے الزام میں محکمہ خوراک، شہری رسد اور امورِ صارفین کے پانچ اعلیٰ افسران اور نو (9) سرکاری راشن ڈیلرز کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔
محکمہ عمومی انتظامیہ سے باضابطہ منظوری ملنے کے بعد، کرپشن کے اس سنگین معاملے میں اے سی بی پولیس اسٹیشن بارہمولہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔اے سی بی ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی ڈائریکٹر فوڈ، سول سپلائیز اینڈ کنزیومر افیئرز کشمیر کی جانب سے موصول ہونے والے ایک سرکاری خط کے بعد کی گئی ہے۔ خط میں محکمانہ معائنے اور فزیکل ویریفکیشن (جسمانی تصدیق) کے دوران سرکاری اناج کے اسٹاک میں بھاری کمی پائے جانے پر مجرمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔
سرکاری گوداموں پر کیے گئے اچانک مشترکہ معائنے میں ابتدائی طور پر کپواڑہ کے کرناہ میں واقع ‘لونتھا فوڈ اسٹور’ سے 4,175.89 کوئنٹل چاول کم پائے گئے تھے۔
محکمہ کی ذیلی کمیٹی کی تفصیلی رپورٹ اور اے سی بی کی گہری چھان بین کے بعد انکشاف ہوا کہ ضلع کپواڑہ کے ٹنگڈھار، کرناہ-اے اور کرناہ-بی سرکلز کے تحت آنے والے مختلف سرکاری سیلز سینٹرز اور راشن کی دکانوں پر اناج کا ایک بڑا حصہ غائب تھا۔ اس سوچے سمجھے غبن کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو تقریباً 5.57 کروڑ روپے کا خطیر نقصان پہنچا ہے۔
“سرکاری اناج کی یہ بڑی کمی دراصل سرکاری ملازمین اور نجی فائدہ اٹھانے والوں (ڈیلرز) کی ملی بھگت سے رچی گئی ایک ‘منظم مجرمانہ سازش’ کا نتیجہ ہے۔ ان افراد نے ناجائز طور پر مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے اپنے عہدوں اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور غریبوں کے راشن میں ہیرا پھیری کی۔”
تفتیش اور تصدیق کے دوران حاصل ہونے والے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر، اے سی بی نے ملزمان کے خلاف فرائض میں غفلت، مجرمانہ خیانت (امانت میں خیانت)، سرکاری اناج چوری کرنے اور سازش رچنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
نامزد کیے گئے اہم ملزمان میں
عمر بشیر عرف راجہ عمر (تکنیکی طور پر اسسٹنٹ اسٹور کیپر)
عاشق حسین میر (تکنیکی طور پر اسسٹنٹ اسٹور کیپر) شامل ہیں۔
ان کے علاوہ دیگر 12 افراد، جن میں محکمہ کے ملازمین اور راشن ڈپو کے ڈیلرز شامل ہیں۔
اے سی بی حکام کے مطابق، معاملے کی تفصیلی تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور اس گھوٹالے میں ملوث کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔
یواین آئی ۔م اع
ہندوستان1 week agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا1 week agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا5 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
دنیا7 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صرف ایران ہٹائے گا، فرانس کا مؤقف مسترد
جموں و کشمیر6 days agoسری نگر میں کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر کی غیر منقولہ جائیداد ضبط
ہندوستان6 days agoبی جے پی نے بھگوان رام کے نام کا صرف سیاسی استعمال کیا: کیجریوال
دنیا6 days agoامریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیدائشی شہریت برقرار رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو “بڑی غلطی” قرار دیا
ہندوستان7 days agoکھرگے کا الزام: مرکز منریگا کو کمزور کر رہا ہے، زیر التوا بقایا جات اور نئی دیہی روزگار اسکیم پر وزیر اعظم سے جواب طلب کیا
ہندوستان1 week agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
دنیا5 days agoامریکہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل سفارتخانہ تعمیر کرنے کیلئے معاہدے پر دستخط کردیے
دنیا1 week agoایران کے خلاف جنگ ایک بڑی غلطی تھی: صدر سلووینیا





































































































