پاکستان
سنتھيا رچی نے لگایا رحمان ملک پر ريپ کا الزام، معاملہ کيا ہے؟

امريکی بلاگر سنتھيا رچی نے پاکستان پيپلز پارٹی کی اعلیٰ قيادت پر سنگين نوعيت کے الزامات عائد کيے ہیں۔ يہ معاملہ ان دنوں پاکستان ميں سماجی رابطوں کی ويب سائٹس پر بحث و مباحثے کا باعث بنا ہوا ہے۔
پاکستان میں رہائش پذیر امريکی بلاگر سنتھيا رچی نے الزام عائد کيا ہے کہ پاکستان کے سابق وزير داخلہ رحمان ملک نے ان کے ساتھ جنسی زيادتی کی۔ رچی نے اپنے فيس بک پيچ سے براہ راست نشر کردہ فيس بک لائيو ميں کہا، ”سن 2011 ميں سابق وزير داخلہ رحمان ملک نے مجھ سے ريپ کيا۔ جی بالکل، ميں دہراتی ہوں، وزير داخلہ رحمان ملک نے مجھے جنسی زيادتی کا نشانہ بنايا۔‘‘ اس لائيو سيشن ميں سنتھيا رچی نے سابق وفاقی وزير مخدوم شہاب الدين اور سابق وزير اعظم يوسف رضا گيلانی پر بھی دست درازی کے الزامات عائد کيے۔
سنتھيا رچی کے مائیکرو بلاگنگ ويب سائٹ ٹوئٹر پر دو لاکھ بيس ہزار سے زائد فالوورز ہيں۔ جمعرات کی شب مذکورہ فيس بک لائيو سيشن کے بعد سے وہ پاکستان ميں سماجی رابطوں کی ويب سائٹس پر ٹرينڈ کر رہی ہيں۔ جمعہ سے اب تک مختلف ہيش ٹيگز کے ساتھ صارفين مختلف آراء دے رہے ہيں۔ پاکستان ميں ٹوئٹر اور فيس بک پر لوگوں کی آراء منقسم دکھائی ديتی ہيں۔ بہت سے لوگ قومی سياسی جماعت پاکستان پيپلز پارٹی کی اعلیٰ قيادت پر ايسے سنجيدہ الزامات کی مخالفت کر رہے ہيں، تو بہت سے قارئين سنتھيا کو جنسی زیادتی پر آواز اٹھانے کے ليے ‘چيمپئن‘ بھی قرار دے رہے ہيں۔ يہ امر اہم ہے کہ اس امريکی بلاگر نے گزشتہ ہفتے سابق وزير اعظم بينيظير بھٹو پر بھی الزامات لگائے تھے، جس پر پی پی پی کی اعلیٰ قيادت نے ترديد کرتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار بھی کيا تھا۔
تازہ پيش رفت ميں سنتھيا رچی نے فيس بک لائيو شروع کرنے سے قبل ايک ٹوئيٹ ميں دعویٰ کيا تھا کہ پی پی پی انہيں اس ليے ڈرا دھمکا رہی ہے کيونکہ پارٹی نہيں چاہتی کہ وہ اس کی اعلٰی قيادت کے کئی ارکان کی جانب سے ہراسگی کے واقعات پر سے پردہ اٹھائيں۔
بعد ازاں سنتھیا رچی نے ايک اور پوسٹ ميں دعویٰ کيا کہ جنسی زيادتی کا واقعہ رحمان ملک کی رہائش گاہ پر پيش آيا۔ ان کے بقول يہ لگ بھگ اسی وقت کی بات ہے جب القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کو نشانہ بنانے کے ليے امريکی دستوں کی خصوصی کارروائی جاری تھی۔ ”مجھے لگا کہ مجھے ويزے کے سلسلے ميں بلايا گيا ہے تاہم مجھے ايک مشروب ميں نشہ آور ادويات دے دی گئيں۔‘‘ امريکی بلاگر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس وقت يہ سوچ کر خاموشی اختيار کی کہ پيپلر پارٹی کی حکومت ميں ان کی کوئی نہيں سنے گا۔ رچی کے مطابق انہوں نے اس سلسلے ميں امريکی سفارت خانے سے بھی رجوع کيا تاہم رد عمل کوئی خاص نہ تھا۔
پی پی پی کا رد عمل
سنتھيا رچی کے ان الزامات کا پاکستان پيپلز پارٹی نے سختی سے نوٹس ليا ہے۔ پارٹی نے بے نظير بھٹو پر لگائے گئے الزامات پر گزشتہ ہفتے پاکستان کے وفاقی تفتيشی ادارے (FIA) کے سائبر کرائم ونگ ميں شکايت درج کرا دی تھی۔ ايڈووکيٹ شکيل عباسی نے موقف اختيار کيا کہ غير ملکی بلاگر نے سابق وزير اعظم اور پارٹی چيئرپرسن کے ليے توہين آميز اور ان کی شخصيت کو نشانہ بنانے والے الزمات عائد کيے۔
تازہ الزمات پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے وقت سينيٹر رحمان ملک نے بھی انہيں مسترد کيا ہے۔ سابق وزير اعظم يوسف رضا گيلانی کے صاحبزادے علی حيدر گيلانی نے اپنے والد کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ رچی کے الزامات بے بنياد ہيں۔ انہوں نے رحمان ملک کے حوالے سے بھی کہا کہ ان کا کردار صاف ہے۔ علی حيدر گيلانی نے کہا کہ يہ الزامات رحمان ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے ليے لگايا گيا ہے۔ ان کے بقول ایک امريکی خاتون يہ الزامات ‘کسی مخصوص فرد يا گروپ‘ کے کہنے پر لگا رہی ہيں۔(قومی آواز)
