تازہ ترین
جتنے جنگجو ؤں کے صف میں شامل ہوتے ہیں،اُ س سے کئی زیادہ مارے جاتے ہیں،اب تک 119عساکر ہلاک:دلباغ سنگھ

’سیکیورٹی فورسز ملی ٹنٹوں پر غالب،شہری ہلاکتیں نہ ہو خاص توجہ مرکوز‘
’رواں برس کے ابتدائی 6ماہ کامیاب ترین ثابت‘
سرینگر: جموں وکشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا ہے کہ رواں برس کے ابتدائی6ماہ سیکیورٹی فورسز کیلئے کامیاب ترین ثابت ہوئے جبکہ سیکیورٹی فورسز مکمل طور پر ملی ٹنٹوں پر غالب ہیں۔انہوں نے کہا ’جتنے نوجوان جنگجوؤں کے صف میں شامل ہوتے ہیں، اُس سے زیادہ مارے جاتے ہیں اور جنگجو مخالف کارروائیوں کے دوران شہری ہلاکتیں نہ ہو،اس کا خاص خیال رکھا جاتا ہے‘۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق ایک نجی نیوز چینل کو دئے گئے تفصیلی انٹر یو میں جموں وکشمیر پولیس کے چیف دلباغ سنگھ نے کہا کہ جموں وکشمیر خاص طور پر وادی کشمیر میں ملی ٹینسی مخالف کارروائیوں کے دوران شہری ہلاکتیں نہ ہو،اس کا خاص خیال رکھا جاتا ہے جبکہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا سیکیورٹی فورسز کی پہلی ترجیح ہے۔ ان کا کہناتھا ’جہاں تک ملی ٹینسی مخالف کارروائیوں کا تعلق ہے،2020کے ابتدائی6ماہ کامیاب ترین ثابت ہوئے‘۔
دلباغ سنگھ نے کہا ’نہ صرف اعلیٰ ترین ملی ٹنٹ کمانڈر وں کی ہلاکت بلکہ119ملی ٹنٹوں کو زیر کرنے کیلئے رواں برس کے ابتدائی6ماہ میں پولیس نے نمایاں اور کلیدی رول ادا کیا‘۔
جموں وکشمیر پولیس چیف،دلباغ سنگھ کا خیال ہے کہ بہت ساری وجوہات ہیں جسکی وجہ سے سال2020کشمیر میں انسداد ملی ٹینسی مخالف کارروائیوں کے حوالے سے اب تک خاصا اچھا رہا۔انہوں نے کہا کہ ملی ٹنٹ مخالف کارروائیوں کے دوران عام شہری اور فورسز کے جانی نقصان سے بچنے کیلئے خاص حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے،جس کے مثبت اور ثمر آور نتائج برآمد ہوئے۔
دلباغ سنگھ نے کہا’ملی ٹینٹ مخالف کارروائیوں کے دوران شہری ہلاکتیں نہ ہو،اس کو یقینی بنانے کیلئے خاص توجہ مرکوز کی ہوئی ہے‘۔ان کا کہناتھا کہ یہ ایک وجہ ہے جسکی وجہ سے سیکیورٹی فورسز کو ملی ٹنٹوں کے خلاف بڑی بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔
دلباغ سنگھ نے کہا’اس برس سیکیورٹی کو کئی کامیابیاں حاصل ہوئیں،پلوامہ جیسے آئی ای ڈی خود کش دھماکے کو ٹال دیا گیا،حزب المجاہدین کے چیف کمانڈر ریاض نائیکو اور دیگر ملی ٹنٹ کمانڈر مارے گئے،کیا آپ نہیں لگ رہا ہے کہ یہ پولیس کیلئے اس سال کی اعلیٰ ترین کامیابیاں نہیں ہیں؟‘۔
پولیس چیف نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انٹر ویو میں کہا ’گزشتہ 4برسوں میں پہلی مرتبہ جتنے جنگجوؤں کے صف میں شامل ہوئے،اُس سے زیادہ مارے گئے،اور یہ خوشی کی بات ہے‘۔انہوں نے کہا ’آپ گزشتہ4برسوں کے اعداد وشمار اٹھائے،سال 2018میں سیکیورٹی نے260ملی ٹنٹ مختلف آپریشنز میں مارے،2019میں 160ملی ٹنٹ مارے گئے،رواں برس ابھی تک سیکیورٹی نے119ملی ٹنٹ مارے‘۔
انہوں نے کہا ’مقامی نوجوانوں میں ملی ٹینسی کا رجحان کم ہو رہا ہے،گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اس برس قلیل تعداد ہی ملی ٹنٹوں کے صف میں شامل ہوئے،اس برس مقامی اور غیر مقامی،دونوں مارے گئے،یہ ایک اچھا رجحان ہے،ہم اس کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں‘۔ایک سوال کے جواب پولیس چیف نے کہا ’ہمارا یہ کام نہیں کہ ایک ماہ یا دو ماہ میں کیا،کیا؟،گزشتہ دو،تین برسوں کے دوران ہم نے مؤثر اقدامات کئے،ہم نے اپنا انٹلی جینس نیٹ ورک مضبوط کیا اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان ہم آہنگی کو ترجیح دی‘۔انہوں نے کہا ’گزشتہ دو تین برسوں میں عام شہر یواور فورسز کی ہلاکتوں میں نمایاں کمی آئی،جس نے ہمارے اعتماد کو مزید پختہ کیا‘۔
