تازہ ترین
سعودی پرچم ڈیزائن کرنے والےمعروف خطاط صالح المنصوف انتقال کرگئے

سعودی عرب کے معروف خطاط صالح المنصوف86 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔انھیں 50 سال قبل سعودی عرب کے پرچم پرکلمہ طیّبہ لکھنے اور تلوارکے انداز کواپ ڈیٹ کرنے کا اعزازحاصل تھا۔اتفاق سے ان کی وفات بھی سعودی عرب کے قومی پرچم کے دن کوہوئی ہے۔
صالح المنصوف پہلے سعودی خطاط تھے جنھوں نے 1960 کی دہائی کے اوائل میں سعودی عرب کے پرچم پرسفید رنگ کا استعمال کرتے ہوئے تلوار کھینچی تھی۔انھوں نے ہی سبزرنگ کے پرچم پراس تلوارکے اوپرسفید رنگ میں کلمہ طیّبہ رقم کیا تھا۔تب ٹیکنالوجی اور پرنٹنگ کے آلات عام دستیاب نہیں تھے۔
وہ ان پہلے خطاطوں میں بھی شامل تھے جن کی کتابت جامعہ امام محمد بن سعود کے لاتعدادگرایجویٹس کی اسناد اور سرٹی فکیٹس کی زینت بنی تھی اور وہ ایک عرصہ یہ تعلیمی اسناد تحریر کرتے رہے تھے۔
مرحوم المنصوف کو بلدیہ الریاض نے سرکاری تقریبات اورپروگراموں میں استعمال کے لیے خطاطی پینل کی تیاری پر بھی مامورکررکھا تھا۔
واضح رہے کہ اس ماہ کے اوائل میں سعودی عرب نے 11 مارچ 1937 کی یاد میں سالانہ ‘قومی پرچم کا دن’ منانے کا اعلان کیا تھا۔جدید سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیزآل سعود نے 11 مارچ 1937 کو مملکت کی نمائندگی کے طور پرموجودہ پرچم کی منظوری دی تھی۔
اس دن کو منانے کا فیصلہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے جاری کردہ شاہی حکم نامے کے تحت کیا گیا تھا۔
پاکستان
ابراہم معاہدہ ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہے: خواجہ آصف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا ابراہم معاہدہ پاکستان کیلئے قابل قبول نہیں کیونکہ یہ ملک کے بنیادی نظریات سے متصادم ہے۔
نجی نیوز چینل ’’سما‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ’’میرا نہیں خیال کہ ہم کسی ایسے معاہدے میں شامل ہوں گے جو ہمارے بنیادی نظریات کے خلاف ہو۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’اس وقت نہ ہم نے کوئی اقدام اٹھایا ہے اور نہ ہی کسی نے باضابطہ طور پر ہمیں اس معاہدے میں شامل ہونے کیلئے کہا ہے۔‘‘
وزیر دفاع نے کہا کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں اب بھی جاری ہیں، اس لیے ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا ممکن نہیں جن پر ’’ایک دن کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ’’ہمارا واضح مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں، اور ہم واحد ملک ہیں جس کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام تک شامل نہیں ہے۔‘‘
ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر اور اردن سمیت دیگر مسلم ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بعد ابراہم معاہدے میں شامل ہوں۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
ایران میں 90 دن بعد بین الاقوامی انٹرنیٹ بحال کرنے کا حکم
تہران، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں بین الاقوامی انٹرنیٹ سروسز دوبارہ بحال کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ تقریباً 90 دنوں سے انٹرنیٹ پر عائد پابندی امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے باعث نافذ کی گئی تھی۔
رپورٹ میں ایرانی وزارت مواصلات کے تعلقاتِ عامہ کے سربراہ کے حوالے سے کہا گیا کہ حکومت نے انٹرنیٹ سروسز دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ انٹرنیٹ کی مکمل بحالی کیلئے کون سا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔
دوسری جانب انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے ’’انٹرنیٹ آبزرویٹری نیٹ بلاکس‘‘ نے پیر کے روز کہا کہ گزشتہ 87 دنوں کے دوران ایران میں بیشتر شہری بین الاقوامی انٹرنیٹ تک رسائی سے محروم رہے۔
