تازہ ترین
باغ میں پڑا رہنے والا ’عجیب سا پتھر‘ سب سے بڑا شہاب ثاقب نکلا

ماہرین خلائی سائنس سے متعلق جرمنی میں پیش آنے والے اس واقعے کو ’ناقابل یقین اور شاندار دریافت‘ قرار دے رہے ہیں۔ عشروں تک ایک باغ میں پڑا رہنے والا ’عجیب سا پتھر‘ ملک میں آج تک دریافت کیا گیا سب سے بڑا شہاب ثاقب نکلا۔اس خلائی جسم کے بارے میں جرمن خلائی تحقیقی ادارے ڈی ایل آر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ شہابیہ آج تک ملک میں کہیں سے بھی ملنے والا سب سے بڑا سنگِ شہاب ہے۔
لیکن دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ خلائی طبیعیات کے ماہرین کے لیے ایک ‘خزانے‘ کی حیثیت رکھنے والا یہ پتھر جرمنی کے ایک چھوٹے سے جنوب مغربی قصبے ‘بلاؤ بوئےرن‘ میں کئی دہائیوں تک ایک گھر کے باغ میں پڑا رہا تھا۔
ڈی ایل آر کے شہابیوں سے متعلق علوم کے ماہر ڈیٹر ہائن لائن کے مطابق، ”اس شہابیے کی کیمیت 30.26 کلوگرام یا 66.7 پاؤنڈ بنتی ہے۔ اس سے قبل جرمنی میں جتنے بھی شہابیے ملے تھے، وہ سب کہیں کم کیمیت اور جسامت کے حامل تھے۔‘‘’عجیب سا پتھر‘
یہ شہابیہ ‘بلاؤ بوئےرن‘ میں ایک شخص کے باغ میں برس ہا برس سے پڑا ہوا تھا۔ تقریباﹰ ساڑھے بارہ ہزار کی آبادی والے اس قصبے میں اس شہری نے 1989ء میں اسے اٹھا کر (یا تقریباﹰ کھود کر) اپنے باغ سے ہٹانے کی کوشش کی تھی۔ تب اس نے دیکھا تھا کہ یہ ‘عجیب سا پتھر‘ نہ صرف بہت بھاری تھا بلکہ اس کی بالائی سطح کافی حد تک ایسی تھی، جیسے لوہے کو زنگ لگ گیا ہو۔
2015ء میں اس جرمن باشندے نے تو اس شہابیے کو اس کی اصلیت جانے بغیر اپنے باغ میں جمع ہونے والے کوڑے کے ساتھ اٹھا کر باہر پھینک دینے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا۔ پھر عین آخری وقت پر اس کا ارادہ بغیر کسی وجہ کے ہی بدل گیا تھا۔ تب اس نے یہ پتھر اٹھا کر اپنے گھر کے تہہ خانے میں رکھ دیا تھا۔ اس ‘عجیب سے پتھر‘ کے بارے میں اس نے جرمن اسپیس ایجنسی کو اطلاع اس سال جنوری میں دی تھی۔
ڈی ایل آر نے اپنے بیان میں کہا، ”اس خلائی جسم کی بالائی سطح پر زمین پر کئی دہائیوں تک ایک باغ میں پڑے رہنے کی وجہ سے ایسے ظاہری مادی آثار پیدا ہو گئے تھے کہ کوئی ماہر سائنسدان بھی صرف ایک بار دیکھ کر یہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ یہ کوئی شہابیہ ہے۔‘‘اس شہابیے کے چند نمونے لے کر ان کا سائنسی مطالعہ کیا گیا، تو حال ہی میں تصدیق ہو گئی کہ یہ پتھر اس زمین کا تو ہے ہی نہیں۔ ماہرین اب یہ پتا چلانے کی کوشش میں ہیں کہ یہ شہابیہ خلا سے زمین پر کب گرا ہو گا؟
ڈی ایل آر کے ماہرین نے اس شہابیے کی دریافت کے مقام کی نسبت سے اسے ‘بلاؤ بوئےرن‘ (Blaubeuren) ہی کا نام دے دیا ہے۔ اس سے پہلے جرمنی میں ملنے والے سب سے بڑے شہاب ثاقب کی کیمیت 17.25 کلوگرام یا 38 پاؤنڈ تھی۔
شہاب ثاقب کسی ایسے اڑتے ہوئے خلائی جسم کو کہتے ہیں، جو خلا سے زمین یا کسی دوسرے سیارے پر گرے۔ ثاقب اسے عام طور پر اس کی حدت اور توانائی کے باعث اس کے چمک دار ہونے کی وجہ سے کہتے ہیں۔ انگریزی میں meteorite کہلانے والے ایسے کسی خلائی جسم کو اردو میں مختصراﹰ شہابیہ یا سنگِ شہاب بھی کہتے ہیں۔
جموں و کشمیر
‘پرسنالٹیز اینڈ لیجنڈز آف جے اینڈ کے’ پر پابندی کا مطالبہ
جموں، جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے ہفتہ کے روز ‘پرسنالٹیز اینڈ لیجنڈز آف جے اینڈ کے’ پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری کتب خانوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
