تازہ ترین
صبروایثار،وپرہیزگاری روزے کا بنیادی فلسفہ…

ندیم احمد خان:
آپؐ نے ارشاد فرمایا: روزہ رکھ کر بھی جو شخص جھوٹ اور فریب کے کام نہ چھوڑے، تو اللّٰہ کو اس کی ضرورت نہیں کہ انسان اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔
اسلامی عبادت میں “روزے” کو مرکزی مقام اور بنیادی اہميت حاصل ہے، جب کہ اسے ارکان دین میں تیسرا رکن ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ “روزہ” درحقیقت صبر وضبط اور تزکیۂ نفس کا بہترین مظہر ہے۔ یہ ایک ایسی عبادت ہے، جس کا تصور الہامی اور غیر الہامی مذاہب کی تاریخ میں ملتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالی ہے:” اے ایمان والو، تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بنو۔” (سورۃ البقرہ:183) قرآنِ کریم کی اس ہدایت زبانی سے یہ معلوم ہوا کہ روزے کا حقیقی مقصد ” تقویٰ ” کا حصول ہے، تقویٰ اور پرہیزگاری اسلامی عبادات کی بنیادی روح ہے، قرآن کریم اور احادیث نبویؐ میں کم وبیش ہر عبادت اور نیک عمل کا بنیادی مقصد “تقویٰ” ہی کو قرار دیا گیا ہے۔ خواہشاتِ نفس کی پیروی سے اپنے آپ کو روکنا، نفس کے بےلگام گھوڑے کو لگام دینا اور دین کی اتباع میں مصروفِ عمل رہنا، روزے کی حقیقی روح ہے، جو درحقیقت تقویٰ اور پرہیزگاری کے حصول کے بعد ہی ممکن ہے۔
اس سلسلے میں رسولؐ کا درج ذیل ارشادِ گرامی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا:” روزہ ڈھال ہے، لہٰذا روزہ رکھنے والا نہ بےہودہ بات کرے اور نہ جاہلوں والے کام کرے، اگر کوئی اس سے جھگڑا کرے یا برا بھلا کہے، تو کہہ دے کہ ” میں روزے دار ہوں”۔ رمضان المبارک میں عموماً ایسے مناظر عام دیکھنے میں آتے ہیں کہ لوگ راہ چلتے ایک دوسرے سے الجھ پڑتے ہیں، بےصبری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بسا اوقات نوبت دست و گریباں ہونے تک پہنچ جاتی ہے۔ راستے میں سفر کرتے وقت یا خریداری کے موقع پر جس عجلت اور بےصبری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، یہ بھی درحقیقت ضبطِ نفس کے منافی عمل اور روزے کی حقیقی روح کے برخلاف ہے۔ آپؐ نے ایک موقع پر تاکید کے طور پر دو مرتبہ ارشاد فرمایا:” اس پروردگار کی قسم، جس کے قبضے میں میری جان ہے، روزے دار کے منہ کی بو، اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ اور پاکیزہ ہے۔” (اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے) وہ روزے دار اپنا کھانا، پینا اور شہوت میری وجہ سے چھوڑتا ہے، روزہ تو میرے لیے ہے اور میں اس کا بدلہ دوں گا اور ایک نیکی کا اجر دس گنا ہے۔” (بخاری/ الجامع النصحیح) صحابی رسولؐ حضرت سہل بن عاعدیؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ نے ارشاد فرمایا:” جنت کے دروازوں میں ایک خاص دروازہ ہے، جسے “باب الریان” کہا جاتا ہے، اس دروازے سے قیامت کے روز صرف روزے داروں کا داخلہ ہوگا، ان کے سوا اس دروازے سے کوئی اور داخل نہیں ہوسکے گا، اس دن پکارا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ بندے جو اللّٰہ کے لیے روزے رکھا کرتے تھے (اور بھوک پیاس کی تکلیف اٹھایا کرتے تھے) ان کے سوا اس دروازے سے کسی اور کا داخلہ نہیں ہوسکے گا۔جب وہ روزے دار اس دروازے سے جنت میں پہنچ جائیں گے تو یہ دروازہ بند کردیا جائے گا، پھر کسی کا اس سے داخلہ نہیں ہوسکے گا” (صحیح بخاری).
