Connect with us

تجزیہ

بھارت پاک میں پھر سے دوستانہ تعلقات؟

Published

on

جمعرات کو بھارت اور پاکستان کے اعلی فوجی افسران کے درمیان ایک معاہدہ طے ہو پایا۔ اس معاہدہ کے تحت دونوں ملکوں کی افواج لائن آف کنٹرول اور بینلاقوامی سرحد پر سیز فائر کا احترام کرینگے ۔جسکی وجہ سے LOC اور IB پر رہنے والے لوگ چین کی سانس لے پاینگے۔ اگرچہ اس طرح کا معاہدہ پہلے بھی ہوچکے ے تاہم اس بار یہ معاہدہ کافی اہمیت کا حامل ے۔ میٹنگ کے فورأ بعد دونوں ملکوں کے DGMO’s نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔

بیان میں کہا گیا ے کہ سرحد کے دونوں اطراف پائیدار امن و استحکام کے لے سیز فائر کو عمل میں لانا لازمی ے اور مستقبل میں ایک دوسرے کے اعتراضات جن کی وجہ سے امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہو کو بارڈر فلیگ میٹنگ اور ہاٹ لائن کنٹیکٹس کے ذریعے حل کیا جاے۔

اس معاہدہ کو 24 اور 25 شب کی درمیانی رات کو عمل میں لایا گیا تھا۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان نریندر مودی کی کٹر پنتی سرکار آنے کے بعد یہ پہلا اس طرح کا معاہدہ ے۔ نریندر مودی کی بی جے پی والی سرکار آنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان حالات بہت کشیدہ رہے۔ یہاں تک کہ 2016 میں بھارتی فوج نے سرحد عبور کرکے سرجیکل اسٹراکس کا دعوی کیا۔

یہ اسٹرایکس اوڈی میں ملیٹنٹوں کے فوجی کیمپ پر حملہ کرنے کے جواب میں کیا گیا تھا جس میں درجن سے زیادہ فوجی مارے گے تھے۔ فروری 2018 میں پلوامہ میں ایک خودکش بم حملے میں 50 سی آر پی آیف کے جوان مارے گے جسکا الزام بھارت نے پاکستان پر عاید کیا۔ اور بھارتی ہوائی فوج نے پاکستان کے علاقے بالا کوٹ میں ملیٹنٹوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔ جبکہ پاکستان نے بھارت کا ایک طیارہ گرا دیا اور پائلٹ ابھینندن کو گرفتار کیا جسے بعد میں جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کیا گیا۔

اسکے بعد دونوں ملکوں کے درمیان حالات بہت کشیدہ رہے اور مودی حکومت نے 5 اگست 2019 کو جموں کشمیر کا خصوصی درجہ بھی ختم کیا جسے پاکستان کافی نالا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی اور سیاسی رابطہ منقطع رہا۔ اور نریندر مودی کی سرکار میں کسی بھی طرح سے سفارتی یا سیاسی سطح پر رابطہ بحال ہونے کے امکانات بظاہر بہت کم بظر آرہے تھے۔

اب جبکہ سرحد پر برف پگھلنے لگی اور دونوں ملک امن و استحکام کی بات کرنے لگے جموں کشمیر کے لوگ اسے ایک اہم پیشرفت مان رہے ے۔ یہ بھی ایک کڑوا سچ ے کہ دونوں ملکوں کی کشیدگی میں کشمیر کے لوگ سب سے زیادہ نقصان اٹھا رہے ے۔ اس امن کی پہل میں لاکھوں لوگ جو 760 کلومیٹر لمبی LoC پر رہ رہے ے اب راحت محسوس کررہے ے۔ ذرائع کا کہنا ے کہ بیک چینل ڈپلومیسی دو ملکوں کے درمیان حال ہی میں شروع ہوچکی ے اور کھچ اہم مسلوں پر پیش رفت ہوچکی ے اور آنے والے وقت میں جسکا نتیجہ سامنے آسکتا ے۔

 

 

 

Continue Reading

تجزیہ

گلوبل ہیٹنگ اور حج: بڑھتی گرمی کے سائے میں مقدس سفر کا مستقبل

Published

on

خصوصی مضمون: ظفر اقبال

پوری دنیا کے مسلمان ہر سال جس روحانی سفر کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں وہ حج ہے، مکہ مکرمہ میں ادا کی جانے والی یہ اہم عبادت محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایمان، قربانی، صبر، مساوات اور بندگی کا عظیم مظہر سمجھی جاتی ہے, لاکھوں مسلمان نسل، رنگ، زبان، قومیت اور معاشی تفاوت سے بالاتر ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتے ہیں اور ایک ایسی فضا میں عبادت کرتے ہیں جہاں روحانیت کا ایک منفرد احساس جنم لیتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں ایک نئی اور تشویش ناک حقیقت اس مقدس عبادت کے ساتھ جڑتی جا رہی ہے اور وہ ہے بڑھتی ہوئی عالمی گرمی یا گلوبل ہیٹنگ۔

حالیہ تحقیقی رپورٹس اور موسمیاتی تجزیوں نے خبردار کیا ہے کہ زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ مکہ مکرمہ کے موسم کو خطرناک حد تک تبدیل کر رہا ہے۔ شدید گرمی اب صرف گرمیوں کے چند مہینوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سال کے نسبتاً معتدل سمجھے جانے والے اوقات میں بھی حجاج کو جھلسا دینے والے درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال جاری رہی تو صدی کے اختتام تک حج تقریباً پورا سال شدید اور جان لیوا گرمی کے ماحول میں ادا کرنا پڑے گا۔

