تازہ ترین
سچائی کا سامنا کریں خود کا بھی محاسبہ کریں!!

تحریر: جاوید اختر بھارتی
جمعہ کا دن ہے لوگ صبح سے ہی گھر آنگن اور کپڑوں کی دھلائی صفائی میں لگے ہوئے ہیں غسل بھی کررہے ہیں اور نئے لباس بھی پہن رہے ہیں ہر شخص اپنی حیثیت اور وسعت کے اعتبار سے تبدیل نظر آرہاہے بچے جوان بوڑھے سبھی کی زبان سے یہی ایک لفظ نکلتا ہے کہ آج جمعہ کا دن ہے ، آج سید الایام ہے ، آج چھوٹی عید ہے آج ہم جامع مسجد جائیں گے پوری بستی کے لوگوں سے ملاقات ہوگی سب کے حالات سے واقفیت حاصل ہوگی ہم سب ایک دوسرے سے تبادلۂ خیال کریں گے جمعہ کی مبارکباد بھی پیش کریں گے غرضیکہ مؤذن نے اذان کے کلمات بلند کئے لوگ خراماں خراماں مسجد کی طرف کوچ کرنے لگے دیکھتے ہی دیکھتے پوری مسجد کھچا کھچ بھر گئی کوئی سنت و نوافل پڑھنے میں مصروف ہے تو کوئی قرآن کی تلاوت میں لگا ہوا ہے تو کوئی ہاتھوں میں تسبیح لے کر ذکر و اذکار کررہا ہے اور سبھی لوگ مسجد کے امام و خطیب کا بڑی بے صبری سے انتظار بھی کررہے ہیں اچانک محراب کے بغل کا دروازہ کھلتا ہے لوگوں نے امام شیخ کو مسجد میں داخل ہوتے دیکھا
شیخ صاحب سیدھے منبر پر چڑھے، مائیک تھاما اور سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے صبر و استقامت کی تلقین اور اسراف نہ کرنے کے متعلق وعظ کرنے لگے.
حاضرین میں موجود ایک خاکروب بھی تھا، وہ اپنی جگہ پر کھڑا ہوا اور کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ حاضرینِ مجلس و مصلیان مسجد نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔ دوران خطبہ اپنی حاجت نہیں پیش کی جاتی، صبر کرو، وعظ مکمل ہو لینے دو۔
خاکروب کہنے لگا کہ وہ عرصہ دراز سے محترم شیخ کی اقتدا کر رہا ہے لہذا اسے بولنے دیا جائے۔ کیوں کہ اس سے بہتر موقع میسر ہونا مشکل ہے.
خاکروب نے اجازت کا اشارہ پاتے ہی کہنا شروع کردیا:
جناب شیخ: آپ ابھی ابھی لگژری گاڑی سے آئے ہیں، عمدہ ترین لباس زیب تن کیے ہوئے ہیں،، اور پوری مسجد کو معطر کردینے والی خوشبو میں رچے بسے یہاں تشریف لائے ہیں۔ آپ کے ہاتھ میں چار انگوٹھیاں ہیں، ہر انگوٹھی کی قیمت میری تنخواہ کے برابر ہے، اور آپ کا فون آئی فون ہے۔ ہر سال آپ عمرے کی ادائیگی کے لیے سفر کرتے ہیں.
شیخ صاحب! ایک دن میرے ساتھ میرے کمرے میں چلیں جس کی چھت لوہے کی چادروں سے بنی ہوئی ہے، میری خواہش ہےکہ آپ وہاں ایک رات میرے ساتھ قیام کریں، اور ایئر کنڈیشن کے بغیر سوئیں .. پھر آپ تہجد کے وقت اٹھ کر بھوکے پیٹ میرے ساتھ کام کے لیے نکلیں، میرے ساتھ اس شدید گرمی میں شاہراہوں کو صاف کرنے کے لیے جھاڑو لگائیں، تاکہ آپ کو صبر اور روزے کا حقیقی مطلب معلوم ہوجائے. میں یہی کام ہر روز بلا ناغہ کرتا ہوں تاکہ مہینے کے آخر میں تھوڑی سی رقم مل سکے جو آپ کی خریدی ہوئی عطر کی شیشی کی قیمت کے برابر بھی نہیں ہوتی..!
