تازہ ترین
کورونا سے ہلاکتیں 34 ہزار کے قریب پہنچ گئیں، مریض 7 لاکھ سے تجاوز

دنیا بھر میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے 30 مارچ کی صبح تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 7 لاکھ 222 ہزار سے زائد ہوچکی تھی۔
جہاں دنیا بھر میں تیزی سے کورونا کے مریض سامنے آ رہے ہیں، وہیں ہلاکتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور مرنے والے افرد کی تعداد 34 ہزار کے قریب پہنچ چکی تھی۔
خیال رہے کہ دنیا کی 40 فیصد سے زائد آبادی کو کورونا وائرس کی وج سے گھروں میں رہنے کا کہا گیا ہے۔
کورونا وائرس کے براہ راست اعداد و شمار دینے والے آن لائن میپ کے مطابق 30 مارچ کی صبح تک دنیا بھر میں کورونا سے مجموعی ہلاکتیں 33 ہزار 997 ہوچکی تھیں، جن میں سے صرف 2 ممالک اٹلی اور اسپین میں ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے 17 ہزار سے زائد تھی۔
اٹلی میں ہلاکتوں کی شرح میں پہلے سے کمی
اٹلی میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی آئی۔
سول پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ اتوار کے روز اٹلی میں 756 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد کل تعداد 10 ہزار 779 ہوگئی ہے جو دنیا بھر میں وائرس سے ہونے والی کل ہلاکتوں کا ایک تہائی حصہ ہیں۔
اٹلی میں اگرچہ اب نئے کورونا وائرس کے مریضوں کی رفتار کچھ سست ہوچکی ہے تاہم اب بھی وہاں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، جس وجہ سے اٹلی بھر میں خوف پھیلا ہوا ہے۔
اٹلی میں حیران کن طور پر دیگر ممالک سے زیادہ ہلاکتیں ہونے پر ماہرین صحت بھی پریشان ہیں جب کہ اٹلی کے حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ اب تک سامنے آنے والے کورونا کے مریض وہ ہیں جن کے شک کے بنیاد پر ٹیسٹ کیے گئے تھے۔
حکام کے مطابق تاحال اٹلی میں عام افراد کے ٹیسٹ نہیں کیے جا رہے بلکہ ان علاقوں میں لوگوں کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں، جہاں سے پہلے ہی کیس سامنے آ چکے ہیں۔
اٹلی میں ہفتے کے روز اتوار سے 133 زائد، 889 ہلاکتیں ہوئی تھیں جبکہ جمعے کے روز یہ تعداد 919 تھی۔
اسپین میں ایک روز میں سب سے زیادہ ہلاکتیں
جہاں اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد میں کمی آئی ہے وہیں اسپین میں اتوار کے روز وبا کے پھیلاو سے اب تک ملک میں ایک روز کی سب سے زیادہ 838 ہلاکتیں ہوئیں۔
اسپین اٹلی کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ 6 ہزار 838 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
اسپین اور اٹلی دونوں نے مزید یورپی مدد کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ عالمی جنگ دوئم کے بعد سے انہیں سب سے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اسپین کے وزیر صحت نے اتوار کے روز 6 ہزار 500 نئے کیسز کا اعلان کیا جس کے بعد 80 ہزار 110 ہوگئی۔
وزیر اعظم پیدرو سانشیز نے مزید سخت لاک ڈاون کا اعلان کیا جس میں آئندہ دو ہفتوں کے لیے مزید تمام غیر ضروری ورکرز کو گھر پر رہنے کا کہا گیا۔
30 مارچ سے9 اپریل تک کی تازہ پابندیاں کابینہ کے اجلاس میں منظور کی گئیں۔
وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں کہا کہ ’اس فیصلے سے ہمارے مریضوں کی تعداد میں بڑی کمی ہوگی‘۔
امریکی صدر نے وائرس سے بحالی کی امیدیں توڑ دیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں معمولات زندگی کی بحالی کے لیے پیش کیے گئے اپنے ہی ٹائم ٹیبل کو ترک کرتے ہوئے کورونا وائرس پر پابندیوں میں مزید ایک مہینے کی توسیع کردی۔
ڈونلڈ ٹرمپ جنہیں امریکا کے دوبارہ کھلنے کی امید تھی، نے اعلان کی کہ ملک میں ہلاکتوں کی تعداد آئندہ دو ہفتوں میں مزید بڑھے گی جبکہ ’سماجی دوری‘ کی ہدایات اپریل کے آخر تک برقرار رہیں گی۔
امریکا میں کورونا وائرس کے کیسز میں اچانک سے بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں صرف دو روز میں کیسز کی تعداد دگنی ہوئی۔
سینیئر امریکی سائنسدادن اینتھونی فاکی نے اندازہ لگایا ہے کہ کورونا وائرس سے ایک لاکھ سے 2 لاکھ کے قریب جانیں ضائع ہوسکتی ہیں جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے ’خوفناک‘ اعداد و شمار بتایا۔
خیال رہے کہ امریکا میں اس وقت تک دنیا میں سب سے زیادہ ایک لاکھ 43 ہزار سے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں سے 2 ہزار 509 افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔
