اداریہ
وادی کشمیر کا نظام تعلیم

آج کا اداریہ:
وادی کشمیر میں جاری خراب میں سب سے زیادہ اگر کسی کو نقصان ہوتا ہے تو وہ ہیں یہان کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ وطالبا ت ۔ ۵ اگست کے بعد سے یہاں کے تمام تعلیمی اداروں پر تالے چڑھے ،تاہم اگرچہ اکتوبر میں انتظامیہ نے ہائی اسکولوں میں پھر سے درس وتدریس شروع کرنے کا اعلان کیا لیکن والدین کے دلوں میں موجودہ حالات کے پیش نظر ڈر نے بچوں کو گھروں میں ہی پڑھانے کو ترجیح دی ۔اوراسکے بعد نومبر میں انتظامیہ نے دسویں اور بارہویں جماعت کے سالانہ امتحانات کرانے کا اعلان کر دیا جس نے بچوں میں مزید پریشانی کا اضافہ کر ڈالا ، کیوں کہ ابھی تک رپورٹس کے مطابق پچاس فیصد بھی سلیبس سکولوں میں مکمل نہیں کر وایا گیا تھا ، اور وہ بھی امتحانات پورے سو فیصدی سیلیبس کا لینے کا کیا گیا ۔
اب یہ بیچارے اسکولی طلبہ و طالبات اپنے امتحانات کی تیاری کرتے یا موجودہ حالات پر روتے۔ امتحانات کےلئے تیاری بھی گھر بیھٹے کرتے لیکن انٹرنیٹ کی مسلسل بندشوں نے وہ بھی پورا ہونے نہیں دیا ۔ دسویں اور بارہویں کے امتحانات میں اچھے نمبرات لانا ہر ایک قابل طالب علم کا خوا ب ہوتا ہے اور وہ اسی لئے پوری تیاری کےساتھ ان امتحانات میں شامل ہو کر پورا پرچہ کرنے کا بھی من بنا کر امتحان دینے جاتا ہے ۔
لیکن اب ان امتحانات میں شائد ہی کسی طالب علم نے ویسی تیاری کی ہو گی جیسی اس نے سال کے شروع ہونے کے دوران کی تھی ۔ دوسری طرف ایک سوال یہ بھی ہے کہ اس سے پہلے بھی کئی بار ایسے حآلات پیش آئے اور تب سیلبس کم کیا گیا ، لیکن کیا وادی کے طالب علم صرف امتحان پاس کرنے کےلئے ہیں ، اور صرف رٹا مارنے کےلئے ہیں.اور انہیں پورا سیلبس کیوں نہیں پڑھایا جا تا تاکہ وہ اچھے سے امتحان میں شریک ہو کر اپنی قابیلیت کے مطابق نمبرت حٓاصل کرے.
تجزیہ
دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

یہ سوال آج ناگزیر ہے کہ جن خاندانوں کو دہشت گردی نے سب سے پہلے نشانہ بنایا، انہیں انصاف سب سے آخر میں کیوں ملا۔ کشمیر میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد حکومتیں بدلتی رہیں، پالیسیاں بدلتی رہیں، مگر دہشت گردی کے متاثرہ خاندان خاموشی، خوف اور نظراندازی کے اندھیروں میں جیتے رہے۔ جن گھروں کے چراغ دہشت گردی نے بجھا دیے، ان کے لیے نہ فوری انصاف تھا، نہ روزگار، نہ بحالی، نہ عزت۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان خاندانوں کو وہ سہولتیں اور حقوق دہائیوں بعد ملے، جو ریاست کو ترجیحی بنیادوں پر فوراً فراہم کرنے چاہیے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیوں نہیں دیا گیا؟ کیوں دہشت گردی کے اصل متاثرین کو برسوں انتظار کرنا پڑا؟ باپ مارا گیا، ماں بیوہ ہوئی، بچے یتیم ہوئے، مگر نظام خاموش رہا۔ فائلیں دبتی رہیں، درخواستیں گرد میں دفن ہو گئیں، اور متاثرین کو یا تو خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا یا پھر شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
کئی خاندانوں نے اپنی کہانی سنانے کی ہمت بھی اس خوف سے نہ کی کہ کہیں انہیں ہی نشانہ نہ بنا دیا جائے۔ یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ ایک طویل عرصے تک دہشت گردی کے متاثرین کو وہ عزت نہیں دی گئی جس کے وہ حقدار تھے، جبکہ اسی دوران دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام سے جڑے عناصر کو مواقع، مراعات اور حتیٰ کہ سرکاری تحفظ بھی حاصل رہا۔ ایک طرف اصل متاثرین در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے، دوسری طرف نظام نے ان کے زخموں پر نمک چھڑکا۔ یہ سوال صرف انصاف میں تاخیر کا نہیں، بلکہ انصاف سے انکار کا ہے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو جائے، تو کم از کم انہیں فوری انصاف، بازآبادکاری اور وقار تو دینا چاہیے۔ مگر یہاں دہائیوں تک ایسا نہیں ہوا۔
آج اگر کچھ خاندانوں کو روزگار، بحالی اور پہچان ملی ہے، تو یہ خوش آئند ضرور ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی کھڑا ہے کہ اتنی دیر کیوں؟ کیا ان خاندانوں کا درد کم تھا؟ کیا ان کی قربانیاں کم تھیں؟ یا نظام نے انہیں کبھی اپنی ترجیح سمجھا ہی نہیں؟ انصاف اگر دہائیوں بعد ملے، تو وہ انصاف نہیں، ایک تاخیری اعتراف ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے متاثرین خیرات نہیں مانگ رہے تھے، وہ اپنا حق مانگ رہے تھے—وہ حق جو ریاست کو بہت پہلے ادا کرنا چاہیے تھا۔ یہ وقت صرف اقدامات کا نہیں، بلکہ احتساب کا بھی ہے۔ یہ پوچھنے کا وقت ہے کہ ماضی میں کن فیصلوں، کن غفلتوں اور کن ترجیحات نے دہشت گردی کے متاثرین کو اتنے طویل عرصے تک انصاف سے محروم رکھا۔ اگر واقعی ایک منصفانہ اور انسانی نظام کی بات کی جاتی ہے، تو دہشت گردی کے متاثرین کو آخری نہیں، بلکہ پہلی ترجیح بنانا ہوگا—ورنہ تاریخ یہ سوال بار بار دہراتی رہے گی: انصاف اتنا دیر سے کیوں؟
اداریہ
ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

