تازہ ترین
صدقہ فِطر،روزوں کا صدقہ

(الحاج حافظ)محمد ہاشم قادری صدیقی
﴿ ماہِ رمضان المبارک کے روزے فرض ہیں۔ روزہ رکھنے سے بندوں کے اندر جذبہ¿ غم خواری پیدا ہوتی ہے۔ انسان بھوک اور پیاس کی حالت میں ان لوگوں کا تصور کرکے لرز اٹھتا ہے جو ایک ٹکڑا روٹی کے لئے ترستے رہتے ہیں۔ اپنے اور اپنے بچوں کے پیٹ کی آگ بجھانے کی کوشش میں پریشان رہتے ہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : رمضان کا مہینہ غم خواری کا مہینہ ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں: جب رمضان کا مہینہ آتا تو آپ ﷺ پہلے سے زیادہ سخی ہوجاتے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما کا بیان ہے کہ جب رمضان کامہینہ آتا تو پیارے آقا ﷺ ہر قیدی کو آزاد کر دیتے اور ہر سائل کو کچھ نہ کچھ ضرور دیتے(بیہقی)۔رحمت عالم ﷺ اس مقدس مہینہ میں صدقہ و خیرات کثرت سے کیا کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما کا بیان ہے: نبی کریم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی ہوتے تھے اور آپ ﷺ سب سے زیادہ صدقہ و خیرات رمضان المبارک میں کیا کرتے تھے۔ جب حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ سے رمضان المبارک کی ہر رات میں ملتے اور دوران ملاقات نبی کریم ﷺ انھیں قرآن مجید سناتے اور آپ ﷺ تیز ہوا سے بھی سبقت کے ساتھ صدقہ و خیرات کرتے۔(شعب الایمان)
اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے صدقہ و خیرات کو(سورہ البقرہ ،آیت۵۷۲)احادیث میں صدقات کی بہت فضیلتیں آئی ہیں۔ چند ملاحظہ فرمائیں۔(۱) ابو بکر صدیق ص فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے : دوزخ سے بچو اگرچہ آدھا چھوارہ دے کر کہ وہ کجی کو سیدھا اور بری موت کو دور کرتا ہے۔ (۲)نبی کریم ﷺ نے فرمایا :بے شک مسلمان کا صدقہ عمر کو بڑھاتا ہے اور بری موت کو منع کرتاہے۔(۳) بے شک اللہ عزوجل صدقہ کے سبب سے ۰۷دروازے بری موت کے دفع فرماتا ہے۔(۴) صبح کے صدقے آفتوں کو دفع کردیتے ہیں۔(طبرانی،ابو یعلی، والبراز، رواہ الدیمی حضرت انس ص) ،جو مسلمان اپنے مال حلال سے صدقہ دیتا ہے ، اسے حق تعالیٰ اپنے دست شفقت و لطف سے اس طرح پرورش فرماتا ہے۔جیسے تم اپنے چو پایوں کی پرورش کرتے ہو یہاں تک کہ چند خرمے(چھوارہ) اُحد پہاڑ کے برابر ہو جاتے ہیں اور فرمایا کہ قیامت کے دن ہر ایک اپنے صدقے کے سایہ میں ہوگا جب تک حساب ہوکر حکم صادر ہوگا لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ صدقہ کون سا افضل ہے فرمایا :جو تندرستی میں دیا جائے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے دروازے سے سائل کو محروم پھیر دیتا ہے (یعنی کچھ نہیں دیتا) سات دن تک اس کے گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں جاتے(کشف القلوب جلد اول صفحہ 469باب صدقہ کی فضیلت)،رسول کریم ﷺ دو کام اوروں پر نہیں چھوڑتے تھے بلکہ اپنے ہی ہاتھوں سے کرتے تھے فقیر کو صدقہ اپنے ہی دست مبارک سے دیتے اور رات کو وضو کے لیے پانی برتن میں خود رکھتے تھے۔آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص مسلمان کو کپڑا پہنائے گا جب تک وہ کپڑا اس کے بدن پر رہے گا کپڑا دےنے والا خدا کی حفاظت میں رہے گا۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک آدمی نے ستر (۰۷) برس عبادت کی پھر اس سے اتنا بڑا گناہ سرزد ہوا کہ وہ سب عبادت برباد اور رائگاں ہو گئی اس کا گزر ایک فقیر کی طرف سے ہوا اور اس نے فقیر کو ایک روٹی دی تو اللہ تعالیٰ نے اس کا وہ گناہ عظیم بخش دیا اور ستر برس کی عبادت اسے واپس کر دی۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی کہ بیٹا ! تجھ سے جب کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو صدقہ دینا اللہ نے قرآن کریم میں فرمایا : تم لو گ ہرگز نیکی کے مقام کو نہ پا سکوگے جب تک اس میں سے خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہے(القرآن ، سور ہ آل عمران،آیت نمبر ۲۹)۔
صدقہ فطر کا حکم:روزہ دار اگرچہ مجسم نیکی میں ہوتا ہے اس کے مادی جسم میں ملکوتی (فرشتوں جیسی)روح پیدا ہوتی رہتی ہے۔ وہ جھوٹ سے، بدگوئی سے، بد کلامی سے، ایذا رسانی سے، حق تلفی سے ، غرض کہ ہر طرح کی برائیوں سے دور رہتا ہے یا کم از کم دور رہنے کی کوشش کرتا ہے ۔ پھر بھی وہ بہر حال انسان ہی ہوتا ہے فرشتہ نہیںہوتا۔ اس لئے ہزار کوششوں کے باوجود اس سے لغزشیں ہو ہی جاتی ہیں۔ زبان سے بے ہودہ باتیں نکل ہی جاتی ہیں اس لئے قدرتی طور پر روزوں کا بالکل بے داغ اور ہر نقص سے پاک رہنا ممکن نہیں۔ اللہ کے حبیب رسول اللہ ﷺ نے روزوں کو اس طرح کے داغ دھبوں سے پاک صاف اور مقبول رب العالمین بنانے کے لئے ایک خاص قسم کا صدقہ دینے کا حکم فرمایا جس کو اصطلاح شریعت میں ”صدقہ فطر“ کہتے ہیں۔ احادیث میںہے کہ عمرو بن شعیب ص سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ایک شخص کو بھیجا کہ مکہ کے کوچوں میںاعلان کردے کہ صدقہ فطر واجب ہے۔(ترمذی جلداول، صفحہ ۶۴۱،باب ماجاءفی صدقة الفطر) ابو داو¿د،ابن ماجہ و حاکم ابن عباس رضی اللہ عنھما سے راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زکوٰة فطر مقرر فرمائی کہ لغو اور بیہودہ کلام سے روزہ کی طہارت ہوجائے اور مساکین کی خوردو نوش (کھانے پینے )کا انتظام ہوجائے۔(بہار شریعت جلد۵،صفحہ ۵۵)ایک حدیث میں ہے : رمضان کے روزے آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتے ہیں جب تلک صدقہ فطر ادا نہ کر دیا جائے آگے(بارگاہِ خداوندی )تک نہیں جاتے) (ترغیب) : رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطرکو فرض کیا ہے تاکہ روزہ دار (کا روزہ) لغو اور فحش گوئی وغیرہ کے داغ دھبوں سے پاک و صاف ہوجائے(ابو داود ، ابن ماجہ)