تاریک ایام آنے والے ہیں، برطانوی وزیر اعظم
برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1200 سے تجاوز کرگئی ہیں وہیں ملک کے وزیر اعظم بورس جونسن جن میں گزشتہ ہفتے کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی نے آگے تاریک ایام کے آنے کی پیش گوئی کردی۔
مزید پڑھیں: اسپین میں کورونا وائرس سے ریکارڈ 832 ہلاکتیں، مجموعی تعداد 5 ہزار سے متجاوز
بورس جونسن کا کہنا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ چیزیں بہتر ہونے سے قبل بدتر ہوں گی‘۔
ملک کے ڈپٹی چیف میڈیکل افسر نے خبردار کیا کہ معمولات زندگی کی بحالی میں 6 ماہ یا اس سے بھی زائد کا وقت لگ سکتا ہے۔
خیال رہے کہ برطانیہ میں اب تک 19ہزار 784 کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں سے ایک ہزار 231 ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔
فرانس میں وائرس سے ہلاکتوں میں اضافہ
فرانس کے صحت حکام نے اتوار کے روز 292ہلاکتیں رپورٹ کیں جو ہفتے کے روز ہونے والی 319 ہلاکتوں سے 13 فیصد کم تھیں۔
فرانس میں کورونا وائرس کے کل کیسز کی تعداد 40 ہزار 723 ہوگئی ہیں جبکہ ہلاکتوں کی کل تعداد 2 ہزار 611 ہوگئی ہے۔
ملک کے مشرقی حصے میں کورونا وائرس کے کیسز کے زیادہ ہونے پر وہاں کے ہسپتالوں میں دباو بہت زیادہ بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے حکومت نے دو خصوصی ٹرینیں بنائی ہیں جو مشرق کے پر ہجوم ہسپتالوں سے کورونا کے مریضوں کو مغربی ساحل کے ہسپتال منتقل کرے گی۔
چین میں ہی رہنا محفوظ ہے، حکام
ابتدائی طور پر کورونا وائرس کا مرکز رہنے والے ملک چین میں اب مقامی سطح پر کیسز کی تعداد میں نہایت کمی آئی ہے وہیں ملک میں اب معمولات زندگی بحال بھی ہورہی ہے۔
چین کے شہر ووہان جہاں سے یہ وائرس پھیلا تھا، میں واپس جانے والے مقامی افراد کے ریلے کی مدد کرنے والے چینی حکام ہان لی کا کہنا تھا کہ ’ابتدائی طور پر ہم بہت خوف زدہ تھے کہ اور سوچ رہے تھے بیرون ملک جانا ہی بہتر ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اب ایسا نہیں لگتا اور لگتا ہے کہ چین میں رہنا ہی محفوظ ہے‘۔
جہاں امیر ترین ممالک میں صحت کی سہولیات پر دباو ہے وہیں امدادی تنظیموں نے غریب ریاستوں اور شام اور یمن جیسے جنگ زدہ علاقوں میں تعداد لاکھوں میں جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر 3 ارب سے زائد لوگ پانی اور صابن جیسی سہولت سے محروم ہیں جو وائرس کے خلاف سب سے بنیادی ہتھیار ہیں۔
جموں و کشمیر
کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
سری نگر، کپواڑہ کی ایک عدالت نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کرتے ہوئے 2023 میں ایک پولیس کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کیس میں سات دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپواڑہ، منجیت سنگھ منہاس نے 24 اپریل کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، تاہم دیگر سات ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
یہ معاملہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو 20 فروری سے 26 فروری 2023 کے درمیان جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر (جے سی آئی) کپواڑہ میں غیر قانونی
طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، جو مبینہ طور پر منشیات سے متعلق جرائم کی تفتیش کے بہانے کیا گیا تھا۔
یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں، جب متاثر کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی تھی۔ سی بی آئی نے جولائی 2025 میں ایف آئی آر درج کی اور بعد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی (مجرمانہ سازش)، 323، 325 (زخمی کرنا)، 330، 331 (اقرارِ جرم حاصل کرنے کے لیے تشدد) اور 343 (غلط حراست) شامل تھیں۔ بعد ازاں سی بی آئی نے ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر کے آخری ہفتے میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ڈی ایس پی نائک کا کردار نگرانی تک محدود تھا اور ان کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہاکہ”ان کے خلاف محض شبہ پایا جاتا ہے جو سنگین شبہ کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ شرکت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا ملزم اے-1 (ڈی ایس پی اعجاز) کو مذکورہ دفعات کے تحت بری کیا جاتا ہے۔”
