تازہ ترین
اطالوی شہری نے مختلف ممالک کے 1444 اخبارات جمع کرکے عالمی ریکارڈ بنالیا

خبراردو:سیرگیوبوڈینی نامی شہری نے سنہ 1980 سے اخبارات جمع کرنا شروع کیے
اطالوی شہری نے مختلف ممالک کے اخبارات جمع کرنے کےاپنے انوکھے شوق کے باعث عالمی ریکارڈ قائم کرکے گنزبُک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کرالیا۔
تفصیلات کے مطابق دنیا بہت سے اسے افراد موجود ہیں جنہیں مختلف و انوکھے کام انجام دینے کا جنون کی حد تک شوق ہوتا ہے، ایسا ہی ایک اٹلی سے تعلق رکھتا ہے جسے بچپن سے ہی مختلف موضوعات پر مختلف ممالک کے اخبارات اکھٹا کرنے کا شوق ہے اور اسی شوق کے باعث سیرگیوبوڈینی نامی شخص کو عالمی ریکارڈ قائم کرلیا۔
اطالوی شہری کا کہنا تھا کہ اس وقت اس کے پاس سینکڑوں ممالک کےاخبارات کے 1444 ایڈیشنز موجود ہیں۔
خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے سیرگیو کا کہنا تھا کہ انہیں سنہ 1980 میں دس برس کی عمر سے اخبارات جمع کرنے کا شوق پیدا ہوا تھا جو بڑھتے بڑھتے جنون کی شکل اختیار کرگیا۔
سیرگیو نے بتایا کہ انہیں اسکول کے زمانے میں ایسے پراجیکٹس ملتے تھے جس کےلیے اخبارات جمع کرنے پڑتے تھے جو شوق میں تبدیل ہوگئے اور مجھے بھی بچپن میں صحافی بننے کا شوق تھا جو نہ بن سکا اور کیمیا دان بن گیا۔
انہوں نے بتایا کہ میرے اس شوق کی تکمیل میں میرےدوستوں اور اہل خانہ کا بہت بڑا ہاتھ ہے کیونکہ جب بھی عزیز و اقارب میں سے کوئی باہر جاتا تو میرے لیے وہاں کا اخبار لےآتا تھا۔
اطالوی شہری نے بتایا کہ اخبارات جمع کرنے کا شوق بہت ہی دلچسپ ہے جس کی وجہ سے آپ کو پرانے زمانے کی خبریں پڑھتے ہیں، جو ہمیں اسی دور میں لے جاتا ہےاور ان کے مسائل اور نظریات سے متعلق آگاہ کرتا ہے۔
عالمی ریکارڈ یافتہ سیرگیو بوڈینی کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ میرے پاس دنیا کے ہر ایک ملک کا اخبار موجود ہو مگر یہ مشکل ہے۔
ہندوستان
کیجریوال نے ریکیوزل درخواست مسترد ہونے کے بعد جج سورن کانتا کی عدالت میں پیش ہونے سے انکار کیا
نئی دہلی، دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ایکسائز کیس میں سماعت سے ہٹںے کی (ریکیوزل) درخواست مسترد ہونے کے بعد جسٹس سورن کانتا شرما کی عدالت میں ذاتی طور سے یا اپنے وکیل کے ذریعہ پیش ہونے سے انکار کردیا ہے۔
یہ پیش رفت جسٹس شرما کے اس تفصیلی حکم کے چند دن بعد ہوئی ہے جس میں انہوں نے کیس کی سماعت سے ہٹنے سے انکار کردیاتھا۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ ’دباؤ میں جھکنے سے انصاف نہیں ملتا‘ اور جج کسی مدعی کے بے بنیاد اندیشوں کی بنیاد پر خود کو سماعت سے الگ نہیں کرسکتے۔
جسٹس شرما نے یہ بھی تبصرہ کیا تھا کہ ان پر ذاتی حملے عدلیہ پر حملے کے مترادف ہیں اور درخواست کو ’اندازوں‘ اور ’مبینہ جھکاؤ‘ پر مبنی قراردیتے ہوئے خارج کردیا تھا۔
اس کے بعد، مسٹر کیجریوال نے خط لکھ کر کہا کہ انہوں نے اس عدالت سے ’انصاف ملنے کی امید کھودی ہے‘ اور مہاتما گاندھی کے ’ستیہ گرہ‘ کے راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ انہوں نے اپنی ’ضمیرکی آواز‘ سننے کے بعد کیا ہے۔
کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود، مسٹر کیجریوال نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
جنگیں چھیڑنے والے انسانیت کے پُرامن مستقبل کو چھین رہے ہیں: پوپ لیو
ویٹی کن سٹی، کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو کا کہنا ہے کہ جنگیں چھیڑنے اور زمین کے وسائل پر قبضہ کرنے والے دراصل انسانیت کے پُرامن مستقبل کو چھین رہے ہیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق چرنوبل ایٹمی حادثے کی 40ویں برسی کے موقع پر اپنے ہفتہ وار خطاب میں پوپ لیو نے خبردار کیا کہ ایٹمی توانائی کا استعمال انتہائی ذمہ داری اور دانشمندی کے ساتھ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چرنوبل کا سانحہ آج بھی انسانیت کے اجتماعی شعور پر ایک گہرا اثر رکھتا ہے اور یہ جدید طاقتور ٹیکنالوجی کے خطرات کی یاد دہانی ہے۔
پوپ لیو کا کہنا تھا کہ دنیا میں مختلف شکلوں میں چور موجود ہیں، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو جنگوں کو ہوا دیتے ہیں، وسائل کو لوٹتے ہیں یا برائی کو فروغ دیتے ہیں، اور اس طرح سب سے ایک پُرامن مستقبل چھین لیتے ہیں۔ پوپ نے امید ظاہر کی کہ عالمی سطح پر فیصلے کرتے وقت عقل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے گا تاکہ ایٹمی طاقت کو صرف امن اور انسانی بھلائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ چرنوبل کا سانحہ دنیا کا بدترین ایٹمی حادثہ تھا جس کے اثرات آج بھی محسوس ہوتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