(زکوٰة بمعنی ضروری واجب) ان احادیث سے صدقہ فطر کی اہمیت اور غایت (مطلب) دونوں چیزیں واضح ہو جاتی ہیں۔ اس کو نگاہ میں رکھنے کے بعد صدقہ فطر کی ادائیگی ہر روزہ دار مسلمان کی ایک ناگزیر فطری چیز بن جاتی ہے۔ مسئلہ: صدقہ فطر ادا کرنے کے لئے مال کا باقی رہنا شرط نہیں مال ہلاک ہونے کے بعد بھی صدقہ فطر واجب رہے گا ساقط نہیں ہوگا بخلاف زکوٰة و عشر کہ یہ دونوں مال ہلاک ہوجانے سے ساقط ہوجاتے ہیں(درمختار جلد۲ صفحہ ۰۱۱، بہار شریعت جلد ۵ صفحہ۶۵ باب صدقہ فطر کا بیان)
صدقہ فطر بہت ضروری ہے:صدقہ فطر کے واجب ہونے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ آدمی کے پاس زکوٰة کا نصاب ہو بلکہ جس طرح ایک مالدار کے لئے اس کا دینا ضروری ہے اسی طرح اس غریب کے لئے بھی ضروری ہے جس کے پاس عید کے دن اپنے اہل وعیال کی خوراک سے زائد اس قدر موجود ہو کہ ہر ایک کی طرف سے صدقہ فطر دے سکے ۔ مسئلہ: صدقہ فطر واجب ہونے کے لئے روزہ رکھنا شرط نہیں اگر کسی عذر شرعی ، سفر، مرض ، بوڑھا پے کی و جہ سے یا معاذ اللہ بلا عذر روزہ نہ رکھا جب بھی واجب ہے۔ (رد المختارجلد ۲صفحہ ۱۰۱، بہار شریعت جلد ۵صفحہ ۶۵ باب صدقہ فطر کا بیان) ان احادیث اور مسئلہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صدقہ فطر صرف ان ہی لوگوں پر فرض نہیں ہے جنھوں نے روزہ رکھا ہو یا نہیں ۔ نبی کریم نے صدقہ فطر کو طعمتہ للمساکین(مساکین کی خوراک) بھی فرمایا ہے۔ یعنی جس طرح صدقہ فطر کا ایک مقصد روزے دار کے روزوں کو پاک کرنا اور مقبول بنا دینا ہے اسی طرح عید کے دن غریبوں، مساکین کے لئے کھانے پینے کا بندوبست ہوجانا بھی ایک مصلحت اور مقصد ہے جس کا تقاضہ یہی ہے کہ صدقہ فطر دینے والوں کا دائرہ وسیع سے وسیع ہو صرف روزہ داروں تک ہی صدقہ فطر محدود نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا یہ امتیازی وصف ہے کہ وہ مساکین و فقراءسے محبت رکھتے ہیں اور ان کے لئے تواضع کرتے ہیں اور یوں حضور ﷺ کے اس قول پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔اے اللہ مجھے مسکین کی حالت میں رکھ اور مجھے مسکینی پر موت دے اور قیامت کے دن مساکین کے زمرے میں اٹھا۔(جامع ترمذی جلد ۲صفحہ ۸۵، کتاب الزہد حدیث نمبر۲۵۳۲)
اللہ کے رسول سب سے زیادہ فقراءومساکین کی تواضع کرتے اور جب ان کے ساتھ بیٹھتے تو گھٹنے پر گھٹنا رکھ کر بیٹھتے اور محبت سے پیش آتے لہٰذا ہم کو آپ کو چاہئے کہ فقراءو مساکین کی خوراک کا انتظام کریں ۔ صدقہ فطر ضرور ادا کریں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما نے کہا :رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر اس لئے مقرر فرمایاتاکہ لغو اور بےہودہ کلام سے روزہ کی طہارت ہوجائے اور دوسری طرف مساکین کے لئے خوراک ہوجائے۔(ابو داو¿دجلداول صفحہ۷۲۲، کتاب الزکوٰة ،مشکوٰة صفحہ ۰۶۱کتاب الزکوٰة)ہم سب کو چاہئے کہ صدقہ فطر عید سے پہلے ادا کریں ۔ عید کے دن گویا مزدوری ملنے کا دن ہے ۔ عید کے دن معاشرے کے پسماندہ اور محروم لوگوں کو اپنی خوشی میں شامل کرنا چاہئے تاکہ ان کی بھی عید ہوجائے ۔ اللہ ہم تمام مسلمانوں کو صدقہ فطر و زکوٰة ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ اور روزوں کے فوائد سے مالا مال فرمائے آمین! ثم آمین!