نئی دہلی، 5 فروری (یو این آئی) ہندوستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے تقریباً تین دہائیوں کی تلاش کے بعد 1993 کے ممبئی سیریل بلاسٹ کے کلیدی ملزم ابوبکر عبدالغفور شیخ کو گرفتار کر لیا ہے۔
ابوبکر 1993 کے حملے کے ماسٹر مائنڈ داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی اور دھماکوں کا اہم سازشی ہے۔ 12 مارچ 1993 کو ہونے والے ان دھماکوں میں 257 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ ممبئی میں 12 مختلف مقامات پر ہوئے سلسلہ وار دھماکوں نے ممبئی (تب بمبئی) کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ ہندوستان میں سب سے بڑے دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ ابو بکر پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کی تربیت دینے، دبئی میں داؤد ابراہیم کی رہائش گاہ پر دھماکوں کی سازش رچنے اور منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔
ممبئی دھماکوں کو داؤد ابراہیم کی جانب سے کوآرڈینیٹ کیا گیا تھا۔ یہ دھماکے ٹائیگر میمن اور یعقوب میمن کے ذریعے انجام دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ کاروبار میں دلچسپی رکھنے والا ابوبکرعبد الغفور شیخ، خلیجی ممالک سے ممبئی میں سونے اور الیکٹرانکس کے سامان کی اسمگلنگ میں بھی ملوث رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسے ہندستان کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی فوری کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
اداریہ
یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

لندن 04 فروری (یو این آئی/ اسپوتنک) برطانیہ کے وزیر خارجہ لِز نے پینٹاگن کے اس بات کو’حیران کُن‘ قرار دیا ہے جس میں اس نے جعلی ویڈیو کے ذریعے روس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ یوکرین پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
پینٹاگن کے ترجمان جان کِربے نے جمعرات کو کہا کہ روس یوکرین کی فوج پر حملہ کرنے کے فراق میں ہے اور مشرقی یوکرین میں روس کے لوگ غیر قانونی طور پر دراندازی کر رہے ہیں۔
پینٹاگن کا ماننا ہے کہ روس تصویری نشر و اشاعت کے لیے ویڈیو بنانے جا رہا ہے جس میں مردہ افراد اور اداکار شامل ہوں گے جو ماتم اور برباد کیے گئے مقامات اور فوجی آلات کی تصویر سازی کریں گے۔
غور طلب ہے کہ یورپی یونین میں روس کے نمائندے ولادیمیر چیژوف نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ انھوں نے جمعرات کی دیر رات یہ واضح اور پختہ ثبوت ہے کہ یوکرین کو غیر مستحکم کرنے کے لیے روس مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری ممالک کے ساتھ ایسا سلوک ہرگز قابل قبول نہیں۔ ہم اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔
گذشتہ چند ماہ سے روس نے یوکرین کی سرحد پر فوجیوں کا ہجوم لگا رہا ہے مغرب اور یوکرین نے روس پر حملے کا الزام لگا رہے ہیں۔ روس مسلسل اس الزام کی تردید کر رہا ہے کہ اس کا یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
دنیا1 week agoسپریم لیڈر کے قاتل کو سزائے موت کی طرف لے جائیں گے: سربراہ ایرانی عدلیہ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا نفاذ مشکل لیکن ممکن: قالیباف
ہندوستان1 week agoحکومت کی ایم ایس ایم ای مخالف پالیسیوں سے راجستھان کے بس ٹرک باڈی بلڈرز پر بحران۔ راہل
ہندوستان6 days agoرام مندر چڑھاوا تنازع گرما گیا، تیواری بولے– ’قصورواروإ کو بچانے میں مصروف بی جے پی حکومت‘
دنیا6 days agoایران کے امریکی اڈوں پر میزائل حملے، امریکہ پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
دنیا1 week agoایران کا انتقاماً یروشلم کو آزادی دلانے کا اعلان
دنیا6 days agoٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
دنیا1 week agoنیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین پر روس کا بدترین فضائی حملہ، 11 افراد ہلاک
دنیا6 days agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
ہندوستان4 days agoمیرٹھ کی دلت طالبہ للیتا گوتم قتل کیس پر کھرگے کا بی جے پی پر شدید حملہ، کہا، حکومت دبا رہی ہے انصاف کی آواز
ہندوستان4 days agoاتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت سے لوگوں میں ہے مایوسی: کانگریس
دنیا5 days agoشہید خامنہ ای کی آخری رسومات میں سوا 4 کروڑ سے زائد افراد نے شرکت کی: ایرانی میڈیا



































































