ادارے کے مطابق صرف وہی افراد عالمی انٹرنیٹ استعمال کر پا رہے تھے جو ’’وی پی این‘‘ سروسز استعمال کرتے تھے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے ابتدا میں 8 جنوری کو مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ تک رسائی محدود کی تھی۔
بعد ازاں یہ مظاہرے حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہو گئے جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث پابندیاں مزید سخت کر دی گئیں۔
واضح رہے کہ ایران میں عام حالات میں بھی انٹرنیٹ کے استعمال پر مختلف نوعیت کی پابندیاں اور سنسر شپ نافذ رہتی ہے، جبکہ متعدد ویب سائٹس تک رسائی محدود ہے۔
رپورٹس کے مطابق موجودہ صورتحال میں آن لائن تعلیمی سرگرمیوں اور کلاسز کی وجہ سے انٹرنیٹ کی بحالی کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ٰیواین آئی۔ م س
دنیا
ایران کو افزودہ یورینیئم امریکہ کے حوالے کرنا ہوگا: ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو اپنا افزودہ یورینیئم یا تو امریکا کے حوالے کرنا ہوگا تاکہ اسے وہاں تباہ کیا جا سکے یا پھر کسی متفقہ مقام پر بین الاقوامی نگرانی میں اسے تلف کرنا ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ترجیحی طور پر یہ عمل ایران کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے کسی ایسے مقام پر ہونا چاہیے جہاں اٹامک انرجی کمیشن یا اس جیسے کسی بین الاقوامی ادارے کی نگرانی موجود ہو۔
دوسری جانب ٹرمپ کے بیان پر گھانا میں ایرانی سفارتخانے نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’افزودہ یورینیئم گھر میں ہے اور گھر میں ہی رہے گی۔‘‘
اس سے قبل امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ان لوگوں پر ہنستے ہیں جو ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو ’’بہت عظیم اور بامعنی‘‘ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ معاہدہ سابق امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ کے ’’تباہ کن معاہدے‘‘ کے بالکل برعکس ہوگا۔
یواین آئی۔ م س
جموں و کشمیر4 days agoعید سے قبل بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے؛ اس مقدس موقع پر ملازمین کو مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے: رفیق راتھر
دنیا5 days agoصدارت کے بعد اسرائیل کا وزیراعظم بن سکتا ہوں: ٹرمپ کی گفتگو وائرل
ہندوستان7 days agoملک میں بڑا معاشی بحران آنے والا ہے، عام آدمی پر پڑے گا اثر: راہل گاندھی
ہندوستان7 days agoپٹرول اور ڈیژل کی قیمت چار دن میں دوسری بار بڑھانے پر جواب دیں مودی:کھرگے
دنیا4 days agoٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان، ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف
دنیا4 days agoکیوبا نے مارکو روبیو پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگا دیا
دنیا4 days agoٹرمپ کی ایرانی تہذیب مٹنے کی دھمکی سے یورپ اور ایشیا کو نیوکلیئر حملے کے خطرات پیدا ہوگئے تھے: رپورٹ
ہندوستان1 week agoدفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے راج ناتھ ویتنام اور کوریا کے دورے پر روانہ
دنیا5 days agoمیں ایران کے ساتھ جنگ میں واپس نہیں جانا چاہتا، کچھ دن انتظار کروں گا: ٹرمپ
دنیا5 days agoحملہ ہوا تو جنگ خطے سے باہر تک پھیل جائے گی، پاسدارانِ انقلاب کا واضح پیغام
دنیا1 week agoایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے امکانات میں اضافہ، اسرائیل کو صدر ٹرمپ کے ’گرین سگنل‘ کا انتظار
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث افراد کے خاتمے کا دعویٰ، غزہ کے 60 فیصد حصے پر کنٹرول کا اعلان

































































































