تازہ ترین
چین نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ وقت پر مالی ذمہ داریاں پوری کریں

(یو این آئی/ژنہوا) چینی سفیر نے پیر کو اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک، خاص طور پر بڑے شراکت داروں سے اپیل کی کہ وہ اپنی مالی ذمہ داریوں کو بروقت پورا کریں۔
اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے ڈائی بنگ نے کہا کہ ’’رکن ممالک کو اقوام متحدہ کے کام اور مینڈیٹ پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اپنے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے‘‘۔ انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کی 77ویں جنرل اسمبلی کی پانچویں کمیٹی کے اہم اجلاس کے افتتاح کے موقع پر کہی، جو اقوام متحدہ کے داخلی انتظامی اور بجٹ کے امور سے متعلق ہے۔
مسٹر ڈائی نے کہا کہ اقوام متحدہ میں معاشی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بڑے شراکت دار کے پاس ابھی بھی طویل عرصے سے واجبات باقی ہیں جو کہ اقوام متحدہ کے معاشی بحران کی بنیادی وجہ ہیں۔ مسٹر ڈائی نے کہا کہ رکن ممالک کے سکریٹری جنرل کے خط پر اپنی تشویشات کا اظہار کرنے کے باوجود زیادہ تر رکن ممالک اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ’’چین، ہمیشہ کی طرح، فعال طور پر اپنی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرتا ہے، اور اس نے اس سال کے باقاعدہ بجٹ میں تخمینے کی پوری ادائیگی کی ہے‘‘۔ مسٹر ڈائی نے کہا کہ چین تمام فریقوں سے جامع مشاورت کرنے اور جیتنے والے تعاون کے لیے کوشش کرنے کا اپیل کرتا ہے اور یہ بھی مانتا ہے کہ پروگرام کی منصوبہ بندی رکن ممالک کے زیر انتظام اصولوں کی مشروط تعمیل کرنی چاہیے اور رکن ممالک کے جائز مفادات اور خواہشات کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔
جموں و کشمیر
جنتر منتر پر دیے گئے بیان پر محبوبہ مفتی کو معافی مانگنی چاہیے: عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی کو دہلی کے جنتر منتر پر دیے گئے اپنے متنازعہ بیان پر عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب محبوبہ مفتی 24 جولائی کو جنتر منتر پر سی جے پی کے احتجاج میں شریک ہوئیں اور دہلی میں مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے اس کا کشمیر سے موازنہ کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وادی میں موجودہ عسکریت پسندی کے باعث وہاں ایسی کارروائی “قابلِ فہم” ہے۔
اس بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی، جس کے بعد انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین نے الزام لگایا کہ انہوں نے کشمیریوں کے ساتھ سخت رویے کو درست قرار دینے کی کوشش کی ہے۔
محبوبہ مفتی کے بیان پر پیدا ہونے والے تنازعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کے ریمارکس سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے وہ عسکریت پسندی کے نام پر جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق سلب کیے جانے کو جائز قرار دے رہی ہوں۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “وہ جنتر منتر جموں و کشمیر کے مسئلے پر نہیں گئی تھیں۔ وہاں طاقت کے استعمال، گرفتاریوں اور دیگر اقدامات پر جو کچھ کہا گیا، اسے اس بنیاد پر درست قرار دیا گیا کہ چونکہ کشمیر میں عسکریت پسندی ہے، اس لیے یہاں یہ سب جائز ہے۔ آخر اس کی کیا توجیہ ہو سکتی ہے”
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، “کیا صرف اس لیے کہ یہاں عسکریت پسندی ہے، قانون پر عمل نہیں ہونا چاہیے اگر عسکریت پسندی ہے تو کیا بچوں کو انصاف نہیں ملنا چاہیے؟ کیا لوگوں کے پاسپورٹ روک دیے جانے چاہییں؟ میں اس منطق کو سمجھ نہیں سکا۔”
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ پی ڈی پی سربراہ دہلی اور کشمیر میں مختلف موقف اختیار کرکے “کچھ لوگوں کو خوش کرنے” کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، “یہی پرانی عادت اب بھی برقرار ہے کہ کشمیر میں کچھ اور کہنا اور دہلی میں کچھ اور۔”
انہوں نے کہا کہ جب یہ واضح ہو گیا تھا کہ محبوبہ مفتی کے بیان سے عوامی جذبات مجروح ہوئے ہیں تو انہیں اپنی غلطی تسلیم کر لینی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق، “جب یہ سامنے آ گیا کہ جو کچھ کہا گیا وہ غلط تھا اور لوگوں نے اسے قبول نہیں کیا تو انہیں معافی مانگ لینی چاہیے تھی۔ اس سے ان کا قد کم نہیں ہو جاتا۔ وہ صرف اتنا کہہ سکتی تھیں کہ میں نے جذبات میں آ کر یہ بات کہی، مجھ سے غلطی ہوئی، میں معذرت خواہ ہوں، براہِ کرم مجھے معاف کر دیں۔”
وزیر اعلیٰ نے مزید الزام لگایا کہ اس کے برعکس پی ڈی پی نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی ویڈیو کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ جعلی ویڈیو قرار دے کر “زخموں پر نمک چھڑکنے” کا کام کیا ہے۔
یو این آئی۔ اے ایم
دنیا
ایران کے خلاف بڑے حملے دوبارہ کرنا ممکن تو ہے مگر اس سے اسلحہ ذخائر میں کمی ہوگی: امریکی جنرل
واشنگٹن، امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنا ممکن ہے ، لیکن اس سے امریکی فوج کے پاس موجود میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو جائیں گے۔