ایک تازہ تجزیے کے مطابق مکہ مکرمہ کی آب و ہوا میں بنیادی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔ جہاں ماضی میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت صرف جون، جولائی یا اگست جیسے مہینوں میں دیکھا جاتا تھا، وہاں اب مئی جیسے نسبتاً ٹھنڈے تصور کیے جانے والے مہینے میں بھی 40 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت باقاعدگی سے ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ فوسل فیول یعنی جیواشم ایندھن کا بے تحاشہ استعمال ہے، جس کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج نے عالمی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ کیا۔

حج چونکہ اسلامی قمری کیلنڈر کے مطابق ادا کیا جاتا ہے، اس لیے اس کی تاریخ ہر سال تقریباً دس دن پہلے آتی ہے۔ اس تبدیلی کا ایک مثبت پہلو یہ سمجھا جاتا تھا کہ حج مختلف موسموں میں گردش کرتا رہے گا، کبھی سردیوں میں، کبھی بہار میں اور کبھی گرمیوں میں۔ لیکن اب موسمیاتی تبدیلیوں نے اس قدرتی توازن کو متاثر کر دیا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چاہے حج موسمِ بہار میں ہو یا خزاں میں، عالمی حدت کے باعث شدید گرمی ایک مستقل خطرے کے طور پر موجود رہے گی۔

2024 میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ اس خطرے کی شدت کو واضح کرتا ہے۔ جون میں ادا کیے گئے حج کے دوران شدید گرمی اور نمی کے باعث 1300 سے زائد حجاج جاں بحق ہوگئے تھے۔ ہزاروں افراد کو ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، سانس لینے میں دشواری اور جسمانی کمزوری جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ اعداد و شمار صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں جو مستقبل میں مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

حج بنیادی طور پر جسمانی مشقت پر مشتمل عبادت ہے۔ لاکھوں عازمین حج کو کئی کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے، مختلف مقامات کے درمیان مسلسل نقل و حرکت کرنا ہوتی ہے اور کھلے آسمان تلے عبادات انجام دینی پڑتی ہیں۔ میدانِ عرفات میں قیام، منیٰ میں قیام، جمرات پر رمی اور طواف جیسی عبادات جسمانی برداشت کا تقاضا کرتی ہیں۔ شدید گرمی ان تمام مراحل کو نہایت مشکل اور بعض اوقات خطرناک بنا دیتی ہے۔

ماہرین موسمیات کے مطابق مئی کے مہینے کا اوسط درجہ حرارت اب ماضی کے مقابلے میں تقریباً 3.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہو چکا ہے۔ بظاہر یہ اضافہ معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت میں چند ڈگری کا فرق انسانی صحت، پانی کی دستیابی، جسمانی برداشت اور موسمی توازن پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے بار بار متنبہ کر رہے ہیں کہ موسمیاتی بحران صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں، عبادات، معیشت اور عالمی استحکام کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔

اس صورتحال میں سعودی عرب نے کئی عملی اقدامات بھی کیے ہیں۔ حجاج کی سہولت کے لیے سایہ دار راستے تعمیر کیے گئے ہیں، کولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، مسٹنگ سسٹمز لگائے گئے ہیں جو پانی کی باریک پھوار کے ذریعے درجہ حرارت کا احساس کم کرتے ہیں، جبکہ طبی خدمات میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ ہسپتالوں، ایمبولینسوں اور طبی عملے کی تعداد بڑھائی گئی تاکہ گرمی سے متاثر افراد کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات وقتی اور حفاظتی نوعیت کے ہیں۔ اصل مسئلہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو کم کرنا ہے۔ اگر زمین مسلسل گرم ہوتی رہی تو حفاظتی انتظامات کی افادیت محدود ہو جائے گی۔ بعض سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب درجہ حرارت انسانی برداشت کی حد سے تجاوز کر جائے، اور محض ٹھنڈا پانی یا سایہ اس خطرے کو کم کرنے کے لیے کافی نہ رہے۔

یہ صورتحال ایک اہم اخلاقی اور سیاسی سوال بھی پیدا کرتی ہے۔ سعودی عرب دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کی معیشت بڑی حد تک تیل کی صنعت پر منحصر ہے۔ دوسری طرف موسمیاتی سائنسدان مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوسل فیول کے استعمال میں کمی لائی جائے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی برادری اور خاص طور پر تیل پیدا کرنے والے ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں؟

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ حج میں شرکت کرنے والے لاکھوں افراد مختلف ممالک اور موسمی حالات سے تعلق رکھتے ہیں۔

بعض حجاج نسبتاً سرد خطوں سے آتے ہیں جہاں 20 یا 25 ڈگری درجہ حرارت بھی گرمی سمجھا جاتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے 45 یا 50 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بوڑھے افراد، دل کے مریض، شوگر کے مریض اور جسمانی کمزوری کے شکار افراد سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔

عالمی حدت صرف حج ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن رہی ہے۔ شدید گرمی پانی کے بحران کو جنم دے رہی ہے، زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے، خشک سالی میں اضافہ ہو رہا ہے اور کئی ممالک میں انسانی صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ ان خطوں میں شامل ہے جہاں درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار نسبتاً زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں، کاربن کے اخراج میں کمی لائی جائے، قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دیا جائے اور تیل و گیس پر انحصار کم کیا جائے تو صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو آنے والی نسلوں کے لیے حج سمیت بہت سی مذہبی اور سماجی سرگرمیاں شدید موسمی خطرات سے جڑی رہیں گی۔