پاکستان
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ اسلام آباد کا پہلا اہم ورکنگ سیشن مکمل
اسلام آباد، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ اسلام آباد کا پہلا اہم ورکنگ سیشن مکمل ہو گیا ہے، جس میں پاکستان اور ایران کے درمیان اہم امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے حکام نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ ورکنگ سیشن کے بعد ایرانی وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات طے ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات اور اپنے دورہ پاکستان کا ایجنڈا مکمل کرنے کے بعد ایرانی وفد اسلام آباد سے مسقط اور پھر ماسکو کے لیے روانہ ہو جائے گا۔
دوسری جانب ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر آج اسلام آباد جا رہے ہیں، ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولائن لیوٹ نے دعویٰ کیا صدر ٹرمپ کے کہنے پر ایرانی حکام نے خود رابطہ کیا۔
ایرانی حکام نے براہ راست مذاکرات کیلئے کہا اسی لیے صدر ٹرمپ وفد بھیج رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ جے ڈی وینس ابھی یہیں رہیں گے، صورتحال پر نظر رکھیں گے، امید ہے بات چیت نتیجہ خیز ہوگی اور ڈیل کی جانب بڑھے گی، مذاکراتی عمل میں صدر ٹرمپ نے اپنی ریڈ لائنز واضح کی ہیں، مذاکرات کے عمل میں پاکستان حیرت انگیز ثالث رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں، ایران اپنا مؤقف پاکستان کے ذریعے آگے پہنچائے گا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے ایکس پر بیان میں لکھا پاکستان امن کی بحالی کیلئے ثالثی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ پاکستان صرف دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کے لیے ہے، عباس عراقچی کو ایٹمی معاملے پر مذاکرات کرنے کی کوئی ذمہ داری نہیں دی گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
“اسلام آباد مذاکرات”ایرانی وفد تاحال پاکستان نہیں پہنچ سکا
اسلام آباد، ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی وفد اب تک پاکستان نہیں پہنچ سکا ۔
نشریاتی ادارے نے کہاہے کہ اب تک کوئی بھی ایرانی وفد اسلام آباد نہیں پہنچا۔ آئی آر آئی بی نے مزید کہا کہ متعدد میڈیا رپورٹس کہ ایرانی وفد پاکستان کا سفر کرے گا یا یہ کہ مذاکرات پیر کی شام یا منگل کی صبح طے تھے، غلط تھیں۔ رپورٹ میں اتوار کی شام ایرانی حکام کے بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں اشارہ کیا گیا کہ مذاکرات میں مسلسل شرکت امریکی رویے میں تبدیلیوں پر منحصر ہے اور یہ کہ تہران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو مسترد کرتا ہے۔
پاکستان نے 11-12 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی، جب اس نے 8 اپریل کو 14 روزہ جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا جو بدھ کو ختم ہونے والی ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کے ایک اور دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اس سے قبل پاکستانی ذرائع نے کہا تھا کہ ایرانی حکام کی منگل کو اسلام آباد آمد متوقع ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان واپس پرواز کے لیے تیار تھے، لیکن تہران نے اپنی شرکت کے بارے میں غیر یقینی برقرار رکھی اور امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور ایک جہاز کی ضبطی کے ذریعے جلد ختم ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ وینس کے بارے میں توقع ہے کہ وہ منگل کی صبح مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہوں گے۔