دلباغ سنگھ نے مزید کہا’گزشتہ کئی ماہ میں امن و قانون کی صورتحال کو دیکھیں، ریاض نائیکو،زاکر موسیٰ،جنید صحرائی،برہان کوکا کی ہلاکت کے بعد وادی کشمیر میں امن وقانون کی صورتحال پہلے سے بہتر ہوئی،ہم ہجوم کو جمع ہونے کی اجازت نہیں دے رہے اور فورسز پر پتھراؤ کرنے والوں کو بھی روکا،ہم ہر ایو نٹ کے بعد نئی منصو بہ ترتیب دیتے ہیں،پیشگی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں،تاکہ صورتحال کو کنٹرول میں رکھ سکے،نتائج کیا ہیں؟،وہ سب کے سامنے ہیں‘۔دلباغ سنگھ نے کہا ’جہاں تک عام شہریوں کے تحفظ کا سوال ہے،ہم نے مؤثر اور اقد امات کئے،تاکہ کہیں سے کوئی سیکیورٹی فورسز کے خلاف کوئی شکایت نہ ہو،اب عام شہریوں اور فورسز کے درمیان جھڑپیں نہیں ہوتی،کوئی ایسا واقعہ نہیں،جہاں عوامی شکایت سامنے آئی ہو،جھڑپوں کے دوران عوامی اعتماد کو بھی حاصل کیا جاتا ہے‘۔
ان کا کہناتھا معرکہ آرائیوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتیں نہ ہو،ہم اس کا خاص خیال رکھتے ہیں،سرینگر میں ہم نے معرکہ آرائیوں کے دوران صورتحال کو کس طرح کنٹرول میں رکھا،یہ100فیصد پولیس آپریشنز تھے،اونتی پورہ میں ملی ٹینٹ مسجد میں داخل ہوئے،ہم نے سا رے واقعہ کو حساسیت کیساتھ لیا اور نمٹایا۔مسجد کو کوئی نقصان نہیں ہوا،مقامی لو گوں نے سراہنا کی،اس سے ہمیں لوگوں تک پہنچنے میں مدد مل رہی ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں دلباغ سنگھ نے کہا ’جہاں تک امن وقانون کی منیجمنٹ کا تعلق ہے،تشدد کے واقعات میں 80فیصد کمی آئی،ہمارا انٹلی جینس نیٹ ورک اور خفیہ اطلاعات کی روانی یا بہاؤ اس وقت سب سے اعلیٰ ہے،99فیصد خفیہ اطلاعات پولیس سے ہی حاصل ہورہی ہیں‘۔
جموں و کشمیر
عمر نے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے کے لئے انڈیا اتحاد سے حمایت طلب کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے قومی دارالحکومت میں اپوزیشن جماعتوں کے ‘انڈیا’ اتحاد کے رہنماؤں سے ملاقات کرکے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے کے لیے حمایت طلب کی ہے۔
مسٹر عبداللہ نے پیر کے روز نئی دہلی میں منعقدہ انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں یہ معاملہ اٹھایا اور اتحاد کے شراکت داروں سے قومی دارالحکومت میں ہونے والے پارٹی کے مجوزہ احتجاج میں شریک ہونے کی درخواست کی۔ انڈیا اتحاد کی اس میٹنگ میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی شرکت کی۔
نیشنل کانفرنس نے یہاں ایک بیان میں کہا، ’’آج ہونے والی انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تمام شرکاء سے کہا کہ جب ہم ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے دہلی میں احتجاج کرنے آئیں گے تو وہ جموں کسمیر نیشنل کانفرنس کے ساتھ جڑیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سلسلے میں تمام رہنماؤں کو الگ الگ خطوط بھی ارسال کریں گے۔‘‘
یواین آئی۔الف الف
دنیا
اختلافات کے برعکس ترک-ہند تعلقات اچھے ہونے چاہیئے:فیدان
انقرہ، ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے ترکیہ اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے اور یہ دلیل دی ہے کہ پاکستان کے ساتھ انقرہ کے قریبی تعلقات کی وجہ سے پیدا ہونے والے اختلافات کو ان دونوں علاقائی طاقتوں کے درمیان تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
پچھلے ہفتے سنگاپور میں چھٹے ‘آئی آئی ایس ایس رافلز م لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے فیدان نے کہا کہ ترکیہ اور ہندوستان کے درمیان کوئی بڑے دوطرفہ تنازعات نہیں ہیں اور دونوں کے پاس مثبت تعلقات برقرار رکھنے کی مضبوط وجوہات موجود ہیں۔
لیکچر کے بعد سوال و جواب کے ایک سیشن میں فیدان نے کہا کہ ہم واقعی ہندوستان کے ساتھ بہترین تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کے ساتھ ہماری کوئی سرحد نہیں ہے اور نہ ہی ہندوستان کے ساتھ ہمارا کوئی حل طلب دوطرفہ مسئلہ ہے۔
” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترکیہ اور ہندوستان کی کوئی آپسی جنگی تاریخ نہیں ہے بلکہ اس کے بجائے ان کے پاس اچھے تعلقات رکھنے کی ہر بہترین وجہ موجود ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ انقرہ کے دیرینہ تعلقات کا دفاع کیا اور انہیں تاریخی یکجہتی پر مبنی قرار دیا، جبکہ اس بات پر زور دیا کہ ان تعلقات کو نئی دہلی کے ساتھ تعاون میں رکاوٹ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
