دنیا
یورپ کو امریکی ایٹمی چھتری پر شک، اپنے ڈیٹرنس سسٹمز تیار کر رہا ہے: روسی سفارت کار
جنیوا، اقوام متحدہ کے جنیوا دفتر میں روس کے مستقل مندوب گیناڈی گیتیلوف نے ریا نوووستی کو بتایا کہ یورپی ممالک نے امریکی ایٹمی چھتری کی قابل اعتماد صلاحیت پر شک ظاہر کرتے ہوئے اپنے ڈیٹرنس میکانزم تیار کرنے پر کام شروع کر دیا ہے۔
سفارت کار نے کہا کہ یورپی ممالک امریکی ایٹمی چھتری کی قابل اعتمادی پر شک کرتے ہوئے اب اپنے ڈیٹرنس میکانزم تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ گیتیلوف کے مطابق یہ سب صرف کاغذوں تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس پہلے ہی جرمنی اور پولینڈ کے ساتھ عملی ایٹمی تعاون کے عناصر شروع کر رہا ہے۔ ابھی گزشتہ ہفتے ہی ایٹمی ہتھیار لے جانے والے فائٹر جیٹس میں فضائی ایندھن بھرنے کی مشترکہ فرانسیسی اور جرمن مشقیں ہوئیں۔ گیتیلوف کا ماننا ہے کہ یہ واضح طور پر صرف شروعات ہے۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ یہ بات علامتی ہے کہ برلن میں اپنے ایٹمی اثاثے رکھنے کی افادیت پر عوامی بحث پہلے ہی جاری ہے اور وارسا میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اس امکان سے انکار نہیں کرتے۔ مستقل مندوب نے کہا کہ فن لینڈ، ایسٹونیا اور لتھوانیا جیسے دیگر ممالک اپنے سینئر اتحادی سے وفاداری کا مقابلہ کر رہے ہیں اور نیٹو شراکت داروں کے ایٹمی ہتھیاروں کی میزبانی کے امکان کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے مارچ میں اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک جدید ایٹمی ڈیٹرنس کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔
اس نئے طریقہ کار کے تحت پیرس ایٹمی وار ہیڈز کی تعداد میں اضافہ کرے گا اور یورپی ممالک مشترکہ ڈیٹرنس مشقوں میں حصہ لے سکیں گے۔ فرانسیسی رہنما کے مطابق آٹھ یورپی ممالک برطانیہ، جرمنی، پولینڈ، نیدرلینڈز، بیلجیئم، یونان، سویڈن اور ڈنمارک فرانس کے اس نظریے میں شامل ہوں گے۔
حالیہ برسوں میں روس اپنی مغربی سرحدوں کے قریب نیٹو کی غیر معمولی سرگرمیوں کا اعلان کرتا رہا ہے۔ نیٹو اپنے اقدامات میں توسیع کر رہا ہے اور اسے روسی جارحیت کا ڈیٹرنس قرار دے رہا ہے۔ ماسکو نے یورپ میں اتحاد کی جانب سے فوج کی صف بندی پر بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کریملن نے اس بات پر زور دیا کہ روس سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن وہ اپنے مفادات کے لیے ممکنہ طور پر خطرناک اقدامات کو نظر انداز نہیں کرے گا۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ایران جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک، 624 زخمی ہوئے، پینٹاگون نے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کردیے
واشنگٹن، امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایران جنگ میں ہلاک اور زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد سے متعلق تازہ ترین اعداد و شمار جاری کردیے۔
پینٹاگون نے ہفتے کے روز جنگی نقصانات کے اپنے ڈیٹا بیس کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے مزید 140 سے زائد زخمی فوجیوں کا اندراج کیا ہے جبکہ حالیہ دنوں میں ایرانی حملوں میں ہلاک ہونے والے 4 فوجیوں کو بھی دوبارہ فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق پینٹاگون کے ڈیفنس کیژولٹی اینالیسس سسٹم (ڈی سی اے ایس) میں ایک نئی کیٹیگری ’اوورسیز آپریشنز‘ کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے تحت 7 جولائی سے بیرون ملک کارروائیوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والے فوجیوں کا ریکارڈ رکھا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس نئی کیٹیگری کے اعداد و شمار کو اگر آپریشن ایپک فیوری کے تازہ ڈیٹا کے ساتھ یکجا کیا جائے تو 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 18 جبکہ زخمی فوجیوں کی تعداد 624 بنتی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق زخمیوں کی یہ تعداد اس سے قبل کی بلند ترین تعداد 482 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
پینٹاگون کے مطابق ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے ہلاک ہونے والے 18 امریکی فوجیوں میں 11 کا تعلق آرمی، 6 کا تعلق ائیرفورس اور ایک کا تعلق نیوی سے ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق زخمی اہلکاروں میں سے 461 کا تعلق آرمی، 86 کا تعلق نیوی، 19 کا تعلق میرینز اور 58 کا تعلق ائیرفورس سے ہے۔
گزشتہ ہفتے میڈیا اداروں اور قانون سازوں نے پینٹاگون کو اس وقت تنقید کا نشانہ بنایا تھا جب ایرانی حملوں کے تسلسل کے باوجود DCAS میں ہلاک اور زخمی فوجیوں کی تعداد کم دکھائی گئی تھی۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ نئی متعارف کرائی گئی ’اوورسیز آپریشنز‘ کیٹیگری میں 7 جولائی کے بعد کے نقصانات شامل کیے گئے ہیں تاہم اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ ہلاکتیں اور زخمی کس مخصوص تنازع یا جنگ سے متعلق ہیں۔