اس تناظر میں مسلمانوں کے لیے بھی ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماحولیات کے تحفظ کو دینی اور سماجی ذمہ داری کے طور پر کیسے دیکھا جائے۔ اسلام میں اسراف، وسائل کے ضیاع اور زمین میں فساد سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ماحولیاتی تحفظ کو ایک اجتماعی ذمہ داری کے طور پر لیا جائے تو نہ صرف ماحول بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے عبادات کو بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

حج ہمیشہ اتحاد، قربانی اور روحانی پاکیزگی کی علامت رہا ہے، مگر اب اس مقدس عبادت کے سامنے ایک نیا چیلنج موجود ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت صرف موسمی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں، مذہبی آزادی اور عالمی ذمہ داری کا سوال بنتا جا رہا ہے۔ اگر دنیا نے بروقت اقدامات نہ کیے تو وہ دن دور نہیں جب حج کا یہ روحانی سفر لاکھوں لوگوں کے لیے شدید جسمانی آزمائش میں تبدیل ہو جائے۔

یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ موسمیاتی تبدیلی کسی ایک ملک، قوم یا مذہب کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ چیلنج ہے۔ اگر انسان نے اپنے طرزِ زندگی، صنعتی ترجیحات اور توانائی کے ذرائع پر نظرثانی نہ کی تو اس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہوں گے، حتیٰ کہ عبادت گاہیں اور مقدس مقامات بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔

(یواین آئی)

Continue Reading

تجزیہ

موسمیاتی تبدیلی او ر ہندوستانی زراعت کا نیا ماڈل

Published

on

خصوصی مضمون: ظفر اقبال

ہندوستان ایک زرعی ملک ہے جہاں زراعت صرف ایک معاشی سرگرمی نہیں بلکہ سماجی استحکام، غذائی تحفظ، روزگار اور قومی ترقی کی بنیاد سمجھی جاتی ہے اگرچہ صنعتی ترقی، شہری توسیع اور خدمات کے شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے معیشت کی ساخت میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے، تاہم زراعت آج بھی ملک کی تقریباً نصف افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی اقتصادی ترقی کا تصور زرعی شعبے کی مضبوطی کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن موجودہ صدی میں ہندوستانی زراعت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں روایتی زرعی طریقے موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی، مٹی کی زرخیزی میں کمی اور غیر متوقع موسمی حالات جیسے مسائل کا مقابلہ کرنے میں ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔

ایک زمانہ تھا جب زراعت کا انحصار موسمی اندازوں، مقامی تجربات اور روایتی مہارتوں پر تھا، لیکن اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ مون سون کی بے قاعدگی، شدید گرمی کی لہریں، خشک سالی، سیلاب اور مٹی کی مسلسل خرابی نے زرعی پیداوار کے استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایسے میں صرف زرعی قرضے، منڈی تک رسائی یا سپلائی چین کی بہتری کافی نہیں رہی بلکہ اب ایک نئے زرعی وژن کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جس میں ٹیکنالوجی، پائیداری اور آب و ہوا سے مطابقت بنیادی ستون ہوں۔

اسی تناظر میں ہندوستان کے ایگری ٹیک (Agri Tech) ایکو سسٹم کے اندر“کلائمیٹ ریزیلینٹ ایگریکلچر”یعنی آب و ہوا کے لیے لچکدار زراعت اور“سسٹین ایبل فارمنگ”یعنی پائیدار کاشتکاری سرمایہ کاری کے اہم ترین شعبے کے طور پر ابھر رہی ہے۔ سرمایہ کار، حکومتیں، اسٹارٹ اپس، تحقیقی ادارے اور ترقیاتی تنظیمیں اس بات کو سمجھنے لگی ہیں کہ مستقبل کی زراعت محض زیادہ پیداوار نہیں بلکہ زیادہ پائیدار، زیادہ محفوظ اور زیادہ لچکدار نظام پر مبنی ہوگی۔

ہندوستانی زراعت اس وقت ایک پیچیدہ بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک طرف بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات ہیں اور دوسری طرف قدرتی وسائل تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ دنیا کے تقریباً چار فیصد میٹھے پانی پر ایک ارب چالیس کروڑ سے زیادہ لوگوں کی ضروریات پوری کرنا بذاتِ خود ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس کے ساتھ مٹی کی نامیاتی ساخت میں کمی، زیر زمین پانی کا حد سے زیادہ استعمال اور بدلتے موسمی پیٹرن نے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

زرعی زمینیں مسلسل نامیاتی مادے سے محروم ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں زمین کی زرخیزی کم ہوتی جا رہی ہے۔ کیمیائی کھادوں اور زرعی ادویات کے حد سے زیادہ استعمال نے اگرچہ وقتی طور پر پیداوار میں اضافہ کیا، لیکن طویل مدت میں اس نے مٹی کی صحت کو نقصان پہنچایا۔ اس کے نتیجے میں کسان زیادہ سرمایہ خرچ کرنے کے باوجود کم پیداوار حاصل کرنے لگے ہیں۔

