ہندوستان
دہلی پولیس نے صحت کی تشویش کے پیش نظر سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیا
نئی دہلی، مبینہ نیٹ پیپر لیک کے معاملے پر جنتر منتر پر 20 روز کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال مکمل کرنے کے بعد سماجی کارکن سونم وانگچک کو ہفتہ کی علی الصبح دہلی پولیس نے اسپتال منتقل کر دیا۔
حکام نے بتایا کہ یہ قدم ان کی گرتی ہوئی صحت کی وجہ سے اور دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق اٹھایا گیا ہے۔
پولیس اہلکار صبح ہونے سے پہلے احتجاجی مقام پر پہنچے اور 59 سالہ سماجی کارکن کو طبی مرکز منتقل کر دیا۔ اس کارروائی کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے حامیوں کی طرف سے احتجاج اور نعرے بازی شروع ہو گئی، جو مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر تحریک کی قیادت کر رہی ہے۔
ایک بیان جاری کرتے ہوئے دہلی پولیس نے کہا کہ یہ فیصلہ طبی مشورے اور عدالت کی ہدایات کے بعد کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ سونم وانگچک کو ضروری طبی دیکھ بھال کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور یہ کارروائی ان کی گرتی ہوئی صحت کی وجہ سے کی گئی ہے۔
پولیس نے مظاہرین سے جنتر منتر کو پرامن طریقے سے خالی کرنے کی بھی اپیل کی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ہائی کورٹ کے احکامات کی تعمیل کے دوران مظاہرین نے رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں ہلکی سی افراتفری پیدا ہوئی۔ تاہم پولیس نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا اور اس کارروائی کو بحفاظت انجام دیا۔ ہم جنتر منتر پر موجود مظاہرین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد پرامن طریقے سے جگہ خالی کر دیں۔
دی کلینکس، ہاؤز خاص کے جنرل فزیشن اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ستیش لامبا کی طرف سے جمعہ کو جاری کردہ ہیلتھ اپڈیٹ کے مطابق، وانگچک کا وزن گر کر تقریباً 56.6 کلوگرام رہ گیا تھا، جس سے 28 جون کو فاقہ شروع ہونے کے بعد سے ان کے وزن میں مجموعی طور پر نو کلوگرام سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔
طویل فاقہ کشی کے اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر لامبا نے کہا کہ گلوکوز کے ذخائر ختم ہونے کے بعد جسم چربی کا استعمال کرتا ہے۔ اس کے بعد عضلات کا استعمال شروع ہو جاتا ہے۔ ان کا کیٹون لیول 3-پلس تک پہنچ گیا تھا اور ہائیڈریشن کو بہتر بنانے کے بعد یہ 2-پلس پر آگیا ہے۔ ان کا یورک ایسڈ زیادہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عضلات استعمال ہو رہے ہیں۔
بھوک ہڑتال جاری رہنے کی صورت میں ممکنہ پیچیدگیوں سے خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلا مرحلہ تشویشناک ہو سکتا ہے۔ اعضاء متاثر ہو سکتے ہیں۔ ہم ان پر 24 گھنٹے نظر رکھے ہوئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ اس مرحلے تک نہیں پہنچے گا۔
بروقت مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے ڈاکٹر لامبا نے مزید کہا کہ میں حکومت سے جلد از جلد مداخلت کرنے کی اپیل کرتا ہوں کیونکہ وہ ایک قیمتی ہیرا ہیں اور ہم انہیں کھونا نہیں چاہتے۔ اگر اعضاء متاثر ہوتے ہیں تو یہ ہمارے لیے واقعی تشویشناک ہو سکتا ہے۔
میڈیکل بلیٹن میں ان کا بلڈ پریشر 108/68 ایم ایم ایچ جی، بلڈ شوگر 80 ایم جی/ڈی ایل، نبض کی رفتار 72 دھڑکن فی منٹ اور آکسیجن کی سیچوریشن 96 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ڈاکٹروں نے ہلکی پانی کی کمی کا ذکر کیا لیکن کہا کہ وہ ہوش میں ہیں، ذہنی طور پر چوکس ہیں اور چوبیس گھنٹے مشاہدے میں ہیں۔
جیسے ہی وانگچک کی صحت بگڑی، گزشتہ دو دنوں میں کئی اپوزیشن لیڈروں نے احتجاجی مقام پر ان سے ملاقات کی۔
کانگریس لیڈر پون کھیڑا، سماج وادی پارٹی کی ایم پی ڈمپل یادو اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے ان کی مہم کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے ان سے اپنی طبی حالت کے پیش نظر فاقہ ختم کرنے کی اپیل کی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
پیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
نئی دہلی، یوتھ کانگریس نے ‘چھاتروں کی گونج’ مہم کے تحت دہلی میں پیپر لیک احتجاجی مظاہرے کے دوران زخمی، پھنسے ہوئے یا کسی بھی طرح کی مدد کی ضرورت والے طلبہ کے لیے امدادی مہم شروع کی ہے انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب نے کہا کہ دہلی میں موجود ایسے طلبہ جنہیں رہنے کی جگہ، کھانا، طبی امداد یا قانونی مدد کی ضرورت ہے، وہ ہیلپ لائن نمبر 8826970690، 9211452848 اور 9827048238 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ طلبہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی مدد مانگ سکتے ہیں۔ مسٹر چب نے کہا، “پیپر لیک کے خلاف اپنی آواز اٹھانے والے طلبہ پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال جمہوریت پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ یوتھ کانگریس دہلی میں کسی بھی طرح کی پریشانی کا سامنا کر رہے یا مدد کی ضرورت والے ہر ایک طالب علم کے ساتھ کھڑی ہے۔ چاہے رہنے کا انتظام ہو، کھانا، میڈیکل امداد یا قانونی مدد، انڈین یوتھ کانگریس ہر ممکن تعاون دینے کے لیے تیار ہے۔ کوئی بھی طالب علم بغیر کسی جھجھک کے ہم سے رابطہ کر سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ تنظیم کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ احتجاجی مظاہرے کے دوران کسی بھی طالب علم کو اکیلا نہ چھوڑا جائے اور ضرورت پڑنے پر اسے فوری امداد فراہم کرائی جائے۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
دہلی ہائی کورٹ نے سونم وانگچک کو میدانتا اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی
