ہندوستان
ایئر انڈیا ڈریم لائنر میں ایک بار پھر تکنیکی خرابی ، ہوا ہانگ کانگ واپس

نئی دہلی، احمد آباد-لندن ایئر انڈیا کے طیارے کے حادثے کے چار دن بعد ہانگ کانگ سے دہلی آرہے ایئر انڈیا کے ایک اور بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر طیارے کو ٹیک آف کے چند منٹ بعد تکنیکی خرابی کا پتہ چلنے کے بعد ہانگ کانگ واپس جانا پڑا ذرائع کے مطابق ہانگ کانگ سے دہلی آنے والی ایئر انڈیا کی پرواز اے آئی 315 نے کل رات 11:59 بجے ہانگ کانگ سے ٹیک آف کیا ریکارڈ کے مطابق اس پرواز نے تین گھنٹے اور نو منٹ کی تاخیر سے اڑان کی۔ ٹیک آف کے بعد پائلٹ کو ہوا میں ہی تکنیکی خرابی کا شبہ ہوا۔ اس پر پائلٹ نے جہاز کو کچھ دیر تک سمندر کے اوپر اڑایا اور جب مسئلہ حل نہ ہوا تو واپسی کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد طیارہ تقریباً ایک گھنٹہ 19 منٹ کے بعد اپنی اصل جگہ یعنی ہانگ کانگ ایئرپورٹ پر واپس آگیا۔ طیارہ مقامی وقت کے مطابق صبح ایک بج کر 18 منٹ پر ہانگ کانگ کے ہوائی اڈے پر اترا۔ جہاں تکنیکی طور پر اس کی مکمل جانچ کی جائے گی۔
واضح رہے کہ 12 جون کو ایئر انڈیا کا بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر احمد آباد سے لندن جا رہا تھا جب ہوائی اڈے سے ٹیک آف کرنے کے کچھ دیر بعد ہی حادثے کا شکار ہو کر گجرات کے احمد آباد میں بی جے میڈیکل کالج کے ڈاکٹروں کے ہاسٹل سے ٹکرا گیا۔ طیارے میں 230 مسافروں اور عملے کے 12 ارکان سمیت 242 افراد سوار تھے۔ حادثے میں 241 مسافروں کی موت ہو گئی۔ زندہ بچ جانے والے واحد شخص کی شناخت ہند نژاد برطانوی شہری وشواش کمار رمیش کے طور پر ہوئی ہے، جو زخمی ہے اور اس کا علاج جاری ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
معاہدے کے قریب پہنچ کر ایران کو سخت شرائط کا سامنا کرنا پڑا: عباس عراقچی
نئی دہلی، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ایران ایم او یو پر دستخط کے قریب پہنچ چکا تھا، تاہم اسے ’’سخت ترین مطالبات، بدلتے ہوئے اہداف اور ناکہ بندی‘‘ کا سامنا کرنا پڑا۔
عباس عراقچی نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’’کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ خیر سگالی سے خیر سگالی جنم لیتی ہے اور دشمنی سے دشمنی۔‘‘ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ 47 برسوں میں اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے ان مذاکرات میں ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ سے نیک نیتی کے ساتھ بات چیت کی، تاہم “اسلام آباد ایم او یو” کے قریب پہنچنے پر امریکی جانب سے سخت شرائط اور ناکہ بندی کے اعلان کا سامنا کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے مذاکرات کی ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کی بحری ناکہ بندی کا حکم دیا ہے۔
یو این آئی۔ م ع
ہندوستان
اتر پردیش میں بس اور ٹرک کے درمیان تصادم، 6 افراد ہلاک، 7 زخمی
ہاپوڑ، اتر پردیش کے ضلع ہاپوڑ میں اتوار کی دیر رات باراتیوں سے بھری ایک بس اور ٹرک کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور سات دیگر شدید زخمی ہو گئے۔
یہ حادثہ رات تقریباً 1:30 بجے دھولانہ-گلاؤٹھی روڈ پر اس وقت پیش آیا جب بس شادی کی تقریب سے واپس آ رہی تھی۔ بارات غازی آباد کے علاقے داسنا سے بلند شہر کے علاقے گلاؤٹھی گئی تھی اور واپسی کے سفر کے دوران اس حادثے کا شکار ہو گئی۔