معاف کیجیے شیخ! ہمیں صبر سیکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ تو ہمارا روز اول سے رفیق ہے. بلکہ اس منبر کا تقاضا ہے کہ آپ، سفید لبادوں میں ملبوس کاروباری حضرات کے ظلم و ستم اور اہل علم و دانش کی منافقت کے بارے میں کھل کر بیان کریں …
بے روزگاری اور بھوک کے بارے میں بتائیں، جو معاشرے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی ہوئی ہے. مظلوم لوگوں کے استحصال اور غریب کی فاقہ کشی کی بارے میں بتائیں کہ ان کے لیے اہل ثروت کے پاس کیا پالیسی ہے. کرپشن اور عوام کے پیسے کی لوٹ مار کے بارے میں بتائیں. ہمیں طبقاتی تقسیم اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم میں انصاف کی عدم موجودگی کے بارے میں بتائیں. ہمیں اقربا پروری، موروثیت، اور اپنے کرم فرماؤں کو نوازنے کے بارے میں بتائیں. ورنہ ہمیں آپ کے عمل سے خالی وعظ کی مزید ضرورت نہیں ہے-
آپ کے وعظ ونصیحت کا کچھ حاصل بھی نکلنا چاہئے اور یاد رکھیں کہ بھوک سارے آداب و تہذیب کو بھلا دیتی ہے ایک چوراہے پر کوئی ایسا انسان ملے جس کے پیروں میں جوتے اور چپل نہ ہوں، کپڑے انتہائی بوسیدہ ہوں، چہرے پر جھریاں پڑی ہوں، آنکھیں دھنسی ہوئی ہوں، تالو میں چھالے پڑے ہوں ، پیشانی پر گہری گہری لکیریں پڑی ہوں ، ہونٹوں پر پوپری پڑی ہوں، بھوک نڈھال ہو اور چلنا پھرنا تو دور اٹھنے بیٹھنے کی طاقت نہ ہو جسم کانپ رہا ہو اس سے آپ سوال کریں کہ ہندو ہو یامسلمان، سکھ ہو یا عیسائی ، دیوبندی ہو یا بریلوی ، شیعہ ہو یا سنی ، اہلحدیث ہو یا بوہرہ تو اس کا ایک ہی جواب ہوگا کہ میں بھوکا ہوں میں بھوکا ہوں ،، آج کہا جاتا ہے کہ غریبی بہت اچھی چیز ہے یقیناً غریبی اچھی چیز لیکن بس تقریر و تحریر تک ، وعظ ونصیحت بہت اچھی چیز ہے لیکن بس اسٹیج و منبر تک،، پیسہ ہاتھوں کی میل ہے یہ جملہ بھی زبان خرچی اور زبان کی نوک تک سب ملاکر دیکھا جائے تو آپ کی وعظ ونصیحت و خطبہ بھی آپ کے میٹر چلنے تک ،، ارے ہاتھوں سے پتھر توڑنے والے کو مخمل کی سیز پر بیٹھ کر پتھر توڑنے کا طریقہ بہت آسان ہے ، آج کی تجارتی خانقاہوں کے پیروں کو اپنی جیب بھرنے کے لئے مریدوں کو نذرانے کی اہمیت وفضیلت بتانا بہت آسان ہے ، بزنس کے طور پر اسکول و کالج چلوانے کو غریبوں کے بچوں کو تعلیم کا مشورہ دینا بہت آسان ہے ،، لیکن کبھی سچائی کا سامنا بھی کرنا چاہئے یقیناً تعلیم بہت ضروری ہے لیکن تعلیم ضروری ہے تو مہنگی کیوں ؟ اس پر کب غور ہوگا ،، علم حاصل کرو چاہے اس کے لیے چین جانا پڑے ارے بھائی علم حاصل کرنے کے لئے چین جانے کا راستہ کب ہموار ہوگا اس پر غور کیوں نہیں ؟ غرضیکہ وعظ ونصیحت سے پہلے اپنا محاسبہ ضروری ہے مشہور واقعہ ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں ایک خاتون نے آکر کہا کہ میرا بچہ گڑ بہت کھاتا ہے اسے سمجھا دیں کہ گڑ کھانا چھوڑدے تو امام اعظم نے کہا کہ جاؤ ایک ہفتہ بعد آنا جب ایک ہفتے بعد خاتون دوبارہ حاضر ہوئی تو امام اعظم نے بچے کو سمجھایا اور خاتون سے کہا کہ میں خود بہت گڑ کھاتا تھا تو سمجھانے کا اثر کیسے ہوتا اس لئے پہلے میں نے گڑ کھانا چھوڑا پھر تمہارے بچے کو گڑ نہ کھانے کی نصیحت کی ،، امام اعظم کاہی واقعہ ہے کہ ان کے زمانے میں ایک بکری غائب ہوگئی جب انہیں معلوم ہوا تو گوشت فروخت کرنے والوں سے پوچھا کہ ایک بکری کی کتنی ہوتی ہے علماء کرام بیان کرتے ہیں کہ امام اعظم نے چودہ سال تک گوشت نہیں کھایا یہ ہے محاسبہ اور یہ ہے تقویٰ ،، آج تو اسٹیج و منبر پر خطبہ دینے والوں سے سوال کردو تو اس کے اوپر نہ جانے کون کون سا ٹائٹل لگ جائے گا اسی وجہ سے سب کچھ ایک رسم ، ایک فن اور کاروبار بنتا جارہا ہے،، ورنہ اٹھاؤ مستند سے مستند روایت میں ملے گا امیر المؤمنین ہیں سارے اسلامی شہروں کے گورنروں کے گورنر ہیں سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ منبر پر تشریف فرما ہیں ابھی خطبہ دینا شروع ہی کئے ہیں کہ ایک کھڑا ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ ائے امیرالمومنین خطبہ دینا بند کیجئے پہلے یہ بتائیے کہ جتنا کپڑا آپ کو ملا تھا اتنا ہی مجھے بھی ملا ہے میرا کرتا نہیں بن پایا تو آپ کا کیسے بن گیا آپ تو مجھ سے زیادہ تندرست ہیں امیر المؤمنین نے ڈانٹا نہیں ، پھٹکارا نہیں ، غصہ نہیں ہوئے بلکہ اپنے بیٹے سے کہا کہ اس نوجوان کے سوال کا جواب دو بیٹے نے کہا کہ یہ حقیت ہے کہ کپڑا سب کو برابر برابر ملا ہے مگر میں نے اپنے حصے کا کپڑا اپنے والد کو دیدیا اور دو حصے کا کپڑا ملاکر میرے والد نے کرتا سلایا نوجوان مطمئن ہوگیا اور امیر المؤمنین کا احترام بجا لایا ،، آج کے حالات کے تناظر میں سوچئے کوئی معمولی سے معمولی آفیسر یا ملازم ہوتا، پیر عالم، خطیب و مقرر ہوتا تو سوال کرنے والے کا کیا حشر ہوتا ،، حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس واقعے سے یہی سبق ملتا ہے کہ سچائی کا سامنا کریں اور خود کا محاسبہ بھی کریں ورنہ یہی سامعین کل میدان محشر میں تمہارا دامن پکڑیں گے –
javedbharti508@gmail.com om
جاوید اختر بھارتی سابق ( سکریٹری یو پی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
جموں و کشمیر
کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
سری نگر، کپواڑہ کی ایک عدالت نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کرتے ہوئے 2023 میں ایک پولیس کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کیس میں سات دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپواڑہ، منجیت سنگھ منہاس نے 24 اپریل کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، تاہم دیگر سات ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
یہ معاملہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو 20 فروری سے 26 فروری 2023 کے درمیان جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر (جے سی آئی) کپواڑہ میں غیر قانونی
طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، جو مبینہ طور پر منشیات سے متعلق جرائم کی تفتیش کے بہانے کیا گیا تھا۔
یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں، جب متاثر کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی تھی۔ سی بی آئی نے جولائی 2025 میں ایف آئی آر درج کی اور بعد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی (مجرمانہ سازش)، 323، 325 (زخمی کرنا)، 330، 331 (اقرارِ جرم حاصل کرنے کے لیے تشدد) اور 343 (غلط حراست) شامل تھیں۔ بعد ازاں سی بی آئی نے ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر کے آخری ہفتے میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ڈی ایس پی نائک کا کردار نگرانی تک محدود تھا اور ان کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہاکہ”ان کے خلاف محض شبہ پایا جاتا ہے جو سنگین شبہ کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ شرکت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا ملزم اے-1 (ڈی ایس پی اعجاز) کو مذکورہ دفعات کے تحت بری کیا جاتا ہے۔”
تاہم عدالت نے دیگر ملزمان کے حوالے سے مختلف رائے اختیار کی، جن میں سب انسپکٹر ریاض احمد میر، اسپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد بیگ، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان اور تنویر احمد ملا، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاکر حسین کھوجا اور الطاف حسین بھٹ، اور کانسٹیبل شہنواز احمد دیداد شامل ہیں۔