ایک اور حدیثِ قدسی ہے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ نے ارشاد فرمایا:” ابنِ آدم کے ہر عمل کا ثواب بڑھتا رہتا ہے، اسے ایک نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو تک ملتا ہے، اور اس سے زائد اللّٰہ جتنا چاہے، اتنا ملتا ہے، مگر روزے کے متعلق اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ” وہ تو میرے لیے ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔روزے دار اپنی خواہشات اور کھانے پینے کو میری وجہ سے چھوڑتا ہے۔” روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں، ایک خوشی اسے افطار کے وقت ملتی ہے اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت ملے گی، روزے دار کے منہ کی بو اللّٰہ کے ہاں مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے،” ( ابنِ ماجہ السنن باب فضل الصیام) یہ کہنا بالکل درست ہے کہ تقویٰ اور پرہیزگاری روزے کی حقیقی روح ہیں۔
اگر ان عظیم مقاصد کا حصول نہیں ہوتا تو یہ سمجھا جائے، گویا روزہ رکھا ہی نہیں گیا، یا یہ کہا جائے کہ جسم کا روزہ ہوگیا، تاہم روح کا روزہ نہیں ہوا، اس حقیقت کی وضاحت کے لیے رسولؐ کے ارشاد مبارک کو پیش نظر رکھا جائے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا:” روزہ رکھ کر بھی جو شخص جھوٹ اور فریب کے کام نہ چھوڑے، تو اللّٰہ کو اس کی ضرورت نہیں کہ انسان اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔” (ترمذی/ باب الصوم) اسی اخلاص، پرہیزگاری اور بےریائی کا نتیجہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:” الصوم لی وانا اجزی بہ۔” روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔” اجر، جزا اور نیکیوں پر بدلہ تو اللّٰہ تعالیٰ ہی دیتا ہے، تاہم میں اس کی عظمت و اہمیت کے اظہار کے لیے اس کے اجر اور جزا کو اللہ تعالیٰ نے اپنی جانب منسوب فرمایا ہے۔ تقویٰ اور پرہیزگاری کی بدولت ہی بندہ ان اعمال سے باز رہتا ہے، جو خواہشات کو بڑھانے والی اور انسانی جزبات کو بےلگام کرنے والی ہیں۔ روزے میں جن اعمال اور امور سے بچنے اور باز رہنے کا حکم دیا گیا، ان پر عمل کرکے درحقیقت نفس اور جسم دونوں کی تربیت کی جاتی ہے، نیکیوں پر عمل اور گناہ اور بد اعمالیوں سے باز رہنے کا حقیقی جزبہ بیدار ہوتا ہے۔ یہی درحقیقت تقویٰ کی حقیقت اور روزے کی حقیقی روح ہے۔ باالفاظ دیگر روزہ تزکیۂ نفس، تطہیر قلب اور تربیت کا بہترین اور مثالی ذریعہ ہے۔ یہ روح اور جسم دونوں کے تزکیے اور تطہیر میں موثر کردار ادا کرتا ہے۔
اسلام میں “زکوٰۃ” کی حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ درحقیقت جمع شدہ مال کی تطہیر اور پاکیزگی کا ذریعہ ہے، جب کہ سرکارِ دوعالم ﷺ کے ارشاد گرامی کے بمو جب ” ہر شے کی زکوٰۃ ہوتی ہے اور روزہ جسم کی زکوٰۃ ہے۔” اس طرح ہر سال رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں جو رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا موسم بہار ہے، اہل ایمان اس ماہ مقدس کے روزے رکھ کر صبر و ایثار، ضبط نفس، ایثار و ہمدردی، تزکیۂ باطن اور تطہیر قلوب کی باقاعدہ تربیت حاصل کرتے ہیں۔ یہ عبادت و ریاضت درحقیقت تقویٰ اور تزکیۂ نفس سے عبادت ہے۔ عرب دنیا کے نامور مؤلف اور معروف مزہبی اسکالر علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی اپنی کتاب ” العبادۃ فی الاسلام” میں روزے کی حقیقت اور اس کے فلسفے کے متعلق لکھتے ہیں: روزے میں عزم و ارادے کی تقویت اور صبر و برداشت کی تربیت ہوتی ہے، چنانچہ روزے کی حالت میں بندہ بھوکا رہتا ہے، جب کہ اس کے سامنے لذیز غذا موجود ہوتی ہے، وہ پیاسا رہتا ہے، حالانکہ اس کے سامنے ٹھنڈا پانی موجود ہوتا ہے، اس کو رب کے سوا کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا اور اس کے ضمیر کے علاوہ اس پر دیگر کسی چیز کا غلبہ بھی نہیں ہوتا، اس کے بیدار مضبوط ارادے کے سوا کوئی دیگر سہارا بھی نہیں ہوتا، وہ روزانہ پندرہ پندرہ گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ روزے سے رہتا ہے اور ہر سال 29 یا 30 دن مسلسل روزے رکھتا ہے، تو روزوں کے علاوہ کون سا دوسرا ارادہ ہے جو انسان کے تربیت کا کام کرتا اور اسے صبر و برداشت کی تعلیم دیتا ہے، وہ صرف روزہ ہے، جسے اسلام نے مسلمانوں کے لیے ماہ رمضان میں فرض اور لازم قرار دیا ہے۔
جموں و کشمیر
کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
سری نگر، کپواڑہ کی ایک عدالت نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کرتے ہوئے 2023 میں ایک پولیس کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کیس میں سات دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپواڑہ، منجیت سنگھ منہاس نے 24 اپریل کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، تاہم دیگر سات ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