تاہم عدالت نے دیگر ملزمان کے حوالے سے مختلف رائے اختیار کی، جن میں سب انسپکٹر ریاض احمد میر، اسپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد بیگ، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان اور تنویر احمد ملا، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاکر حسین کھوجا اور الطاف حسین بھٹ، اور کانسٹیبل شہنواز احمد دیداد شامل ہیں۔
ان سات میں سے چھ ملزمان کپواڑہ ضلع کے رہائشی ہیں جبکہ تنویر احمد ملا کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد، جن میں متاثر کا بیان، طبی رپورٹس اور دیگر حالات شامل ہیں، ان ساتوں کے خلاف بادی النظر میں کیس ثابت کرتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حراست کے دوران متاثر کے جسم کے حساس حصوں پر لگنے والی چوٹیں اور طبی رائے حراستی تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ متاثر مکمل طور پر ملزمان کے کنٹرول میں تھا، جو استغاثہ کے موقف کو مضبوط بناتا ہے۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ الزامات مبہم ہیں اور کہا کہ متاثر نے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے اور ان کے کردار کی تفصیل بیان کی، جو کئی دنوں تک جاری رہنے والے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ”اس مرحلے پر عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا بادی النظر میں کیس یا سنگین شبہ موجود ہے، نہ کہ مکمل ٹرائل کرنا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ان جرائم کے عناصر کو ثابت کرتا ہے۔ “ریکارڈ پر موجود مواد، اپنی ظاہری حیثیت میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان سات ملزمان نے مشترکہ منصوبے کے تحت مذکورہ دفعات کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔”
اس کے مطابق عدالت نے ساتوں ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا اور مقدمہ 14 مئی کو استغاثہ کے ثبوت کے لیے درج کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مانڈویہ نے نچلی سطح پر توجہ مرکوز کرنے پر دیا زور، سرینگر میں وزرائے کھیل کا ‘چنتن شیویر’
سرینگر نوجوانوں اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ہفتہ کو اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی سپر پاور کے طور پر ابھرنے کا جو 10 سالہ پرجوش روڈ میپ ہے، اسے نچلی سطح پر کام میں تبدیل ہونا چاہیے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے مباحثوں کی سمت متعین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے کھیلوں کے عزائم کو زمینی سطح پر عمل درآمد کے ذریعے ہی حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا
”عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے لیے ہمارا 10 سالہ روڈ میپ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہر کھیل کے میدان، ہر ضلع اور ہر نوجوان کے خواب میں زندہ نظر آنا چاہیے۔“
جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی چنتن شیوِر میں شرکت کی اور ہندوستان کو کھیلوں کی طاقت بنانے کے وژن کو سراہا۔
کھیلوں کے مرکزی وزیر نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ محض پالیسی اپنانے تک محدود نہ رہیں بلکہ فعال عمل درآمد کی طرف بڑھیں، اور اس بات پر زور دیا کہ حقیقی پیش رفت کا اندازہ اُن نتائج سے ہوگا جو اضلاع، تربیتی نظام اور نچلی سطح کے کھیلوں کے ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”کھیلو بھارت مشن صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اور قوم کے عزم کی عکاسی ہے۔“
ڈاکٹر مانڈویہ نے ریاستی حکومتوں اور اسپورٹس فیڈریشنوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط اور متحدہ ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل کے لیے قریبی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے پر ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے تعلیمی نظام کے ساتھ ربط ضروری ہے اور جسمانی تعلیم کے اساتذہ نچلی سطح کے کھیلوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی ایک باصلاحیت بچے کو مواقع کی کمی کے باعث پیچھے رہ جانا پڑے تو یہ صرف اس کی ذاتی نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل ایک تبدیلی لانے والا ذریعہ ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر مشکل