اسی دوران مون سون کی روایتی ترتیب بھی متاثر ہوئی ہے۔ پہلے بارش کا ایک متوازن نظام موجود تھا، لیکن اب یا تو بارش تاخیر سے آتی ہے، یا بہت جلد ختم ہو جاتی ہے، یا چند دنوں میں انتہائی شدت سے برس کر سیلابی صورتحال پیدا کر دیتی ہے۔ اس تبدیلی نے کسانوں کی منصوبہ بندی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ فصلوں کے وقت بیجوں کے انتخاب، پانی کی دستیابی اور زرعی لاگت سب غیر یقینی کا شکار ہو گئے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی اب کوئی نظریاتی بحث نہیں رہی بلکہ ایک معاشی اور سماجی حقیقت بن چکی ہے۔ شدید موسمی واقعات میں اضافے نے زراعت کے استحکام کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ گرمی کی شدید لہریں، غیر معمولی بارشیں، ژالہ باری، خشک سالی اور سیلاب فصلوں کی تباہی، مویشیوں کی ہلاکت اور کسانوں کی آمدنی میں کمی کا باعث بن رہے ہیں۔

غیر مستحکم زرعی آمدنی کا مسئلہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ قومی پالیسی مباحث میں قیمت اور آمدنی کی ضمانت جیسے موضوعات کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔ اگر کھیتوں کی آمدنی میں درمیانی مدت میں 15 سے 25 فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں غذائی تحفظ اور دیہی معیشت دونوں خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

یہ صورتحال صرف پیداوار کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ریاضیاتی بحران ہے۔ اگر آبادی بڑھتی رہے، پانی کم ہوتا جائے، زمین کی صحت گرتی رہے اور موسم غیر یقینی ہو جائے تو روایتی زراعت کے ذریعے اس مساوات کو حل کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایگری ٹیک سرمایہ کاری اور پائیدار زراعت ایک نئی امید کے طور پر سامنے آتی ہے۔

ایگری ٹیک ایکو سسٹم دراصل زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل حل اور سائنسی جدت کے امتزاج کا نام ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس، سینسرز، ڈرونز، موسمی پیش گوئی کے نظام، سیٹلائٹ امیجنگ، آبی انتظام، اسمارٹ آبپاشی، بائیوٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مارکیٹ پلیٹ فارمز شامل ہیں۔

پہلے ایگری ٹیک سرمایہ کاری کا زور بنیادی طور پر منڈی تک رسائی، سپلائی چین، زرعی قرضوں اور لاجسٹکس پر تھا، لیکن اب سرمایہ کاروں کی توجہ ان حلوں پر منتقل ہو رہی ہے جو موسمیاتی خطرات کو کم کر سکیں۔ یعنی ایسے نظام جو کم پانی میں زیادہ پیداوار دیں، مٹی کی صحت بہتر بنائیں، کاربن اخراج کم کریں اور کسانوں کو موسمی جھٹکوں کے خلاف زیادہ مضبوط بنائیں۔

یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کار اب زراعت کو محض ایک کاروباری موقع کے طور پر نہیں بلکہ ایک وجودی مسئلے کے حل کے میدان کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

آب و ہوا کے لیے لچکدار زراعت کا بنیادی مقصد ایسے زرعی نظام پیدا کرنا ہے جو موسمی جھٹکوں کو برداشت کر سکیں، کم وسائل میں مؤثر پیداوار دیں اور ماحولیات پر منفی اثرات کو کم کریں۔

اس تصور میں فصلوں کی تنوع، پانی کا مؤثر استعمال، موسمی پیش گوئی پر مبنی کاشتکاری، خشک سالی برداشت کرنے والے بیج، مٹی کی بحالی، نامیاتی مواد میں اضافہ اور ٹیکنالوجی کی مدد سے فیصلہ سازی شامل ہے۔

مثلاً اگر کسی علاقے میں بارش غیر یقینی ہے تو وہاں ڈرپ ایریگیشن، مائیکرو آبپاشی، بارش کے پانی کا ذخیرہ اور کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اگر درجہ حرارت میں اضافے کا امکان ہو تو ایسی اقسام متعارف کرائی جا سکتی ہیں جو گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔

یہی وجہ ہے کہ پائیدار زراعت اب محض ماحولیاتی کارکنوں کا نعرہ نہیں بلکہ معاشی ضرورت بن چکی ہے۔پائیدار کاشتکاری کا مقصد قدرتی وسائل کو محفوظ رکھتے ہوئے طویل مدت تک زرعی پیداوار کو برقرار رکھنا ہے۔ اس میں مٹی کی صحت، پانی کی حفاظت، حیاتیاتی تنوع اور کم کیمیائی استعمال پر زور دیا جاتا ہے۔

روایتی زرعی ماڈل نے زیادہ پیداوار تو دی، لیکن اس کی قیمت زمین اور پانی نے ادا کی۔ زیر زمین پانی تیزی سے کم ہوا، مٹی میں نامیاتی مادہ گھٹا اور کیمیائی آلودگی بڑھی۔ اگر یہی ماڈل جاری رہا تو آنے والے عشروں میں زرعی زمین کی پیداواری صلاحیت خطرناک حد تک کم ہو سکتی ہے۔پائیدار کاشتکاری اس بحران کا متبادل پیش کرتی ہے۔ اس میں فصلوں کی گردش، نامیاتی کھاد، مربوط غذائی انتظام، بائیولوجیکل کیڑوں کا کنٹرول اور قدرتی وسائل کا تحفظ شامل ہے۔

