تازہ ترین
موت: دائمی زندگی کی ابتداء

ابن بشیر، گاندربل
زندگی کب اور کیسے ختم ہوگی کوئی نہیں جانتا۔انسان دنیا میں اسی لیے زندگی بسر کر رہا ہے کیونکہ اس کو مرنا ہے۔انسان کی عمر چاہیے 50 سال ہو، 60 سال ہو، 100 سال ہو یا زندگی کے کچھ لمحات میسر ہوں آخر اسے یہ دنیا رخصت ہونا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر ایک نفس کو دنیا سے رخصت ہونا ہے اس سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ یہاں تک کہ فرشتوں کی روح بھی قبض کی جائے گی اور آخر پر حضرت عزرائیلؑ کو بھی موت کا مزا چھکنا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے لیے موت کا وقت مقرر کیا ہے موت سے نہ کوئی بھاگ سکتا ہے اور نہ کوئی بچ سکتا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔۔
“کہہ دو جس موت سے تم بھاگ رہے ہو وہ تمہیں لاحق ہو کر رہے گی پھر تم حاضر و غائب کو جاننے والے کے پاس لوٹاۓ جاؤ گے۔پس وہ تم کو خبر کرے گا تمہارے اعمال کی” (سورہ الجمعہ۔آیت نمر80).
سچ ہے کہ موت سے بھاگا اور موت میں گرا ۔کہاوت ہے کہ جو بچنے والا ہوتا ہے اسے سمندر میں بھی راستہ مل جاتا ہے اور جب قضا آجاۓ تو کوئی بھی چیز موت کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ بات اپنے دل و دماغ میں پیوست کرلو کہ موت کبھی بھی آسکتی ہے ۔موت کا کوئی وقت نہیں۔موت بول کر نہیں آتی۔ موت کے آنے کی کوئی نشانی نہیں ۔یہ ضروری نہیں ہے کہ پہلے ہم بوڈھے ہونگیں پھر بیمار اور پھر موت آجاۓ گی، نہیں ہر گز نہیں! موت بچپن میں بھی آسکتی ہے ، موت جوانی میں بھی آسکتی ہے اور موت بوڈھاپے میں بھی آسکتی ہے ۔موت اس وقت بھی آسکتی ہے جب ہم صحتیاب ہوں۔ موت خلوت میں بھی آسکتی ہے اور دن کے اجالے میں بھی۔ صبح ہو یا شام ہر وقت ہم موت کی طرف گامزن ہے۔ الغرض موت کبھی بھی کسی بھی وقت آسکتی ہے اور ہمیں اس موت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
“شیخ علی طنطاوی نے اپنے سماعات و مشاہدات میں لکھا ہے کہ شام کے ایک آدمی کے پاس لاری تھی۔اس کے ساتھ ایک آدمی گاڑی پر سوار ہوا۔اس کے اوپری حصہ میں ایمبولینس تھی جس میں ضرورت کی لیے ایک بادبان بھی تھا۔بارش ہوگئی پانی بہا، یہ سوار کھڑاہوا اور ایمبولینس میں داخل ہوگیا اور اپنے کو بادبان سے ڈھک لیا ۔اتنے میں ایک اور سوار ہوا جو ایمبولینس کی جانب چلا گیا اسے معلوم نہ تھا کہ پہلے سے بھی کوئی آدمی موجود ہے۔بارش پڑتی رہی، اچانک پہلے والے نے یہ دیکھنے کے لیے کہ بارش تھمی ہا نہیں اپنا ہاتھ باہر نکالا؟ دوسرا بے چارہ اس کے چمکتے ہاتھ کو دیکھ کر سمجھا کہ مردہ زندہ ہوگیا، اس پر گھبراہٹ اور خوف طاری ہوگیا۔اپنے آپ کو بھول گیا اور شدید گھبراہٹ میں گاڑی سے نیچے گر پڑا جو اس کے بھیجہ کو پاش پاش کر گئی۔اس بےچارے کی موت اس طریقہ پر لکھی تھی وہ آکر رہی۔”
صبح ہوئی تو شام کا انتظار نہ کریں۔ اور شام ہوئی تو صبح کا انتظار نہ کریں۔بس آج اور ابھی پر نظر رکھیں نہ کل پر جو اچھا برا گزر چکا اور نہ آیندہ پر جو ابھی آیا ہی نہیں۔ اپنے آپ کو اس نظریہ کا عادی بنایں کہ “میرا صرف آج ہے، میں بس آج ہی زندہ رہوں گا، آج میری موت کا دن ہے” یہ بات ذہن میں رکھتے ہوۓ پھر آپ موت کے لیے سامان تیار کرو گے۔ پھر اپنے آپ کو ہر لغزش سے دور رکھو گے، نیک نیک کام انجام دو گے، نماز پڑھو گے، قرآن کی تلاوت کرو گے، ماں پاب کی خدمت کرو گے، ہمسائیوں کا حق ادا کرو گے، صدقہ کرو گے، اللہ کا خوف دل میں رکھو گے ۔ الغرض آپ موت کو کثرت سے یاد کرو گے اور اپنی اصلی زندگی کے لیے بہترین زادراہ تیار کرو گے۔جس سے آپ کی اصل زندگی کی کی ابتداء ہوگی۔
اور اگر آپ اپنی موت کو بھول گے اس بات کو ذہن سے نکالا کہ مجھ کو کبھی موت کا مزا چکنا ہے تو ظاہر سی بات ہے آپ کے دل سے اللہ کا خوف ختم ہوگا آپ کے دل کو زنگ لگ جاۓ گا اور ان سب کاموں سے دور رہو گے جس سے ہماری اصل زندگی (یعنی آخرت) اچھی بنے گی۔ اور پھر جب موت آجاۓ گی پھر اپنے آپ پر پچھتاوا کرو گے کہ میں نے اپنی قیمتی زندگی کہاں گزاری۔ اس وقت کو غنیمت جانو کیونکہ اس وقت آپ حیات ہو۔جب موت آپ کے دروازے پر ہوگی تو پھر آپ اللہ سے وقت کی دخواست مانگو گے مگر وقت نہیں ملے گا، آپ توبہ کرو کے مگر اس کی کنجائش نہ ہوگی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”دنیا میں اس طرح رہو، جیسے تم ایک (راہ چلتے) مسافر ہو یا کسی منزل کے راہی‘‘ ۔ حضرت عبداللہ بن عمر کہا کرتے تھے: ”جب شام ہو جائے تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح ہو جائے تو شام کا انتظار نہ کرو اور بیماری سے پہلے صحت کو غنیمت سمجھو اور موت سے پہلے زندگی کو غنیمت سمجھو‘‘ (بخاری:6414)
“اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انسان کو جو لمحات میسر آئے ہیں انہی لمحات میں وہ موت کے بعد کے لیے زادراہ تیار کرتا ہے۔اور جب موت لاحق ہوجاتی ہےتو پھر یہ لمحات ختم ہوجاتے ہیں اور کوئی نیک عمل نہیں کیا جاسکتا۔ایک انسان جب ان لمحات کو ضائع کرتا ہے تو موت کے وقت وہ نادم و پشیمان ہو جاتا ہےاور مزید مہلت کی درخواست کرتا ہے”۔(مجموعہ احادیث: پانچ باتیں ، مجاہد شبیر احمد فلاحی صاحب).
ہم نے کتابوں سے پڑھا ہے کہ دنیا میں جتنے بھی طاقتور لوگ آئے ہر ایک نے موت کا مزا چک لیا۔دوسروں کو موت کی دھمکی دینے والے خود موت کی آغوش میں چلے گے۔بڑی بڑی گاڑیوں میں سفر کرنے والوں نے بھی موت کا مزا چک لیا، اونچے اونچے مکانات میں رہنے والوں نے بھی موت کا مزا چک لیا، امیر ہو یا غریب، کمزور ہو یا طاقتور ، چھوٹا ہویا بڑا ، کافر ہو یا مسلمان ہر ایک کو موت کا ذائقہ چکنا ہے۔
اللہ کا ارشاد ہے،ہر ایک نفس کو موت کا مزا چکنا ہے ۔۔(القرآن)
اب ذرا اپنے آپ پر نظر ڈالیں کہ ہم نے موت کے لیے کیا سامان تیار کیا ہے۔دنیاوی زندگی گزارنے کے لیے ہم نے رات دن کو ایک کیا، بڑے بڑے مکانات بنائے، اعلٰی تعلیم حاصل کی، الغرض اپنی دنیاوی زندگی کو آرام دینے کے لیے ہم نے بہت محنت و مشقت کی جو کہ ایک ضرورت بھی ہے مگر یہ ہم اس زندگی کے لیے کر رہے ہیں جو کہ عارضی ہے۔اب یہ دیکھے کہ اس عارضی زندگی میں ہم نے ابدی زندگی(موت کے بعد کی زندگی) کے لیے کیا زاد راہ تیار کیا ہے۔کیا ہم نے اتنا سامان تیار کیا ہے جو ہماری قبر کو روشنی دے؟ کیا اتنا سامان تیار کیا ہے جو ہمیں جنت کی طرف لے جاۓ؟ کیا اتنا سامان تیار کیا ہے جس سے اللہ ہم سے راضی ہے؟
اپنے آپ کا احتساب کریں اور دیکھیں ہم کہاں ہیں۔
اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کے بتاۓ ہوے راستے پر زندگی گزاریں۔اسی میں ہماری فلاح ہے۔۔
رابطہ:9596069449
جموں و کشمیر
کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
سری نگر، کپواڑہ کی ایک عدالت نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کرتے ہوئے 2023 میں ایک پولیس کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کیس میں سات دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپواڑہ، منجیت سنگھ منہاس نے 24 اپریل کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، تاہم دیگر سات ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
یہ معاملہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو 20 فروری سے 26 فروری 2023 کے درمیان جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر (جے سی آئی) کپواڑہ میں غیر قانونی
طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، جو مبینہ طور پر منشیات سے متعلق جرائم کی تفتیش کے بہانے کیا گیا تھا۔
یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں، جب متاثر کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی تھی۔ سی بی آئی نے جولائی 2025 میں ایف آئی آر درج کی اور بعد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی (مجرمانہ سازش)، 323، 325 (زخمی کرنا)، 330، 331 (اقرارِ جرم حاصل کرنے کے لیے تشدد) اور 343 (غلط حراست) شامل تھیں۔ بعد ازاں سی بی آئی نے ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر کے آخری ہفتے میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ڈی ایس پی نائک کا کردار نگرانی تک محدود تھا اور ان کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہاکہ”ان کے خلاف محض شبہ پایا جاتا ہے جو سنگین شبہ کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ شرکت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا ملزم اے-1 (ڈی ایس پی اعجاز) کو مذکورہ دفعات کے تحت بری کیا جاتا ہے۔”
