تازہ ترین
دیپیکا پڈوکون نے بااثر اداکاری سے خاص شناخت بنائی

بالی وڈ میں دیپیکا پڈوکون ایک ایسی اداکارہ کے طور پر شمار کی جاتی ہیں جنہوں نے فلم انڈسٹری میں اپنی زبردست اداکاری سے ناظرین میں خصوصی شناخت بنائی ہے۔
فلم ’اوم شانتی اوم‘ سے ہندی فلم انڈسٹری میں قدم رکھنے والی اداکارہ دیپیکا پڈوکون کی پیدائش 5 جنوری 1986 کو ڈنمارک میں ہوئی ہے۔
ان کےوالد پرکاش پڈوکون بیڈمنٹن کے مشہور کھلاڑی رہ چکے ہیں۔ چاند سا چہرہ اور ر وشن آنکھیں اور کونکنی زبان بولنے والی دیپیکا نے اپنے کیرئیر کا آغاز ماڈلنگ سے کیا۔
سنہ 2006 میں ریلیز کنڑ زبان میں بنی فلم ایشوریا سے اداکاری کے میدان میں آئیں لیکن انہیں شناخت 2007 کی سپرہٹ فلم ’اوم شانتی اوم‘ سے حاصل ہوئی جس نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
فرح خان کی ہدایت میں بنی اس فلم میں دیپیکا نے دوہرا کردار نبھاکر شائقین کو محظوظ کردیا۔ فلم میں ان کے اپوزٹ کردار میں شاہ رخ خان تھے، ان کی فلمی جوڑی کو سامعین نے بے حد پسند کیا اور یہ فلم سپرہٹ ثابت ہوئی۔ اس فلم کے لیے انہیں فلم فیئر کا بہترین اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا۔
دیپیکا مختصر عرصے میں متعدد فلمی ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں۔ اُن کی کامیابیوں کا یہ سفر ابھی جاری ہے۔سنہ 2008 میں دیپیکاکی ’بچنا اے حسینو‘ ریلیز ہوئی ۔ رنبیر کپور کے ساتھ یہ فلم باکس آفس پر کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔
اس کے بعد ’چاندنی چوک ٹو چائنا‘ اور کارتک کالنگ کارتک جیسی فلمیں آئیں لیکن کوئی بھی فلم کامیاب نہیں ہوسکی۔
سنہ 2010 میں پڈوکون کے کیریئر کی ایک اور سپرہٹ فلم ’ہاؤس فل‘جلوہ گر ہوئی۔
ساجد خان کی ہدایت والی اس فلم کی کامیابی کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہی حالانکہ اسی برس ریلیز فلمیں ’کھیلیں ہم جی جان سے، لفنگے، پرندے اور بریک کے بعد باکس آفس پر کوئی کمال نہیں دکھاسکی۔
سنہ 2011 میں آئی فلم دم مارو دم میں دیپکا پڈوکون نے آئٹم نمبر ’دم مارو دم مٹ جائے گم‘ كے ذریعے ناظرین کو مسحور کر دیا۔
سنہ 2012 میں فلم کاک ٹیل ان کے کیریئر کی اہم فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔اس فلم میں دیپکا کی جوڑی سیف علی خان کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔اس فلم میں بااثر اداکاری کے لیے اُنہیں بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد بھی کیا گیا۔دیپکا کے کیریئر کے لئے 2013 بہترین سال ثابت ہوا۔ اس برس ان کی ریس-ٹو، یہ جوانی ہے ديواني، چینئی ایکسپریس اور رام لیلا جیسی فلمیں منظر عام پر آئیں اور سبھی فلموں نے باکس آفس پر 100 کروڑ روپے سے زائد آمدنی کی۔
سنہ 2014 میں ’ہیپی نیو ایئر اورفائڈنگ فینی ریلیز ہوئیں۔ ہیپی نیو ایئر نے 200 کروڑ روپے سے زیادہ کمائے ۔ سنہ 2015 میں پيكو، تماشا اور باجی راؤ مستانی آئی جس نے ٹکٹ کھڑکی پر 184 کروڑ روپے کمائے ۔دیپکا نے 2017 میں ہالی وڈ فلم ’ٹرپل ایکس: ریٹرن آف جینڈر کیج ‘ میں بھی کام کیا ہے۔ سال 2018 میں دیپیکا کی سپر ہٹ فلم ’پدماوت‘ ریلیز ہوئی۔سنجے لیلا بھنسالی کی ہدایت میں بنی اس فلم میں دیپکا میواڑ کی ملکہ پدماوتي کے کردار میں نظر آئیں۔رانی پدماوتی اپنی خوبصورتی، عقل اور جرات کے لئے مشہور تھیں۔دیپیکا کی فلم ’چھپاک‘ 10 جنوری کو ریلیز ہورہی ہے۔ میگھنا گلزار کی ہدایت کاری والی فلم ایسڈ اٹیک سروائیور لشکمی اگروال کی زندگی پر مبنی ہے۔
دیپیکا پڈوکون نے ممتاز فلم اداکار رنبیر سنگھ سے 15 نومبر 2018 کو اٹلی کے لیک کومو میں شادی کی ، اس کے بعد اس کی تصویر سوشل میڈیا پر شیر کی۔خیال رہے کہ شادی سے قبل دونوں لیونگ ریلشنز شپ میں رہ رہے تھے۔یوم پیدائش کی 34 ویں سالگرہ پر انہیں مبارک باد پیش کی جاتی ہے۔(ای ٹی وی)
جموں و کشمیر
جموں: اقتصادی جرائم ونگ نے دھوکہ دہی کے دو مقدمات میں چارج شیٹ داخل کی
جموں، جموں کرائم برانچ کے اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) نے دھوکہ دہی کے دو الگ الگ مقدمات میں تحقیقات مکمل کرنے کے بعد متعلقہ عدالتوں میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔
پہلے مقدمے میں جے پور کی ایم/ایس گولڈ سکھ ٹریڈ انڈیا لمیٹڈ اور اس کے پانچ عہدیداروں پر سرمایہ کاروں کو زیادہ منافع کا لالچ دے کر تقریباً 30.29 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کرانے اور رقم کے غبن کا الزام ہے۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ کمپنی سیبی، آر بی آئی اور جموں و کشمیر کے رجسٹرار آف کمپنیز کے پاس رجسٹرڈ نہیں تھی۔
