تازہ ترین
کچھ تو غور وفکر کر ائے ابن آدم !!

تحریر:جاوید اختر بھارتی
یہ دنیا ہے کل مذاہب ، کل برادری کا سنگم ہے ، کوئی ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے تو کوئی بہت ساری چیزوں کی عبادت کرتا ہے کوئی حکمراں بن کر زندگی گزارتا ہے تو کوئی رعایا بن کر زندگی گزارتا ہے کوئی دولت کے نشے اور سکوں کی جھنکار میں مست مگن ہے تو کوئی ایک ایک پائی کے لئے دردر کی ٹھوکر کھاتا ہے کوئی مخمل کے بستر پر سوتا ہے تو کوئی آج بھی رکشہ چلاتے چلاتے جب تھک کر چور ہوجاتا ہے تو اپنے رکشے پر ہی سوجاتا ہے کوئی اخبار بچھاکر سوجاتا ہے کوئی نیند کی گولی کھاکر سوتا ہے تو کوئی بغیر گولی کھائے سوجاتا ہے کوئی اپنے گھر کے بھرے کنبے کے ساتھ رہتا ہے تو کوئی اپنا بھرا کنبہ چھوڑ کر ہزاروں کلو میٹر کی دوری کا سفر کرتاہے تاکہ گھر کے لوگ سکون سے رہیں اس دنیا کے اندر کسی کے ہاتھوں میں قلم ہے تو کسی کے ہاتھوں میں ہتھوڑا ہے قلم چلانے والا بھی پیسہ کماتا ہے اور ہتھوڑے سے پتھر توڑنے والا بھی پیسہ کماتا ہے مگر ایک کو آفیسر کہا جاتا ہے اور دوسرے کو مزدور کہا جاتا ہے ایک شخص کو پیسہ ملتا ہے تو تنخواہ کہا جاتا ہے اور دوسرے کو پیسہ ملتا ہے تو مزدوری کہا جاتا ہے ایک شخص کی پیشانی کا پسینہ بہہ کر ٹخنوں تک آتا ہے تو دوسرا شخص ایر کنڈیشن روم میں بیٹھتا ہے آگے یہ بھی کہاجاتا ہے کہ محنت کرنے سے ہی انسان ترقی کرتاہے اگر اس بات میں صد فیصد سچائی ہے تو اینٹ بھٹوں پر بوجھ اٹھانے والا کیوں نہیں ترقی کرتا صبح سے شام تک زمین کی کھدائی کرنے والا اور پتھر توڑنے والا کیوں نہیں ترقی کرتا معلوم ہوا کہ یہ بات صرف ایک مزدور کی تسلی کے لئے کہا جاتا ہے بہر حال یہ دنیا ہے ہزاروں رنگ بدلتی ہے کبھی کسی جگہ کوڑے کا انبار بھی لگایا جاتاہے تو کبھی اسی جگہ پر بنگلہ اور محل بھی تعمیر کیا جاتا ہے یہ دنیا ہے کوئی کھا کھا کر مرتا ہے تو کوئی کھائے بغیر مرتا ہے کسی کو کھانے کا ذائقہ نہیں ملتا اور وہ کبھی اس ڈھابے تو کبھی اس ڈھابے پر پہنچ کر پیسہ پھینکتا ہے اور بڑے باپ کی اولاد ہونے کا اظہار کرتاہے تو اسی دنیا میں کوئی اتنا نڈھال ہوتا ہے کہ صبح سویرے ہی بول پڑتا ہے کہ میرا حال دیکھو کپڑا بوسیدہ ہے، چہرہ اداس ہے ہونٹوں پر جھریاں پڑی ہوئی ہیں پاوں میں جوتے اور چپل بھی نہیں ہے آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں اور صدا دیتا ہے کہ میرا حال دیکھو اور بتاؤ کہ مجھے تختی کی ضرورت ہے یا گندم کی ضرورت ہے؟ جواب ملتا ہے کہ تجھے گندم کی بھی ضرورت ہے، تختی کی بھی ضرورت ہے اور تعلیم کی بھی ضرورت ہے،، لیکن گندم بھی مہنگا اور تعلیم بھی مہنگی اب ایسی صورت میں غم جہاں سے نڈھال انسان کیسے ان چیزوں کا انتظام کرے تعلیم کا نعرہ ہر شخص بلند کرتا ہے مگر تعلیم کی راہ کو آسان بنانے کا نعرہ کوئی بلند نہیں کرتا کسی کو پتھر توڑتے دیکھا تو کہا کہ کاش اس کے پاس تعلیم ہوتی ، ہوٹلوں پر کام کرنے والوں کو دیکھا تو کہا کہ کاش اس کے پاس تعلیم ہوتی سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا تعلیم کا مشورہ ہی دینا کافی ہے اور تشویش و افسوس کا اظہار ہی کافی ہے یا مسائل کے حل کی ضرورت ہے،، کہیں ایک ماہ میں پانچ کروڑ روپئے کے سموسے کھانے کی ویڈیو وائرل کی جاتی ہے اور اس پر تبصرہ کیا جاتا ہے تو کہیں نذرانوں کا انبار لگاہوا ہے کہیں جلسوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے تو کہیں مرغ و ماہی کا بازار گرم ہے اور ان اندھا دھند حاصل ہونے والے نذرانے کی رقم سے نہ یونیورسٹی بنوائی جاتی ہے اور نہ اسپتال تعمیر کرایا جاتاہے ملک میں ایسے ایسے پیر ہیں جن کے پاس لگژری گاڑیاں ہیں اور بنگلہ ہے ایک طریقے سے وہ حکومت چلاتے ہیں مگر مریدین کی شکل میں اپنی رعایا کے لئے حالت بیماری میں علاج کا بھی انتظام نہیں کراتے تعلیم کے لئے اسکول و کالج اور یونیورسٹیاں بھی نہیں بنواتے شائد انہیں اس بات کا اندیشہ ہے کہ مریدین کہیں تعلیم