جموں و کشمیر
جموں وکشمیر کے اسکولوں میں سرمائی تعطیلات کا اعلان

سری نگر ،محکمۂ تعلیم نے منگل کے روز کشمیر اور جموں ڈویژن کے ونٹر زون میں واقع تمام سرکاری و تسلیم شدہ نجی اسکولوں کے لیے سرمائی تعطیلات کا باضابطہ شیڈول جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ شیڈول کے مطابق پری پرائمری کلاسز 26 نومبر 2025 سے 28 فروری 2026 تک بند رہیں گی۔اسی طرح پہلی سے آٹھویں جماعت تک سرمائی تعطیلات یکم دسمبر 2025 سے 28 فروری 2026 تک رہیں گی۔
جبکہ نویں سے بارہویں جماعت کے لیے تعطیلات 11 دسمبر 2025 سے 22 فروری 2026 تک مقرر کی گئی ہیں۔
محکمہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ تعطیلات کے دوران تمام ٹیچنگ فیکلٹی کو کسی بھی تعلیمی مشن یا ضرورت کے لیے دستیاب رہنا ہوگا۔ مزید براں، تدریسی عملے کو 20 فروری 2026 تک اپنے اپنے اداروں میں واپس رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کی تیاری کی جا سکے۔
اعلامیے میں یہ انتباہ بھی شامل ہے کہ اگر کوئی سربراہِ ادارہ یا عملہ مقررہ سرمائی شیڈول کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ۔ ایم افضل
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اور لداخ میں 6.74 لاکھ سے زیادہ خاندانوں نے خود شماری میں حصہ لیا: ڈائریکٹر سنسس آپریشنز
جموں، جموں و کشمیر اور لداخ کے ڈائریکٹر سنسس آپریشنز (مردم شماری) امت شرما نے پیر کے روز کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ میں 6.74 لاکھ سے زیادہ خاندانوں نے خود شماری (سیلف انیومریشن) کے عمل میں حصہ لیا ہے۔
جموں و کشمیر یونین ٹریٹری میں مردم شماری 2027 کے تحت ‘مکانوں کی فہرست سازی’ (ہاؤس لسٹنگ) کے باضابطہ آغاز کے ساتھ ہی، مسٹر شرما نے تمام باشندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مہینے بھر جاری رہنے والی اس مردم شماری مہم کے دوران گھروں کا دورہ کرنے والے شمار کنندگان (انو مریٹرز) اور نگرانوں (سپروائزرز) کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر نے حال ہی میں ختم ہونے والے خود شماری کے مرحلے کے ردعمل کو حوصلہ افزا قرار دیا اور کہا کہ یہ ہندوستان کی پہلی مکمل طور پر ڈیجیٹل اور پیپر لیس مردم شماری مہم میں بڑھتی ہوئی عوامی شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔
مسٹر شرما نے مطلع کیا کہ مکانوں کی فہرست سازی کا کام شروع ہونے سے پہلے جموں و کشمیر یونین ٹریٹری میں کل 6 لاکھ، 67 ہزار، 517 خاندانوں نے اور لداخ یونین ٹریٹری میں 7,009 خاندانوں نے سرکاری پورٹل کے ذریعے اپنی خود شماری کے عمل کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا ہے۔
ڈائریکٹر نے ذکر کیا کہ جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں اس عمل کے دوران شاندار شرکت دیکھی گئی، جن میں خاص طور پر پلوامہ، جموں اور کلگام جیسے اضلاع میں مثبت اور بہترین ردعمل درج کیا گیا۔
مسٹر شرما نے لداخ کے لیہہ اور کارگل اضلاع کے شہریوں کی شرکت کی بھی ستائش کی اور خود شماری کے مرحلے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں تعاون دینے پر ضلعی انتظامیہ، پرنسپل سنسس افسران، فیلڈ اسٹاف، میڈیا اداروں اور شہریوں کا شکریہ ادا کیا۔
مردم شماری 2027 کی تیاریوں کے وسیع پیمانے پر روشنی ڈالتے ہوئے مسٹر شرما نے بتایا کہ دونوں مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں ‘مکانوں کی فہرست سازی کے بلاکس’ (ہاؤس لسٹنگ بلاکس) کی حد بندی اور جیو ٹیگنگ کی سرگرمیاں تقریباً مکمل ہو چکی ہیں۔ اس کے تحت جموں و کشمیر میں 23,600 سے زیادہ مکانوں کی فہرست سازی کے بلاکس کی حد بندی کی گئی ہے۔ لداخ میں 567 مکانوں کی فہرست سازی کے بلاکس کی حد بندی مکمل ہو چکی ہے۔
اسی طرح، مسٹر شرما نے کہا کہ تمام اضلاع اور دور دراز کے علاقوں میں مردم شماری کے عمل کو پیشہ ورانہ اور یکساں طریقے سے یقینی بنانے کے لیے ماسٹر ٹرینرز، فیلڈ ٹرینرز، شمار کنندگان (انو مریٹرز) اور نگرانوں (سپروائزرز) کے لیے جامع تربیتی پروگرام مکمل کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں 27,000 سے زیادہ اور لداخ میں تقریباً 800 سنسس کٹس پہلے ہی بھیجے جا چکے ہیں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ عملہ مکانوں کی فہرست سازی کے آغاز کے لیے مکمل طور پر لیس ہے۔
شہریوں سے شمار کنندگان اور نگرانوں کے ساتھ بھرپور تعاون کرنے کی اپیل کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مکانوں کی فہرست سازی، مردم شماری کا ایک انتہائی اہم مرحلہ ہے، جس کے دوران مکانات کی تعداد، گھریلو سہولیات اور رہائشی حالات سے متعلق معلومات جمع کی جائیں گی۔ انہوں نے باشندوں سے گزارش کی کہ وہ مردم شماری کے اہلکاروں کو درست، مکمل اور سچی معلومات فراہم کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قابلِ اعتماد مردم شماری کا ڈیٹا ہی فلاحی اسکیموں، صحت کی خدمات، تعلیمی بنیادی ڈھانچے، شہری ترقی کے اقدامات اور مختلف سماجی و اقتصادی پروگراموں کی منصوبہ بندی اور نفاذ کی بنیاد بنتا ہے۔
