تازہ ترین
پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ کی زبوں حالی

تیس سال پہلے کی بات ہے. جب زیادہ تر کشمیری حصولِ تعلیم کےلئے سرکاری اسکولوںمیں جاتے تھے. پرائیویٹ اسکول شاذو نادر ہی نظر آتے تھے .ایسے ہی ایک پرائیویٹ اسکول میں میرا داخلہ کیا گیا.اسکول کے اساتذہ کے چہروں سے ہی پتہ چل جاتا تھا کہ وہ اس پیشے سے کتنے خوش تھے.
اُن کی چال ڈھال اور پہناوا اُن کی مالی بوسیدگی کی طرف اشارہ کر رہی تھی. اسکول کے مالک کے کے سامنے وہ غلاموں کی طرح پیش آتے تھے.اسکول کا ماحول گٹھن بھرا ہوتا تھا.بات بات پر باز پرش،حیلے بہانے وہ ہمیشہ ڈرے سہمے رہتے تھے.ایسے ماحول میں وہ بچوں کو کیا پڑھاتے اور کس معیار کا پڑھاتے.
وہ اللہ ہی جانے، البتہ مجھے یاد ہے کہ یہ اساتذہ بچوں کو ہمیشہ ایک ہی نصیحت کرتے ” بیٹا سب کچھ بننا لیکن استاد نہ بننا وہ بھی پرائیویٹ اسکول کا! اُن کی تنخواہیں قلیل ہوتی تھی.جس میں گھر کا گذارہ کرنا بہت مشکل تھا آج سے تیس سال پہلے جو کہانی تھی آج بھی وہی ہے صرف اسکولوں کے نام بدل گئے.
کرداروں کے چہرے بدل گئے،استحصال کے طریقے بدل گئے،حیلوں بہانوں کے داو پیچ تبدیل ہوگئے.نجی اسکولوں پر مالکوں کی گرفت اور مضبوط ہوگئی.غیر سرکاری اسکولوں کے اساتذہ معاشی دوڈ میں آج بھی سب سے پیچھے ہیں.قوم کو تعلیم کی دولت سے مالا مال کرنے والے اساتذہ خود قلاش ہیں اس قوم کی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے. سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جموں کشمیر میں 7010نجی اسکول ہیں جن میں کشمیر میں2710اور جموں میں4300 ہیںان نجی اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد ساڑھے سات لاکھ ہے.یہ اسکول چالیس ہزار تدریسی اور پچیس ہزار غیر تدریسی عملے کو روزگار فراہم کرتے ہیں.پرائیویٹ اسکولوں میں اکثر اساتذہ کا اسکول انتظامیہ استحصال کرتی ہے.محفوظ روزگار کی ضمانت کے بغیر ان استادوں کو عموما حکومت کی طرف سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں سے کم تنخواہ دی جاتی ہے.ان اسکولوں کے اساتذہ کو سات آٹھ ہزار روپے ماہانہ دیئے جاتے ہیں سوائے چند اسکولوں کے، جو پرائیویٹ اسکولوں کی مجموعی تعداد کا ایک یا دو فیصد ہونگے. جو اساتذہ کو اچھی تنخوہیں دیتے ہیں.
دوسری مراعات کا پوچھئے مت! جو سوال کرے گا اُس کی چھٹی !اُس پر ستم ظریفی یہ کہ انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں نہ وہ کس کے سامنے جوابدہ ہیں سالہا سال سے یہ استحصال جاری ہے.حکومتیں جانتے بوجھتے اس مسئلے کو نظر انداز کرتی آرہی ہے.اور پرائیویٹ اسکولوں کے مالکان اس خطے کی بےروزگاری کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں. اساتذہ کا الزام ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں میں تنخواہ کی کوئی معیاری حد مقرر نہیں ہے. جس کی بنیاد پر اساتذہ کی تنخواہوں میں سالانہ اضافہ کیا جاتا. ہر سال پرائیویٹ اسکول بچوں کی فیس میں قانونی اور غیر قانونی طور پر آٹھ یا دس فیصد تک اضافہ کرتی ہے. اور اس کے لئے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی.لیکن اساتذہ کی تنخواہوں میں اس کا اثر دکھائی نہیں دیتا. ستم ظریفی یہ ہے کہ محکمہ تعلیم نے ان اسکولوں میں تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تنخواہوں کو باضابطہ بنانے کے لئے کوئی نظام مرتب نہیں کیا ہے. البتہ اس بار حکومت نے اس مسئلے میں پہلی بار مداخلت کی ہے اور محکمہ تعلیم کو پرائیویٹ اسکولوں میں فیس کے ڈھانچے اور تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تنخواہ کی تفصیلات جمع کرنے کے لئے کہا ہے.اس فیصلے سے قلیل تنخواہ پانے والے ہزاروں اساتذہ کی امیدیں جاگ اٹھنے کا امکان ہے.