علاقوں میں، جہاں یہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر مانڈویہ نے کوچ کی باقاعدہ تصدیق اور تربیت میں بہتری، کھلاڑیوں کی سائنسی بنیادوں پر تربیت اور اسپورٹس انتظامیہ میں صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک مربوط اور مسلسل نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، ”جب بنیادی ڈھانچہ، ٹیلنٹ کی شناخت اور تربیت یافتہ افرادی قوت ایک مربوط سلسلے کی صورت اختیار کر لیں گے تو اولمپک پوڈیم تک رسائی خود بخود ممکن ہو جائے گی“ اور اس طرح نچلی سطح کی شمولیت کو اعلیٰ کارکردگی سے ایک منظم راستے کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے لکشمی بائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل ایجوکیشن، گوالیار کے تحت وائی ای ایس-پی ای (ینگ انگیجمنٹ اِن اسپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن) پروگرام کا بھی آغاز کیا، جسے جماعت 9 سے 12 تک کے طلبہ کے لیے کھیلوں میں شرکت، اسپورٹس مین شپ اور قیادت کو فروغ دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری (کھیل) ہری رنجن راؤ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس شیوِر کی اہمیت کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا جو اجتماعی غور و فکر اور عملی اقدامات کو فروغ دیتا ہے۔
چنتن شیوِر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ اجتماع محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ غور و فکر، عزم اور نئے عہد کا ایک مشترکہ لمحہ ہے۔“
چنتن شیوِر میں مختلف موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں میڈل حکمتِ عملی، پالیسی ہم آہنگی، صاف اور محفوظ کھیل، اور ٹیلنٹ کی شناخت و ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پندرہ سے زائد ریاستی وزرائے کھیل کے ساتھ ساتھ ممتاز کھیل شخصیات جیسے عادل سُمرِی والا، ابھینو بندرا، پلیلا گوپی چند اور گگن نارنگ نے چنتن شیوِر میں شرکت کی اور متعلقہ فریقین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جو ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پالیسی مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مختلف ریاستوں کے وزرائے کھیل نے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو مرکز میں رکھنے والے نقطۂ نظر پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ماڈل کو ملک کے مختلف خطوں میں نافذ کر کے ہندوستان میں ایک مضبوط اور مؤثر کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
مباحثوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوچنگ نظام کو بہتر بنانے، مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، اخلاقی اور محفوظ کھیل کے ماحول کو یقینی بنانے اور اسکولوں، اکیڈمیوں اور اعلیٰ تربیتی مراکز کے درمیان مربوط سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
ان اجلاسوں میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ کھلاڑیوں کی نشاندہی سے لے کر اعلیٰ کارکردگی کی تربیت تک تسلسل برقرار رکھنے کے لیے منظم راستوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستوں کے درمیان مسلسل نگرانی، جائزہ اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی کے مقاصد کو زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
مباحثوں میں اس امر کی دوبارہ توثیق کی گئی کہ ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کھیلوں کا نظام قائم کرنے کے لیے مرکز، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان متحدہ اور مربوط نقطۂ نظر نہایت اہم ہے، جو ہندوستانکے عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہو۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
ترکیہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کردی
انقرہ، ترکیے نے امریکہ ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔ ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا7 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا6 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
دنیا7 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا6 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ





































































