یافتہ ہوکر ہمیں تنہا نہ چھوڑ دیں حالانکہ انہیں ایسا نہیں سوچنا چاہئے کیونکہ آج کے ترقی یافتہ دور میں تعلیم یافتہ بھی اندھ بھکتوں کی فہرست میں اپنا نام درج کراتے ہیں ،، بہر حال یہ تو حقیقت ہے کہ آج کے دور میں خانقاہوں سے اگر اسکول و کالج اور یونیورسٹیاں تعمیر کرانے اور مسلمانوں کو تعلیم یافتہ بنانے کی مہم چلائی جائے اور مکمل انتظام کیا جائے تو بہت آسانی ہوگی اور کامیابی بھی حاصل ہوگی،، ایک انسان کے لئے ضروری ہے کہ اپنی زندگی کو کارآمد بنائے اور دوسروں کے دکھ سکھ میں شریک ہوکر ہاتھ بٹائے کیونکہ صرف خود کا جینا کوئی جینا نہیں اگر کوئی یہ سوچ کر زندگی گزارے کہ بس اپنا کام چلے باقی جس کا جو حال ہے وہ سمجھے تو ایسی سوچ اور ایسی ذہنیت رکھنے والے انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں اس لئے کہ زندگی تو جانور بھی گزار لیتے ہیں پھر اشرف المخلوقات ہونے کا کیا مطلب ہے بہترین انسان وہی ہے جو خود کو انسانیت کے سانچے میں ڈھالے یعنی پہلے اچھا انسان بنے اور یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ جو اچھا انسان نہیں بن سکتا وہ اچھا مسلمان بھی نہیں بن سکتا کیونکہ ہاتھ اللہ نے بخشا ہے سخاوت کے لئے ، پاؤں بخشا ہے راہ صداقت کے لئے ، دل دیا ہے ایمان کی دولت کے لئے ، اپنے محبوب کی اور اپنی محبت کے لئے ، نظر بخشی ہے نظارہ قدرت کے لئے ، شعور بخشا ہے حق اور ناحق کی پہچان کے لئے جب سب کو جمع کیا جاتا ہے تو ایک پیغام جاری ہوتاہے ایک اعلان ہوتاہے کان عطا کیا ہے اسی سماعت کے لئے کہ درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں-
اب آئیے حالات پر غور کریں اور فیصلہ کریں کہ مرنے کے بعد ہم کاندھا دینے کے لئے بے چین رہتے ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کوشش کرتے ہیں تو آخر جیتے جی ہم ایک دوسرے کا کاندھا کیوں نہیں پکڑتے یعنی سہارا کیوں نہیں دیتے،، بستر پر ایک شخص موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے تو اس کے نزدیک بیٹھ کر قرآن مجید پڑھا جاتا ہے بالخصوص سورہ یٰس کی تلاوت کی جاتی ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ مرنے کے لئے سورہ یٰس پڑھی جاتی ہے حالانکہ اس لئے پڑھی جاتی ہے کہ حیات باقی ہوتو اللہ تبارک وتعالیٰ شفائے کاملہ عطا فرمائے یا پھر موت کا معاملہ آسان فرمائے یہاں بھی سبق ملتا ہے کہ آخر جینے کے لئے اور جینے کا سلیقہ سیکھنے کے لئے قرآن کیوں نہیں پڑھا جاتا ،، مردے کے نام پر خوب کھانا کھلانے کا اہتمام ہوتاہے تو پھر زندہ لوگوں کے لئے بھکمری اور فاقہ کشی سے بچانے کا اہتمام کیوں نہیں کیا جاتا ،، مزاروں پر چادروں پر چادر چڑھانے کے بجائے غریبوں کو کپڑا پہنانے کا انتظام و اہتمام کیوں نہیں کیا جاتا ،، ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ مذکورہ تقاریب کا راقم الحروف مخالف نہیں ہے مگر اس سے جو نتائج اخذ ہورہے ہیں جس سے انسانیت کو فروغ حاصل ہو سکتا ہے اس دنیا میں بہت سے لوگوں کی زندگیاں سنور سکتی ہیں اور حقوق العباد کی ادائیگی ہوسکتی ہے وہ بیان و تحریر کرنا اصل مقصد ہے ،، یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اسلام کے اندر نہ پاپائیت ہے اور نہ ہی برہمنیت ہے بلکہ اسلام کی تعلیمات تو یہ ہے کہ ہر شخص اس قابل بنے کہ اپنی بیٹی کا نکاح خود پڑھائے ، اپنے باپ کا جنازہ خود پڑھائے دین کا داعی بنے مبلغ بنے یہ ذمہ داری کسی ایک ذات برادری تک کے لئے محدود و مخصوص نہیں کی گئی ہے کہ فلاں ذات برادری کے لوگ یہ کام کریں گے یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگوں نے ایسا نظریہ پیش کیا ہے انہوں نے غلط کیا ہے بلکہ ایسا کرنے والوں نے اندھ بھگتی کا جال بچھانے کی کوشش کی ہے تاکہ کوئی ہمارے مد مقابل نہ بیٹھ سکے اور نہ کھڑا ہوسکے ایسے لوگوں نے دعوت، خطابت، صحافت، نظامت ،تعلیم، اسکول و مدارس، تقریر و تحریر سب کو تجارت سمجھا ہے،، بعض بزرگان دین نے کہا ہے کہ اساتذہ اور سرپرست دونوں کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو تعلیم کے ساتھ کوئی ہنر بھی سکھائیں ورنہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ حصول تعلیم کے بعد ہنر سے محروم لوگ دین کو بیچیں گے آج نتیجہ ہمارے سامنے ہے بہت سے مقررین نے ریٹ مقرر کیا ہوا ہے ، نعت خوانی کے لئے شعرا چالیس چالیس ہزار روپیہ عام طریقے سے لیتے ہیں یہاں تک کہ پروگرام میں شریک ہونے سے پہلے رقم اپنے اکاؤنٹ میں منگواتے ہیں یہ حال ہے مسلمانوں کا اور ایڈیڈ مدارس کا تو حال یہ ہے کہ اللہ رحم کرے رشوت لینے دینے کا طریقہ اور برق رفتاری تو کوئی انہیں سے سیکھے،، حال ہی میں ایک بزرگ عالم دین کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ان کی باتوں میں دین اور معاشرے کے ساتھ گرانٹیڈ مدارس کے حالات پر درد چھلکا باتیں تلخ ضرور لگتی ہیں مگر انہوں نے سچائی بیان کردی ہے ایک طرف مدارس کو دین اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے اور دوسری طرف رشوت دینے کی قطاریں لگی رہتی ہیں یہ تو شرم سے ڈوب مرنے کی بات ہے –
javedbharti508@gmail.com
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یو پی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
جموں و کشمیر
کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
سری نگر، کپواڑہ کی ایک عدالت نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کرتے ہوئے 2023 میں ایک پولیس کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کیس میں سات دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپواڑہ، منجیت سنگھ منہاس نے 24 اپریل کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، تاہم دیگر سات ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
یہ معاملہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو 20 فروری سے 26 فروری 2023 کے درمیان جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر (جے سی آئی) کپواڑہ میں غیر قانونی
طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، جو مبینہ طور پر منشیات سے متعلق جرائم کی تفتیش کے بہانے کیا گیا تھا۔
یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں، جب متاثر کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی تھی۔ سی بی آئی نے جولائی 2025 میں ایف آئی آر درج کی اور بعد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی (مجرمانہ سازش)، 323، 325 (زخمی کرنا)، 330، 331 (اقرارِ جرم حاصل کرنے کے لیے تشدد) اور 343 (غلط حراست) شامل تھیں۔ بعد ازاں سی بی آئی نے ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر کے آخری ہفتے میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ڈی ایس پی نائک کا کردار نگرانی تک محدود تھا اور ان کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہاکہ”ان کے خلاف محض شبہ پایا جاتا ہے جو سنگین شبہ کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ شرکت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا ملزم اے-1 (ڈی ایس پی اعجاز) کو مذکورہ دفعات کے تحت بری کیا جاتا ہے۔”
تاہم عدالت نے دیگر ملزمان کے حوالے سے مختلف رائے اختیار کی، جن میں سب انسپکٹر ریاض احمد میر، اسپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد بیگ، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان اور تنویر احمد ملا، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاکر حسین کھوجا اور الطاف حسین بھٹ، اور کانسٹیبل شہنواز احمد دیداد شامل ہیں۔