جموں و کشمیر
کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
سری نگر، کپواڑہ کی ایک عدالت نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کرتے ہوئے 2023 میں ایک پولیس کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کیس میں سات دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپواڑہ، منجیت سنگھ منہاس نے 24 اپریل کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، تاہم دیگر سات ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
یہ معاملہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو 20 فروری سے 26 فروری 2023 کے درمیان جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر (جے سی آئی) کپواڑہ میں غیر قانونی
طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، جو مبینہ طور پر منشیات سے متعلق جرائم کی تفتیش کے بہانے کیا گیا تھا۔
یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں، جب متاثر کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی تھی۔ سی بی آئی نے جولائی 2025 میں ایف آئی آر درج کی اور بعد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی (مجرمانہ سازش)، 323، 325 (زخمی کرنا)، 330، 331 (اقرارِ جرم حاصل کرنے کے لیے تشدد) اور 343 (غلط حراست) شامل تھیں۔ بعد ازاں سی بی آئی نے ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر کے آخری ہفتے میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ڈی ایس پی نائک کا کردار نگرانی تک محدود تھا اور ان کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہاکہ”ان کے خلاف محض شبہ پایا جاتا ہے جو سنگین شبہ کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ شرکت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا ملزم اے-1 (ڈی ایس پی اعجاز) کو مذکورہ دفعات کے تحت بری کیا جاتا ہے۔”
تاہم عدالت نے دیگر ملزمان کے حوالے سے مختلف رائے اختیار کی، جن میں سب انسپکٹر ریاض احمد میر، اسپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد بیگ، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان اور تنویر احمد ملا، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاکر حسین کھوجا اور الطاف حسین بھٹ، اور کانسٹیبل شہنواز احمد دیداد شامل ہیں۔
ان سات میں سے چھ ملزمان کپواڑہ ضلع کے رہائشی ہیں جبکہ تنویر احمد ملا کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد، جن میں متاثر کا بیان، طبی رپورٹس اور دیگر حالات شامل ہیں، ان ساتوں کے خلاف بادی النظر میں کیس ثابت کرتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حراست کے دوران متاثر کے جسم کے حساس حصوں پر لگنے والی چوٹیں اور طبی رائے حراستی تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ متاثر مکمل طور پر ملزمان کے کنٹرول میں تھا، جو استغاثہ کے موقف کو مضبوط بناتا ہے۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ الزامات مبہم ہیں اور کہا کہ متاثر نے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے اور ان کے کردار کی تفصیل بیان کی، جو کئی دنوں تک جاری رہنے والے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ”اس مرحلے پر عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا بادی النظر میں کیس یا سنگین شبہ موجود ہے، نہ کہ مکمل ٹرائل کرنا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ان جرائم کے عناصر کو ثابت کرتا ہے۔ “ریکارڈ پر موجود مواد، اپنی ظاہری حیثیت میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان سات ملزمان نے مشترکہ منصوبے کے تحت مذکورہ دفعات کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔”
اس کے مطابق عدالت نے ساتوں ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا اور مقدمہ 14 مئی کو استغاثہ کے ثبوت کے لیے درج کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مانڈویہ نے نچلی سطح پر توجہ مرکوز کرنے پر دیا زور، سرینگر میں وزرائے کھیل کا ‘چنتن شیویر’
سرینگر نوجوانوں اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ہفتہ کو اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی سپر پاور کے طور پر ابھرنے کا جو 10 سالہ پرجوش روڈ میپ ہے، اسے نچلی سطح پر کام میں تبدیل ہونا چاہیے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے مباحثوں کی سمت متعین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے کھیلوں کے عزائم کو زمینی سطح پر عمل درآمد کے ذریعے ہی حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا
”عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے لیے ہمارا 10 سالہ روڈ میپ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہر کھیل کے میدان، ہر ضلع اور ہر نوجوان کے خواب میں زندہ نظر آنا چاہیے۔“
جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی چنتن شیوِر میں شرکت کی اور ہندوستان کو کھیلوں کی طاقت بنانے کے وژن کو سراہا۔