نئی دہلی، دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو سماجی کارکن سونم وانگچک کو صفدر جنگ اسپتال سے میدانتا اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دے دی عدالت نے تبصرہ کیا کہ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ ان کی جاری بھوک ہڑتال کی وجہ سے انہیں مسلسل طبی نگرانی کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تیجس کاریا کی بنچ نے مسٹر وانگچک کی اہلیہ ڈاکٹر گیتانجلی انگمو کی طرف سے دائر ایک اپیل پر سماعت کرتے ہوئے یہ اجازت فراہم کی۔
ڈاکٹر انگمو نے سنگل بنچ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس میں انہیں نجی اسپتال میں منتقل کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ مسٹر وانگچک کے میڈیکل ریکارڈ کے جائزے اور ایمس ، صفدر جنگ اسپتال اور ان کی نجی میڈیکل ٹیم کے ڈاکٹروں سے مشورے کے بعد، دہلی ہائی کورٹ نے متفقہ طور پر پایا کہ انہیں اسپتال میں مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے اور کہا کہ انہیں ان کی پسند کے اسپتال ‘میدانتا’ میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ مرکزی سرکار اور دہلی پولیس کی طرف سے پیش ہوئے سالیسیٹر جنرل تُشار مہتا اور ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل چیتن شرما نے عدالت کو مطلع کیا کہ سرکار کو مسٹر وانگچک کو میدانتا منتقل کیے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بنچ نے کہا، “ہم انہیں علاج کے لیے میدانتا منتقل کرنے کی تجویز رکھتے ہیں، اور صفدر جنگ اسپتال کے تمام میڈیکل ریکارڈ اور رپورٹیں میدانتا اسپتال کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔” اس کے ساتھ ہی بنچ نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک باضابطہ حکم جاری کیا جائے گا۔
یہ تبصرہ مسٹر وانگچک کی طرف سے پیش سینئر ایڈوکیٹ اکھل سبل کے ذریعے ان کے پرانے ڈاکٹروں کی رپورٹ کی بنیاد پر دی گئی دلیلوں کے بعد آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ان کی زندگی کو کوئی فوری خطرہ نہیں ہے۔ مرکزی سرکار نے اس منتقلی پر کوئی اعتراض نہیں جتایا اور یقین دہانی کرائی کہ تمام میڈیکل ریکارڈ میدانتا کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔ اگرچہ مسٹر وانگچک کے وکیل نے دلیل دی کہ ان کی حالت ایسی نہیں ہے کہ انہیں اسپتال میں داخل رکھا جائے، لیکن ایمس اور صفدر جنگ کے ڈاکٹروں نے کم بلڈ سیلز کاؤنٹ، کم ہیموگلوبن اور یورک ایسڈ کی سطح بڑھنے پر تشویش جتائی اور انفیکشن کے بڑھتے خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے مسلسل طبی نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
طلبا کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کوٹالنا نامناسب : راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف مسٹر راہل گاندھی نے طلبا کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث نہ کرائے جانے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اس بارے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے بحث کرانے کا مطالبہ کیا لیکن انہیں بتایا گیا کہ اس کے لیے سرکار سے اجازت لینی ہوگی مسٹر گاندھی نے منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ طالب علموں کے مستقبل سے جڑے اس سنگین معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔ طالب علموں پر لاٹھی چارج اور مار پیٹ کی جا رہی ہے، جو پوری طرح غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوان تباہ ہو چکے تعلیمی نظام اور امتحانی نظام کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں، لیکن وزیرِ اعظم نریندر مودی اس معاملے پر خاموش ہیں۔ انہیں طالب علموں سے معافی مانگنی چاہیے اور طالب علموں کے خلاف طاقت کا استعمال فوری طور پر بند کرانا چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک قابلِ قبول نہیں ہے۔ نوجوانوں کے سامنے مواقع کے تمام راستے تقریباً بند ہو چکے ہیں۔ صرف مسابقتی امتحانات کا راستہ بچا تھا، لیکن وہ نظام بھی برباد ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں موجود طالب علم صرف تعلیمی نظام کی شکایت نہیں کر رہے ہیں بلکہ اپنے مستقبل کے تعلق سے بھی فکر مند ہیں۔ یہ صرف تعلیم کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ طالب علم کہہ رہے ہیں کہ انہیں اپنے مستقبل کی کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ اس پورے معاملے کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان، وزیرِ داخلہ امیت شاہ اور مسٹر مودی کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ انہوں نے دہرایا کہ طالب علموں کے مستقبل سے جڑے اس سنگین موضوع پر پارلیمنٹ میں وسیع بحث کرائی جانی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
دنیا4 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
دنیا6 days agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
ہندوستان6 days agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا6 days agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا4 days agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
جموں و کشمیر3 days agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
دنیا4 days agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
دنیا4 days agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
دنیا4 days agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ
ہندوستان5 days agoاتراکھنڈ کے طلبہ پیپر لیک کے خلاف ‘چھاتروں کی گونج’ سے جڑے: راہل
دنیا6 days agoامریکی ناکہ بندی سے قبل ایران سے وابستہ 9 جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کی
دنیا5 days agoایرانی فوج کو دشمن کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی مکمل آزادی ہے، باقر قالیباف



































































































