تازہ ترین
جہاں تنازعہ ، وہاںامریکہ

سمیرہ بی ریشی
اندھا ہونے کی سبب سے بدترین چیز یہ ہے کہ نظر ہونے کے باوجود بصارت نہیں ہے اور یہ شام کے 19ویں صدر بشارالاسد پر صادق آتا ہے۔ ماہر امراض چشم ہونے کے باوجود اسد اسی طرح اندھا ہے جس طرح اُلو، وہ اقتدار سے پرے کچھ نہیں دیکھ رہاہے۔ بشارالاسد کے دورِ اقتدار میں شام کا تنازعہ موجودہ وقت میں سب سے بڑا انسانی بحران بن گیا ہے۔ 8سالہ تنازعہ نے شام میں آبادی کی تباہی مچادی ہے۔ آثاریاتی شواہد کے مطابقکرہ ارض پر شامی تہذیب بہت پرانی تھی اور اسے لوینٹ (Levant)، جسے عربی میں الشام کہتے ہے،کے طور پر بھی جانا جاتا تھا لیکن یہ ماضی تھا۔ 2011سے شام نے تاریخ کی سب سے بدترین خانہ جنگی دیکھی ہے ، آج شام مکمل طور پر گڑبڑی کی لپیٹ میں ہے جس کے نتیجہ میں5لاکھ لوگ مارے گئے جبکہ 1کروڑ سے بھی افراد ہجرت کرگئے، 1کروڑ 35لاکھ شام کے اندر امداد کے منتظر ہیں، جن میں 60لاکھ سے زائد افراد ملک میں ہی ہجرت کرچکے ہیں۔ قریب 50لاکھ لوگوںنے ہمسایہ ممالک میں پناہ کی درخواست کی ہے۔
ذبح خانوے کے پہلے شکار مشرق وسطی میں تھے، یورپ میں نہیں اور یورپ ان ظلم و جبرکا بہت سے طریقوں سے جڑا ہوا ہے۔ مشرقی غوطہ میں ہسپتالوں کے بستروں پرکی جانے والی بمباری کا اہلِ یورپ ٹیلی ویژن پر دیکھ رہے ہیں اور اس کے ردعمل میں ان کے Warlords اسد حکومت کی مذمت کرنے کیلئے اخباری بیان جاری کرتے ہیں۔ بشارا لاسد کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے یورپ ناکام ہوا ہے ، سیاسی ماہروں کا ماننا ہے کہ اگر اہل مغرب نے وقت پر بشارالاسد پر دباﺅ ڈالا ہوتا تو آج حالات مختلف ہوتے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مغرب ملوسوچ سلبڈان کو 1995میں ڈیٹان سمجھوتہ کرنے میں کامیاب ہوا تھا تاکہ بوزنیا میں وسیع پیمانے پر کی جانے والی ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں اور قتل و غارت گری کا خاتمہ کرسکے تاہم یہ شام میں 8سال سے جاری وحشیانہ خانہ جنگی کو بند کرانے میں ناکام رہا۔ 
اسد حکومت کے حامی اور مخالفین، کرد ترکوں کی حمایت کرنے والے، شیعہ اسلام کے ماننے والے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے والے اورجن کا شیرازہ بکھرچکا ہے، وہ اپنی موجوددکھانے کیلئے ، ان سب کی وجہ سے شام میں تباہی مچ رہی ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم کی آمد اور ابو ظہبی میںپہلے ہندو مندر کے افتتاح کے سلسلہ میں خلیجی ممالک مصروف تھے اور پاکستان سپُر لیگ کے کرکٹ بخار میں سرابور تھے اور وہ مکمل طور پر مسلم دنیا میں رونما ہونے والے حالات و واقعات سے بے حس تھے۔ شام میں معصوم بچوں کی ہلاکت پاکستانی ذرائع ابلاغ کیلئے کوئی اہمیت نہیں تھی تاہم معروف اداکارہ سری دیوی کی وفات ان کیلئے سب سے برتر اہمیت تھی لیکن عرصہ دراز سے شام میں ہونی والی خون کی ہولی پر کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔
8سال کا یہ مسلح تنازعہ مارچ 2011میںحکومت مخالف مظاہروں سے جنوبی شہر کے دیرا شہر میں اُس وقت شروع ہوا جب چند نوعمر لڑکوں نے سکول کی دیوار پر انقلابی نعرے تحریر کئے اور ان کی گرفتاری اور اذیت پہنچانے کے بعد وسیع پیمانے پر خانہ جنگی میں تبدیل ہوگیا۔ یہ بے چینی ملک بھر میں شروع ہوئی اور اس حکومت سے مستعفی ہونے کی مانگ کی۔ حکومت کے فوجی طاقت کے استعمال سے مظاہرین کے حوصلے پختہ ہوگئے اور جولائی 2011سے ہزاروں لاکھوں لوگ ملک کی سڑکوں پر نکل گئے۔
2011سے ہوئی اموات پر دنیا خاموش تماشائی بنا بیٹھا۔انکل سیم۔۔ امریکہ نے 2013میں ڈیل ہونے کا موقعہ اُس وقت گنوا دیا جب شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے بعد اس نے کوئی سرخ لکیر نہیں کھینچی اور امریکہ کی ہچکچاہٹ کے سبب شام نے بشارالاسد کی حکومت بچانے کیلئے فوجی کارروائی شروع کی۔