یہ معاملہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو 20 فروری سے 26 فروری 2023 کے درمیان جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر (جے سی آئی) کپواڑہ میں غیر قانونی
طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، جو مبینہ طور پر منشیات سے متعلق جرائم کی تفتیش کے بہانے کیا گیا تھا۔
یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں، جب متاثر کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی تھی۔ سی بی آئی نے جولائی 2025 میں ایف آئی آر درج کی اور بعد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی (مجرمانہ سازش)، 323، 325 (زخمی کرنا)، 330، 331 (اقرارِ جرم حاصل کرنے کے لیے تشدد) اور 343 (غلط حراست) شامل تھیں۔ بعد ازاں سی بی آئی نے ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر کے آخری ہفتے میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ڈی ایس پی نائک کا کردار نگرانی تک محدود تھا اور ان کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہاکہ”ان کے خلاف محض شبہ پایا جاتا ہے جو سنگین شبہ کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ شرکت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا ملزم اے-1 (ڈی ایس پی اعجاز) کو مذکورہ دفعات کے تحت بری کیا جاتا ہے۔”
تاہم عدالت نے دیگر ملزمان کے حوالے سے مختلف رائے اختیار کی، جن میں سب انسپکٹر ریاض احمد میر، اسپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد بیگ، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان اور تنویر احمد ملا، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاکر حسین کھوجا اور الطاف حسین بھٹ، اور کانسٹیبل شہنواز احمد دیداد شامل ہیں۔
ان سات میں سے چھ ملزمان کپواڑہ ضلع کے رہائشی ہیں جبکہ تنویر احمد ملا کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد، جن میں متاثر کا بیان، طبی رپورٹس اور دیگر حالات شامل ہیں، ان ساتوں کے خلاف بادی النظر میں کیس ثابت کرتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حراست کے دوران متاثر کے جسم کے حساس حصوں پر لگنے والی چوٹیں اور طبی رائے حراستی تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ متاثر مکمل طور پر ملزمان کے کنٹرول میں تھا، جو استغاثہ کے موقف کو مضبوط بناتا ہے۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ الزامات مبہم ہیں اور کہا کہ متاثر نے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے اور ان کے کردار کی تفصیل بیان کی، جو کئی دنوں تک جاری رہنے والے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ”اس مرحلے پر عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا بادی النظر میں کیس یا سنگین شبہ موجود ہے، نہ کہ مکمل ٹرائل کرنا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ان جرائم کے عناصر کو ثابت کرتا ہے۔ “ریکارڈ پر موجود مواد، اپنی ظاہری حیثیت میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان سات ملزمان نے مشترکہ منصوبے کے تحت مذکورہ دفعات کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔”
اس کے مطابق عدالت نے ساتوں ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا اور مقدمہ 14 مئی کو استغاثہ کے ثبوت کے لیے درج کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مانڈویہ نے نچلی سطح پر توجہ مرکوز کرنے پر دیا زور، سرینگر میں وزرائے کھیل کا ‘چنتن شیویر’
سرینگر نوجوانوں اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ہفتہ کو اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی سپر پاور کے طور پر ابھرنے کا جو 10 سالہ پرجوش روڈ میپ ہے، اسے نچلی سطح پر کام میں تبدیل ہونا چاہیے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے مباحثوں کی سمت متعین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے کھیلوں کے عزائم کو زمینی سطح پر عمل درآمد کے ذریعے ہی حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا
”عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے لیے ہمارا 10 سالہ روڈ میپ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہر کھیل کے میدان، ہر ضلع اور ہر نوجوان کے خواب میں زندہ نظر آنا چاہیے۔“
جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی چنتن شیوِر میں شرکت کی اور ہندوستان کو کھیلوں کی طاقت بنانے کے وژن کو سراہا۔
کھیلوں کے مرکزی وزیر نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ محض پالیسی اپنانے تک محدود نہ رہیں بلکہ فعال عمل درآمد کی طرف بڑھیں، اور اس بات پر زور دیا کہ حقیقی پیش رفت کا اندازہ اُن نتائج سے ہوگا جو اضلاع، تربیتی نظام اور نچلی سطح کے کھیلوں کے ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”کھیلو بھارت مشن صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اور قوم کے عزم کی عکاسی ہے۔“