جموں میں آر ایس پورہ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ، سینئر وکیل سنیل سیٹھی اور پارٹی کے ترجمان زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنیل شرما نے اس اشاعت کو ‘تعلیمی تخریب کاری’ قرار دیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس کتاب کو سرکاری کتب خانوں میں شامل کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ”ہندوستان مخالف اور علیحدگی پسند ماحولیاتی نظام” کا اثر اب بھی برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کتاب دہشت گردوں، علیحدگی پسندوں اور ملک مخالف عناصر کی ستائش کرتی ہے، جس سے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو سنگین خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائس پریس کی شائع کردہ یہ کتاب کوئی مستند تاریخی دستاویز نہیں، بلکہ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور ملک مخالف نظریات کو جائز قرار دینے کی کوشش ہے۔
سنیل شرما نے الزام لگایا کہ کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں میں ملوث افراد کو ‘ہیرو’ اور ‘مجاہدِ آزادی’ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جبکہ ہندوستان اور ہندوستانی سیکورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی زبان اور علیحدگی پسند بیانیے کی تشہیر ہندوستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے براہِ راست چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس قسم کے مواد کا مقصد تاریخ کو مسخ کرنا، قومی اداروں کو کمزور کرنا اور نوجوان نسل کو گمراہ کرنا ہے۔ ان کا الزام تھا کہ یہ کتاب انتہا پسندی کو فروغ دینے کے ایک ذریعہ کے طور پر کام کرتی ہے اور نوجوانوں کے ذہنوں میں بھارت مخالف جذبات پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس کتاب کو فوری طور پر سرکاری کتب خانوں سے ہٹایا جائے۔
سنیل شرما نے مزید الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ کی ستائش کی گئی ہے حالانکہ اس میں قتل کے مقدمات میں ان کی سزا اور 1984 میں تہاڑ جیل میں دی گئی پھانسی کا بھی ذکر موجود ہے۔
یو این آئی۔ اے ایم۔
دنیا
پاکستانی حکام کی جابرانہ کارروائیوں کے خلاف پی او کے رہنماؤں کا 5 جولائی کو مکمل ہڑتال کا اعلان
مظفر آباد، پاکستانی حکام کی جابرانہ اور وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف مظاہرین نے 5 جولائی کو پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (پی او کے) میں مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان، مقامی رہنماؤں نے شہریوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جبر کے خلاف احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
‘جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی’ کے رہنما سردار امان خان نے سری نگر، جموں، پونچھ، راجوری اور لداخ کے عوام سے پی او کے کے باشندوں کے ساتھ یکجہتی ظاہر کرنے کی اپیل کی اور دعویٰ کیا کہ انتظامیہ نے مظاہرین پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں الزام لگایا، “ہم پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور ہماری غذائی سپلائی روک دی گئی ہے۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک کو کچلنے کے لیے جان بوجھ کر راشن کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔
یہ اپیل مظفر آباد، راولاکوٹ اور پی او کے کے دیگر حصوں میں جاری مسلسل احتجاج کے درمیان سامنے آئی ہے۔ اس تحریک کی قیادت کرنے والی تنظیم جے اے اے سی اپنے 38 نکاتی مطالبات کے چارٹر پر مہم چلا رہی ہے، جس میں معاشی اصلاحات اور مقامی وسائل کی منصفانہ تقسیم شامل ہے۔
جے اے اے سی کور کمیٹی کے رکن خواجہ مہران نے تمام باشندوں سے سڑکیں، بازار، کاروبار اور عوامی مقامات بند رکھ کر 5 جولائی کو مکمل شٹ ڈاؤن کرنے کی گزارش کی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا، “5 جولائی کو جموں و کشمیر کی ہر ایک سڑک، دکان، چوراہا اور داخلی راستہ مکمل طور پر بند ہونا چاہیے۔” انہوں نے برمنگھم اور لندن سمیت مختلف شہروں میں مقیم کشمیری تارکینِ وطن سے بھی یکجہتی کے مظاہرے کرنے اور مساجد سے اس ہڑتال کے حق میں اعلانات کرنے کی اپیل کی ہے۔