ان سات میں سے چھ ملزمان کپواڑہ ضلع کے رہائشی ہیں جبکہ تنویر احمد ملا کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد، جن میں متاثر کا بیان، طبی رپورٹس اور دیگر حالات شامل ہیں، ان ساتوں کے خلاف بادی النظر میں کیس ثابت کرتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حراست کے دوران متاثر کے جسم کے حساس حصوں پر لگنے والی چوٹیں اور طبی رائے حراستی تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ متاثر مکمل طور پر ملزمان کے کنٹرول میں تھا، جو استغاثہ کے موقف کو مضبوط بناتا ہے۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ الزامات مبہم ہیں اور کہا کہ متاثر نے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے اور ان کے کردار کی تفصیل بیان کی، جو کئی دنوں تک جاری رہنے والے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ”اس مرحلے پر عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا بادی النظر میں کیس یا سنگین شبہ موجود ہے، نہ کہ مکمل ٹرائل کرنا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ان جرائم کے عناصر کو ثابت کرتا ہے۔ “ریکارڈ پر موجود مواد، اپنی ظاہری حیثیت میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان سات ملزمان نے مشترکہ منصوبے کے تحت مذکورہ دفعات کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔”
اس کے مطابق عدالت نے ساتوں ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا اور مقدمہ 14 مئی کو استغاثہ کے ثبوت کے لیے درج کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مانڈویہ نے نچلی سطح پر توجہ مرکوز کرنے پر دیا زور، سرینگر میں وزرائے کھیل کا ‘چنتن شیویر’
سرینگر نوجوانوں اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ہفتہ کو اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی سپر پاور کے طور پر ابھرنے کا جو 10 سالہ پرجوش روڈ میپ ہے، اسے نچلی سطح پر کام میں تبدیل ہونا چاہیے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے مباحثوں کی سمت متعین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے کھیلوں کے عزائم کو زمینی سطح پر عمل درآمد کے ذریعے ہی حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا
”عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے لیے ہمارا 10 سالہ روڈ میپ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہر کھیل کے میدان، ہر ضلع اور ہر نوجوان کے خواب میں زندہ نظر آنا چاہیے۔“
جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی چنتن شیوِر میں شرکت کی اور ہندوستان کو کھیلوں کی طاقت بنانے کے وژن کو سراہا۔
کھیلوں کے مرکزی وزیر نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ محض پالیسی اپنانے تک محدود نہ رہیں بلکہ فعال عمل درآمد کی طرف بڑھیں، اور اس بات پر زور دیا کہ حقیقی پیش رفت کا اندازہ اُن نتائج سے ہوگا جو اضلاع، تربیتی نظام اور نچلی سطح کے کھیلوں کے ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”کھیلو بھارت مشن صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اور قوم کے عزم کی عکاسی ہے۔“
ڈاکٹر مانڈویہ نے ریاستی حکومتوں اور اسپورٹس فیڈریشنوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط اور متحدہ ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل کے لیے قریبی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے پر ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے تعلیمی نظام کے ساتھ ربط ضروری ہے اور جسمانی تعلیم کے اساتذہ نچلی سطح کے کھیلوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی ایک باصلاحیت بچے کو مواقع کی کمی کے باعث پیچھے رہ جانا پڑے تو یہ صرف اس کی ذاتی نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل ایک تبدیلی لانے والا ذریعہ ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر مشکل علاقوں میں، جہاں یہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر مانڈویہ نے کوچ کی باقاعدہ تصدیق اور تربیت میں بہتری، کھلاڑیوں کی سائنسی بنیادوں پر تربیت اور اسپورٹس انتظامیہ میں صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک مربوط اور مسلسل نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، ”جب بنیادی ڈھانچہ، ٹیلنٹ کی شناخت اور تربیت یافتہ افرادی قوت ایک مربوط سلسلے کی صورت اختیار کر لیں گے تو اولمپک پوڈیم تک رسائی خود بخود ممکن ہو جائے گی“ اور اس طرح نچلی سطح کی شمولیت کو اعلیٰ کارکردگی سے ایک منظم راستے کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے لکشمی بائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل ایجوکیشن، گوالیار کے تحت وائی ای ایس-پی ای (ینگ انگیجمنٹ اِن اسپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن) پروگرام کا بھی آغاز کیا، جسے جماعت 9 سے 12 تک کے طلبہ کے لیے کھیلوں میں شرکت، اسپورٹس مین شپ اور قیادت کو فروغ دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری (کھیل) ہری رنجن راؤ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس شیوِر کی اہمیت کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا جو اجتماعی غور و فکر اور عملی اقدامات کو فروغ دیتا ہے۔
چنتن شیوِر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ اجتماع محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ غور و فکر، عزم اور نئے عہد کا ایک مشترکہ لمحہ ہے۔“
چنتن شیوِر میں مختلف موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں میڈل حکمتِ عملی، پالیسی ہم آہنگی، صاف اور محفوظ کھیل، اور ٹیلنٹ کی شناخت و ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پندرہ سے زائد ریاستی وزرائے کھیل کے ساتھ ساتھ ممتاز کھیل شخصیات جیسے عادل سُمرِی والا، ابھینو بندرا، پلیلا گوپی چند اور گگن نارنگ نے چنتن شیوِر میں شرکت کی اور متعلقہ فریقین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جو ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پالیسی مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مختلف ریاستوں کے وزرائے کھیل نے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو مرکز میں رکھنے والے نقطۂ نظر پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ماڈل کو ملک کے مختلف خطوں میں نافذ کر کے ہندوستان میں ایک مضبوط اور مؤثر کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
مباحثوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوچنگ نظام کو بہتر بنانے، مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، اخلاقی اور محفوظ کھیل کے ماحول کو یقینی بنانے اور اسکولوں، اکیڈمیوں اور اعلیٰ تربیتی مراکز کے درمیان مربوط سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
ان اجلاسوں میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ کھلاڑیوں کی نشاندہی سے لے کر اعلیٰ کارکردگی کی تربیت تک تسلسل برقرار رکھنے کے لیے منظم راستوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستوں کے درمیان مسلسل نگرانی، جائزہ اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی کے مقاصد کو زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
مباحثوں میں اس امر کی دوبارہ توثیق کی گئی کہ ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کھیلوں کا نظام قائم کرنے کے لیے مرکز، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان متحدہ اور مربوط نقطۂ نظر نہایت اہم ہے، جو ہندوستانکے عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہو۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
ترکیہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کردی
انقرہ، ترکیے نے امریکہ ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔ ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا7 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ





































































