مسٹر شرما نے شہریوں کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ مردم شماری کے دوران جمع کی جانے والی تمام معلومات سنسس ایکٹ (مردم شماری ایکٹ)، 1948 کے دفعات کے تحت مکمل طور پر خفیہ رہتی ہیں اور اس کا استعمال خاص طور پر صرف شماریاتی مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ذاتی معلومات قانون کے تحت محفوظ ہیں اور اسے کسی بھی دوسری ایجنسی یا ادارے کے ساتھ شیئر نہیں کیا جا سکتا۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں انسدادِ بدعنوانی بیورو نے رشوت خوری کے معاملے میں فارسٹ گارڈ کو گرفتار کر لیا
جموں، جموں و کشمیر انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے رشوت ستانی کے ایک معاملے میں ایک فارسٹ گارڈ (جنگلات کے محافظ) کو گرفتار کر لیا ہے۔
اے سی بی کے ترجمان کے مطابق ایک تحریری شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ ملزم نے شکایت کنندہ سے تفویض شدہ کاموں سے متعلق سیکیورٹی ڈپازٹ کی واپسی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے 20 ہزار روپے رشوت طلب کی تھی۔
بات چیت کے بعد ملزم مبینہ طور پر 15 ہزار روپے لینے پر آمادہ ہو گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ رشوت دینے پر آمادہ نہ ہونے والے شکایت کنندہ نے قانونی کارروائی کے مطالبے کے ساتھ اے سی بی سے رابطہ کیا۔
شکایت موصول ہونے پر اے سی بی نے خفیہ تصدیق (ویریفکیشن) کی، جس میں مبینہ طور پر ملزم ملازم کے خلاف رشوت طلب کرنے کی تصدیق ہوئی۔ اس کے بعد اے سی بی سینٹرل جموں پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی۔
ملزم کی شناخت وسیم احمد کے طور پر ہوئی ہے، جو ضلع کشتواڑ کے ہدیال علاقے کا رہائشی ہے اور اس وقت فارسٹ گارڈ کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ وہ مارواہ فاریسٹ ڈویژن کے ڈویژنل فاریسٹ آفیسر کے دفتر میں حسابات کا کام بھی سنبھال رہا تھا۔
اے سی بی کے مطابق اسے شکایت کنندہ سے 15 ہزار روپے رشوت طلب کرتے اور وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ موقع پر ہی آزاد گواہوں کی موجودگی میں اس کے قبضے سے رشوت کی رقم بھی برآمد کر لی گئی۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ایگزیکٹو مجسٹریٹ اور آزاد گواہوں کی موجودگی میں ملزم کی رہائش گاہ کی تلاشی بھی لی گئی ہے، جبکہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
سری نگر اراضی دھوکہ دہی معاملہ، تین افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس کی کرائم برانچ کے اقتصادی جرائم ونگ کشمیر نے سری نگر کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں تین ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔ یہ معاملہ سری نگر کے ایچ ایم ٹی خوشی پورہ میں زمین کے ایک ہی ٹکڑے کو دھوکہ دہی سے متعدد خریداروں کو فروخت کرنے سے متعلق ہے۔
اس معاملے میں سال 2024 میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ تفتیش کاروں کے مطابق، ملزمان نے الگ الگ سیل ڈیڈ کے ذریعے ایک ہی جائیداد کو کئی بار فروخت کر کے متعدد خریداروں کے ساتھ دھوکہ دہی کی اور انہیں مالی نقصان پہنچایا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سری نگر کے خوشی پورہ ابان شاہ کے رہائشی ملزمان معراج الدین اور شبیر احمد نے اس وقت کے پٹواری (جو اب فوت ہو چکے ہیں) کی ملی بھگت سے سری نگر کے ایچ ایم ٹی خوشی پورہ میں واقع زمین کے ایک ہی ٹکڑے کے لیے دھوکہ دہی سے کئی سیل ڈیڈ تیار کیے تھے۔ ملزمان نے خریداروں کو دھوکہ دینے اور ناجائز فائدہ حاصل کرنے کے لیے من گھڑت اور ہیرا پھیری سے تیار کردہ ریونیو ریکارڈ کا استعمال کیا۔ تفتیش مکمل ہونے پر عدالت کے سامنے چارج شیٹ پیش کر دی گئی ہے۔
یو این آئی ۔ م ع
جموں و کشمیر1 week agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا2 days agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا3 days agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
ہندوستان1 week agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
جموں و کشمیر6 days agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
دنیا2 days agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
دنیا1 week agoمکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر
ہندوستان1 week agoایندھن کی قیمتوں پر کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، ہر روز ہو رہی ہے عوام کی جیب پر ڈکیتی
دنیا2 days agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
دنیا6 days agoجس طرح بھی ممکن ہو آبنائے ہرمز نے کھلنا ہی ہے، امریکی وزیر خارجہ
دنیا3 days agoامریکہ اسرائیل کے تمام جرائم میں شریک ہے: ترجمان ایرانی دفترِ خارجہ
































































































