جموں و کشمیر
مظاہروں سے نہیں، بات چیت سے ہی جموں و کشمیر کے حقوق بحال ہوں گے: الطاف بخاری
سرینگر، جموں و کشمیر کی اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے بدھ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر نے 5 اگست 2019 کو جو حقوق کھوئے ہیں، انہیں احتجاجی مظاہروں یا تصادم کے ذریعے واپس نہیں پایا جا سکتا۔ انہیں صرف بات چیت، مشاورت اور ایک واضح روڈ میپ کے ذریعے ہی بحال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپنی پارٹی ریاست کا درجہ، آرٹیکل 370 اور 35اے کی بحالی، قیدیوں کی رہائی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی مفاد کے دیگر مسائل اٹھانے والی کسی بھی جماعت کی حمایت کرے گی۔
مسٹر بخاری نے سرینگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “5 اگست جموں و کشمیر کے لیے ایک سیاہ دن ہے اور جب تک ہمارے حقوق بحال نہیں ہو جاتے، یہ سیاہ دن ہی رہے گا۔ تاہم، ان حقوق کی بحالی کے لیے احتجاج کے بجائے بات چیت، مشاورت اور ایک واضح فریم ورک کا راستہ اپنایا جانا چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کو جموں و کشمیر کے عوام کے جائز مطالبات اور شکایات کا ازالہ کرنے اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والے اعتماد کے فقدان کو دور کرنے کے لیے ان کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنا چاہیے۔
قابلِ ذکر ہے کہ آرٹیکل 370 اور 35اے کی منسوخی کے آٹھ ماہ بعد، مارچ 2020 میں سابق اراکینِ اسمبلی اور سابق وزراء کی جانب سے ‘اپنی پارٹی’ تشکیل دی گئی تھی۔
ایک اور سوال کے جواب میں اپنی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ بی جے پی نے 2024 کے اسمبلی انتخابات کے دوران جموں کے خطے میں مذہب کے نام پر ہندو ووٹروں کو متحد کیا تھا۔ انہوں نے تاہم یہ بھی کہا، “اب ایسا لگتا ہے کہ جموں کی اکثریتی ہندو برادری کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ اس طرح کی سیاست جموں و کشمیر کے وسیع تر مفادات کے لیے نقصان دہ ہے۔”
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے امت شاہ سے مداخلت کی اپیل کی، پیپلز کانفرنس کی قیادت پر سیاسی مخالفین کو دھمکانے کا الزام
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے جمعرات کے روز مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پیپلز کانفرنس (پی سی) کی اعلیٰ قیادت مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے نام لے کر اس کے رہنماؤں کو دھمکا رہی ہے اور خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی رہنماؤں التجا مفتی، وحید پارہ اور سابق رکن قانون ساز کونسل یاسر ریشی نے الزام لگایا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) اور سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے نام لے کر سیاسی مخالفین کو دھمکایا اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پیپلز کانفرنس کی قیادت رکن اسمبلی سجاد لون کر رہے ہیں۔
التجا مفتی نے الزام لگایا کہ پیپلز کانفرنس کی قیادت کشمیر کی سیاسی فضا میں “خوف کا ماحول” پیدا کر رہی ہے اور پی ڈی پی رہنماؤں کو ڈرانے کے لیے مرکزی ایجنسیوں اور وزارت داخلہ کے نام استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے امت شاہ سے اپیل کی کہ وہ واضح کریں آیا یہ سب کچھ مرکز کی معلومات میں ہو رہا ہے یا نہیں، اور اگر ایسا نہیں ہے تو متعلقہ ایجنسیوں کے نام کے مبینہ غلط استعمال کو روکا جائے۔
انہوں نے کہا، “ہمارا مقابلہ بیلٹ کے ذریعے کریں، ای ڈی، این آئی اے یا سی بی آئی کے ذریعے نہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ مکالمے اور انتخابات کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ دھونس، دھمکی یا تحقیقاتی ایجنسیوں کے استعمال سے۔مسٹر التجا نے مزید الزام لگایا کہ پی ڈی پی کے متعدد رہنماؤں کو دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور تحقیقاتی ایجنسیاں کسی بھی سیاسی جماعت یا اس کی قیادت کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں۔
