تازہ ترین
جموں و کشمیر میں 4 سال سے عوامی منتخبہ سرکار کا نہ ہونا بھارت کی جمہوریت پر سوالیہ نشان: نیشنل کانفرنس

سری نگر،7مارچ(یو این آئی)جموں وکشمیر پورے ملک کا پہلا اور واحد ایسا خطہ ہے جہاں 4برسوں سے کوئی عوامی منتخبہ حکومت نہیں ہے اور اس تاریخی ریاست کی یہ نوعیت نئی دلی کے اُن دعوﺅں پر سوالیہ نشان لگادیتی ہے ، جن کے ذریعے بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیا جاتاہے۔
ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے آج پارٹی ہیڈکوارٹر پر کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ نئی دلی گذشتہ 4سال سے جموں وکشمیر پر ایل جی انتظامیہ کے ذریعے براہ راست حکمرانی کررہی ہے۔ ایسے انتظام کی ایک جمہوری نظام میں کوئی جگہ نہیں۔ اس عرصے میں حکمرانوں نے اگر کچھ کیا ہے تو وہ جموں و کشمیر کے عوام کو پشت بہ دیوار اور اندھیروں میں دھکیلنے کے سوا کچھ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت 5اگست2019کے اعداد و شمار کو لیکر ایک وائٹ پیپر جاری کرے اور ملک کے عوام کو بتائے کہ یہاں کتنا امن و امان قائم ہوا؟کتنے پروجیکٹ شروع کئے گئے؟ یہاں کتنے لوگوں کو ملازمتیں اور روزگار فراہم کیا گیا؟ یہاں کتنی سڑکیں بنائی گئیں؟ کتنے بجلی پروجیکٹ اور واٹر ٹریٹمنٹ سکیمیں تعمیر کی گئیں؟
ان کا کہنا تھا کہ 5اگست2019کے بعد یہاں کچھ نیا کرنے کے بجائے پرانے پروجیکٹوں کا افتتاح اور نئے سرے سے سنگ بنیاد رکھا گیا اور اسی کی خوب تشہیر بازی کی گئی۔ جس سمارٹ سٹی پروجیکٹ کی آج کل خوب تشہیر بازی کی جارہی وہ بھی سابق عوامی حکومت کا ہی پروجیکٹ ہے، جس پر کام شروع کرنے میں 4سال کی دیر ہوئی اور آخر پر یک مشت کام شروع کرکے لوگوں کو زبردست مشکلات میں ڈال دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر کمال نے کہا کہ سمارٹ سٹی پروجیکٹ ایک خوش آئندہ اقدام ہے لیکن اس پروجیکٹ کے نام پر سڑکوں کو تنگ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
شہر سرینگر میں ٹریفک کے دباﺅ کو دیکھتے ہوئے یہاں فلائی اووروں کیساتھ ساتھ سڑکوں کی کشادگی کی ضرورت لیکن یہاں اُلٹا سڑکوں کو تنگ کیا جارہاہے اور جہانگیر چوک رام باغ فلائی اوور کے بعد کوئی بھی نیا فلائی اوور تعمیر نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں، ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر عوامی مسائل حل کرنے کے دعوے کئے جارہے ہیں لیکن زمینی سطح پر لوگوں کی داد رسی کیلئے کوئی بھی افسر یا اہلکار دستیاب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئی دلی نے جموں و کشمیر کے عوام کو بیروکریسی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور یہاں لال فیتہ شاہی کو دوام بخشنے کی مرتکب ہوئی ہے۔ افسرشاہی کا رجحان اس قدر غالب ہوگا ہوگیا ہے کہ سرکاری افسر ان لوگوں کے مسائل پر کان نہیں دھرتے جن کا ازالہ کرنا ان کا کام ہے ۔
کمال نے کہا کہ جموں وکشمیر میں ایسے افسران کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے جن کو یہاں کے مسائل و مشکلات اور لوگوں کے مزاج کی نفی برابر بھی معلومات نہیں۔ اس رجحان کی وجہ سے بیروکریسی اور لوگوں میں رابطے کا فقدان بڑھ گیا ہے اور ایسی صورتحال میں عوام کی دادرسی ہونا ناممکن ہے۔
دنیا
ایران کی نئی تجاویز پاکستان کے حوالے، امریکہ سے مذاکرات میں پیش رفت کا امکان
اسلام آباد، ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کے لیے اپنی نئی تجاویز کا مسودہ پاکستان کو ثالثی کے لیے بھیج دیا ہے، جسے اب امریکی حکام تک پہنچایا جائے گا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق یہ تجاویز جمعرات کی شام پاکستان کے حوالے کی گئیں، جہاں سے انہیں امریکہ کو ارسال کیا جائے گا اور بعد ازاں امریکی ردعمل ایرانی حکام تک پہنچایا جائے گا۔
تاحال اس معاملے پر کسی بھی فریق کی جانب سے سرکاری سطح پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اس نئے مسودے کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔
تاہم ایک امریکی خبر رساں ویب سائٹ کے مطابق ایران کی تجاویز میں مرحلہ وار امن عمل شامل ہو سکتا ہے، جس کے تحت پہلے جنگ بندی کو مستحکم کیا جائے گا، پھر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر غور ہوگا اور بعد ازاں جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ معاملات زیر بحث لائے جائیں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان اس پورے عمل میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے کے ساتھ عالمی طاقتوں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہرین کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، تاہم کسی حتمی معاہدے کے لیے دونوں فریقین کو اہم سمجھوتے کرنا ہوں گے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے بعض ایرانی تجاویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر اس معاملے پر کہ ایران جوہری پروگرام کو فوری طور پر زیر بحث لانے کے بجائے مؤخر کرنا چاہتا ہے، جو کسی جامع امن معاہدے میں بڑی رکاوٹ تصور کیا جا رہا ہے۔
