جموں و کشمیر
محبوبہ مفتی کا پاکستان سے پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین کے خلاف کارروائی روکنے کا مطالبہ
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعرات کے روز پاکستان سے پاکستان کے مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین کے خلاف جاری سخت کارروائی بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے طاقت کے بجائے انسانی ہمدردی پر مبنی رویہ اور بات چیت کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
محترمہ محبوبہ مفتی نے کہا کہ “کنٹرول لائن کے اُس پار کشمیر کے دوسرے حصے” سے سامنے آنے والے مناظر انتہائی دل دہلا دینے والے ہیں۔ انہوں نے ان اطلاعات پر تشویش ظاہر کی کہ پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، “پُرامن مظاہرین کے ساتھ وحشیانہ طاقت کا استعمال دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ حکومت پاکستان کو زیادہ انسانی ہمدردی پر مبنی رویہ اپنانا چاہیے اور طاقت کے بجائے بات چیت کو ترجیح دینی چاہیے۔”
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مظاہرین کے مطالبات بظاہر حقیقی ہیں اور انہیں سنا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک اپنے ہی عوام کو بااختیار بنانے کے بجائے انہیں دباکر یا بندوق کے زور پر خاموش کرا کے مضبوط نہیں بن سکتا۔
انہوں نے کہا، “حکومت کو کریک ڈاؤن فوری طور پر بند کرنا چاہیے اور پُرامن مظاہرین پر گولیاں برسانا بھی روکنا چاہیے۔ کشمیری عزت، انصاف اور اپنی بات کہنے کے حق کے مستحق ہیں، نہ کہ جبر کے۔”
پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں معاشی اور سیاسی مطالبات کو لے کر جون سے احتجاج جاری ہے، جو حالیہ دنوں میں مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پیر اور منگل کو ہونے والے مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے۔
جموں و کشمیر کے متعدد سیاسی رہنماؤں نے بھی پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تشویش ظاہر کی ہے۔
بدھ کو نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ اگر حکومت ہند پاکستانی مقبوضہ جموں و کشمیر کو ملک کا اٹوٹ حصہ سمجھتی ہے تو وہاں ہونے والی ہلاکتوں اور عوام کو درپیش مشکلات پر بھی آواز اٹھانی چاہیے۔
سی پی آئی (ایم) کے رہنما اور کولگام سے رکن اسمبلی ایم وائی تاریگامی نے کہا کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں تشدد کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے نہتے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کو فوری طور پر روکنے، تمام زیر حراست افراد کی رہائی، خوراک اور طبی سہولیات تک بلا رکاوٹ رسائی فراہم کرنے اور ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
15 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی: ای او ڈبلیو کشمیر نے چار افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کی
سری نگر، جموں و کشمیر کرائم برانچ کے اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) کشمیر نے 15 لاکھ روپے کی مبینہ دھوکہ دہی کے ایک معاملے میں جمعرات کو چار افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کر دی۔ حکام نے یہ اطلاع دی۔ چارج شیٹ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، سری نگر کی عدالت میں 2022 میں درج ایف آئی آر کے سلسلے میں پیش کی گئی، جو تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعات 420 اور 120-بی کے تحت درج کی گئی تھی۔ ملزمان کی شناخت سری نگر کے خانیار علاقے کے رہنے والے محمد امین بھٹ، سری نگر کے گسیار ہوال کے خالد حسین خان، راجستھان کے جے پور کے ستیہ نگر، جھوٹواڑہ کے انیل کمار مہیشوری اور اتر پردیش کے میرٹھ کے ادے سٹی، پلاپورم-2، مودی پورم کے ششانک کمار کے طور پر ہوئی ہے۔
تحقیقات کے مطابق یہ مقدمہ ایک شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا کہ محمد امین بھٹ نے ایم/ایس ایشورڈ ایگرو فوڈ انڈسٹریز کے ایریا سیلز منیجر خالد حسین خان اور ریجنل سیلز منیجر انیل کمار مہیشوری کے ساتھ ملی بھگت کر کے شکایت کنندہ کو خوردنی تیل کی سپلائی کے لیے سکیورٹی رقم کے طور پر 15 لاکھ روپے جمع کرانے پر آمادہ کیا۔ تحقیقات میں بتایا گیا کہ ملزمان نے خود کو خوردنی تیل تیار کرنے والی کمپنی کا نمائندہ ظاہر کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی تھی کہ ایک ہفتے کے اندر مال سپلائی کر دیا جائے گا، لیکن رقم وصول کرنے کے باوجود کوئی سامان فراہم نہیں کیا گیا۔ ای او ڈبلیو کی تحقیقات میں یہ بھی ثابت ہوا کہ ملزمان نے باہمی سازش کے تحت سرسوں کے تیل کی سپلائی کا جھانسہ دے کر شکایت کنندہ سے دھوکہ دہی کی۔ حکام کے مطابق راجستھان کے رجسٹرار آف کمپنیز سے کی گئی جانچ میں یہ بھی سامنے آیا کہ ایم/ایس ایشورڈ ایگرو فوڈ انڈسٹریز کے نام سے کوئی کمپنی رجسٹرڈ ہی نہیں ہے۔ تحقیقات کے دوران میرٹھ (اتر پردیش) کے رہائشی ششانک کمار کے مبینہ کردار کا بھی انکشاف ہوا، جسے کمپنی کا مالک ظاہر کیا گیا تھا۔ حکام نے بتایا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد عدالتی کارروائی کے لیے چارج شیٹ پیش کر دی گئی ہے۔