فیدان نے کہا کہ ترکیہ واحد ملک نہیں ہے جس کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور بعض مخصوص مسائل پر پاکستان کے ساتھ تاریخی یکجہتی موجود ہے۔
واضح رہے کہ تعلقات میں یہ مشکل موڑ مئی 2025 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چار روزہ جنگ کے بعد آیا تھا۔
نئی دہلی نے اس بحران کے دوران ہندوستانی حملوں کی ترک مذمت اور پاکستان کے لیے حمایت کے اظہار پر اعتراض اٹھایا تھا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترکیہ ان پہلے ممالک میں شامل تھا جس نے 22 اپریل 2025 کو ہندوستان کے کشمیر کے علاقے پہلگام میں شہریوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی تھی جس کے بعد یہ جنگ شروع ہوئی تھی۔
ترک وزارت خارجہ نے اسی دن ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسے ایک “گھناؤنا حملہ” قرار دیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے اسرائیل پر حملے روکنے کا اعلان کردیا
تہران، ایرانی خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے اسرائیل کے خلاف مسلح افواج کی کارروائیاں روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کے مظلوم عوام کی حمایت میں صہیونی حکومت کو دردناک جواب دے دیا گیا ہے۔
خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایرانی مسلح افواج نے جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی حملوں اور مبینہ جارحیت کا جواب دے دیا ہے، جس کے بعد فوجی کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کو اس جواب سے سبق سیکھنا چاہیے، تاہم اگر جارحیت اور اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رہیں تو پہلے سے زیادہ شدید اور تباہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔
اس سے قبل پاسداران انقلاب نے گزشتہ روز شمالی اسرائیل میں واقع اسرائیلی ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔
ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی نیوتم ایئر بیس، تل انوف پر حملے کیے ہیں، اسرائیلی ایئر بیس پر حملے ایران میں ریڈار مقامات کو نشانہ بنانے کے جواب میں کیے گئے، کسی بھی صورتِ حال اور تمام محاذوں پر وسیع آپریشنز کے لیے تیار ہیں۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے مقبوضہ علاقوں میں اہم اور حساس اہداف کے خلاف کامیاب کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں دشمن کو بھاری اور مہنگا نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور خطے کی مزاحمتی قوتیں کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گی، اور اگر جارحیت جاری رہی تو اس کا زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ 8 اپریل کو ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان نافذ ہونے والی جنگ بندی تمام محاذوں پر جنگ بندی سے مشروط تھی، جبکہ اسرائیل پر لبنان میں کارروائیاں جاری ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر6 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
ہندوستان5 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا4 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا3 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا7 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
کھیل6 days agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
دنیا7 days agoلبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو سنگین نتائج ہوں گے: ابراہیم عزیزی
جموں و کشمیر3 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا5 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا1 week agoواضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی







































































