تاہم اس کیٹیگری میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام شامل ہیں، جن میں اردن میں ایرانی حملے کے نتیجے میں مارے جانے والے 3 امریکی فوجی اور گزشتہ ہفتے شمالی عراق میں ایرانی ڈرون ناکارہ بنانے کے دوران ہلاک ہونے والا ایک فوجی بھی شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کیلئے تیار ہیں، ایران نے پاکستان کو آگاہ کردیا
اسلام آباد، ایران نے پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے تیار ہے۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرانے کی سفارتی کوششوں میں ایک اہم پیشرفت سامنے آرہی ہے جس کے مطابق امریکہ اور ایران نے مذاکرات کی بحالی کے لیے پیش کی گئی نئی تجاویز پر اپنے جوابات پاکستان اور قطر کے حوالے کر دیے ہیں ان تجاویز کا مقصد مشرق وسطی میں جاری کشیدگی میں کمی اور فریقین کے درمیان معطل ہونے والے مذاکرات کی راہ ہموار کرنی ہے۔
عرب نشریاتی ادارے “العربیہ” کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران نے پاکستان اور قطر کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر اپنے اپنے مؤقف سے ثالث ممالک کو آگاہ کر دیا ہے۔
مذکورہ رپورٹ میں کیے گئے دعوے کے مطابق ایران نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اسلام آباد میمورنڈم کی روشنی میں امریکہ کے ساتھ جینوا دوحہ یا اسلام آباد میں مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔
یادرہے کہ ایران مذاکرات میں پہلے آبنائے ہرمز اس کے بعد اپنے منجمد اثاثوں اور آخر میں اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کا خواہاں ہے، تاہم وہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی نئی بحری راہداری کے قیام کو مسترد کرتا ہے۔
العربیہ کی رپورٹ کے پیشِ نظر یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مسلسل دوسری رات بھی امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے نہیں کیے گئے اور نہ ہی ایران کی جانب سے خطے میں موجود امریکی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے گزشتہ دو راتوں کے دوران ایران پر حملے نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کیونکہ ہماری حکمت عملی بنیادی طور پر جوابی رد عمل پر مبنی ہے اس لیے ہم نے بھی اپنی فوجی کاروائیاں روک رکھی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روس کو ہتھیار فراہم کرکے ایران پہلے ہی یوکرین کے خلاف جنگ میں شامل ہو چکا ہے: زیلنسکی
کیف، یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی کا کہنا ہے ایران پہلے ہی روس کو ہتھیار فراہم کرکے یوکرین کے خلاف جنگ میں شامل ہو چکا ہے، ممکنہ نئے خطرات کے لیے محتاط رہنا ضروری ہے۔ایک انٹرویو میں زیلنسکی سے پوچھا گیا کہ کیا ایران اپنے جہاز سے پر حملے کے بعد یوکرین پر براہِ راست حملہ کر سکتا ہے؟ اس کے جواب میں زیلنسکی نے کہا ہمیں محتاط رہنا ہوگا اور ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی کہ کوئی نیا محاذ نہ کھلے۔
ان کا کہنا تھا حقیقت یہ ہے کہ ایران اور شمالی کوریا نے پہلے ہی ہم پر حملہ کیا ہے، امید ہے کہ وہ اپنے حملے مزید نہیں بڑھائیں گے، لیکن ہمیں ہر صورتحال کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
صدر زیلنسکی نے الزام عائد کیا کہ ایران پہلے ہی روس کو ہتھیار فراہم کرکے یوکرین کے خلاف جنگ میں شامل ہو چکا ہے، جنگ کے آغاز ہی سے ایران نے روس کو ہزاروں شاہد ڈرونز فراہم کیے، پھر ان کی تیاری کے لیے لائسنس بھی دیے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا5 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا6 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہونے کا دعویٰ، سینٹکام کی تردید
ہندوستان6 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران نے ہرمزگان صوبے پر امریکی حملوں میں شہید ہونے والے شہریوں کی تصاویر جاری کر دیں
دنیا1 week agoجے ڈی وینس کی فیملی کے اچانک سفری مطالبات پر خفیہ سروس کے اہلکار نالاں
دنیا5 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoآخری سانس تک ایران کا دفاع کیا جائے گا: عباس عراقچی
ہندوستان5 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
دنیا7 days agoامریکہ کے پاس مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا کوئی جواز نہیں: اسماعیل بقائی
دنیا1 week agoسعودی عرب کے شہر الخرج میں پرنس سلطان ائیر بیس کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا: ایرانی میڈیا


































































