دریں اثنا یاسر ریشی نے الزام لگایا کہ انہیں حال ہی میں مرکزی ایجنسیوں کے بعض اہلکاروں کی ایک مبینہ میٹنگ کے بارے میں اطلاع ملی، جس میں ان کے خلاف کارروائی پر گفتگو کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا عسکریت پسندی یا علیحدگی پسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر کسی کے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو وہ پیش کرے۔
مسٹر یاسر نے یہ بھی الزام لگایا کہ 2019 سے انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور دباؤ میں رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایجنسیاں ان پر جھوٹے الزامات لگانے والوں سے براہ راست پوچھ گچھ کریں یا ان کے خلاف کارروائی کریں۔
رکن اسمبلی وحید پارہ نے کہا کہ مبینہ سیاسی دباؤ دراصل جموں و کشمیر کے بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مباحث کا مرکز دفعہ 370، سیاسی قیدیوں، جماعت اسلامی پر پابندی، ملازمین کی برطرفیوں اور خطے کے عوام کو درپیش دیگر اہم مسائل ہونے چاہئیں۔وحید پارہ نے کہا، “دو کشمیریوں کے درمیان لڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں عوامی مباحث کو جان بوجھ کر کیوں آلودہ اور تقسیم کیا جا رہا ہے”
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ 2019 کے بعد پی ڈی پی کے متعدد رہنماؤں، جن میں ارکان اسمبلی، سابق ارکان قانون ساز کونسل اور ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں، کو دباؤ ڈال کر پارٹی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، جس سے پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کو منظم انداز میں کمزور کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات نمٹانے کے لیے تحقیقاتی ایجنسیوں، گرفتاریوں، جائیدادوں کی ضبطی یا کسی بھی دوسرے دباؤ کے طریقے استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔
آخر میں وحید پارہ نے کہا، “اگر ہم کشمیر کو کچھ دے نہیں سکتے تو کم از کم اسے نقصان نہ پہنچائیں۔” انہوں نے میڈیا اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی الزامات سے گریز کرتے ہوئے عوامی مسائل پر مرکوز، صاف ستھرے اور تعمیری سیاسی مباحث کو فروغ دیں۔
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
ایک احتجاج سے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ نہیں ملے گا: عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کو ریاست کا درجہ بحال کرانے کے لیے ایک احتجاج کافی نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے دانستہ طور پر یہ مطالبہ نئی دہلی میں اٹھایا تاکہ مرکز کے سامنے اسے باضابطہ طور پر درج کرایا جا سکے۔
گاندربل میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ اس نوعیت کے اہم سیاسی مطالبات کسی ایک احتجاج سے پورے نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا، “ایک احتجاج کافی نہیں ہوتا۔ اگر ایک احتجاج سے ہی سب کچھ حل ہو جاتا تو ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے ایک روزہ احتجاج سے تمام مسائل حل ہو گئے ہوتے، لیکن انہیں بار بار احتجاج کرنا پڑا۔” وہ نیشنل کانفرنس کے دہلی میں کیے گئے احتجاج کے نتائج سے متعلق سوال کا جواب دے رہے تھے۔
انہوں نے کہا، “ہم یہ جانتے ہوئے دہلی گئے تھے کہ پہلے احتجاج سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، لیکن کم از کم اپنا مطالبہ تو مرکز کے سامنے باضابطہ طور پر درج کرائیں۔”
وزیر اعلیٰ نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ملک کا قومی میڈیا یہ بھول گیا ہے کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، جو اب تک پورا نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا، “آپ (مقامی میڈیا) مجھ سے ریاستی درجے کے بارے میں سوال کرتے رہتے ہیں، لیکن ملک کا میڈیا یہ بھول جاتا ہے کہ جموں و کشمیر سے ایک وعدہ کیا گیا تھا، جو آج تک پورا نہیں ہوا۔”