نہ صرف امریکہ بلکہ برطانیہ بھی اسد حکومت پر دباو ڈالنے سے باز رہا تاہم فرانس 2013میںجنگی جہازوں کے استعمال کیلئے تیار تھا لیکن اسے ڈر تھا کہ وہ اکیلا ہی رہ جائیگا۔شام 2011سے افراتفری اور تباہی میں ہے اور جو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے جو کہ تشویشناک ہے۔
سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد یورپ نے استحکام لانے کیلئے عہد کیا لیکن حالیہ برسوں میں بیرونی دنیا سے عدم استحکام اور افراتفری نے یورپ کو گھیر لیا ہے۔ یورپ نے ایک وقت میں کہا تھا کہ وہ ماضی کونہیںدہرائے گالیکن یہ وعدہ نبھانے میں وہ ناکام رہا۔ یورپ آج ایک خاموش تماشائی اور برا ملٹری ایکٹر ہے۔ اس کے برعکس فرانس اور برطانیہ مشرق وسطی کے سابق نوآبادیاتی طاقتیں ہیں اور وہ آج موجودہ وقت میں غیر اہم ہے،کسی فالج زدہ کی طرح وہ سب کچھ دیکھ سکتا ہے لیکن کوئی حرکت نہیں کرسکتا۔
رقہ کی ہار کے بعد شام میں بحران گہرا گیا اور جنگ جیسی صورتحال میں تبدیل ہوگیا، یہ اب داخلی تنازعہ نہیں رہا، اس میں علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں ( روس، ایران، ترکی اور امریکہ) الجھ گئیں اور اگر کھلے طور نہیں تو درپردہ طور پر ، یہ بڑے کردار شام کی مدد نہیں کررہے ہیں بلکہ علاقائی کنٹرول حاصل کرنے کیلئے لڑرہے ہیں۔
چند ماہرین اس کا لبنان کے 15سالہ تنازعہ سے جوڑ رہے ہیں اور اور شام اس درپردہ جنگ کے مرکز میں کھڑا ہے۔
روس اور ایران جیسے سپانسر کی مداخلت کی وجہ سے نام نہاد اسلامک سٹیٹ (IS)بکھر گئی ہے ، صدر بشارالاسد ابھی بھی حکمران ہیں اوربا غیوں کوشکست دینے میں روس کامیاب ہوگیا اوربشارالاسد کو بچالیا۔ ترکی بھی اب میدان میں کود پڑا ہے اوراس نے کردش جنگجوﺅںسے لڑنے کیلئے افواج سرحد پر بھیج دیئے۔ حریف روس کو مارنے کیلئے امریکہ فاتح بن گیا اور ایران و اسرائیل کے درمیان دیرینہ تناﺅ میں اضافہ ہوا ہے حالانکہ ابھی شام کے بحران سے چھٹکارا نہیں ملا ہے۔
یہ تنازعہ ہر گزرتے دن اور 8برسوں سے بڑھتا ہی جارہا ہے ، اندرونی تنازعہ نے شام کی ہر ایک انچ کو یرغمال بناکے رکھ دیا ہے ۔ شام میں جنگ کے شعلے کیوں بڑھ رہے ہیں؟ کیوں کوئی چھٹکارا نہیں ؟ بے شک ، اس کا جواب خارجی کرداروں کے پاس ہے ، جن کا شام میں پوشیدہ ایجنڈا ہے۔ صدر بشارالاسد کیخلاف اٹھنے والی مقامی شورش اب یہ جنگ اسد کے حامیوں اور مخالفین میں بدل گئی ہے۔ اب یہ فرقہ پرستی کے رنگوں میں ڈھل چکی ہے اوراکثریتی سنی فرقہ کوصدر کے شیعہ علوی فرقہ کے خلاف جبکہ علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی اس تنازعہ کا حصہ بن گئیں۔ جہادی گروپ اسلامک سٹیٹ کے وجود میں آنے سے اس کے پہلو میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اسلامک سٹیٹ کی شکست کے بعدشام کے مستقبل کے بارے میں بیرونی طاقتوں میںمزید دراڑیں پڑ گئی ہیں ۔سابق امریکہ کے سیٹٹ سیکریٹری ریکس ٹیلرسن نے کہا تھا کہ کردش کے زیر قبضہ علاقوں میں امریکی فوج تب تک قیام پذیر رہینگی جب تک آئی ایس کا خطرہ موجود ہے اور جنگ کا کوئی حل نہیں نکل آتا۔
شام میں کرد کے زیر قبضہ علاقوں میں امریکی افواج کی موجودگی سے ناٹو کے اتحادی ترکی آگ بگولہ ہوگیا۔ پیپلز پروٹکشن یونٹس (YPG)جیسے گروپ امریکہ کے شریک کو ترکی دہشت گرد مانتی ہے جو شام میں کردش ملیشیا ہے ۔ جس وقت ٹلرسن نے شام کیلئے منصوبے کا اعلان کیا، ترکی نے شمال ۔ مغرب شام میں وائی پی جی کے زیر کنٹرول عفرین میں افواج بھیج کر حملہ کیا تاہم عفرین میں امریکی فوج موجود نہیں ہے ، ترکی نے دھمکی دی ہے کہ وہ منبج کی طرف مارچ کرے گا۔ امریکہ کے یہ کہنے سے کہ ملک کو ISسے پاک کرنے تک وہی رہے گا، اس پر روس آگ بگولہ ہوگیا جو عفرین میں ترکی کے حملہ کرنے کی پشت پناہی کررہا ہے۔ اس طاقت کے کھیل میں شام میں حالات مزید دگرگوں ہوگئے ہیں۔