کوویڈ-19کی وجہ سے فی ا لحال اسکول بند پڑے ہیں بہت سے چھوٹے چھوٹے اسکول بند ہونے کی دہلیز پر پہونچ گئے.جبکہ بیشتر پرائیویٹ اسکولوں نے غیر تدریسی عملے اور بیشترتدریسی عملے کو فارغ کردیا ہے.حالات ٹھیک ہونے کے بعد کی صورت میں یہ اساتذہ واپس اسکول پہونچیں گے اور تب ان کے معاشی معاملات بھی ٹھیک ہوجائیں گے.
دنیا
ٹرمپ کو اپنا نام کینیڈی سینٹر کے نام میں شامل کروانے کے فیصلے پر سبکی، عدالت کا نام ہٹانے کا حکم
واشنگٹن، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا نام کینیڈی سینٹر کے نام میں شامل کروانے کے فیصلے پر سبکی کا سامنا کرنا پڑ گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی عدالت نے کینیڈی سینٹر سے صدر ٹرمپ کا نام ہٹانے کا حکم دے دیا۔ امریکی صدر نے گزشتہ برس جان ایف کینیڈی سینٹر کے نام میں اپنا نام شامل کردیا تھا، جج نے کہا کانگریس کی منظوری کے بغیر واشنگٹن ڈی سی میں کسی مقام کا نام تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے صدر ٹرمپ کا تزئین و آرائش کے دوران مرکز دو سال کے لیے بند کرنے کا حکم بھی معطل کردیا۔ کینیڈی سینٹر برائے پرفارمنگ آرٹس کے ترجمان نے عدالتی حکم کے خلاف اپیل کا اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ناکام کینیڈی سینٹر کی ان کے پاس واپسی کے لیے کانگریس کے ساتھ مل کر کام کریں گے، صدر ٹرمپ نے فروری 2025 میں کینیڈی سینٹر بورڈ میں کئی ٹرسٹیز تبدیل کرکے چیئرمین کے انتخاب سے قبل خود کو بطور ٹرسٹی مقرر کیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ امیر ممالک کے دفاعی اخراجات نہیں اٹھائے گا: پیٹ ہیگستھ
واشنگٹن، امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ امریکہ اب امیر ممالک کے دفاعی اخراجات کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
سنگاپور میں تقریب سے خطاب میں پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ چین سمیت کوئی ملک خطے پر بالادستی قائم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ چین کو خطے میں امریکا کی پوزیشن کا احترام کرنا ہوگا۔
امریکی وزیر جنگ کا کہنا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا، ایران کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ ایک اچھا معاہدہ ہوگا۔ پیٹ ہیگستھ نے مزید کہا کہ بحرالکاہل میں کسی بھی بالادستی سے طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر حج کمیٹی کے سامان سے متعلق فیصلے سے واپس آرہے حاجیوں میں نظر آئی ناراضگی
سری نگر جموں و کشمیر حج کمیٹی کے ذریعے حاجیوں کے سامان کے ایک بڑے حصے کو احمد آباد سے سری نگر تک سڑک کے راستے سے لے جانے کے فیصلے پر حاجیوں، ان کے خاندانوں اور سیاسی لیڈروں نے بڑے پیمانے پر تنقید کی ہے۔
نوٹیم سے متعلق پابندیوں اور طیارے میں سامان لے جانے کی حد طے ہونے کی وجہ سے کیے گئے اس فیصلے سے حج سے واپس آرہے بزرگ حاجیوں میں پریشانی کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
کئی لوگوں کو سعودی عرب میں قیام کے دوران خریدی گئی مذہبی اشیاء، تحائف اور جلد خراب ہونے والی چیزوں سمیت ذاتی سامان میں تاخیر، نقصان یا خرابی کا ڈر ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے فوری طور پر سرکاری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
سری نگر کے لیے حج پروازوں کی آمد دو جون سے شروع ہونے والی ہے، پہلی پرواز کے دوپہر 12:45 بجے سری نگر انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر اترنے کی امید ہے۔ اس کے علاوہ پروازوں کے اوقات تین اور چار جون کو مقرر ہیں۔ اس سال جموں و کشمیر سے 7,000 سے زیادہ زائرین نے سفر حج کیا۔