سرمایہ کار اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی صرف خطرہ نہیں بلکہ ایک بڑی اقتصادی تبدیلی بھی ہے۔ وہ کمپنیاں جو پانی بچانے، مٹی بہتر بنانے، موسمی پیش گوئی، ڈیجیٹل زراعت، کاربن کریڈٹ اور زرعی رسک مینجمنٹ کے حل فراہم کر رہی ہیں، مستقبل میں انتہائی اہمیت اختیار کر سکتی ہیں۔ایگری ٹیک اسٹارٹ اپس ایسے ماڈلز پیش کر رہے ہیں جو کسانوں کو درست وقت پر معلومات، بہتر بیج، مؤثر آبپاشی اور بیماریوں کی پیشگی شناخت فراہم کرتے ہیں۔ اس سے فصلوں کے نقصان میں کمی اور آمدنی میں اضافہ ممکن ہوتا ہے۔

(یواین آئی)

Continue Reading

تجزیہ

ہندوستان میں اے سی: گرمی سے تحفظ یا زمین کے لیے خطرہ

Published

on

خصوصی مضمون: ظفر اقبال

ہندوستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف شدید گرمی سے انسانی جانوں کو بچانے کی فوری ضرورت ہے اور دوسری طرف انہی حفاظتی اقدامات کے نتیجے میں ماحولیاتی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے ایئر کنڈیشنر (اے سی) اب صرف آسائش کی علامت نہیں رہا بلکہ ہندوستان جیسے گرم ملک میں لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی اور موت کے درمیان فرق بنتا جا رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ایک ایسا تلخ تضاد جڑا ہوا ہے جو آج کے ہندوستان کے ماحولیاتی اور سماجی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ جو مشینیں لوگوں کو گرمی سے راحت دیتی ہیں، وہی کرہ ارض کو مزید گرم بھی کر رہی ہیں۔

2026 کی گرمی ابھی پوری طرح شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ ہندوستان کے کئی حصے بھٹی کی مانند تپنے لگے۔ اپریل کے وسط تک مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اڈیشہ اور چھتیس گڑھ میں درجہ حرارت 43 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا تھا۔

انڈیا میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ نے خبردار کیا کہ آنے والے مہینوں میں مشرقی، وسطی اور شمال مغربی ہندوستان شدید ہیٹ ویوز کی لپیٹ میں رہیں گے۔ یہ محض موسمی تبدیلی نہیں بلکہ موسمیاتی بحران کی ایک سنگین علامت ہے۔

ہندوستان ہمیشہ سے گرم آب و ہوا والا ملک رہا ہے، لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں گرمی کی شدت اور دورانیے میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق 1901 سے 2024 تک ہندوستان کے اوسط سالانہ درجہ حرارت میں تقریباً 0.9 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہو چکا ہے۔ بظاہر یہ اضافہ معمولی لگ سکتا ہے، مگر موسمیاتی سائنس میں ایک ڈگری کا فرق پوری دنیا کے ماحولیاتی نظام کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

2024 کو عالمی اور ہندوستانی سطح پر ریکارڈ کا گرم ترین سال قرار دیا گیا۔ اس سال تقریباً ہر مہینہ معمول سے زیادہ گرم رہا۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اس کے اثرات براہِ راست انسانی زندگی، معیشت، زراعت، پانی کی فراہمی اور صحت پر پڑ رہے ہیں۔ ہندوستان میں گرمی کی شدت اب اس حد تک پہنچ رہی ہے کہ غریب مزدور، رکشہ چلانے والے، تعمیراتی کارکن، کسان اور فیکٹری مزدور دوپہر کے اوقات میں کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔

شہروں میں صورتِ حال مزید خراب ہے۔ کنکریٹ اور سیمنٹ سے بھرے بڑے شہر”اربن ہیٹ آئی لینڈ”بن چکے ہیں جہاں درجہ حرارت دیہی علاقوں سے کئی ڈگری زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ درختوں کی کمی، گاڑیوں کا دھواں، صنعتی سرگرمیاں اور مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی اس بحران کو اور سنگین بنا رہی ہیں۔

کبھی ہندوستان میں اے سی صرف امیر طبقے کی چیز سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ شدید گرمی نے متوسط طبقے کو بھی اے سی خریدنے پر مجبور کر دیا ہے۔ شہری علاقوں میں اے سی کی فروخت ہر سال تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

اندازہ ہے کہ اگلے دو دہائیوں میں ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی کولنگ مارکیٹ بن سکتا ہے۔

اس تبدیلی کے پیچھے ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے، زندہ رہنا۔ جب درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا جائے تو انسانی جسم کے لیے خود کو ٹھنڈا رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، دل کی بیماریوں اور سانس کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ بوڑھے افراد، بچے اور بیمار لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

ایسے حالات میں اے سی ایک سہولت نہیں بلکہ بقا کا ذریعہ محسوس ہوتا ہے۔ اسپتالوں، اسکولوں، دفاتر، میٹرو اسٹیشنوں اور گھروں میں ٹھنڈک کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔ لیکن یہی بڑھتی ہوئی مانگ ایک نئے بحران کو جنم دے رہی ہے۔

ایئر کنڈیشنر بنیادی طور پر دو طریقوں سے ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