تحریک کے پیچھے ہٹنے کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے خواجہ مہران نے واضح کیا، “جب تک ہماری آخری سانس باقی ہے، کوئی سمجھوتہ یا سرنڈر نہیں ہوگا۔ اب صرف مزاحمت، مزاحمت اور صرف مزاحمت ہوگی۔”
یو این آئی۔ م س ؎
ہندوستان
حکومت کا 12 سالہ سفر قلت سے خود انحصاری اور خود انحصاری سے وکست بھارت کی سمت بڑھنے کا: راجناتھ
نئی دہلی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ مودی حکومت کا 12 سالہ سفر قلت سے خود انحصاری کی طرف، خود انحصاری سے خود اعتمادی کی طرف اور خود اعتمادی سے وکست بھارت کی تعمیر کی سمت میں پیش رفت کا رہا ہے۔
مسٹر سنگھ نے ہفتہ کو یہاں ایک میڈیا آرگنائزیشن کی جانب سے منعقدہ پروگرام میں کہا، “گزشتہ 12 سال میں ہندوستان کا سفر قلت سے خود انحصاری کی طرف، خود انحصاری سے خود اعتمادی کی طرف اور خود اعتمادی سے وکست بھارت کی تعمیر کی طرف پیش رفت کا رہا ہے۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے پہلی میعاد کار میں قلت کو دور کیا، مواقع کو بڑھایا اور ورک کلچر میں تبدیلی کی، دوسری میعاد کار میں، آرزوؤں کو کامیابیوں میں تبدیل کیا اور ملک کو خود انحصاری کی راہ پر مضبوطی سے آگے بڑھایا۔ تیسری میعاد کار میں، حکومت “اصلاح، کارکردگی، تبدیلی” کی پالیسی کے ذریعے وکست بھارت کی مضبوط بنیاد رکھ رہی ہے اور چوتھی میعاد کار میں دنیا ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے عروج کی گواہ بنے گی۔ وزیر دفاع نے گزشتہ 12 سال میں ملک میں ہونے والی تبدیلیوں کے اہم پہلوؤں کے بارے میں کہا کہ جب 2014 میں ‘میک ان انڈیا’ اسکیم شروع ہوئی تھی تو کچھ لوگوں نے اسے ناکام بتایا تھا لیکن اس اسکیم نے کامیابی کے نئے معیارات قائم کیے اور یہ آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا، “ہندوستان کے عالمی وقار میں ایک انقلابی تبدیلی آئی ہے۔ پہلے جہاں دنیا ہماری بات پر توجہ نہیں دیتی تھی، وہیں آج وہ عالمی مسائل پر ہندوستان کے نقطہ نظر کو غور سے سنتی ہے۔” انہوں نے کہا کہ 2021 میں شروع کیے گئے انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن پر ابتدائی شکوک و شبہات کے باوجود، ‘پلگ اینڈ پلے’ بنیادی ڈھانچے کے ماڈل پر مبنی سیمی کنڈکٹر پارکوں کے قیام کی وجہ سے ملک نے گزشتہ سال اپنی خود کی سیمی کنڈکٹر چپ تیار کی۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ مالی سال 26-2025 میں سالانہ دفاعی پیداوار اب تک کی بلند ترین سطح 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ مالی سال 15-2014 کے اعداد و شمار سے تین گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی برآمدات ریکارڈ 38,000 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہیں۔ یہ مالی سال 14-2013 کے 686 کروڑ روپے سے تقریباً 57 گنا زیادہ ہے اور میک ان انڈیا اقدامات میں دنیا کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیر دفاع نے ہندوستان کے مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی نمایاں ترقی کے بارے میں بتاتے ہوئے موبائل مینوفیکچرنگ، آٹوموبائل برآمدات، دیسی لوکوموٹیو کی پیداوار اور میک ان انڈیا کے تحت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع کا ذکر کیا۔ انہوں نے مقامی طور پر تیار کردہ میک ان انڈیا 5جی ٹیکنالوجی کی ملک گیر تیز رفتار توسیع کی بھی بات کی اور کہا کہ 6جی کی ترقی کی سمت میں کوششیں جاری ہیں۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ 2014 سے پہلے، فلاحی اسکیموں کی تقسیم میں بدعنوانی اور غبن کو بڑے پیمانے پر ناگزیر سمجھا جاتا تھا جس کی وجہ سے فائدہ مستحقین تک نہیں پہنچ پاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر، جن دھن، آدھار اورموبائل کی ٹرینٹی اور ‘جے اے ایم ٹرینٹی ‘ کے ذریعے اس چیلنج کا حل نکالا ہے۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کا خاتمہ اور نکسلی انتہاپسندی کو ختم کرنے کے لیے کی جانے والی مسلسل کوششیں حکومت کے ان مسائل کو حل کرنے کے پختہ عزم کی روشن مثالیں ہیں جنہیں کبھی ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا، “ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بن گیا ہے۔ گزشتہ 12 سال میں، اسٹارٹ اپس کی تعداد 500 سے بڑھ کر 2 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے اور یونیکورنز کی تعداد چار سے بڑھ کر 125 ہو گئی ہے۔”
مسٹر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی ثقافت اس کی شناخت، اتحاد اور قومی شعور کی بنیاد ہے اور تہذیب، ثقافت اور ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ہمہ جہت ترقی کو بھی آگے بڑھایا گیا ہے۔ وزیر دفاع نے آج کے دور میں میڈیا کے کردار کو ‘مواصلات کی کثرت’ کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم بتاتے ہوئے کہا کہ چیلنج معلومات کی کمی نہیں بلکہ اس کی درستگی اور معتبریت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) جیسی تکنیکی ترقی سے ‘صحافت’ بھی متاثر ہوئی ہے لیکن یہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں اور ذہانت کو پیچھے نہیں چھوڑ پائیں گی۔ انہوں نے کہا، “صحافت کی مستقبل کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ وہ اے آئی کی صلاحیتوں اور انسانی ہمدردی کے درمیان کتنا اچھا توازن اور ہم آہنگی قائم کر پاتی ہے۔ جہاں اے آئی صحافت کو تیز اور زیادہ درست بنائے گا، وہیں جذباتی ذہانت یہ یقینی بنائے گی کہ یہ انسانی اور قابل اعتماد بنی رہے۔”
مسٹر سنگھ نے کہا کہ صحافت کی اصل طاقت صرف معلومات کی تشہیر میں نہیں بلکہ سماج کو صحیح سمت میں رہنمائی کرنے، سچائی کو سامنے لانے اور جمہوریت کو مضبوط کرنے میں پنہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات سماج اور دفاعی افواج کے حوصلے پر سنگین اثرات مرتب کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافت میں سب سے پہلے خبر دینا اہم ہو سکتا ہے لیکن صحیح خبریں دینا اس سے بھی کہیں زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا، “خصوصی طور پر جب موضوع دفاعی افواج، قومی سلامتی یا ملک کی خدمت میں اعلیٰ ترین قربانی دینے والوں کے احترام سے متعلق ہو، تو ہر لفظ قومی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ میڈیا کو ہمیشہ درستگی، غیر جانبداری اور غیرجانبداری کو برقرار رکھنا چاہیے۔”
یو این آئی ایف اے
ہندوستان5 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا6 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
جموں و کشمیر1 week ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان1 week agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا5 days agoٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
دنیا3 days agoایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
جموں و کشمیر1 week agoآمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
دنیا1 week agoایران نے اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا
ہندوستان5 days agoزمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صرف ایران ہٹائے گا، فرانس کا مؤقف مسترد
دنیا1 week agoوینزویلا میں تباہ کن زلزلوں کے بعد اموات کی تعداد 920 سے تجاوز کرگئی
ہندوستان1 week agoپاسپورٹ فیس میں اضافے پر کانگریس کی مرکز پر تنقید ، سرجیوالا نےکہا ’مہنگائی کی نئی قسط‘































































