شام اب داخلی معاملہ نہیں رہا، آمرحکمران کیخلاف ایک اور عرب بہار شروع ہونے سے درپردہ جنگ کا دائرہ وسیع ہوگیا جس میں علاقائی اور عالمی طاقتیں نبردآزما ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنا اثرورسوخ کو قائم کرے جبکہ اس تنازعہ کے ترکی، روس ، امریکہ اور ایران کردار ہیں۔
شام میں ایران کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے اور لبنان کی درپردہ حزب اللہ کے ذریعہ ہتھیاروں کی ترسیل سے وہ اپنی پوزیشن مضبوط کررہا ہے۔ مشرق وسطی اب طاقت کے کھیل کا میدان جنگ بن چکا ہے۔ حزب اللہ ایران کا پشت پناہی والا ملی ٹنٹ گروپ ہے جو اسرائیلی قبضہ میں گولان پہاڑیوں کے قریب ہیں۔ ایران اور اسرائیل آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھ سکتے اور علاقہ میں ایران کے اثرورسوخ سے اسرائیل میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
خارجہ کرداروں کے ذریعہ طاقت کا کھیل
شام میںمرکزی عناصر کی وجہ سے تنازعہ میں اضافہ ہوا ہے جو علاقائی اور عالمی طاقتوں کیلئے مداخلت کاسبب بن گیا ، جن میںایران، روس، سعودی عربیہ اور امریکہ قابل ذکر ہے۔حکومت اور حزب اختلاف کیلئے ان ممالک کی فوجی ، مالی اور سیاسی امداد سے جنگ کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور شام ایک درپردہ میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا۔
جہادی گروپوں کی تقسیم اور ان کے فروغ کے سبب جنگ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی۔ ’حیات تحریر ال شام‘ جوالقاعدہ سے جڑا ’النصرت فرنٹ‘ کا اتحادی تھا، شمال مغربی کے زیادہ تر علاقوں پر کنٹرول ہے ۔ متبرک شیعہ زیارتوں کی حفاظت کیلئے ہزاروں شیعہ ملیشیا ، جو ایران، لبنان، عراق، افغانستان اور یمن سے تعلق رکھتی ہیں ، وہ شام کی افواج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑرہی ہیں۔
بھیس بدل کر ہر ایک ملک اپنے دشمنوں سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے اور شام ایک آزاد میدان جنگ ہے۔ تنازعہ شروع ہوتے ہی ایران اسد حکومت کا زبردست حامی ہے اور اسے پیسوں، ہتھیاروں اور خفیہ اطلاعات کی فراہمی سے مدد کررہاہے۔ شام میں ایران کی مداخلت کو شیعیت کی حفاظت کرنے کے طور پر پیش کی گئی ہے۔ ایران اسد کو حکومت میں برقرار رکھنے کے حق میں ہے تاکہ تہران شام کو لبنان میں حزب اللہ کی مدد جاری رکھ سکے۔ اسد کے حامیوں کی ایران سے اچھی بنتی ہے اور وہ سعودی عربیہ کے مقابلہ میں ایران کو علاقائی لیڈرشپ کے طرفدار ہیں۔حزب اللہ کو جدید ہتھیاروں سے لیس ہونے سے اسرائیل میں تشویش پائی جارہی ہے اور وہ اسے شام میں’مورچہ بندی‘ کہہ رہا ہے اور اس کا توڑ کرنے کیلئے اسرائیل نے درجنوں ہوائی حملے کئے۔
اکھاڑے کے میدان میں ایک اور کردار 2015میں روس بھی شامل ہوگیا اور اسد مخالف قوتوں سے چھٹکارا دلانے کیلئے مدد کی۔ مشرق وسطی میںروس اپنا اثرورسوخ رکھنے کیلئےاسد کو اقتدار میں رکھنا چاہتا ہے اوراس کے بدلے وہ مغربی صوبہ لٹاکیا میںاہم فوجی اڈہ اور بندرگاہ کے شہر ٹاٹرس میںبحری اڈے کو محفوظ رکھنے کا خواہاں ہیں ۔ ماسکو کا بڑا مقصد یہ ہے کہ مشرق وسطی میں روس کی ساخت کومضبوط کیاجائے۔
شام کے نزدیک ہونے سے سعودی عربیہ کے سیاسی نظام پر اثر پڑسکتا ہے ، سعودی عرب دنیا ویسا ہی جیسے باقی دنیا کیلئے امریکہ ۔۔مڈل ایسٹ انکل سام۔ یہ خاموش نہیں رہا بلکہ اس نے شامی حکومت کے مخالفین کو رقومات اور ہتھیار فراہم کئے اور امریکہ کی قیادت والی بین الاقوامی اتحاد کے حصہ رہا ہے۔