(اول) بجلی کی بے پناہ کھپت: اے سی چلانے کے لیے بہت زیادہ بجلی درکار ہوتی ہے۔ ہندوستان میں بجلی کی بڑی مقدار اب بھی کوئلے سے پیدا کی جاتی ہے۔ جب لاکھوں اے سی ایک ساتھ چلتے ہیں تو بجلی گھروں پر دباؤ بڑھتا ہے، اور زیادہ کوئلہ جلایا جاتا ہے۔ کوئلہ جلنے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے جو گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

(دوم) ریفریجرینٹ گیسوں کا اخراج: اے سی میں استعمال ہونے والی بعض گیسیں ماحول کے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہیں۔ اگر یہ گیسیں فضا میں خارج ہوں تو ان کی گرین ہاؤس اثر پیدا کرنے کی صلاحیت کاربن ڈائی آکسائیڈ سے ہزاروں گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں پرانی نقصان دہ گیسوں کو مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے، لیکن اب بھی کئی اقسام کے ریفریجرینٹس ماحول کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

ہندوستان میں کولنگ کا مسئلہ صرف ماحولیات کا نہیں بلکہ سماجی انصاف کا بھی ہے۔ امیر لوگ اے سی والے گھروں، دفاتر اور گاڑیوں میں رہ کر گرمی سے بچ جاتے ہیں، جبکہ غریب طبقہ شدید گرمی کا براہِ راست سامنا کرتا ہے۔

کچی بستیوں میں رہنے والے لاکھوں افراد کے پاس نہ مناسب مکان ہیں، نہ بجلی کی مستقل فراہمی، اور نہ ہی ٹھنڈک کے ذرائع۔ ٹین کی چھتوں والے گھروں میں درجہ حرارت ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ کئی خاندان رات بھر سو نہیں پاتے۔ شدید گرمی بچوں کی تعلیم، صحت اور ذہنی کیفیت پر بھی اثر ڈالتی ہے۔

ہندوستانی شہروں کی بے ہنگم ترقی نے گرمی کے مسئلے کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ شہروں میں سبزہ کم ہوتا جا رہا ہے، جھیلیں اور تالاب ختم ہو رہے ہیں، جبکہ بلند عمارتیں اور سڑکیں حرارت کو جذب کر کے رات بھر خارج کرتی رہتی ہیں۔

درخت قدرتی ایئر کنڈیشنر کا کردار ادا کرتے ہیں، لیکن شہری توسیع کے نام پر لاکھوں درخت کاٹے جا چکے ہیں۔ اگر شہروں کی منصوبہ بندی بہتر انداز میں کی جائے تو گرمی کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

گرمی کا بحران صرف شہروں تک محدود نہیں۔ دیہی علاقوں میں کسان شدید موسمی تبدیلیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بارش کے نظام میں تبدیلی، خشک سالی اور گرمی کی لہریں فصلوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ مزدور طبقہ کھلے آسمان تلے کام کرنے پر مجبور ہے جہاں درجہ حرارت جان لیوا ہو جاتا ہے۔

دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی اکثر غیر مستحکم رہتی ہے، اس لیے اے سی یا کولر ہر کسی کی پہنچ میں نہیں۔ نتیجتاً دیہی آبادی گرمی کے خطرات کے سامنے زیادہ بے بس دکھائی دیتی ہے۔

شدید گرمی اب ہندوستان میں ایک خاموش قاتل بنتی جا رہی ہے۔ ہر سال ہزاروں لوگ ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے متعلق بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ کئی اموات سرکاری ریکارڈ میں شامل بھی نہیں ہوتیں۔

ہندوستان تیزی سے شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر اے سی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو صاف توانائی سے پورا کیا جائے تو ماحولیاتی نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔شمسی توانائی خاص طور پر امید افزا ہے کیونکہ گرمی کے دنوں میں سورج کی روشنی بھی زیادہ ہوتی ہے، یعنی جب اے سی کی ضرورت بڑھتی ہے تب ہی سولر پاور بھی زیادہ پیدا ہوتی ہے۔ اگر گھروں اور عمارتوں پر سولر پینل لگائے جائیں تو بجلی کے نظام پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔لیکن اس کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، جدید انفراسٹرکچر اور پالیسی اصلاحات درکار ہیں۔

روایتی ہندوستانی طرزِ تعمیر سے سببق لیتے ہوئے جدید کنکریٹ عمارتوں کے برعکس پرانے ہندوستانی گھروں میں قدرتی ٹھنڈک کے کئی طریقے موجود تھے۔ موٹی دیواریں، اونچی چھتیں، صحن، جالی دار کھڑکیاں اور ہوا کی نکاسی کے راستے گھروں کو نسبتاً ٹھنڈا رکھتے تھے۔

راجستھان کی حویلیاں، جنوبی ہندوستان کے روایتی گھر اور مغلیہ طرزِ تعمیر اس بات کی مثال ہیں کہ کس طرح مقامی آب و ہوا کو مدنظر رکھ کر عمارتیں تعمیر کی جاتی تھیں۔ جدید شہری منصوبہ بندی میں ان اصولوں کو دوبارہ اپنانا ضروری ہے۔

ہندوستان آنے والے برسوں میں دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک ہوگا۔ اس ترقی کے ساتھ کولنگ کی مانگ میں بے پناہ اضافہ متوقع ہے۔ اگر یہی راستہ جاری رہا تو بجلی کی کھپت اور کاربن اخراج خطرناک حد تک بڑھ سکتے ہیں۔