امریکہ نے اسی طرح تہران پر الزام لگایا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کو ہراساں کرکے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، جو دنیا کے پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل کا راستہ ہے، جسے ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے جواب میں تقریباً بند کر دیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے پیر کو تہران سے اس اشارے کا انتظار کیا کہ وہ اپنا مذاکراتی وفد اسلام آباد بھیجے گا۔ ثالثوں نے ایرانی حکام سے مذاکرات میں شرکت کی درخواست کی ہے اور انہیں وفد بھیجنے پر زور دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ “انتہائی غیر ممکن” ہے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور یہ کہ بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے مستقل خاتمے کا معاہدہ نہیں ہو جاتا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
عمران خان کو قید تنہائی میں رکھ کر غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہ: علیمہ خان
اسلام آباد، پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے الزام لگایا ہے کہ ان کے بھائی کو قید تنہائی میں رکھ کر ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔
محترمہ خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو 16 اکتوبر 2025 سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، انہوں نے 2025 میں اپنے بیٹوں سے صرف دو بار بات کی اور ایک بار فروری 2026 میں، وہ بھی سپریم کورٹ کے حکم کے بعد۔ بیان کے مطابق اسے پڑھنے کے لیے کتابیں بھی فراہم نہیں کی جا رہی ہیں اور جو کتابیں بھیجی گئی ہیں ان میں سے وہ صرف تین ہی وصول کر سکیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مسٹر خان، جو کہ دوسری صورت میں صحت مند تھے، اچانک ان کی آنکھ میں خون کا جمنا پیدا ہوگیا، لیکن انہیں بروقت طبی امداد دینے سے انکار کردیا گیا۔ اس نے دو ہفتوں تک جیل حکام کو بتایا کہ وہ دیکھنے سے قاصر ہے، اس کے باوجود علاج میں تاخیر ہوئی۔ الزام ہے کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ غفور انجم نے تین ماہ تک ماہر ڈاکٹر کو بلانے میں تاخیر کی جس سے آنکھ کو مستقل نقصان پہنچا۔
اہل خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دوسری آنکھ بھی اسی طرح کی پریشانی کا شکار ہو سکتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسٹر خان نے پچھلے کچھ مہینوں میں کئی بار علاج سے عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور ایک انجیکشن کے بعد ان میں معمولی بہتری آئی تھی، لیکن اس کے بعد کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ دریں اثناء ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بھی آنکھوں میں تکلیف ہوئی اور حال ہی میں ان کا آپریشن ہوا۔ اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ مسٹر خان کو بیماری کی وجہ معلوم کرنے کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں مناسب معائنہ اور علاج فراہم کیا جائے۔ محترمہ خان نے اسے “غیر انسانی” قرار دیا اور کہا کہ یہ پاکستانی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر2 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا6 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
ہندوستان1 week agoاسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا ہندوستان کی جانب سے خیر مقدم، امن کی سفارتی کوششوں کی حمایت
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ





































































