دوسرے مقدمے میں جعلی محکمہ ریونیو کے ریکارڈ کی مدد سے مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ (پی آر سی) حاصل کرنے کے معاملے میں چار افراد اور ایک سابق پٹواری کے خلاف چارج شیٹ پیش کی گئی ہے۔ ایف ایس ایل کی جانچ میں متعلقہ دستاویزات جعلی پائی گئیں۔
کرائم برانچ نے عوام سے مالیاتی دھوکہ دہی سے محتاط رہنے اور مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع اقتصادی جرائم ونگ کو دینے کی اپیل کی ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ تعلیمی اصلاحات کی شروعات، طلبہ کے دیگر مطالبات کے لیے جدوجہد جاری رہے گی: راہل گاندھی
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے ہفتہ کو مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو ’’ہندوستان کے تعلیمی نظام کی ازسرنو تشکیل کی جانب ایک بڑا قدم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نیٹ-یو جی 2026 کے مبینہ پرچہ لیک اور سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کرنے والے طلبہ کی تاریخی کامیابی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مظاہرین پر مبینہ تشدد کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی اور وزیر اعظم نریندر مودی ملک کے نوجوانوں سے معافی نہیں مانگتے۔
مرکزی وزراء کونسل سے دھرمیندر پردھان کے استعفے کے فوراً بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر راہل گاندھی نے کہا کہ اس کامیابی کا مکمل سہرا طلبہ کو جاتا ہے، جن کے مسلسل احتجاج نے حکومت کو کارروائی پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کے تعلیمی نظام کی ساکھ بحال کرنے کی وسیع تر تحریک کی پہلی بڑی کامیابی ہے۔
راہل گاندھی نے کہا، ’’سب سے پہلے یہ ہمارے طلبہ کی فتح ہے، جو ہندوستان کا مستقبل ہیں۔ ہمارا تعلیمی نظام کبھی ہماری پہچان تھا اور پوری دنیا اس کی غیر معمولی معیار کی معترف تھی، لیکن کئی برسوں سے اسے کمزور کیا جا رہا ہے، اس پر قبضہ کیا جا رہا ہے اور اسے نجی ہاتھوں میں دیا جا رہا ہے۔ یہ احتجاج اسی صورت حال اور ملک میں بڑھتی بے روزگاری کے خلاف ردعمل تھا۔ دھرمیندر پردھان محض ایک علامت تھے، بدعنوانی، تعلیمی نظام کی تباہی اور نااہلی کی علامت، اور ان کا جانا بہتر ہوا۔‘‘
انہوں نے الزام عائد کیا کہ تعلیمی شعبے کا بحران کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ساختی مسئلہ ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر تعلیمی اداروں کو کمزور کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’’اگر وزیر اعظم نے تعلیم کے معاملے میں غلطیاں کی ہیں تو آر ایس ایس بھی اتنی ہی ذمہ دار ہے، کیونکہ اس نے دیمک کی طرح نظام کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ اس کے لیے سنجیدہ اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے، اگرچہ مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ حکومت ایسا کر پائے گی۔‘‘
مسٹر گاندھی نے کہا کہ اگرچہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ طلبہ کے ایک اہم مطالبے کی تکمیل ہے، لیکن دو ’’ناقابلِ سمجھوتہ‘‘ مطالبات اب بھی باقی ہیں۔ انہوں نے نیٹ معاملے پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مبینہ لاٹھی چارج، پیلٹ گن کے استعمال اور دیگر طاقت کے استعمال میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ جاتی کارروائی کا مطالبہ دہرایا۔
انہوں نے کہا، ’’طلبہ کے دو مطالبات اب بھی باقی ہیں، جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ احتجاج کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج اور تشدد میں ملوث تمام سیکورٹی اہلکاروں اور منتظمین کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ جاتی کارروائی ہونی چاہیے اور یہ کارروائی نظر بھی آنی چاہیے۔ اس کے علاوہ اس پورے نظام کے اصل ذمہ دار وزیر اعظم نریندر مودی کو ہندوستان کے طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے۔‘‘
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران اپوزیشن کی حکمت عملی سے متعلق سوال پر راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کے لیے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہراتی رہے گی اور یہ معاملہ پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کی مہم کا اہم موضوع ہوگا۔