لیکن یہ بحران ایک موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ ہندوستان اگر پائیدار کولنگ، صاف توانائی اور ماحول دوست شہری منصوبہ بندی میں سرمایہ کاری کرے تو وہ دنیا کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔یہ فیصلہ آج کرنا ہوگا کہ مستقبل کا ہندوستان کیسا ہوگا۔ایک ایسا ملک جہاں ہر شخص شدید گرمی سے محفوظ ہو، یا ایسا معاشرہ جہاں ٹھنڈک بھی طبقاتی امتیاز کی علامت بن جائے۔

ہندوستان میں اے سی دراصل جدید دنیا کے بڑے سوالات میں سے ایک کی علامت ہے۔ ہم ترقی، آرام اور ماحولیات کے درمیان توازن کیسے قائم کریں؟ شدید گرمی نے کولنگ کو ناگزیر بنا دیا ہے، لیکن موجودہ طریقہ کار خود بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔

یہ مسئلہ صرف ٹیکنالوجی سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے اجتماعی شعور، بہتر پالیسیوں، سماجی انصاف اور ماحول دوست طرزِ زندگی کی ضرورت ہوگی۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں گرمی صرف ایک موسمی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی بقا کا سب سے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔

ہندوستان اس وقت ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ یہ فیصلہ اب انسانوں کو کرنا ہے کہ وہ ایسی ٹھنڈک چاہتے ہیں جو وقتی سکون دے مگر زمین کو جلا دے، یا ایسا مستقبل جہاں انسان اور فطرت دونوں محفوظ رہ سکیں۔

(یواین آئی)

Continue Reading
Advertisement
دنیا9 hours ago

ایران نے احتجاجاً امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ روک دیا

دنیا9 hours ago

نیتن یاہو کا اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان کے علاقوں پر بمباری کا حکم

دنیا9 hours ago

ایران کا عمان کو اعتماد میں لے کر آبنائے ہرمز میں بڑا اقدام

جموں و کشمیر9 hours ago

جموں و کشمیر اور لداخ میں 6.74 لاکھ سے زیادہ خاندانوں نے خود شماری میں حصہ لیا: ڈائریکٹر سنسس آپریشنز

جموں و کشمیر9 hours ago

جموں و کشمیر میں انسدادِ بدعنوانی بیورو نے رشوت خوری کے معاملے میں فارسٹ گارڈ کو گرفتار کر لیا

ہندوستان11 hours ago

سی بی ایس ای کے او ایس ایم سائبر سکیورٹی تنازع پر کانگریس نے کی وزیر تعلیم کے استعفے کی مانگ

دنیا11 hours ago

ایران امریکہ جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے: ایران

دنیا11 hours ago

ترکیہ۔آذربائیجان گیس سپلائی منصوبہ شام کی ترقی میں مدد کرے گا: اردوعان

دنیا11 hours ago

امریکہ جنگ بندی پر عمل نہیں کر رہا: ایرانی چیف مذاکرات کار باقر قالیباف

جموں و کشمیر12 hours ago

سری نگر اراضی دھوکہ دہی معاملہ، تین افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر

دنیا14 hours ago

واضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی

ہندوستان14 hours ago

ہند۔عمان تجارتی معاہدہ آج سے نافذ، دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز

ہندوستان14 hours ago

وزیراعظم نے چھ سال مکمل ہونے پر پی ایم سواندھی یوجنا کو سراہا

دنیا14 hours ago

تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، ڈیل امریکہ و اتحادیوں کیلئے فائدہ مند ہوگی: ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

ہندوستان14 hours ago

کمرشبل ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، گھریلو رسوئی گیس کی قیمت جوں کی توں

ہندوستان14 hours ago

تعلیم کو کاروبار بنانا سبھی برائیوں کی جڑ

تجزیہ14 hours ago

گلوبل ہیٹنگ اور حج: بڑھتی گرمی کے سائے میں مقدس سفر کا مستقبل

ہندوستان14 hours ago

تعلیمی نظام پر کانگریس کا مرکزی حکومت پر الزام ،کھیڑا نے اٹھائے سی بی ایس ای اور امتحان گھپلوں کے مسائل

دنیا14 hours ago

صدر ٹرمپ نے سی این این کو ایک بار پھر جھوٹا قرار دے دیا

دنیا14 hours ago

ایٹمی پروگرام سے متعلق ہم نے امریکہ سے کوئی وعدہ نہیں کیا: ایران

دنیا15 hours ago

ایرانی حقِ دفاع کے خلاف یورپی بیان منافقانہ اور غیر ذمے دارانہ ہے: ایران

دنیا15 hours ago

مجوزہ معاہدے متن میں ایران کے لیے جوہری ہتھیاروں سے بارے میں کوئی رعایات شامل نہیں ہیں:ٹرمپ

دنیا15 hours ago

ہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی

دنیا17 hours ago

ہم کسی بھی مشکل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں: ایرانی صدر

دنیا18 hours ago

ایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی

دنیا2 days ago

ایران کا کویت میں امریکی ایئربیس پر بیلسٹک میزائل حملہ، 5 فوجی زخمی

دنیا2 days ago

امریکی صدر ’سفارتکاری سے تیسری بار غداری‘ کر رہے ہيں: محسن رضائی

دنیا2 days ago

ایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان

جموں و کشمیر2 days ago

منوج سنہا نے نوآبادیاتی ذہنیت کے خاتمے پر زور دیا، مصنفین سے ہندوستان کی عالمی کہانی دوبارہ پیش کرنے کی اپیل