سری نگر، کپواڑہ کی ایک عدالت نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کرتے ہوئے 2023 میں ایک پولیس کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کیس میں سات دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپواڑہ، منجیت سنگھ منہاس نے 24 اپریل کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، تاہم دیگر سات ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
یہ معاملہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو 20 فروری سے 26 فروری 2023 کے درمیان جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر (جے سی آئی) کپواڑہ میں غیر قانونی
طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، جو مبینہ طور پر منشیات سے متعلق جرائم کی تفتیش کے بہانے کیا گیا تھا۔
یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں، جب متاثر کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی تھی۔ سی بی آئی نے جولائی 2025 میں ایف آئی آر درج کی اور بعد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی (مجرمانہ سازش)، 323، 325 (زخمی کرنا)، 330، 331 (اقرارِ جرم حاصل کرنے کے لیے تشدد) اور 343 (غلط حراست) شامل تھیں۔ بعد ازاں سی بی آئی نے ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر کے آخری ہفتے میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ڈی ایس پی نائک کا کردار نگرانی تک محدود تھا اور ان کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہاکہ”ان کے خلاف محض شبہ پایا جاتا ہے جو سنگین شبہ کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ شرکت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا ملزم اے-1 (ڈی ایس پی اعجاز) کو مذکورہ دفعات کے تحت بری کیا جاتا ہے۔”
تاہم عدالت نے دیگر ملزمان کے حوالے سے مختلف رائے اختیار کی، جن میں سب انسپکٹر ریاض احمد میر، اسپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد بیگ، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان اور تنویر احمد ملا، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاکر حسین کھوجا اور الطاف حسین بھٹ، اور کانسٹیبل شہنواز احمد دیداد شامل ہیں۔
ان سات میں سے چھ ملزمان کپواڑہ ضلع کے رہائشی ہیں جبکہ تنویر احمد ملا کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد، جن میں متاثر کا بیان، طبی رپورٹس اور دیگر حالات شامل ہیں، ان ساتوں کے خلاف بادی النظر میں کیس ثابت کرتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حراست کے دوران متاثر کے جسم کے حساس حصوں پر لگنے والی چوٹیں اور طبی رائے حراستی تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ متاثر مکمل طور پر ملزمان کے کنٹرول میں تھا، جو استغاثہ کے موقف کو مضبوط بناتا ہے۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ الزامات مبہم ہیں اور کہا کہ متاثر نے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے اور ان کے کردار کی تفصیل بیان کی، جو کئی دنوں تک جاری رہنے والے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ”اس مرحلے پر عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا بادی النظر میں کیس یا سنگین شبہ موجود ہے، نہ کہ مکمل ٹرائل کرنا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ان جرائم کے عناصر کو ثابت کرتا ہے۔ “ریکارڈ پر موجود مواد، اپنی ظاہری حیثیت میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان سات ملزمان نے مشترکہ منصوبے کے تحت مذکورہ دفعات کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔”
اس کے مطابق عدالت نے ساتوں ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا اور مقدمہ 14 مئی کو استغاثہ کے ثبوت کے لیے درج کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا7 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا6 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
دنیا7 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا6 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ




































































