کھیلوں کے مرکزی وزیر نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ محض پالیسی اپنانے تک محدود نہ رہیں بلکہ فعال عمل درآمد کی طرف بڑھیں، اور اس بات پر زور دیا کہ حقیقی پیش رفت کا اندازہ اُن نتائج سے ہوگا جو اضلاع، تربیتی نظام اور نچلی سطح کے کھیلوں کے ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”کھیلو بھارت مشن صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اور قوم کے عزم کی عکاسی ہے۔“
ڈاکٹر مانڈویہ نے ریاستی حکومتوں اور اسپورٹس فیڈریشنوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط اور متحدہ ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل کے لیے قریبی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے پر ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے تعلیمی نظام کے ساتھ ربط ضروری ہے اور جسمانی تعلیم کے اساتذہ نچلی سطح کے کھیلوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی ایک باصلاحیت بچے کو مواقع کی کمی کے باعث پیچھے رہ جانا پڑے تو یہ صرف اس کی ذاتی نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل ایک تبدیلی لانے والا ذریعہ ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر مشکل علاقوں میں، جہاں یہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر مانڈویہ نے کوچ کی باقاعدہ تصدیق اور تربیت میں بہتری، کھلاڑیوں کی سائنسی بنیادوں پر تربیت اور اسپورٹس انتظامیہ میں صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک مربوط اور مسلسل نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، ”جب بنیادی ڈھانچہ، ٹیلنٹ کی شناخت اور تربیت یافتہ افرادی قوت ایک مربوط سلسلے کی صورت اختیار کر لیں گے تو اولمپک پوڈیم تک رسائی خود بخود ممکن ہو جائے گی“ اور اس طرح نچلی سطح کی شمولیت کو اعلیٰ کارکردگی سے ایک منظم راستے کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے لکشمی بائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل ایجوکیشن، گوالیار کے تحت وائی ای ایس-پی ای (ینگ انگیجمنٹ اِن اسپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن) پروگرام کا بھی آغاز کیا، جسے جماعت 9 سے 12 تک کے طلبہ کے لیے کھیلوں میں شرکت، اسپورٹس مین شپ اور قیادت کو فروغ دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری (کھیل) ہری رنجن راؤ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس شیوِر کی اہمیت کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا جو اجتماعی غور و فکر اور عملی اقدامات کو فروغ دیتا ہے۔
چنتن شیوِر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ اجتماع محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ غور و فکر، عزم اور نئے عہد کا ایک مشترکہ لمحہ ہے۔“
چنتن شیوِر میں مختلف موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں میڈل حکمتِ عملی، پالیسی ہم آہنگی، صاف اور محفوظ کھیل، اور ٹیلنٹ کی شناخت و ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پندرہ سے زائد ریاستی وزرائے کھیل کے ساتھ ساتھ ممتاز کھیل شخصیات جیسے عادل سُمرِی والا، ابھینو بندرا، پلیلا گوپی چند اور گگن نارنگ نے چنتن شیوِر میں شرکت کی اور متعلقہ فریقین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جو ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پالیسی مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مختلف ریاستوں کے وزرائے کھیل نے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو مرکز میں رکھنے والے نقطۂ نظر پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ماڈل کو ملک کے مختلف خطوں میں نافذ کر کے ہندوستان میں ایک مضبوط اور مؤثر کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
مباحثوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوچنگ نظام کو بہتر بنانے، مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، اخلاقی اور محفوظ کھیل کے ماحول کو یقینی بنانے اور اسکولوں، اکیڈمیوں اور اعلیٰ تربیتی مراکز کے درمیان مربوط سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
ان اجلاسوں میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ کھلاڑیوں کی نشاندہی سے لے کر اعلیٰ کارکردگی کی تربیت تک تسلسل برقرار رکھنے کے لیے منظم راستوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستوں کے درمیان مسلسل نگرانی، جائزہ اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی کے مقاصد کو زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
مباحثوں میں اس امر کی دوبارہ توثیق کی گئی کہ ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کھیلوں کا نظام قائم کرنے کے لیے مرکز، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان متحدہ اور مربوط نقطۂ نظر نہایت اہم ہے، جو ہندوستانکے عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہو۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
ترکیہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کردی
انقرہ، ترکیے نے امریکہ ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔ ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا7 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ





































































