لوگوں کا یہ یقین ہے کہ موجودہ وقت میں مسلمانوں کا بچانے والا فقط ترکی ہے۔ مسلمانوں کے مسائل خصوصی طور پر روہنگیائی مسلمانوں کی بودھوں کے ذریعہ ڈھائے جانے والے مظالم اور حالت زار اور اب معصوم شامیوں کیلئے ترکی نے یہ مسائل زورشور سے اٹھائے۔ ترکی باغیوں کا پُرجوش حامی رہا ہے تاہم ہمدرد ہونے کی آڑ میں وہ ’کردش پاپولر پروٹکشن یونٹس‘ (YPG) کیخلاف طاقت کا استعمال کیا جنہیں وہ اپنی خودمختاری اور سالمیت کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ جب میدان جنگ میں چھوٹے کھلاڑی ہیں تو بڑے بھائی (امریکہ) کو یہ نہیں لگتا کہ وہ ہٹ جائیگا اور امریکہ خدا کی طرح قادر مطلق دکھنا چاہتا ہے۔
جہاں کہیں بھی تنازعہ ہوتا ہے ، وہاں امریکہ ہوگا۔ اس کا مرکزی مقصدشام میں ISکی تباہی اور دیگر سخت گیر گروپوں کا خاتمہ ہے۔ شامی حکومت کا مخالفین کیخلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے ہٹ کر ٹرمپ انتظامیہ اسد حکومت کے متعلق مشکوک ہے۔ جب تک خارجی عناصر طاقت کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں، شام خون خرابے سے آزاد نہیں ہوگا۔
جموں و کشمیر
کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
سری نگر، کپواڑہ کی ایک عدالت نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کرتے ہوئے 2023 میں ایک پولیس کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کیس میں سات دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپواڑہ، منجیت سنگھ منہاس نے 24 اپریل کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، تاہم دیگر سات ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
یہ معاملہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو 20 فروری سے 26 فروری 2023 کے درمیان جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر (جے سی آئی) کپواڑہ میں غیر قانونی
طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، جو مبینہ طور پر منشیات سے متعلق جرائم کی تفتیش کے بہانے کیا گیا تھا۔
یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں، جب متاثر کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی تھی۔ سی بی آئی نے جولائی 2025 میں ایف آئی آر درج کی اور بعد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی (مجرمانہ سازش)، 323، 325 (زخمی کرنا)، 330، 331 (اقرارِ جرم حاصل کرنے کے لیے تشدد) اور 343 (غلط حراست) شامل تھیں۔ بعد ازاں سی بی آئی نے ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر کے آخری ہفتے میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ڈی ایس پی نائک کا کردار نگرانی تک محدود تھا اور ان کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہاکہ”ان کے خلاف محض شبہ پایا جاتا ہے جو سنگین شبہ کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ شرکت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا ملزم اے-1 (ڈی ایس پی اعجاز) کو مذکورہ دفعات کے تحت بری کیا جاتا ہے۔”
تاہم عدالت نے دیگر ملزمان کے حوالے سے مختلف رائے اختیار کی، جن میں سب انسپکٹر ریاض احمد میر، اسپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد بیگ، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان اور تنویر احمد ملا، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاکر حسین کھوجا اور الطاف حسین بھٹ، اور کانسٹیبل شہنواز احمد دیداد شامل ہیں۔
ان سات میں سے چھ ملزمان کپواڑہ ضلع کے رہائشی ہیں جبکہ تنویر احمد ملا کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد، جن میں متاثر کا بیان، طبی رپورٹس اور دیگر حالات شامل ہیں، ان ساتوں کے خلاف بادی النظر میں کیس ثابت کرتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حراست کے دوران متاثر کے جسم کے حساس حصوں پر لگنے والی چوٹیں اور طبی رائے حراستی تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ متاثر مکمل طور پر ملزمان کے کنٹرول میں تھا، جو استغاثہ کے موقف کو مضبوط بناتا ہے۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ الزامات مبہم ہیں اور کہا کہ متاثر نے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے اور ان کے کردار کی تفصیل بیان کی، جو کئی دنوں تک جاری رہنے والے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ”اس مرحلے پر عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا بادی النظر میں کیس یا سنگین شبہ موجود ہے، نہ کہ مکمل ٹرائل کرنا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ان جرائم کے عناصر کو ثابت کرتا ہے۔ “ریکارڈ پر موجود مواد، اپنی ظاہری حیثیت میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان سات ملزمان نے مشترکہ منصوبے کے تحت مذکورہ دفعات کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔”
اس کے مطابق عدالت نے ساتوں ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا اور مقدمہ 14 مئی کو استغاثہ کے ثبوت کے لیے درج کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مانڈویہ نے نچلی سطح پر توجہ مرکوز کرنے پر دیا زور، سرینگر میں وزرائے کھیل کا ‘چنتن شیویر’
سرینگر نوجوانوں اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ہفتہ کو اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی سپر پاور کے طور پر ابھرنے کا جو 10 سالہ پرجوش روڈ میپ ہے، اسے نچلی سطح پر کام میں تبدیل ہونا چاہیے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے مباحثوں کی سمت متعین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے کھیلوں کے عزائم کو زمینی سطح پر عمل درآمد کے ذریعے ہی حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا
”عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے لیے ہمارا 10 سالہ روڈ میپ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہر کھیل کے میدان، ہر ضلع اور ہر نوجوان کے خواب میں زندہ نظر آنا چاہیے۔“
جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی چنتن شیوِر میں شرکت کی اور ہندوستان کو کھیلوں کی طاقت بنانے کے وژن کو سراہا۔
کھیلوں کے مرکزی وزیر نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ محض پالیسی اپنانے تک محدود نہ رہیں بلکہ فعال عمل درآمد کی طرف بڑھیں، اور اس بات پر زور دیا کہ حقیقی پیش رفت کا اندازہ اُن نتائج سے ہوگا جو اضلاع، تربیتی نظام اور نچلی سطح کے کھیلوں کے ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”کھیلو بھارت مشن صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اور قوم کے عزم کی عکاسی ہے۔“
ڈاکٹر مانڈویہ نے ریاستی حکومتوں اور اسپورٹس فیڈریشنوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط اور متحدہ ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل کے لیے قریبی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے پر ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے تعلیمی نظام کے ساتھ ربط ضروری ہے اور جسمانی تعلیم کے اساتذہ نچلی سطح کے کھیلوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی ایک باصلاحیت بچے کو مواقع کی کمی کے باعث پیچھے رہ جانا پڑے تو یہ صرف اس کی ذاتی نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل ایک تبدیلی لانے والا ذریعہ ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر مشکل علاقوں میں، جہاں یہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر مانڈویہ نے کوچ کی باقاعدہ تصدیق اور تربیت میں بہتری، کھلاڑیوں کی سائنسی بنیادوں پر تربیت اور اسپورٹس انتظامیہ میں صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک مربوط اور مسلسل نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، ”جب بنیادی ڈھانچہ، ٹیلنٹ کی شناخت اور تربیت یافتہ افرادی قوت ایک مربوط سلسلے کی صورت