یواین آئی ۔ م س
جموں و کشمیر
سری نگر: سی آئی ٹی یو کا یومِ مئی پر مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کا عزم، تاریگامی کی اتحاد کی اپیل
سری نگر،سری نگر میں ‘سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز’ (سی آئی ٹی یو) کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ مئی کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پر محنت کش طبقے کی تاریخی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ابھرتے ہوئے چیلنجز کے خلاف مزدوروں کے حقوق کے دفاع کے عزم کو دہرایا گیا۔
پروگرام کا آغاز شکاگو کے ‘مارکیٹ افیئر’ کے ان شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے سے ہوا جن کی عظیم قربانیوں نے دنیا بھر میں آٹھ گھنٹے کے اوقاتِ کار اور مزدوروں کے تحفظ کے نئے دور کی بنیاد رکھی۔ مقررین نے کہا کہ یومِ مئی مزدوروں کے اتحاد، استقامت اور انصاف کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد کی علامت ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی آئی ٹی یو جموں و کشمیر کے صدر اور رکن اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے کہا مزدور کبھی انتہائی نامساعد حالات میں 17 سے 18 گھنٹے کام کرنے پر مجبور تھے۔آج ہمیں جو حقوق حاصل ہیں—چاہے وہ باقاعدہ اوقاتِ کار ہوں، مناسب اجرت ہو یا بنیادی تحفظ—یہ کسی نے ہمیں تحفے میں نہیں دیے، بلکہ یہ دہائیوں کی انتھک جدوجہد، اتحاد اور قربانیوں کا نتیجہ ہیں۔
تاریگامی نے خبردار کیا کہ گزشتہ دہائیوں میں جو حقوق حاصل کیے گئے تھے، وہ اب بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری اور لیبر قوانین کی کمزوری کی وجہ سے دوبارہ خطرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا:
“جب تک لوگ آواز نہیں اٹھاتے، کوئی نہیں سنتا۔ تبدیلی تب ہی آتی ہے جب مزدور متحد ہو کر اپنے حقوق کا مطالبہ کریں۔”
انہوں نے بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی پالیسیوں کو ‘مزدور دشمن’ قرار دیتے ہوئے حال ہی میں نافذ کیے گئے چار لیبر کوڈز کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
تاریگامی نے مزید کہا کہ یومِ مئی محض ماضی کی یاد منانا نہیں بلکہ ایک تحریک ہے—جو معاشرے کو سماجی انصاف، محنت کی عظمت اور دولت کی منصفانہ تقسیم کی یاد دلاتی ہے۔ انہوں نے تمام محنت کشوں پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار اور منظم رہیں۔
اس تقریب میں وادی کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے مزدوروں اور ٹریڈ یونین لیڈروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔
یو این آئی۔م ا ع
دنیا
ایران کے خلاف فوجی آپریشن پہلے شروع کرنا چاہیے تھا: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن پہلے شروع کرنا چاہیے تھا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی 90 فی صد میزائل فیکٹریاں تباہ کر دیں، ایران پر پابندیاں کامیاب ہیں اور ایران معاہدہ چاہتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر وزیر اعظم پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ہند۔ پاک جنگ سمیت 8 جنگیں رکوائیں، پاکستان کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ میں نے 3 سے 5 کروڑ انسانوں کی جانیں بچائی ہیں۔ انہوں نے ایران کے حوالے سے مزید کہا کہ اسکی معیشت تباہ ہوتی جارہی ہے، ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دینی چاہیے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
ہندوستان7 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
ہندوستان7 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
دنیا1 week agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
جموں و کشمیر4 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا7 days agoامریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے:ایران
دنیا7 days agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی
دنیا5 days agoآپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے: ٹرمپ
دنیا1 week agoجان کیری کا ایران جنگ سے متعلق بڑا انکشاف
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے نکالے گئے انتخابی افسران کی عرضیاں خارج کر دیں
دنیا1 week agoایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کو ناممکن قرار دیدیا، امریکی ناکہ بندی سے عالمی معیشت دباؤ کا شکار











































































