دنیا3 days ago

ٹرمپ کو اپنا نام کینیڈی سینٹر کے نام میں شامل کروانے کے فیصلے پر سبکی، عدالت کا نام ہٹانے کا حکم

دنیا3 days ago

امریکہ امیر ممالک کے دفاعی اخراجات نہیں اٹھائے گا: پیٹ ہیگستھ

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر حج کمیٹی کے سامان سے متعلق فیصلے سے واپس آرہے حاجیوں میں نظر آئی ناراضگی

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر کے رام بن میں ٹرک کھائی میں گرا، ڈرائیور اور ہیلپر کی موت

دنیا3 days ago

ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں: امریکی وزیرِ دفاع

دنیا3 days ago

ایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ

دنیا3 days ago

امریکہ نے ایران کے ایک ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے ضبط کر لیے

دنیا3 days ago

امریکہ کے ساتھ ابھی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے: اسماعیل بقائی

دنیا3 days ago

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان

دنیا3 days ago

آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی ختم؛ ایران کیساتھ کئی نکات پر اتفاق ، ٹرمپ کا مثبت پیغام

جموں و کشمیر3 days ago

امرناتھ یاترا: اعلیٰ سطح کی چوکسی اور ہم آہنگی برقرار رکھیں، جموں کے ایس ایس پی کی پولیس کو ہدایت

ہندوستان3 days ago

سرحدی علاقوں کی حفاظت کے لیے حکومت ’علاقائی سلامتی‘ کے نئے تصور کا آغاز کرے گی: شاہ

دنیا3 days ago

امریکہ کے مقابلے میں چین کی خفیہ طاقت،سستی بجلی نے اے آئی جنگ کا رخ بدل دیا

دنیا3 days ago

ایران کا آبنائے ہرمز کے قریب دشمن کے ڈرونز گرانے کے لیے بڑا انتظام

دنیا3 days ago

ایرانی بہت چالاک مذاکرات کار، لیکن تمام پتے ہمارے ہاتھ میں ہیں: ٹرمپ

دنیا3 days ago

ایران کے شہید رہنما آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی: برطانوی اخبار کا دعویٰ

دنیا3 days ago

ایرانی صدر نے ایک بار پھر پاکستان کے کردار کو سراہا

دنیا3 days ago

معاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس

دنیا3 days ago

امریکہ اسرائیل کے تمام جرائم میں شریک ہے: ترجمان ایرانی دفترِ خارجہ

دنیا6 days ago

امریکہ خلیجی خطے میں پائیدار سلامتی کو یقینی بنانے میں ناکام: پیزشکیان

دنیا6 days ago

غزہ اور لبنان پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے، 18 افراد شہید

جموں و کشمیر4 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اداریہ4 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

جموں و کشمیر3 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

ہندوستان2 months ago

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین3 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

جموں و کشمیر4 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین4 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

تازہ ترین4 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

جموں و کشمیر2 months ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

تازہ ترین4 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

اہم خبریں4 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

تجزیہ6 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

دنیا3 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

تازہ ترین4 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

کھیل4 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

تازہ ترین4 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

کھیل2 months ago

آئی پی ایل 2026 چنئی سپر کنگز نے پنجاب کو دیا 209 رنز کا ہدف

کھیل3 months ago

تاریخ رقم: جموں و کشمیر نے پہلی بار رانجی ٹرافی کا خطاب اپنے سر سجایا

جموں و کشمیر3 months ago

کشمیر میں نئی ریلوے لائنوں کا سروے مکمل، حکومت کا زمین مالکان کو مکمل معاوضہ دینے کا یقین

اداریہ4 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

تازہ ترین4 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

دنیا4 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

دنیا3 months ago

ایرانی میزائل کی 10 انٹرسیپٹرز کو چکمہ دیکر ہدف کو نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل

اہم خبریں4 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین4 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

تجزیہ6 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

ہندوستان4 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

دنیا3 months ago

خامنہ ای کی شہادت کے بعد امام خمینی کے پوتے حسن خمینی توجہ کا مرکز

تازہ ترین5 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

دنیا3 months ago

ٹرمپ کے مشیر کی امریکہ کو ایران جنگ سے نکلنے کی تجویز پیش

جموں و کشمیر1 month ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر4 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

اداریہ4 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

جموں و کشمیر4 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

تازہ ترین7 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

تازہ ترین4 months ago

شوپیاں کے زینہ پور علاقے میں رہائشی مکان سے ہیروئن بر آمد، ملزم گرفتار: پولیس

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

کھیل4 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کا قانون کیا کہتا ہے

دنیا3 months ago

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ

تازہ ترین4 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

تصاویر6 years ago

مصر میں فرعونوں کے دور کے درجنوں تابوتوں کی سنسنی خیز دریافت

تازہ ترین2 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

دنیا2 months ago

پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ وفد کے ساتھ تہران پہنچ گئے

جموں و کشمیر7 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

ہندوستان4 weeks ago

غیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان

جموں و کشمیر1 month ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر2 months ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر3 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر4 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین4 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین4 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر4 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں4 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں4 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین4 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر7 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر2 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ2 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین2 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین2 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین2 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین2 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر2 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین3 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین3 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر3 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین3 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین3 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین3 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر3 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر3 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین3 years ago

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین3 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر3 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین3 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین3 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر3 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین3 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین3 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین3 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین3 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

Advertisement

Trending