دنیا
سعودی عرب کے یمن کے شہر الحدیدہ میں فضائی حملے
ریاض، سعودی عرب نے یمن کے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول مغربی شہر الحدیدہ میں ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی تنصیبات اور کمران جزیرے پر فضائی حملے کیے ہیں۔
ترجمان سعودی رائل فورسز ترکی المالکی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ سعودی عرب نے یہ کارروائی حوثی ملیشیا کے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی اور بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے پر کی گئی ہے۔
حوثی ٹی وی المسیرہ نے بھی الحدیدہ پر سعودی فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے۔ حوثیوں کی وزارتِ خارجہ کے مطابق سعودی عرب نے یمن کے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول شہر الحدیدہ پر فضائی حملے کیے۔
وزارت نے خبردار کیا کہ جمعہ کی شب کیے گئے اس حملے کی قیمت ریاض کو چکانا پڑے گی، اور اشارہ دیا کہ حوثی ان حملوں کا جواب دیں گے۔ وزارتِ خارجہ نے کہا الحدیدہ کو نشانہ بنا کر سعودی حکومت نے آئندہ مرحلے کی بنیادی خصوصیت ’’شدت کے جواب میں مزید شدت‘‘ کو بنا دیا ہے۔
حوثیوں سے وابستہ المسیرہ ٹی وی کے مطابق حملوں میں ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ چینل نے جزیرہ کمران پر بھی حملوں کی اطلاع دی۔ المسیرہ ٹی وی کے مطابق جزیرہ کمران پر حملے میں اب تک ایک خاتون کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ الحدیدہ کی بندرگاہ پر بھی دھماکے سنے گئے، تاہم یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے بندرگاہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔
الحدیدہ کی بندرگاہ حوثیوں کے زیرِ کنٹرول یمن کے علاقوں کے لیے ایک نہایت اہم رسد گاہ ہے۔ اس بندرگاہ کے ذریعے شمالی یمن میں، جو حوثیوں کے کنٹرول میں ہے، تجارتی سامان اور انسانی امداد کا زیادہ تر حصہ پہنچایا جاتا ہے۔
یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کشیدگی کا ذمہ دار حوثیوں کو قرار دیتے ہوئے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی پر ان کے حملوں کو ’’بزدلانہ اور غیر ذمہ دارانہ‘‘ قرار دیا۔ المالکی نے کہا کہ اگر حوثی اپنی ’دشمنانہ کارروائیاں‘ جاری رکھتے ہیں تو ان کا جواب ’بلا جھجک دیا جائے گا۔‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل نہ ہوا تو اس کیساتھ جوہری معاہدہ نہیں کریں گے: ٹرمپ کا اعلان
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل نہ ہوا تو اس کے ساتھ ہم جوہری معاہدہ نہیں کریں گے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب کو معاہدہ ابراہیمی کا رکن ہونا چاہیے۔
ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل نہ ہوا تو جوہری معاہدہ نہیں کریں گے۔
اس کے علاوہ ایران جنگ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ابھی تک ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا، کیونکہ تہران کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایرانی حکام اب زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ دیکھیں، اس وقت ہماری ان سے بات چیت جاری ہے۔ میرے خیال میں وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ سنجیدہ ہوتے جا رہے ہیں، شاید اس کی وجہ بھی سب پر واضح ہے۔
واضح رہے کہ کچھ روز قبل امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری پروگرام کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دی ہے تاہم اسے کانگریس کی منظوری درکار ہے۔
اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔
ساتھ ہی امریکی صدر نے واضح کیا تھا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں شامل ہو۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
مجھے لگتا ہے ایران ابھی معاہدے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مجھے لگتا ہے ایران ابھی معاہدے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں سالانہ وائٹ ہاؤس کریسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا ’’وہ اس وقت ہم سے بات کر رہے ہیں، وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ ابھی اس کے لیے تیار ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ابھی وقت نہیں آیا، لیکن میں ان کی بات سننے کے لیے تیار ہوں۔ تاہم، انھیں ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘‘
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی کارروائی نے ایران کی فوجی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، انھوں نے کہا ہم نے ایران کو بہت سخت ضرب لگائی ہے، ان کی بحریہ ختم ہو چکی ہے، ان کی فضائیہ بھی ختم ہو چکی ہے، ان کے 250 طیارے اب نہیں رہے اور 159 کشتیاں سمندر کی تہہ میں جا چکی ہیں۔
انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’’ان کے پاس اب کوئی ریڈار نہیں، ان کے پاس بہت کم ڈرون باقی بچے ہیں۔ اگرچہ کبھی کبھار آپ کچھ دیکھتے ہیں، وہ کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن ان کے پاس زیادہ کچھ باقی نہیں بچا۔‘‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا اصل معاملہ صرف یہ ہے کہ ہم انھیں ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، اگر ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو وہ ضرور استعمال کرتے، وہ یقیناً انھیں استعمال کرتے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
پاسداران انقلاب کا امریکی اڈوں پر نئے حملوں میں تباہی کا دعویٰ
تہران، جنگی صورت حال سے متعلق ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلامیہ جاری کر دیا۔
اعلامیہ کے مطابق نصر 2 آپریشن کی 27ویں لہر کا آغاز کیا گیا جو کہ مبارک کوڈیا اباصالح المہدی ادرکنی کے تحت کیا گیا ہے۔
کویت میں واقع امریکی اڈے العدیری پر ہینگرز کو نشانہ بنا کر مکمل تباہ کر دیا گیا اور حملے میں اڈے کے 3ہینگرز میں آگ لگ گئی۔ العدیری اڈے کے ہینگرز میں گولہ بارود اور سازوسامان ذخیرہ کیا گیا تھا۔
بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں فلیٹ کے کنٹرول ٹاور کو شدید نقصان پہنچا، امریکی پانچویں بحری بیڑے کے کنٹرول ٹاور کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ بہادر قوم کی عظمت نے دشمنوں کے ٹھکانوں میں خوف وہراس پھیلا دیا، عوام کے اخلاص نے جنگجوؤں میں جہاد کی خواہش کو دگنا کر دیا ہے، پاسداران انقلاب اوربسیج کےفرزند دشمنوں کی صفوں کو کچل رہے ہیں دشمن کے خلاف تعزیری کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی افواج نے ان حملوں میں ایرانی فوجی کمانڈ مراکز، ڈرون تنصیبات، مواصلاتی نیٹ ورکس اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں شہری اور تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات کم کرنا ہے۔اس کے علاوہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز کو ناکارہ بنانے اور 12 کا رخ موڑنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے خلاف بحری ناکا بندی دوبارہ شروع کیے جانے کے بعد گزشتہ نو دنوں کے دوران ایک تجارتی جہاز کو ناکارہ بنایا گیا اور دیگر 12 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا۔
ان اقدامات کا مقصد تجارتی جہازوں کو ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا وہاں سے روانہ ہونے سے روکنا تھا۔
سینٹ کام کے مطابق آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوجی تعاون کے ساتھ سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔.مشرق وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کے صوبہ یزد سمیت مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی فضائی حملوں میں خنداب، تفت، شیرکوہ، نایین، انارک، بروجرد، جاسک، کنارک اور بندر عباس کو نشانہ بنایا گیا جب کہ جزیرہ قشم اور خرم آباد میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں
ایرانی حکام کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں حملوں کے نتیجے میں 55 افراد شہید اور 629 زخمی ہوئے ہیں۔
ادھر پاسداران انقلاب نے کرمان کے علاقے کہنوج میں ایک امریکی ٹام میزائل کو تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی ٹام میزائل کو رہائشی علاقے میں گرنے سے قبل ہی دفاعی میزائل یونت نے بروقت کارروائی کر کے فضا میں ہی تباہ کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
دنیا1 week agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
دنیا1 week agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
جموں و کشمیر1 week agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
دنیا1 week agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس نے صحت کی تشویش کے پیش نظر سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیا
ہندوستان1 week agoاتراکھنڈ کے طلبہ پیپر لیک کے خلاف ‘چھاتروں کی گونج’ سے جڑے: راہل
ہندوستان1 week agoامریکی فوج کے ایران پر تازہ حملوں میں 8 افراد جاں بحق
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ڈوڈا کے بھدرواہ علاقے میں فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص ہلاک، ایس او جی کے جوان زخمی
دنیا1 week agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ
جموں و کشمیر1 week agoبی سی سی آئی یقینی بنائے کہ کرکٹ ‘جموں بمقابلہ کشمیر’ کا مسئلہ نہ بنے: محبوبہ مفتی
دنیا1 week agoایرانی فوج کو دشمن کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی مکمل آزادی ہے، باقر قالیباف







































































