انہوں نے کہا، ’’ہم امت شاہ کو طلبہ کے خلاف تشدد کا براہِ راست ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ہمارے طلبہ پر فائرنگ اور پیلٹ گن جیسے مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دی۔ ہم ہرگز یہ قبول نہیں کریں گے کہ ہمارے اپنے حفاظتی ادارے ہندوستان کے مستقبل پر گولیاں چلائیں۔ یہ پارلیمنٹ میں ایک بڑا مسئلہ ہوگا، اور جیسا کہ میں نے کہا، طلبہ وزیر اعظم سے معافی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔‘‘
ملک گیر احتجاج میں شریک طلبہ اور نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ان کے عزم نے جمہوریت اور آئین کا تحفظ کیا ہے اور اس سے کسانوں، مزدوروں، غریبوں اور دیگر محروم طبقات کو بھی اپنے حقوق کے لیے پُرامن اور آئینی جدوجہد کی ترغیب ملے گی۔
دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ نیٹ-یو جی 2026 کے مبینہ پرچہ لیک اور سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کئی ہفتوں تک جاری طلبہ کی بے مثال تحریک کے بعد سامنے آیا۔ یہ احتجاج متعدد ریاستوں تک پھیل گیا تھا اور اس دوران مظاہرین اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان کئی بار جھڑپیں ہوئیں، جبکہ اپوزیشن نے حکومت پر طلبہ کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ اگرچہ اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں نے پردھان کے استعفے کو بڑی سیاسی کامیابی قرار دیا ہے، کانگریس کا کہنا ہے کہ جب تک مبینہ پولیس زیادتیوں کے ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوتا اور وزیر اعظم نوجوانوں سے عوامی معافی نہیں مانگتے، تحریک جاری رہے گی۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
نیتن یاہو کا مقبوضہ مغربی کنارے میں ‘وسیع پیمانے پر’ فوجی آپریشن کا حکم
تل ابیب، بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ انہوں نے فوج کو مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی دیہات میں “وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی” شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔
جمعے کو جاری مشترکہ بیان میں، نیتن یاہو اور کاٹز نے یہ بھی کہا کہ فوج کو اس فلسطینی کے گھر کو مسمار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے شمالی مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی قصبے تل کے نزدیک غیرقانونی آباد کاروں کے خلاف فائرنگ کی تھی۔
انادولو کے ایک نامہ نگار کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی حصے میں واقع نابلس شہر پر ایک بڑی اسرائیلی فوجی فورس نے چھاپہ مارا۔
ایک اسرائیلی فوجی بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ ان واقعات کا تعلق نابلس کے قریب غیرقانونی ہاوَت گِلاد بستی کے نزدیک پیش آنے والے ایک سکیورٹی واقعے سے ہے، جس میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔
اسرائیل کے چینل 13 نے مبینہ طور پر رپورٹ کیا ہےکہ فلسطینیوں نے ایک بستی کے سکیورٹی افسر کا ہتھیار چھین کر آباد کاروں پر فائرنگ کی۔
باور رہے کہ جمعے کے روز، فلسطینی وزارت صحت کے مطابق نابلس کے جنوب مغرب میں واقع قصبے تل پر اسرائیلی افواج اور غیرقانونی آباد کاروں کے حملے کے دوران چار فلسطینی ہلاک اور چار زخمی ہوئے، جن میں تین کی حالت کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
دنیا1 week agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
جموں و کشمیر1 week agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
دنیا1 week agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس نے صحت کی تشویش کے پیش نظر سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیا
دنیا1 week agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
ہندوستان1 week agoامریکی فوج کے ایران پر تازہ حملوں میں 8 افراد جاں بحق
دنیا1 week agoجے ڈی وینس نے ایران مذاکرات سے متعلق مالی فائدے کے الزامات مسترد کر دیے
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ڈوڈا کے بھدرواہ علاقے میں فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص ہلاک، ایس او جی کے جوان زخمی
دنیا1 week agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ
دنیا1 week agoایران کی عرب ممالک کو سخت دھمکی، اونٹوں کے دور میں واپس پہنچا دیں گے
دنیا4 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف

































































