جموں و کشمیر حج کمیٹی نے ایک نوٹیفکیشن میں کہا کہ حاجیوں کی امیگریشن اور کسٹم کلیئرنس سری نگر کے آگے کے سفر سے پہلے احمد آباد میں ہی مکمل کر لی جائے گی۔
سامان کے ترمیم شدہ انتظام کے تحت، حاجیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صرف سات کلو گرام تک کا ایک ہینڈ بیگیج لے جائیں، جبکہ سری نگر جانے والی پروازوں میں صرف پانچ کلو گرام کا چیک ان بیگیج ہی لے جانے کی اجازت ہوگی۔ نوٹیم سے متعلق پابندیوں اور طیارے کے وزن کی حدود کی وجہ سے باقی سامان، فی زائر 30 کلو گرام تک، سڑک کے راستے سے الگ سے لے جایا جائے گا۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ کسی بھی چیک ان بیگیج کا وزن 22 کلو گرام سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ حاجی سڑک کے راستے سے لائے گئے اپنے سامان کو حج ہاؤس سری نگر پہنچنے پر وہاں سے حاصل کر سکیں گے۔
اس فیصلے سے حاجیوں اور ان کے خاندانوں میں غم و غصہ نظر آ رہا ہے۔ کئی زائرین کو اندیشہ ہے کہ سعودی عرب میں قیام کے دوران خریدی گئی مذہبی اشیاء، تحائف اور دیگر اشیاء سمیت ان کے سامان میں تاخیرسے خرابی یا نقصان کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
سیاسی جماعتوں نے بھی اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے کہا کہ یہ تشویشناک ہے کہ ایک مقدس سفر سے لوٹ رہے زائرین کو غیر ضروری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ایک بیان میں مسٹر بخاری نے کہا کہ “یہ انتہائی تشویشناک ہے کہ جموں و کشمیر کے حاجی، جو اپنی مقدس زیارت مکمل کرنے کے بعد گھر آنے کی تیاری کر رہے ہیں، متعلقہ حج حکام اور ایئر لائن حکام کے غیر حساس اور غیر تعاون پر مبنی رویے کی وجہ سے غیر ضروری پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔”
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر1 week agoعید سے قبل بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے؛ اس مقدس موقع پر ملازمین کو مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے: رفیق راتھر
جموں و کشمیر5 days agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
دنیا1 week agoکیوبا نے مارکو روبیو پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگا دیا
دنیا1 week agoٹرمپ کی ایرانی تہذیب مٹنے کی دھمکی سے یورپ اور ایشیا کو نیوکلیئر حملے کے خطرات پیدا ہوگئے تھے: رپورٹ
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان، ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف
دنیا1 week agoامریکہ سے مذاکرات: ایران کا تمام محاذوں پرجنگ کا خاتمہ ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور بحری تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoحزب اللّٰہ کو غیر مسلح کرنے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف امریکی کارروائی
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر ایران کا نیا ٹول ٹیکس: جہازوں کے گزرنے کیلئے فیس
دنیا1 week agoپاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں ایٹمی پروگرام پر بات نہیں ہوگی: ایران
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران کے ساتھ چل رہی امن بات چیت کو اور وقت دینے کا فیصلہ کیا
ہندوستان1 week agoپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر اضافہ
ہندوستان5 days agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا































































