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
پاکستان سے دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے والے پانچ دہشت گردوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم
سری نگر، جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل پولیس نلین پربھات نے پاکستان سے دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے والے ریاست کے پانچ بدنام زمانہ دہشت گردوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ پولیس نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ تاہم ان پانچ دہشت گردوں کی شناخت اور ضبط کی جانے والی جائیدادوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکی ہیں۔
حکام کے مطابق، اس کے علاوہ جموں و کشمیر پولیس نے پاکستان میں بیٹھ کر دہشت گردانہ نیٹ ورک چلا رہے لشکر طیبہ کے ایک سرگرم رکن محمد قاسم کے خلاف اشتہاری کارروائی بھی مکمل کر لی ہے۔
محمد قاسم کی جائیداد مارچ 2026 میں قانونی کارروائی کے بعد جموں خطے کے ریاسی ضلع میں ضبط کی گئی تھی۔ اس سے قبل مارچ 2024 میں مرکزی حکومت نے محمد قاسم کو باضابطہ طور پر نامزد دہشت گرد قرار دیا تھا۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی جموں و کشمیر میں پاکستان سے سرگرم دہشت گرد عناصر اور ان کے معاون نیٹ ورک کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے۔
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
مظاہروں سے نہیں، بات چیت سے ہی جموں و کشمیر کے حقوق بحال ہوں گے: الطاف بخاری
سرینگر، جموں و کشمیر کی اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے بدھ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر نے 5 اگست 2019 کو جو حقوق کھوئے ہیں، انہیں احتجاجی مظاہروں یا تصادم کے ذریعے واپس نہیں پایا جا سکتا۔ انہیں صرف بات چیت، مشاورت اور ایک واضح روڈ میپ کے ذریعے ہی بحال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپنی پارٹی ریاست کا درجہ، آرٹیکل 370 اور 35اے کی بحالی، قیدیوں کی رہائی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی مفاد کے دیگر مسائل اٹھانے والی کسی بھی جماعت کی حمایت کرے گی۔
مسٹر بخاری نے سرینگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “5 اگست جموں و کشمیر کے لیے ایک سیاہ دن ہے اور جب تک ہمارے حقوق بحال نہیں ہو جاتے، یہ سیاہ دن ہی رہے گا۔ تاہم، ان حقوق کی بحالی کے لیے احتجاج کے بجائے بات چیت، مشاورت اور ایک واضح فریم ورک کا راستہ اپنایا جانا چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کو جموں و کشمیر کے عوام کے جائز مطالبات اور شکایات کا ازالہ کرنے اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والے اعتماد کے فقدان کو دور کرنے کے لیے ان کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنا چاہیے۔
قابلِ ذکر ہے کہ آرٹیکل 370 اور 35اے کی منسوخی کے آٹھ ماہ بعد، مارچ 2020 میں سابق اراکینِ اسمبلی اور سابق وزراء کی جانب سے ‘اپنی پارٹی’ تشکیل دی گئی تھی۔
ایک اور سوال کے جواب میں اپنی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ بی جے پی نے 2024 کے اسمبلی انتخابات کے دوران جموں کے خطے میں مذہب کے نام پر ہندو ووٹروں کو متحد کیا تھا۔ انہوں نے تاہم یہ بھی کہا، “اب ایسا لگتا ہے کہ جموں کی اکثریتی ہندو برادری کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ اس طرح کی سیاست جموں و کشمیر کے وسیع تر مفادات کے لیے نقصان دہ ہے۔”
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
دنیا1 week agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
ہندوستان1 week agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
ہندوستان1 week agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
دنیا6 days agoابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے رامسو میں چٹان کھسکنے سے دو لوگوں کی موت، پانچ زخمی
جموں و کشمیر1 week agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
جموں و کشمیر1 week agoسکیورٹی فورسز نے اننت ناگ میں دہشت گردوں سے منسلک دو مکانات منہدم کر دیے
دنیا7 days agoایران پر امریکی میزائل حملے میں 2 افراد شہید، 11 زخمی
دنیا1 week agoرہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے رابطوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے: مسعود پزشکیان




































































