پولیس حکام کے مطابق ٹکر اتنی شدید تھی کہ بس پلٹ گئی۔ کئی مسافر بس کے اندر پھنس گئے جس سے جائے وقوعہ پر افراتفری پھیل گئی۔ مقامی پولیس اور راہگیروں نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا اور بس کے شیشے توڑ کر پھنسے ہوئے لوگوں کو باہر نکالا۔ ہلاک ہونے والوں میں دولہے کے والد بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
ضلع مجسٹریٹ ابھیشیک پانڈے، ایس پی کنور گیاننجے سنگھ اور چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر وید کمار نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور بعد ازاں ہسپتال جا کر زخمیوں کی عیادت کی۔
ایس پی گیاننجے سنگھ نے پیر کی صبح بتایا کہ پولیس ٹیموں نے بروقت پہنچ کر تحقیقات اور امدادی کام شروع کی۔ سڑک سے ٹرک کو ہٹا دیا گیا ہے اور ٹریفک کی روانی بحال کر دی گئی ہے۔ بس میں کل 12 مسافر سوار تھے۔ ایک ہلاک ہونے والے شخص، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ ڈرائیور تھا، کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی آمد کے بعد قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔ حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م ع
ہندوستان
اسلام آباد میں امریکہ-ایران مذاکرات کے آغاز پر کانگریس کا مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوال
نئی دہلی،اسلام آباد میں ہفتہ کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان شروع ہونے والی بات چیت کے موقع پر کانگریس پارٹی نے قیامِ امن کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کیا ہے، تاہم ساتھ ہی مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پرسخت تنقید کرتے ہوئے تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں ہندوستان کی اسٹریٹجک پوزیشننگ پر “سنجیدہ سوالات” اٹھائے ہیں۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ایک بیان میں کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اس بات چیت کے تعلق سے عالمی سطح پر، بشمول ہندوستان، یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ یہ “پائیدار امن کے عمل کا آغاز” ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی کوششوں کو “پڑوس میں اسرائیل کی مسلسل جارحیت” کی وجہ سے پٹری سے نہیں اترنا چاہیے۔ رمیش نے اس موقع کا استعمال حکومت کے سفارتی نقطہ نظر میں تضادات اور ضائع شدہ مواقع پر سوال اٹھانے کے لیے کیا، اور وزیر اعظم نریندر مودی کی رسائی کی حکمت عملیوں کو نشانہ بنایا۔
وزیر اعظم کی ماضی کی ہائی پروفائل مصروفیات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ریمارکس دیے کہ حالیہ پیش رفت کی روشنی میں “خود ساختہ وشو گرو کی ‘ہگلومیسی’ (گلے ملنے کی سفارت کاری) کے جوہر اور انداز پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں”۔
کانگریس رہنما نے ان مذاکرات کی میزبانی میں پاکستان کے کردار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ اپریل 2025 کے پہلگام دہشت گردانہ حملے میں مبینہ ملوث ہونے اور ہندوستان کی جانب سے اسے تنہا کرنے کی سفارتی کوششوں کے باوجود اسلام آباد اپنے لیے یہ “نیا کردار” حاصل کرنے میں کیسے کامیاب رہا