قابل ذکر ہے کہ برسراقتدار نیشنل کانفرنس نے 20 جولائی کو نئی دہلی میں جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مطالبے کے حق میں احتجاج کیا تھا۔ یہ مظاہرہ سابق ریاست کی حیثیت کی بحالی کے لیے پارٹی کی جاری مہم کا حصہ تھا۔
مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی حکومت نے اس مطالبے کے لیے دفعہ 370 کی منسوخی کی برسی، 5 اگست، کا انتظار نہیں کیا۔انہوں نے کہا، “ہم نے 5 اگست کا انتظار نہیں کیا بلکہ اس سے پہلے ہی دہلی چلے گئے۔ اگر ہمیں محض ڈرامہ کرنا ہوتا تو ہم 5 اگست کو دہلی جاتے، لیکن ہم نے اس تاریخ کا انتظار نہیں کیا۔”
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی پہلے ہی خصوصی حیثیت اور آئینی ضمانتوں کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور کرکے مرکزی حکومت کو بھیج چکی ہے۔
انہوں نے کہا، “ہم نے اسمبلی میں قرارداد منظور کی۔ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور آئینی ضمانتوں کی بحالی سے متعلق قرارداد اسمبلی نے منظور کرکے مرکزی حکومت کو ارسال کر دی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں سے موصول ہونے والی اطلاعات باعثِ فکر ہیں اور امید ظاہر کی کہ علاقے میں امن برقرار رہے گا۔
انہوں نے کہا، “جہاں تک پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا تعلق ہے، ہم سب تشویش میں مبتلا ہیں۔ وہاں سے جو اطلاعات آ رہی ہیں اور جس طرح طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے اور بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ہم صرف یہی امید کر سکتے ہیں کہ وہاں امن قائم رہے۔”
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
کشمیر اے این ٹی ایف نے پنجاب کے منشیات فروش کو گرفتار کر کے 100 گرام ہیروئن برآمد کر لی
سری نگر، انسدادِ منشیات ٹاسک فورس (اے این ٹی ایف) کشمیر نے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ منشیات فروش کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے سری نگر کے نوگام علاقے کے لسان جن فلائی اوور کے قریب 100 گرام ہیروئن برآمد کی ہے۔
پولیس کے مطابق منشیات لے جانے والے ایک اسمگلر کی نقل و حرکت سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر اے این ٹی ایف کشمیر کی ایک ٹیم نے لسان جن فلائی اوور کے نزدیک خصوصی کارروائی کی۔
اس دوران پنجاب کے ضلع امرتسر کے بٹالہ علاقے کے سندر نگر مصطفیٰ آباد کے لو پریت سنگھ کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزم کے قبضے سے ہیروئن جیسا 100 گرام نشہ آور مادہ برآمد ہوا۔ برآمد شدہ مادے کی موقع پر ڈرگ ڈیٹیکشن کٹ سے جانچ کی گئی، جس میں اس کے ہیروئن ہونے کی تصدیق ہوئی۔
اس سلسلے میں اے این ٹی ایف کشمیر تھانے میں این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 8/21 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی، اس کی ترسیل کہاں ہونی تھی اور اس کی اسمگلنگ و تقسیم میں ملوث وسیع تر نیٹ ورک کون سا ہے۔
یو این آئی۔ م س
دنیا1 week agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا1 week agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
ہندوستان1 week agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
دنیا6 days agoابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے رامسو میں چٹان کھسکنے سے دو لوگوں کی موت، پانچ زخمی
ہندوستان1 week agoپیپر لیک کی ذمہ داری بھی لیں مودی: پرینکا
جموں و کشمیر1 week agoسکیورٹی فورسز نے اننت ناگ میں دہشت گردوں سے منسلک دو مکانات منہدم کر دیے
دنیا1 week agoایران پر امریکی میزائل حملے میں 2 افراد شہید، 11 زخمی
دنیا1 week agoایرانی مذاکرات میں سنجیدہ نہیں: مارکو روبیو
دنیا1 week agoامریکہ سعودی جوہری معاہدہ ہماری قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتا ہے: سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینٹ





































































