ان سات میں سے چھ ملزمان کپواڑہ ضلع کے رہائشی ہیں جبکہ تنویر احمد ملا کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد، جن میں متاثر کا بیان، طبی رپورٹس اور دیگر حالات شامل ہیں، ان ساتوں کے خلاف بادی النظر میں کیس ثابت کرتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حراست کے دوران متاثر کے جسم کے حساس حصوں پر لگنے والی چوٹیں اور طبی رائے حراستی تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ متاثر مکمل طور پر ملزمان کے کنٹرول میں تھا، جو استغاثہ کے موقف کو مضبوط بناتا ہے۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ الزامات مبہم ہیں اور کہا کہ متاثر نے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے اور ان کے کردار کی تفصیل بیان کی، جو کئی دنوں تک جاری رہنے والے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ”اس مرحلے پر عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا بادی النظر میں کیس یا سنگین شبہ موجود ہے، نہ کہ مکمل ٹرائل کرنا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ان جرائم کے عناصر کو ثابت کرتا ہے۔ “ریکارڈ پر موجود مواد، اپنی ظاہری حیثیت میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان سات ملزمان نے مشترکہ منصوبے کے تحت مذکورہ دفعات کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔”
اس کے مطابق عدالت نے ساتوں ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا اور مقدمہ 14 مئی کو استغاثہ کے ثبوت کے لیے درج کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مانڈویہ نے نچلی سطح پر توجہ مرکوز کرنے پر دیا زور، سرینگر میں وزرائے کھیل کا ‘چنتن شیویر’
سرینگر نوجوانوں اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ہفتہ کو اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی سپر پاور کے طور پر ابھرنے کا جو 10 سالہ پرجوش روڈ میپ ہے، اسے نچلی سطح پر کام میں تبدیل ہونا چاہیے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے مباحثوں کی سمت متعین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے کھیلوں کے عزائم کو زمینی سطح پر عمل درآمد کے ذریعے ہی حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا
”عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے لیے ہمارا 10 سالہ روڈ میپ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہر کھیل کے میدان، ہر ضلع اور ہر نوجوان کے خواب میں زندہ نظر آنا چاہیے۔“
جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی چنتن شیوِر میں شرکت کی اور ہندوستان کو کھیلوں کی طاقت بنانے کے وژن کو سراہا۔
کھیلوں کے مرکزی وزیر نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ محض پالیسی اپنانے تک محدود نہ رہیں بلکہ فعال عمل درآمد کی طرف بڑھیں، اور اس بات پر زور دیا کہ حقیقی پیش رفت کا اندازہ اُن نتائج سے ہوگا جو اضلاع، تربیتی نظام اور نچلی سطح کے کھیلوں کے ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”کھیلو بھارت مشن صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اور قوم کے عزم کی عکاسی ہے۔“
ڈاکٹر مانڈویہ نے ریاستی حکومتوں اور اسپورٹس فیڈریشنوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط اور متحدہ ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل کے لیے قریبی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے پر ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے تعلیمی نظام کے ساتھ ربط ضروری ہے اور جسمانی تعلیم کے اساتذہ نچلی سطح کے کھیلوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی ایک باصلاحیت بچے کو مواقع کی کمی کے باعث پیچھے رہ جانا پڑے تو یہ صرف اس کی ذاتی نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل ایک تبدیلی لانے والا ذریعہ ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر مشکل علاقوں میں، جہاں یہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر مانڈویہ نے کوچ کی باقاعدہ تصدیق اور تربیت میں بہتری، کھلاڑیوں کی سائنسی بنیادوں پر تربیت اور اسپورٹس انتظامیہ میں صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک مربوط اور مسلسل نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، ”جب بنیادی ڈھانچہ، ٹیلنٹ کی شناخت اور تربیت یافتہ افرادی قوت ایک مربوط سلسلے کی صورت اختیار کر لیں گے تو اولمپک پوڈیم تک رسائی خود بخود ممکن ہو جائے گی“ اور اس طرح نچلی سطح کی شمولیت کو اعلیٰ کارکردگی سے ایک منظم راستے کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے لکشمی بائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل ایجوکیشن، گوالیار کے تحت وائی ای ایس-پی ای (ینگ انگیجمنٹ اِن اسپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن) پروگرام کا بھی آغاز کیا، جسے جماعت 9 سے 12 تک کے طلبہ کے لیے کھیلوں میں شرکت، اسپورٹس مین شپ اور قیادت کو فروغ دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری (کھیل) ہری رنجن راؤ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس شیوِر کی اہمیت کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا جو اجتماعی غور و فکر اور عملی اقدامات کو فروغ دیتا ہے۔
چنتن شیوِر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ اجتماع محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ غور و فکر، عزم اور نئے عہد کا ایک مشترکہ لمحہ ہے۔“
چنتن شیوِر میں مختلف موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں میڈل حکمتِ عملی، پالیسی ہم آہنگی، صاف اور محفوظ کھیل، اور ٹیلنٹ کی شناخت و ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پندرہ سے زائد ریاستی وزرائے کھیل کے ساتھ ساتھ ممتاز کھیل شخصیات جیسے عادل سُمرِی والا، ابھینو بندرا، پلیلا گوپی چند اور گگن نارنگ نے چنتن شیوِر میں شرکت کی اور متعلقہ فریقین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جو ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پالیسی مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مختلف ریاستوں کے وزرائے کھیل نے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو مرکز میں رکھنے والے نقطۂ نظر پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ماڈل کو ملک کے مختلف خطوں میں نافذ کر کے ہندوستان میں ایک مضبوط اور مؤثر کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
مباحثوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوچنگ نظام کو بہتر بنانے، مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، اخلاقی اور محفوظ کھیل کے ماحول کو یقینی بنانے اور اسکولوں، اکیڈمیوں اور اعلیٰ تربیتی مراکز کے درمیان مربوط سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
ان اجلاسوں میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ کھلاڑیوں کی نشاندہی سے لے کر اعلیٰ کارکردگی کی تربیت تک تسلسل برقرار رکھنے کے لیے منظم راستوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستوں کے درمیان مسلسل نگرانی، جائزہ اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی کے مقاصد کو زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
مباحثوں میں اس امر کی دوبارہ توثیق کی گئی کہ ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کھیلوں کا نظام قائم کرنے کے لیے مرکز، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان متحدہ اور مربوط نقطۂ نظر نہایت اہم ہے، جو ہندوستانکے عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہو۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
ترکیہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کردی
انقرہ، ترکیے نے امریکہ ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔ ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا7 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ





































































































