تازہ ترین
الحاج ڈاکٹر محمد علی متو سپرد خاک

نیشنل کانفرنس نے ریاست کے معروف معالج اور ممتاز تاجر خاندان کے چشم و چراغ الحاج ڈاکٹر محمد علی متو ساکن چمردوری زینہ کدل حال 10گپکار روڑ کے انتقال پُرملال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے جملہ سوگواران کیساتھ دلی تعزیت کی اور مرحوم کی جنت نشینی اور بلند درجات کیلئے دعا کی۔کے این ایس کے مطابق یاد رہے کہ مرحوم ڈاکٹر محمد علی متو ریاست کے بڑے بڑے ہسپتالوں کے سربراہ رہنے کے علاوہ کئی کلیدی عہدوں پر بھی فائز رہے۔ مرحوم ربط و ضبط اور فرض شناس ڈاکٹر تھے۔ مرحوم شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے داماد اور صدرِ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال کے چھوٹے بہنوئی تھے۔
مرحوم نے اتوار کی شام اپنی رہائش گاہ واقع گپکار پر آخری سانس کی اور اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اُن کی نمازِ جنازہ آج صبح اُن کی رہائش گاہ پر انجام دی گئی جس میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، ڈاکٹر کمال، مظفر شاہ، آصف خان اورمرحوم کے برادران نے شرکت کی۔ مرحوم کو اپنے آبائی مقبرہ واقع زیارت شیخ بہاؤ الدین کشمیریؒ کے صحن میں سپرد خاک کیا گیا۔
مرحوم کی شریک حیات بیگم سریہ متو نے اعزاء و اقارب سے استدعا کی ہے کہ وہ موجودہ حالات کے پیش نظر تعزیت پرسی کیلئے نہ آئیں اور مرحوم کے حق میں اپنے اپنے گھروں سے ہی کلمات اور دعائے مغفرت ادا کئے جائیں۔ نیشنل کانفرنس نے پارٹی کے محبوس لیڈران، جن میں جنرل سکریٹری ایڈوکیٹ علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران چودھری محمد رمضان، محمد شفیع اوڑی، عبدالرحیم راتھر، مبارک گل، شمیمہ فردوس، عرفان شاہ، میر سیف اللہ، علی محمد ڈار،ڈاکٹر بشیر احمد ویری، ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی، ڈاکٹر محمد شفیع شاہ اور ہلال احمد لون وغیرہ شامل ہیں، کی طرف سے بھی سوگوار خاندان خصوصاً پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، نائب صدر عمر عمر عبداللہ اور معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال کیساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
دریں اثناء پارٹی کی تینوں خطوں کی اکائیوں کے علاوہ اراکین پارلیمان ایڈوکیٹ محمد اکبر لون، جسٹس(ر) حسنین مسعودی، سینئر لیڈران میان الطاف احمد، آغا سید روح اللہ مہدی، شریف الدین شارق، پیرزادہ احمد شاہ، سکینہ ایتو، آغا محمود، نذیر احمد خان گریزی، جاوید احمد ڈار، تنویر صادق، الطاف احمد کلو، شیخ اشفاق جبار، سلمان علی ساگر، محمد سعید آخون، قمر علی آخون، فیروز احمد خان، حاجی حنیفہ جان، ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، عمران نبی ڈار، ایڈوکیٹ شوکت احمد گنائی، اعجاز جان، خالد نجیب سہروردی، سجاد احمد کچلو، سجاد شاہین، شیخ بشیر احمد، صبیہ قادری، پیر آفاق احمد،ڈاکٹر سمیر کول، جگدیش سنگھ آزاد، مشتاق احمد گورو، شیخ محمد رفیع، عبدالمجید متو، محمد ابراہیم میر، ڈاکٹر محمد شفیع، سارا حیات شاہ، سید توقیر احمد شاہ، ایڈوکیٹ ریاض احمد خان، ایڈوکیٹ شبیر احمدکلے، غلام محمد بٹ، غلام محی الدین میر، احسان پردیسی،منظور احم وانی،فاروق احمدشاہ، ریاض بیدار، ارشاد رسول کار، شفقت وٹالی، جنک سنگھ سوڑھی، ٹی ایس لردک کے علاوہ ضلع صدور، ضلع سکریٹری صاحبان، بلاک صدور، یوتھ اور خواتین ونگ کے عہدیداران نے بھی اس سانحہ ارتحال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پارٹی اس عظیم صدمہ میں برابر شریک ہے۔
ہندوستان
راجیہ سبھا کے چیئرمین نے ‘عآپ’ سے الگ ہونے والے سات ارکان کے بی جے پی میں انضمام کو منظوری دے دی
نئی دہلی، راجیہ سبھا کے چیئرمین نے ایوان کے ان سات ارکان کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں انضمام کو منظوری دے دی ہے جو حال ہی میں عام آدمی پارٹی (عآپ) سے الگ ہوئے ہیں۔
راجیہ سبھا سکریٹریٹ کی جانب سے پیر کو جاری کردہ ایوان میں مختلف جماعتوں کے ارکان کی فہرست میں، عام آدمی پارٹی سے الگ ہو کر بی جے پی میں شامل ہونے کا اعلان کرنے والے ارکان کے نام اب بی جے پی کی فہرست میں آگئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی کے ارکان کی تعداد 106 سے بڑھ کر 113 ہو گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ عام آدمی پارٹی سے منتخب ہونے والے ارکان راگھو چڈھا، ڈاکٹر سندیپ کمار پاٹھک اور ڈاکٹر اشوک کمار متل نے گزشتہ 24 اپریل کو دارالحکومت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کے سات ارکان کے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔
ان ارکان میں مذکورہ تین کے علاوہ جناب ہربھجن سنگھ، وکرم جیت سنگھ ساہنی، سواتی مالیوال اور راجندر گپتا شامل ہیں۔ راجیہ سبھا سکریٹریٹ کی جانب سے آج جاری کردہ فہرست کے مطابق، ان ارکان کو 24 اپریل سے ہی بی جے پی کے ارکان کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔
اس فہرست میں اب عام آدمی پارٹی کے ارکان کی تعداد کم ہو کر صرف تین رہ گئی ہے۔ ایوان میں اب عام آدمی پارٹی کے لیڈر سنجے سنگھ کے علاوہ دو ارکان مسٹر نارائن داس گپتا اور مسٹر سنت بلبیر سنگھ کے نام شامل ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے مسٹر راگھو چڈھا کو ایوان میں پارٹی کے ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، جس کے بعد سے پارٹی میں مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
یواین آئی ۔ایف اے
دنیا
آپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے: ٹرمپ
واشنگٹن، سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سخت برہم ہو گئے جب اینکر نورہ او ڈانل نے حملہ آور کول ایلن کا پیغام پڑھ کر ان سے سوال کر دیا۔
پولیٹیکو نے لکھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ایک انٹرویو میں صحافی نورہ او ڈانل پر سخت تنقید کی، کیوں کہ انھوں نے اُس مشتبہ حملہ آور کے منشور سے ایک اقتباس پڑھ دیا تھا، جس نے ایک دن قبل وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ جب او ڈانل نے اتوار کو وائٹ ہاؤس میں ریکارڈ کیے گئے انٹرویو کے دوران حملہ آور کول ایلن کے منشور سے یہ جملہ پڑھا ’’میں اب اس بات کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ ایک پیڈوفائل، ریپسٹ اور غدار میرے ہاتھوں کو اپنے جرائم سے آلودہ کرے۔‘‘ تو ٹرمپ، جو اس سے پہلے نسبتاً پُرسکون تھے، اچانک غصے میں آ گئے۔
ٹرمپ نے کہا ’’میں انتظار کر رہا تھا کہ آپ یہ پڑھیں گی کیوں کہ مجھے معلوم تھا کہ آپ ایسا کریں گی، کیوں کہ آپ لوگ بہت برے ہیں، بہت برے لوگ۔ ہاں، اس نے یہ لکھا ہے۔ میں ریپسٹ نہیں ہوں۔ میں نے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی۔‘‘ حملہ آور کے بارے میں ٹرمپ کا نیا انکشاف او ڈانل نے درمیان میں پوچھا ’’اوہ، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اشارہ کر رہا تھا‘‘ لیکن صدر نے ان کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا ’’میں پیڈوفائل نہیں ہوں۔‘‘
ٹرمپ اس بات پر بھی برہم دکھائی دیے کہ شاید ان کا تعلق جیفری اپیسٹین کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے، حالاں کہ منشور یا اوڈانل کی بات میں ان کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا ’’آپ ایک بیمار شخص کی یہ بکواس پڑھ رہی ہیں۔ مجھے ان چیزوں سے جوڑا جا رہا ہے جن کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ مجھے مکمل طور پر بری الذمہ قرار دیا جا چکا ہے۔‘‘ ٹرمپ نے مزید کہا ’’آپ کو یہ پڑھنے پر شرم آنی چاہیے، کیوں کہ میں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوں۔ آپ کو ’60 منٹس‘ میں یہ نہیں پڑھنا چاہیے تھا۔ آپ باعثِ شرم ہیں۔‘‘ اینکر نے کہا ’’حملہ آور نے لکھا ہے کہ میں ہوٹل میں ہوں اور کوئی چیکنگ نہیں ہوئی، سیکرٹ سروس کیا کر رہی ہے، یہ نااہل ہے۔‘‘ اس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’’حملہ آور خود بھی نااہل ہے وہ آسانی سے پکڑا گیا۔‘‘
اینکر نے کہا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گزشتہ رات کوئی حملہ نہیں ہوا تھا۔ ٹرمپ نے کہا ایسے لوگوں کو لگتا ہے کہ جنگ عظیم بھی نہیں ہوئی، جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں وہ بیمار ذہن کے مالک ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ حملہ آور اچھے کالج سے پڑھا اور ذہین بھی ہے لیکن بیمار ذہن ہے، کچھ لوگ ذہین ہوتے ہیں لیکن بیمار ذہن کے بھی ہوتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سعودی عرب اور ایرانی وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ
ریاض، سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ایران کے ہم منصب عباس عراقچی نے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس دوران علاقائی صورتحال اور خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا رابطے کے دوران حالیہ علاقائی صورتحال اور اس حوالے سے جاری سفارتی کوششوں پر بات کی گئی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی پیش رفت، تنازع کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے حوالے سے تہران کے موقف سے آگاہ کیا۔
علاوہ ازیں سعودی وزیر خارجہ سے افغان ہم منصب امیر خان متقی نے بھی رابطہ کیا، وزرائے خارجہ نے خطے کی حالیہ صورتحال اور مشترکہ دلچسپی کے امور پر بات چیت کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا6 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا6 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا7 days agoشہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر
دنیا1 week agoامریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ نے جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا: اسماعیل بقائی
دنیا6 days agoٹرمپ امریکہ کو ایک اور تباہ کن ڈیل میں نہیں جھونکیں گے: وائٹ ہاؤس




































































