ڈاکٹر مانڈویہ نے ریاستی حکومتوں اور اسپورٹس فیڈریشنوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط اور متحدہ ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل کے لیے قریبی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے پر ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے تعلیمی نظام کے ساتھ ربط ضروری ہے اور جسمانی تعلیم کے اساتذہ نچلی سطح کے کھیلوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی ایک باصلاحیت بچے کو مواقع کی کمی کے باعث پیچھے رہ جانا پڑے تو یہ صرف اس کی ذاتی نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل ایک تبدیلی لانے والا ذریعہ ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر مشکل علاقوں میں، جہاں یہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر مانڈویہ نے کوچ کی باقاعدہ تصدیق اور تربیت میں بہتری، کھلاڑیوں کی سائنسی بنیادوں پر تربیت اور اسپورٹس انتظامیہ میں صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک مربوط اور مسلسل نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، ”جب بنیادی ڈھانچہ، ٹیلنٹ کی شناخت اور تربیت یافتہ افرادی قوت ایک مربوط سلسلے کی صورت اختیار کر لیں گے تو اولمپک پوڈیم تک رسائی خود بخود ممکن ہو جائے گی“ اور اس طرح نچلی سطح کی شمولیت کو اعلیٰ کارکردگی سے ایک منظم راستے کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے لکشمی بائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل ایجوکیشن، گوالیار کے تحت وائی ای ایس-پی ای (ینگ انگیجمنٹ اِن اسپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن) پروگرام کا بھی آغاز کیا، جسے جماعت 9 سے 12 تک کے طلبہ کے لیے کھیلوں میں شرکت، اسپورٹس مین شپ اور قیادت کو فروغ دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری (کھیل) ہری رنجن راؤ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس شیوِر کی اہمیت کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا جو اجتماعی غور و فکر اور عملی اقدامات کو فروغ دیتا ہے۔
چنتن شیوِر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ اجتماع محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ غور و فکر، عزم اور نئے عہد کا ایک مشترکہ لمحہ ہے۔“
چنتن شیوِر میں مختلف موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں میڈل حکمتِ عملی، پالیسی ہم آہنگی، صاف اور محفوظ کھیل، اور ٹیلنٹ کی شناخت و ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پندرہ سے زائد ریاستی وزرائے کھیل کے ساتھ ساتھ ممتاز کھیل شخصیات جیسے عادل سُمرِی والا، ابھینو بندرا، پلیلا گوپی چند اور گگن نارنگ نے چنتن شیوِر میں شرکت کی اور متعلقہ فریقین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جو ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پالیسی مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مختلف ریاستوں کے وزرائے کھیل نے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو مرکز میں رکھنے والے نقطۂ نظر پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ماڈل کو ملک کے مختلف خطوں میں نافذ کر کے ہندوستان میں ایک مضبوط اور مؤثر کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
مباحثوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوچنگ نظام کو بہتر بنانے، مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، اخلاقی اور محفوظ کھیل کے ماحول کو یقینی بنانے اور اسکولوں، اکیڈمیوں اور اعلیٰ تربیتی مراکز کے درمیان مربوط سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
ان اجلاسوں میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ کھلاڑیوں کی نشاندہی سے لے کر اعلیٰ کارکردگی کی تربیت تک تسلسل برقرار رکھنے کے لیے منظم راستوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستوں کے درمیان مسلسل نگرانی، جائزہ اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی کے مقاصد کو زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
مباحثوں میں اس امر کی دوبارہ توثیق کی گئی کہ ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کھیلوں کا نظام قائم کرنے کے لیے مرکز، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان متحدہ اور مربوط نقطۂ نظر نہایت اہم ہے، جو ہندوستانکے عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہو۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
ترکیہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کردی
انقرہ، ترکیے نے امریکہ ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔ ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا7 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ





































































