گزشتہ روز یہ خبر سامنے آئی کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے روکنے کا حکم دیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق 13 روز سے جاری کارروائی روکنے کا حکم جمعے کو دیا گیا ۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ حملے ایک روز کے لیے روکے گئے ہیں یا جنگ بندی کردی گئی ہے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں اجلاس کے دوران نائب صدر جے ڈی وینس اور جوائنٹس چیفس آف اسٹاف ڈین کین نے ایران جنگ میں شدت لانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق حکام کا کہنا ہےکہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے نجی طور پر خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنا ممکن تو ہے ، لیکن اس سے امریکی فوج کی سینٹرل کمان کے پاس موجود انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو جائیں گے۔
ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر کیے بغیر کہا کہ ایران پر حملوں کا نتیجہ توقعات کے برعکس نکلا ہے ، امریکی حملے ایران کو اندر سے متحد ہونے اور ایرانی رہنماؤں کو بیرونی خطرات پر توجہ مرکوز رکھنے کا موقع دے رہے ہیں۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے عمانی حکام کے دورہ ایران کی وجہ سے حملے روکے، عمانی وفد جمعے کو بات چیت کے لیے ایران گیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس حملے جاری رکھنے اور اس کی شدت بڑھانے کا آپشن بھی ہے جس میں ہر چیز کو تباہ کیا جاسکتا ہے ۔ مگر اسمارٹ اسٹریٹجی یہ ہے کہ ایران سے ڈیل کی جائے۔
ایران نے بھی امریکہ کے خلاف جوابی کارروائیاں عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیاہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ کمزور امریکی دفاعی نظام کی وجہ سے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں نے کسی رکاوٹ کے بغیر امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
ایرانی ذرائع نے برطانوی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس وقت تک حملے روکے گاجب تک امریکی حملے رُکے رہیں، ایران امریکہ کے ارادوں کے بارے میں بدستور تحفظات رکھتا ہے، ایران کا مؤقف اب بھی حملے کے جواب میں حملہ ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق حملوں میں وقفے کے بارے میں امید کے مقابلے میں شکوک زیادہ ہیں، یہ وقفہ حقیقی نہیں بلکہ حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل پر براہ راست یا پراکسی گروپوں کے ذریعے حملے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا: نیتن یاہو
تل ابیب، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل پر براہِ راست یا پراکسی گروپوں کے ذریعے کسی بھی حملے کی صورت میں انتہائی سخت جواب دیا جائے گا۔
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ اس وقت ختم ہو سکتی ہے جب یا تو ایرانی حکومت کا خاتمہ ہو جائے یا تہران معاشی تباہی پھیلانے اور ہر طرف حملے کرنے کی قیمت چکانے پر آمادہ ہو۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ ایران سعودی عرب، بحرین، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور اردن کو نشانہ بنا رہا ہے۔
نیتن یاہو نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل پر براہِ راست یا پراکسی گروپوں کے ذریعے کسی بھی حملے کی صورت میں انتہائی سخت جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں، تاہم ایران کا جوہری پروگرام کسی معاہدے کے ساتھ یا بغیر، ہر صورت ختم ہونا چاہیے۔
نیتن یاہو نے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کے لیے ٹرمپ کی تجویز کی بھی حمایت کی، جس کے تحت ریاض کو صرف سویلین جوہری پروگرام کی اجازت دی جائے گی، فوجی جوہری پروگرام کی نہیں، اور اس کے بدلے دونوں ممالک باضابطہ تعلقات قائم کریں گے۔
لبنان سے متعلق اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی افواج نے حزب اللہ کو اسرائیل لبنان سرحد سے 5 سے 8 میل پیچھے دھکیل دیا ہے اور تنظیم کے تقریباً 94 فیصد میزائل اور راکٹ تباہ کر دیے ہیں۔
نیتن یاہو نے مزید دعویٰ کیا کہ ایک نئے سہ فریقی معاہدے کے تحت کئی دہائیوں بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات شروع ہوں گے، جس کے مطابق اسرائیل لبنان سے انخلا کرے گا جبکہ لبنان حزب اللہ کو غیر مسلح کرے گا۔تاہم انہوں نے کہا کہ آیا لبنانی فوج اس علاقے پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھ سکے گی یا نہیں، یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا5 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا6 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہونے کا دعویٰ، سینٹکام کی تردید
دنیا1 week agoایران نے ہرمزگان صوبے پر امریکی حملوں میں شہید ہونے والے شہریوں کی تصاویر جاری کر دیں
ہندوستان6 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoجے ڈی وینس کی فیملی کے اچانک سفری مطالبات پر خفیہ سروس کے اہلکار نالاں
دنیا5 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
ہندوستان5 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
دنیا1 week agoآخری سانس تک ایران کا دفاع کیا جائے گا: عباس عراقچی
دنیا1 week agoسعودی عرب کے شہر الخرج میں پرنس سلطان ائیر بیس کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا: ایرانی میڈیا
دنیا7 days agoایرانی افواج دشمن کی دراندازی کو فوری طور پر ناکام بنانے کیلئے تیار ہیں: آئی آر جی سی


































































