انہوں نے موجودہ صورتحال کا موازنہ 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد کے دور سے کرتے ہوئے کہا کہ منموہن سنگھ کی قیادت میں اس وقت کی حکومت نے “پاکستان کو انتہائی مؤثر طریقے سے تنہا کر دیا تھا”۔ جے رام رمیش نے امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات پر بھی سوال اٹھایا اور دلیل دی کہ عوامی سفارت کاری کی وسیع کوششوں—بشمول بڑے ایونٹس اور سیاسی پیغامات—کے باوجود حکومت اسٹریٹجک فائدہ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوستان نے ایک “واضح طور پر یکطرفہ تجارتی معاہدے” پر اتفاق کیا جبکہ بدلے میں اسے بہت کم حاصل ہوا، یہاں تک کہ واشنگٹن نے پاکستان کو ایک بار پھر سفارتی اہمیت دے دی۔ مزید برآں، انہوں نے برکس میں ہندوستان کی موجودہ قیادت کی پوزیشن کو امن یا ثالثی کی کوششوں کے لیے استعمال نہ کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایران، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے اہم علاقائی ممالک اس گروپ کے رکن ہیں۔
“ہندوستان نے کوئی امن اقدام کیوں شروع نہیں کیا؟” انہوں نے سوال کیا کہ نئی دہلی نے سفارتی قیادت منوانے کا موقع گنوا دیا۔
رمیش نے چین کے حوالے سے ہندوستان کے رویے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اسے گزشتہ اٹھارہ مہینوں کے دوران “منظم ہتھیار ڈالنے” سے تعبیر کیا۔ انہوں نے اسے پاکستان کے لیے بیجنگ کی مسلسل حمایت سے جوڑا، خاص طور پر حالیہ علاقائی کشیدگی اور ‘آپریشن سندور’ پر اسلام آباد کے ردعمل کے تناظر میں۔
مغربی ایشیا کے وسیع تر مفادات پر زور دیتے ہوئے کانگریس رہنما نے وہاں استحکام کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ “مغربی ایشیا میں امن جلد واپس آنا چاہیے،” اور مزید کہا کہ حالیہ کشیدگی کے بعد اسٹریٹجک آبنائے ہرمز کو معمول پر آنا چاہیے۔ انہوں نے وزیر اعظم کے حالیہ دورہ اسرائیل کے وقت پر بھی تنقید کرتے ہوئے اسے اس کے فوراً بعد بڑھنے والی کشیدگی کے تناظر میں “غیر دانشمندانہ اور غلط وقت پر کیا گیا” قرار دیا۔ یہ بیان حکومت کے خارجہ پالیسی بیانیے کو چیلنج کرنے کی کانگریس کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ عالمی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا اسلام آباد مذاکرات دنیا کے سب سے زیادہ غیر مستحکم خطوں میں سے ایک میں تناؤ کو کم کر پاتے ہیں۔
یواین آئی۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل تصادم میں مارے گئے شخص کی شناخت اے ٹی ایم کارڈ سے ہوئی
جموں و کشمیر1 week agoجموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟
دنیا6 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق تشویشناک دعویٰ، قیادت پر سوالات اٹھنے لگے
دنیا6 days agoایران میں کریک ڈاؤن تیز، مخالفین کے سہولت کاروں کے خلاف فوری فیصلوں کی ہدایت
ہندوستان5 days agoہندوستان نے مغربی ایشیا میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا، مستقل امن کی اپیل
دنیا1 week agoپاسدارانِ انقلاب کا ریاض حملے میں ملوث ہونے سے انکار
دنیا1 week agoامریکہ۔ ایران جنگ: ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کی شرائط پر تبادلہ خیال
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایرانی افزودہ یورینیئم قبضے میں لینے کا عندیہ، ماہرین نے خطرناک قرار دے دیا
دنیا1 week agoایران کی جہازوں کو ہرمز سے گزرنے کیلئے نئی ہدایات، کئی کمپنیوں نے مسترد کر دیں
دنیا4 days agoدنیا ایران کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے ادائیگی قبول نہیں کرے گی: متسوتاکس
ہندوستان1 week agoادائیگی کے مسائل کے باعث ایرانی تیل کے ٹینکر کا رخ چین موڑنے کی رپورٹ غلط : وزارتِ پیٹرولیم
جموں و کشمیر6 days agoلشکر طیبہ کا بین ریاستی دہشت گردی کے ماڈیول کا انکشاف، دو پاکستانیوں سمیت 5 گرفتار









































































