تاہم عدالت نے دیگر ملزمان کے حوالے سے مختلف رائے اختیار کی، جن میں سب انسپکٹر ریاض احمد میر، اسپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد بیگ، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان اور تنویر احمد ملا، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاکر حسین کھوجا اور الطاف حسین بھٹ، اور کانسٹیبل شہنواز احمد دیداد شامل ہیں۔
ان سات میں سے چھ ملزمان کپواڑہ ضلع کے رہائشی ہیں جبکہ تنویر احمد ملا کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد، جن میں متاثر کا بیان، طبی رپورٹس اور دیگر حالات شامل ہیں، ان ساتوں کے خلاف بادی النظر میں کیس ثابت کرتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حراست کے دوران متاثر کے جسم کے حساس حصوں پر لگنے والی چوٹیں اور طبی رائے حراستی تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ متاثر مکمل طور پر ملزمان کے کنٹرول میں تھا، جو استغاثہ کے موقف کو مضبوط بناتا ہے۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ الزامات مبہم ہیں اور کہا کہ متاثر نے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے اور ان کے کردار کی تفصیل بیان کی، جو کئی دنوں تک جاری رہنے والے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ”اس مرحلے پر عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا بادی النظر میں کیس یا سنگین شبہ موجود ہے، نہ کہ مکمل ٹرائل کرنا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ان جرائم کے عناصر کو ثابت کرتا ہے۔ “ریکارڈ پر موجود مواد، اپنی ظاہری حیثیت میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان سات ملزمان نے مشترکہ منصوبے کے تحت مذکورہ دفعات کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔”
اس کے مطابق عدالت نے ساتوں ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا اور مقدمہ 14 مئی کو استغاثہ کے ثبوت کے لیے درج کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مانڈویہ نے نچلی سطح پر توجہ مرکوز کرنے پر دیا زور، سرینگر میں وزرائے کھیل کا ‘چنتن شیویر’
سرینگر نوجوانوں اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ہفتہ کو اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی سپر پاور کے طور پر ابھرنے کا جو 10 سالہ پرجوش روڈ میپ ہے، اسے نچلی سطح پر کام میں تبدیل ہونا چاہیے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے مباحثوں کی سمت متعین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے کھیلوں کے عزائم کو زمینی سطح پر عمل درآمد کے ذریعے ہی حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا
”عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے لیے ہمارا 10 سالہ روڈ میپ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہر کھیل کے میدان، ہر ضلع اور ہر نوجوان کے خواب میں زندہ نظر آنا چاہیے۔“
جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی چنتن شیوِر میں شرکت کی اور ہندوستان کو کھیلوں کی طاقت بنانے کے وژن کو سراہا۔
کھیلوں کے مرکزی وزیر نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ محض پالیسی اپنانے تک محدود نہ رہیں بلکہ فعال عمل درآمد کی طرف بڑھیں، اور اس بات پر زور دیا کہ حقیقی پیش رفت کا اندازہ اُن نتائج سے ہوگا جو اضلاع، تربیتی نظام اور نچلی سطح کے کھیلوں کے ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”کھیلو بھارت مشن صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اور قوم کے عزم کی عکاسی ہے۔“
ڈاکٹر مانڈویہ نے ریاستی حکومتوں اور اسپورٹس فیڈریشنوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط اور متحدہ ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل کے لیے قریبی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے پر ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے تعلیمی نظام کے ساتھ ربط ضروری ہے اور جسمانی تعلیم کے اساتذہ نچلی سطح کے کھیلوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی ایک باصلاحیت بچے کو مواقع کی کمی کے باعث پیچھے رہ جانا پڑے تو یہ صرف اس کی ذاتی نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل ایک تبدیلی لانے والا ذریعہ ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر مشکل علاقوں میں، جہاں یہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر مانڈویہ نے کوچ کی باقاعدہ تصدیق اور تربیت میں بہتری، کھلاڑیوں کی سائنسی بنیادوں پر تربیت اور اسپورٹس انتظامیہ میں صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک مربوط اور مسلسل نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، ”جب بنیادی ڈھانچہ، ٹیلنٹ کی شناخت اور تربیت یافتہ افرادی قوت ایک مربوط سلسلے کی صورت اختیار کر لیں گے تو اولمپک پوڈیم تک رسائی خود بخود ممکن ہو جائے گی“ اور اس طرح نچلی سطح کی شمولیت کو اعلیٰ کارکردگی سے ایک منظم راستے کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے لکشمی بائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل ایجوکیشن، گوالیار کے تحت وائی ای ایس-پی ای (ینگ انگیجمنٹ اِن اسپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن) پروگرام کا بھی آغاز کیا، جسے جماعت 9 سے 12 تک کے طلبہ کے لیے کھیلوں میں شرکت، اسپورٹس مین شپ اور قیادت کو فروغ دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری (کھیل) ہری رنجن راؤ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس شیوِر کی اہمیت کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا جو اجتماعی غور و فکر اور عملی اقدامات کو فروغ دیتا ہے۔
چنتن شیوِر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ اجتماع محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ غور و فکر، عزم اور نئے عہد کا ایک مشترکہ لمحہ ہے۔“
چنتن شیوِر میں مختلف موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں میڈل حکمتِ عملی، پالیسی ہم آہنگی، صاف اور محفوظ کھیل، اور ٹیلنٹ کی شناخت و ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پندرہ سے زائد ریاستی وزرائے کھیل کے ساتھ ساتھ ممتاز کھیل شخصیات جیسے عادل سُمرِی والا، ابھینو بندرا، پلیلا گوپی چند اور گگن نارنگ نے چنتن شیوِر میں شرکت کی اور متعلقہ فریقین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جو ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پالیسی مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مختلف ریاستوں کے وزرائے کھیل نے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو مرکز میں رکھنے والے نقطۂ نظر پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ماڈل کو ملک کے مختلف خطوں میں نافذ کر کے ہندوستان میں ایک مضبوط اور مؤثر کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
مباحثوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوچنگ نظام کو بہتر بنانے، مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، اخلاقی اور محفوظ کھیل کے ماحول کو یقینی بنانے اور اسکولوں، اکیڈمیوں اور اعلیٰ تربیتی مراکز کے درمیان مربوط سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
ان اجلاسوں میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ کھلاڑیوں کی نشاندہی سے لے کر اعلیٰ کارکردگی کی تربیت تک تسلسل برقرار رکھنے کے لیے منظم راستوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستوں کے درمیان مسلسل نگرانی، جائزہ اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی کے مقاصد کو زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
مباحثوں میں اس امر کی دوبارہ توثیق کی گئی کہ ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کھیلوں کا نظام قائم کرنے کے لیے مرکز، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان متحدہ اور مربوط نقطۂ نظر نہایت اہم ہے، جو ہندوستانکے عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہو۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
ترکیہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کردی
انقرہ، ترکیے نے امریکہ ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔ ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا7 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ





































































