اختیار کر لیں گے تو اولمپک پوڈیم تک رسائی خود بخود ممکن ہو جائے گی“ اور اس طرح نچلی سطح کی شمولیت کو اعلیٰ کارکردگی سے ایک منظم راستے کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے لکشمی بائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل ایجوکیشن، گوالیار کے تحت وائی ای ایس-پی ای (ینگ انگیجمنٹ اِن اسپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن) پروگرام کا بھی آغاز کیا، جسے جماعت 9 سے 12 تک کے طلبہ کے لیے کھیلوں میں شرکت، اسپورٹس مین شپ اور قیادت کو فروغ دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری (کھیل) ہری رنجن راؤ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس شیوِر کی اہمیت کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا جو اجتماعی غور و فکر اور عملی اقدامات کو فروغ دیتا ہے۔
چنتن شیوِر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ اجتماع محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ غور و فکر، عزم اور نئے عہد کا ایک مشترکہ لمحہ ہے۔“
چنتن شیوِر میں مختلف موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں میڈل حکمتِ عملی، پالیسی ہم آہنگی، صاف اور محفوظ کھیل، اور ٹیلنٹ کی شناخت و ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پندرہ سے زائد ریاستی وزرائے کھیل کے ساتھ ساتھ ممتاز کھیل شخصیات جیسے عادل سُمرِی والا، ابھینو بندرا، پلیلا گوپی چند اور گگن نارنگ نے چنتن شیوِر میں شرکت کی اور متعلقہ فریقین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جو ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پالیسی مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مختلف ریاستوں کے وزرائے کھیل نے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو مرکز میں رکھنے والے نقطۂ نظر پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ماڈل کو ملک کے مختلف خطوں میں نافذ کر کے ہندوستان میں ایک مضبوط اور مؤثر کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
مباحثوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوچنگ نظام کو بہتر بنانے، مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، اخلاقی اور محفوظ کھیل کے ماحول کو یقینی بنانے اور اسکولوں، اکیڈمیوں اور اعلیٰ تربیتی مراکز کے درمیان مربوط سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
ان اجلاسوں میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ کھلاڑیوں کی نشاندہی سے لے کر اعلیٰ کارکردگی کی تربیت تک تسلسل برقرار رکھنے کے لیے منظم راستوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستوں کے درمیان مسلسل نگرانی، جائزہ اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی کے مقاصد کو زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
مباحثوں میں اس امر کی دوبارہ توثیق کی گئی کہ ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کھیلوں کا نظام قائم کرنے کے لیے مرکز، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان متحدہ اور مربوط نقطۂ نظر نہایت اہم ہے، جو ہندوستانکے عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہو۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
ترکیہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کردی
انقرہ، ترکیے نے امریکہ ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔ ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر2 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا6 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ





































































































