تازہ ترین
افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی اگلے برس ممکن

خبراردو:
ایک امریکی سنیٹر کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کا سلسلہ اگلے برس سے شروع ہوسکتا ہے اور امریکی صدر فوجیوں کی تعداد بارہ ہزار سے کم کرکے 8600 کرسکتے ہیں۔
امریکی سنیٹر لنڈسی گراہم نے کابل میں کہا کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے چند ہفتوں میں افغانستان میں متعین فوج کی تعداد بارہ ہزار سے کم کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ہم اس کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے افغان فوج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس کی صلاحیت بڑھی ہے۔ امریکی سینیٹر نے یہ بھی کہا کہ جیسے جیسے افغان فوج کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا جائے گا ویسے ہی امریکی فوج کی تعداد کم سے کم کی جاسکتی ہے۔
امریکی سنیٹر لنڈسی گراہم نے ماضی میں افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی پر تحفظات کا اظہار کیاتھا تاہم اب وہ واپسی کی حمایت کررہے ہیں۔ گراہم کے مطابق افغانستان میں 8600 امریکی فوجی اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کافی ہیں کہ افغانستان سے امریکہ کے خلاف ایک اور دہشت گردانہ حملے کا امکان نہیں ہوگا۔ امریکی سنیٹر نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں طالبان پر بھروسہ کرنا مشکل ہے۔
سنیٹر گراہم کے مطابق فوج کی واپسی ”مشروط” ہونی چاہئے اور طالبان کو اپنا وہ وعدہ نبھانے ہوں گے جو انہوں نے مذاکرات کے دوران کئے تھے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مقصد فوج کو واپس لے جانا ہے لیکن ہمارا آخری ہدف اس بات کو بھی یقینی بنانا ہے کہ امریکا کو اس ملک میں دوبارہ نہ آنا پڑے۔
امریکی سینیٹر لنڈسی گراہم
گراہم نے تاہم یہ بات واضح نہیں کہ امریکہ کب تک اپنی پوری فوج واپس بلائے گا۔ حالانکہ طالبان کا کہنا ہے کہ امن معاہدہ کے شرائط میں افغانستان سے امریکی فوج کی مکمل واپسی کی بات شامل ہونی چاہئے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان حال ہی میں دوبارہ شروع ہونے والے امن مذاکرات پھر سے تعطلی کا شکار ہیں۔
مذاکراتی عمل کے التوا کا شکار ہونے کی وجہ گزشتہ بدھ کے روز بگرام ہوائی اڈے کے باہر ہوئے وہ حملہ ہے، جس میں دو افغان شہری ہلاک اور ستر دیگر افراد زخمی ہوگئے۔ اس حملے میں بین الاقوامی اتحادی افواج کے پانچ فوجی بھی زخمی ہوئے تھے۔
امریکہ کے خصوصی سفیر زلمے خلیل زاد گذشتہ ایک برس سے طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ کے لیے کوشاں ہیں۔ امریکہ کی کوشش ہے کہ وہ طالبان کو اس پر قائل کریں کہ کسی بھی دہشت گرد گروپ کوا فغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے
دنیا
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 108 ڈالر سے تجاوز کرگئی
نیویارک، بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 108.01 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں ، یہ گزشتہ تین ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔
تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان مسلسل جاری ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 108 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گئی ہیں۔ عالمی بینچ مارک برینٹ کی قیمت میں 2.55 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 108.01 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ یہ گزشتہ تین ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس کی قیمتیں 2.50 فیصد اضافے کے ساتھ 96.74 ڈالر فی بیرل پر ریکارڈ کی گئیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث امریکی اسٹاک مارکیٹ کے مستقبل کے سودوں میں مندی دیکھی گئی اور S&P 500 کے سودے 0.3 فیصد گر گئے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت تمام تر توجہ آبنائے ہرمز پر مرکوز ہے، جو مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے اس راستے سے سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جو عالمی سطح پر رسد اور طلب میں عدم توازن پیدا کر رہا ہے۔ ماہرینِ معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اس تیزی کے براہِ راست اثرات پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پر پڑیں گے، جہاں ایندھن مہنگا ہونے سے مہنگائی کی لہر میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
باقر قالیباف کی ’جان فدا‘ مہم میں 3 کروڑ ایرانیوں کے اندراج کی تصدیق
تہران، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکہ سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کے سربراہ باقر قالیباف نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے بعد ’جان فدا‘ مہم میں 3 کروڑ ایرانیواں نے اندراج کرالیا۔
باقر قالیباف نے 3 کروڑ رضاکاروں کے اندراج کو سراہا اور کہا کہ ایرانی قوم کے قربانی کےعزم نے دشمنوں کو مایوس اور حیران کردیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ رضاکار تاریخ کے فاتح ہیں، اُنہیں فخر ہے کہ وہ 3 کروڑ رضاکاروں میں سے ایک ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ ایران سے متعلق حکمت عملی طے کرنے کے لیے اعلیٰ سکیورٹی حکام سے ملاقات کریں گے
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کو اپنے اعلیٰ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مشیروں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کریں گے جس میں ایران جنگ اور اس سے پیدا ہونے والے سفارتی تعطل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق مسٹر ٹرمپ اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ اگلے اقدامات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ حکام کے مطابق ایران کی جانب سے حال ہی میں پیش کی گئی نئی تجویز اہم امریکی شرائط پر پورا نہیں اتری۔ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق ایران کی تجویز کا بنیادی محور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور اس اہم سمندری راستے پر امریکی بحری ناکہ بندی کو ختم کرنا تھا جبکہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک ملتوی کرنا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ اسلام آباد سے ہفتے کے آخر میں نئے مذاکرات کے امکانات پیدا ہو گئے تھے۔ اسلام آباد اس سے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان واحد براہ راست مذاکرات کی میزبانی کر چکا ہے، حالانکہ ان دوروں کے کوئی ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہوئے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا6 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا6 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoشہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر
دنیا1 week agoامریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ زیادہ دور نہیں
دنیا6 days agoٹرمپ امریکہ کو ایک اور تباہ کن ڈیل میں نہیں جھونکیں گے: وائٹ ہاؤس
دنیا6 days agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں








































































































